Pakistan ISI

Pakistan ISI

Share

اس پیج کا فوج یا آئی ایس آئی اور کسی بھی سرکاری اداروں سے کسی بھی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے یہ صرف محب وطنی پر بنایا گیا ہے

13/08/2026

انڈیا کے ہوش اڑ گئے! پاکستان نے سرحد پر 250 شاطر "SH-15" توپیں تعینات کر دیں، دلی کے ایوانوں میں صفِ ماتم بچھا گئی!

جنوبی ایشیا کی فوجی بساط پر اس وقت ایک ایسا زلزلہ آیا ہے جس نے بھارتی عسکری حلقوں کی نیندیں اڑا کر رکھ دی ہیں۔ لائن آف کنٹرول (LoC) پر بھاری توپ خانے کا روایتی توازن ہمیشہ کے لیے بدل چکا ہے، اور اس بار بھارتی میڈیا اور ڈیفنس ایکسپرٹس اجتماعی طور پر "انسومنیا" (بے خوابی) کا شکار ہو چکے ہیں۔

انڈیا ٹوڈے اور دی ٹائمز آف انڈیا سمیت کئی بڑے بھارتی میڈیا اداروں کی تازہ رپورٹس کے مطابق، پاک فوج نے چین کے تعاون سے تیار کردہ 250 جدید ترین SH-15 ٹرک پر سوار 155 ملی میٹر ہوویتزرز (Howitzers) فرنٹ لائن پر تعینات کر دیے ہیں۔ اتنی بڑی تعداد میں اس تباہ کن ہتھیار کی موجودگی سے بھی زیادہ خوفناک بات وہ ہے جو بھارتیوں کو اندر سے کھا رہی ہے: یہ توپ خاص ایکسٹینڈڈ رینج گولہ فائر کرنے پر 72 کلومیٹر تک کا خوفناک اور ہلا دینے والا مارجن رکھتی ہے، جو براہِ راست بھارتی فوج کے تمام اہم ترین توپ خانے کو نیست و نابود کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ بھارتی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ اس غیر معمولی نقل و حرکت سے سرحدی صورتحال میں ایک "خوفناک کشیدگی" پیدا ہو چکی ہے۔

پہلا باب: تعداد کا فریب بمقابلہ معیار کی طاقت
بہت سے لوگ یہ سوچ کر حیران ہوں گے کہ "محض 250 توپوں" نے خود کو جنوبی ایشیا کا چوہدری سمجھنے والے انڈیا میں اتنی کھلبلی کیوں مچا رکھی ہے؟ اس کا جواب بھارتی میڈیا کے پاس بھی ہے: کیونکہ اس بار میدان میں حساب کتاب کا زاویہ بالکل بدل چکا ہے۔

انڈیا کا "سفید ہاتھی" (بظاہر بڑا، حقیقت میں کھوکھلا): کاغذ پر دیکھا جائے تو بھارتی فوج کے پاس 8,000 سے 10,000 تک مختلف توپیں موجود ہیں۔ لیکن اس کچرے میں سے کام کی چیزیں صرف دو ہیں: ایک امریکہ سے آئی ہوئی M777 الٹرا لائٹ توپیں (جن کی تعداد 145 ہے اور رینج بہت کم ہے)، اور دوسری جنوبی کوریا کی ٹیکنالوجی سے بنی ہوئی K9 "وجرا" سیلف پروپیلڈ توپیں (جن کی تعداد 100 ہے اور جون میں مزید 300 کا آرڈر دیا گیا ہے)۔ باقی ہزاروں توپیں پرانی برطانوی بوفورس (Bofors) یا پرانی 105 اور 130 ملی میٹر کی فیلڈ گنز ہیں جو اب ناکارہ ہو چکی ہیں۔

پاکستان کا "شاہین" (چھوٹا قد، مگر خطرناک نشانہ): اس کے مقابلے میں پاکستان نے اپنے وسائل کو انتہائی دانشمندی سے استعمال کرتے ہوئے چین سے حاصل ہونے والی SH-15 توپوں کو فرنٹ لائن پر جھونک دیا ہے۔ 2019 میں خریدی گئی ان توپوں کے علاوہ 2022 میں مزید 196 توپیں شامل کی گئیں، جس سے پاکستان کے پاس ایسی ٹرک ماؤਂٹڈ گنز کی کل تعداد 400 سے تجاوز کر چکی ہے، جبکہ بھارت کے پاس اس کی کیٹیگری کا فی الحال کوئی مؤثر سسٹم میدان میں موجود نہیں ہے۔

