Help News
Humanity is the biggest religion
Da zma da watan da wakdarano hal dy tol reshwat khwara de aw haram khwara di
30/09/2026
Thank you for being a part of this journey
باجوڑ۔ نامعلوم افراد کی فائرنگ سے شہید ہونے والے صدر ناوگئی بازار اسماعیل زرگر ، 11 بہنوں کے اکلوتے بھائی تھے۔ خاندانی ذرائع
دا مانڑو کاکا سرا چی مبارک زیب او جرگے کم لیکل کلی بلکول دا مانڑو کاکا پکی حقدار دی او ذا ھوم دا میاں گانوں خواری یما زمہ ورسا ھوم سہ نہ سہ کیگی😃😃
23/09/2026
حافظ صاحب نے اس کٹھن راہ میں دن کو دن اور رات کو رات نہ سمجھا، مسلسل جدوجہد کی اور قوم کے شعور کو بیدار کیا۔ انہوں نے بڑے سادہ اور عام فہم انداز میں سمجھایا کہ پیٹرولیم لیوی کیا بلا ہے، ہماری جیب سے فی لیٹر کتنا ٹیکس نچوڑا جا رہا ہے اور یہ سارا بوجھ آخر میں کیسے ایک عام مزدور اور غریب آدمی کے کندھوں پر آ گرتا ہے۔
رہا لانگ مارچ کا مؤخر ہونا، تو یہ جماعتِ اسلامی کی اپنی سیاسی حکمتِ عملی ہے۔ بعید نہیں کہ وزیراعظم کی جانب سے انہیں یہ بھروسہ دلایا گیا ہو کہ لیوی کے خاتمے اور عوامی ریلیف پر سنجیدہ اور عملی قدم اٹھایا جائے گا۔ اب یہ وعدہ وفا ہوتا ہے یا نہیں، اس کا فیصلہ وقت کی عدالت ہی کرے گی۔
مگر میری نظر میں ہمیں اس معاملے کو محض جذبات کی عینک سے نہیں دیکھنا چاہیے۔
حافظ نعیم الرحمن اس بات کے تو ضرور مستحق ہیں کہ انہوں نے اقتدار، کرسی اور ووٹ کی سیاست سے ہٹ کر ایک عام آدمی کے حقیقی دکھ کو اپنا موضوع بنایا۔ ان کی تمام تر گفتگو کا محور وزارت نہیں، معیشت تھی۔ پیٹرول کی بڑھتی قیمت، لیوی کا بوجھ اور عام آدمی کی خالی ہوتی جیب تھی۔
اختلافِ رائے جمہوریت کا حسن ہے، لانگ مارچ کے التوا سے اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن ایک عوامی تکلیف کو مسلسل اجاگر کرنا اور ایوانوں تک پہنچ کر عوام کے لیے ریلیف مانگنا، یہ بذاتِ خود ایک روشن اور قابلِ قدر سیاسی جدوجہد ہے۔
اور آخر میں ہر شخص اپنی سوچ اور اپنی رائے میں آزاد ہے۔
20/09/2026
میرے یہ 2 بھانجے نام وصال اور نعمان عمر 12 سال اور 10 سال صبح 10 بجے قذافی بازار اگئے تھے ابھی تک گھر واپس نہیں لوٹے ۔اگر کسی کو کوئی اس بارے میں خبر ہو تو میرے ساتھ رابطہ کریں ۔03080005353
17/09/2026
14/09/2026
ایک شخص جو اندھوں کے شہر میں آئینہ بیچ رہا ہے خود بھی حیران ہوگا کہ کن لوگوں سے پالا پڑا ہے۔
تاریخ میں یہ حقیقت بھی تو لکھی جائے گی کہ جب چاروں طرف اقتدار کے حصول کے لیے رسہ کشی عروج پر تھی، اس وقت ایک شخص سڑکوں پر صرف اس لیے لے کر خوار ہوتا رہا کہ عوام کو دو وقت کی روٹی میسر نہیں تھی۔
پچھلے دس دنوں میں کس نے ان کا مذاق نہیں اڑایا ہوگا، خود حکومت کے وزیر مشیر قہقہے لگا کر کہہ رہے ہیں کہ حافظ صاحب کا دھرنا ناکام ہو چکا ہے، اب اچھا ہوگا کہ دھرنے والے واپس جائیں۔
وقت کے دانا اور دانشور اپنے گھروں میں بیٹھ کر سوشل میڈیا پر ان کا تمسخر اڑا رہے ہیں کہ بابا دھرنا ختم کرو، تمہاری وجہ سے ہر روز تیل کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں۔
یہ مگر کوئی نہیں سوچ رہا کہ جو ہر روز ہمارا خون چوس رہے ہیں، وہ برابر اپنے کام میں لگے ہیں۔
ایوانوں کے اندر ان کا شاید کوئی بھی نمائندہ نہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ ہمارا اور آپ سب کا مقدمہ صرف یہ لڑ رہا ہے۔
نقاب خانے میں طوطی کی صدا کون سنتا ہے، مگر نیت صاف ہو تو ایک ذات ہے جو ظلم کے خلاف ایک دن ضرور اپنی لاتھی کو حرکت میں لاتا ہے۔
اور وہ دن دور نہیں جب پاکستان میں بھی ظلم کا خاتمہ ہو جائے گا۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the business
Website
Address
Riyadh
12211
Alerts
Be the first to know and let us send you an email when Help News posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.