دوسرا باب: "لمبی رینج" بمقابلہ "بیٹھے بٹھائے موت"—فاصلے کا سنگی فرق
جنگی مہارت کبھی بھی صرف گنتی پر منحصر نہیں ہوتی، بلکہ ٹیکنالوجی کا جنریشن گیپ پل بھر میں بڑی سے بڑی تعداد کو خاک میں ملا دیتا ہے۔

انڈیا کی مجبوری: انڈیا کی فخرِ مودی سرکار کی K9 توپ 47 ٹن وزنی ایک بھاری بھرکم وزنی مشین ہے جو کشمیر کے اونچے پہاڑی سلسلوں اور تنگ راستوں پر حرکت کرتے ہوئے ہانپ جاتی ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ رینج صرف 40 کلومیٹر ہے۔ جب کہ M777 توپ کی رینج محض 24 سے 30 کلومیٹر ہے، جو صرف دفاع یا قریبی حملوں کے کام آ سکتی ہے۔

پاکستان کی برتری (SH-15): اس کے مقابلے میں پاکستانی SH-15 صرف 25 ٹن وزنی، انتہائی چست اور 6x6 آف روڈ چیسس پر بنی ہے جو پکی سڑکوں پر 100 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دوڑ سکتی ہے۔ اس میں لگی لمبی 52-کیلیبر نالی اسے طویل فاصلے تک گولہ پھینکنے کی طاقت دیتی ہے۔

جب یہ توپ پاکستان میں چین کی تکنیکی مدد سے تیار کردہ V-LAP (راکٹ اسسٹڈ کمپوزٹ ایکسٹینڈڈ رینج) گولے فائر کرتی ہے، تو پتلی پہاڑی ہوا میں اس کی مار 53 سے 72 کلومیٹر تک جا پہنچتی ہے!

تیسرا باب: "میں آپ کو مار سکتا ہوں، پر آپ مجھے چھو بھی نہیں سکتے!"
جدید کاؤنٹر بیٹری وارفیئر میں 72 کلومیٹر کی رینج کا کیا مطلب ہوتا ہے؟ یہ دشمن کے لیے "ڈائمنشنل ریڈکشن اٹیک" یعنی مکمل بالادستی کی موت ہے۔

آسان الفاظ میں سمجھیں تو پاکستانی SH-15 فرنٹ لائن سے 50 سے 60 کلومیٹر پیچھے محفوظ پوزیشن میں چھپی ہوگی۔ جدید آٹومیٹک فائر کنٹرول سسٹم اور سیٹلائٹ پوزیشننگ کی مدد سے یہ صرف 1 منٹ کے اندر زمین پر ٹانگیں گاڑ کر، ہدف طے کرنے اور دڑادڑ 6 گولے فائر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ادھر انڈیا کی M777 اور K9 توپیں کم رینج (30 تا 40 کلومیٹر) ہونے کی وجہ سے آسمان سے برستی ہوئی موت کو صرف بے بسی سے دیکھتی رہ جائیں گی، اور ان کے پاس جوابی کارروائی کا موقع تک نہیں ہوگا۔ اور تو اور، فائرنگ کے فوراََ بعد پاکستانی SH-15 چند سیکنڈ میں سمیٹ کر وہاں سے کئی کلومیٹر دور نکل جائے گی۔ جب تک بھارتی ریڈار ردعمل دے گا، پاکستانی توپیں وہاں سے غائب ہو چکی ہوں گی! "مارو اور بھاگ جاؤ" کی یہ حکمت عملی آج بھارتی جرنیلوں کی راتوں کی نیند اڑا چکی ہے۔

چوتھا باب: لاجسٹکس اور جنگی تیاری کا فرق
اس سب کے علاوہ ایک اور اہم پہلو لاجسٹکس کا ہے۔ انڈیا کا توپ خانہ مختلف ملکوں کا "کچرا کنڈی" بنا ہوا ہے—کوریائی K9، امریکی M777 اور یورپی بوفورس، جن کے پرزے ڈھونڈنا جنگ کے دوران جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ اس کے برعکس، پاکستان کی SH-15 مکمل طور پر چین کے معیار اور ٹیکسلا ہیوی انڈسٹریز (HIT) کے مقامی ڈھانچے سے منسلک ہے، جس کا مطلب ہے کہ جنگ کے دوران فوری مرمت اور گولہ بارود کی مسلسل فراہمی میں پاکستان کو فیصلہ کن برتری حاصل ہے۔

نتیجہ: روایتی طاقت کا نیا توازن
حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی طرف سے ان 250 جدید توپوں کی یہ تعیناتی کوئی جنگ چھیڑنے کے لیے نہیں، بلکہ دشمن کے غرور کو توڑنے کے لیے ایک انتہائی نپی تلی اور شاطرانہ حکمت عملی ہے۔ کم لاگت اور زبردست اثرات کے حامل اس ہتھیار نے راتوں رات بھارتی عسکری برتری کے غبارے سے ہوا نکال دی ہے۔

اس سچی اور ہلا دینے والی جنگی سچائی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں امن کی ضمانت اب کمزور سفارت کاری نہیں، بلکہ باقاعدہ اور ہلا دینے والی عسکری برتری ہے!

30/05/2026
05/04/2026

ایران نے امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ جیٹ ایف-35 کو کیسے نشانہ بنایا؟
2 دن قبل
ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟

ایران نے 19 مارچ کو امریکا کے جدید ترین اسٹیلتھ فائٹر جیٹ ایف-35 کو نشانہ بنا کر دنیا کو حیران کردیا تھا۔ جس کے بعد ہر نیوز چینل پر یہی ایک سوال گردش کر رہا ہے کہ آخر دنیا کے اس جدید ترین جنگی جہاز، جسے روس کے اربوں ڈالر مالیت کے ریڈار سسٹم بھی نہیں دیکھ پاتے، اسے ایران کے ایک معمولی سے میزائل نے کیسے ڈھونڈ نکالا؟

لاک ہیڈ مارٹن کمپنی کا تیار کردہ ایف-35 لائٹننگ ٹو ففتھ جنریشن ایوی ایشن سسٹم بے تاج بادشاہ ہے۔ امریکا نے اس جہاز کے ڈیزائن پر 10 کروڑ ڈالر سے زیادہ خرچ کیے تھے تاکہ یہ دشمن کے ریڈار کو چکمہ دے کر خاموشی سے اس کے علاقے میں داخل ہو سکے۔

اس طیارے کا بنیادی کام دشمن کے فضائی دفاعی نظام کو تباہ کرنا اور آسمانوں پر اپنی حکمرانی قائم کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے یہ دنیا کی سب سے جدید اور انتہائی خفیہ ’اسٹیلتھ ٹیکنالوجی‘ استعمال کرتا ہے۔

گزشتہ آٹھ سالوں سے یہ جہاز مسلسل جنگی مشن مکمل کرتا آرہا ہے، لیکن اسے کبھی ایک خراش تک نہیں آئی۔

تو پھر بڑا سوال یہ ہے ایران نے وہ طریقہ کیسے ڈھونڈ نکالا، وہ کمزور کڑی کیسے پکڑی، جو روس اور چین جیسے ایڈوانسڈ بھی نہ ڈھونڈ سکے؟

یہ جاننے کے لیے ضروری ہے کہ پہلے ہم سمجھیں موجودہ دور میں طیارہ شکن میزائل کام کیسے کرتے ہیں۔

آج کل طیارہ شکن نظام میزائل کی رہنمائی کے لیے دو طریقے ریڈار اور حرارت کی شناخت (Heat-seeking) استعمال کرتے ہیں۔

اب ایف-35 ریڈار کو چکمہ دینے میں تو ماہر ہے ہی، کیونکہ اس کی مخصوص ساخت اور ریڈار جذب کرنے والے مواد کی وجہ سے یہ ریڈار اسکرین پر ایک ننھے سے پرندے جتنا نظر آتا ہے۔ روسی ساختہ ایس-300 اور ایس-400 جیسے مہنگے ترین سسٹم بھی اس پر لاک نہیں کر پاتے۔

لیکن ہر چیز کی کوئی نہ کوئی کمزوری ہوتی ہے، اور ایف-35 کی کمزوری اس کا انجن ہے۔

ایف-35 میں ’پریٹ اینڈ وہٹنی ایف-135‘ انجن لگا ہے، جو دنیا کے طاقتور ترین انجنوں میں سے ایک ہے۔ اتنی زیادہ طاقت کے ساتھ ساتھ یہ انجن شدید تپش اور حرارت بھی پیدا کرتا ہے، اور یہی شدید حرارت اس کی سب سے بڑی کمزوری بن گئی۔

ایران نے اس دن اپنے دفاع کے لیے ریڈار پر بھروسہ کرنے کے بجائے ’انفراریڈ سرچ اینڈ ٹریک سسٹم‘ (آئی آر ایس ٹی) کا استعمال کیا۔

یہ سسٹم آسمان میں ریڈار سگنلز کے بجائے حرارت کو تلاش کرتا ہے۔ اس سسٹم نے ایف-35 کے انجن سے نکلنے والی شدید گرم گیسوں کو فوراً پکڑ لیا۔

سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ آئی آر ایس ٹی اپنا کوئی سگنل خارج نہیں کرتا، اس لیے پائلٹ کو کانوں کان خبر نہیں ہوئی کہ اسے نشانہ بنایا جا چکا ہے۔

اب بات کرتے ہیں ایران کے اس میزائل کی جس نے یہ کارنامہ انجام دیا۔

رپورٹس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران نے اس حملے میں ’358 میزائل‘ استعمال کیا، جسے ’ایس اے-67‘ بھی کہا جاتا ہے۔

یہ کوئی عام میزائل نہیں بلکہ ایک عجیب و غریب امتزاج ہے؛ آدھا خودکش ڈرون اور آدھا میزائل۔

یہ بہت سست رفتاری سے اڑتا ہے اور ایک مخصوص علاقے میں ’آٹھ‘ (8) کے ہندسے کی شکل میں منڈلاتا رہتا ہے۔ اس میں اپنے آپٹیکل اور ہیٹ سینسرز لگے ہوتے ہیں۔

یہ بس فضا میں گھات لگا کر بیٹھتا ہے اور جیسے ہی اسے کسی جیٹ کی حرارت محسوس ہوتی ہے، یہ اس پر جھپٹ پڑتا ہے۔

اس میزائل کو زمین پر موجود انفراریڈ سینسرز کے نیٹ ورک سے بھی گائیڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ریڈار وارننگ نہ ملنے کا مطلب یہ نہیں کہ ایف-35 اس میزائل کے سامنے بالکل بے بس ہے۔ اس جہاز میں ایک انتہائی جدید ’ڈسٹری بیوٹڈ اپرچر سسٹم‘ (ڈی اے ایس) لگا ہے جس میں چھ انفراریڈ کیمرے پائلٹ کو جہاز کے گرد 360 ڈگری کا منظر دکھاتے ہیں۔

جیسے ہی 358 میزائل نے اپنی رفتار بڑھائی اور اس کے راکٹ موٹر سے حرارت نکلی، ڈی اے ایس نے اسے فوراً پکڑ لیا اور پائلٹ کے ہیڈسیٹ میں خطرے کا الارم بج اٹھا۔ اب پائلٹ کے پاس ردعمل کے لیے صرف چند سیکنڈز تھے۔

میزائل کا نشانہ خطا کرنے کے لیے پائلٹ نے جہاز کو تیزی سے گھمایا اور ساتھ ہی ’فلیئرز‘ (شعلے) چھوڑنا شروع کر دیے۔

اس مینوور مقصد یہ تھا کہ میزائل کا سینسر دھوکہ کھا جائے اور وہ جہاز کے بجائے ان چمکتے ہوئے شعلوں کا پیچھا کرنے لگے۔

اور یہ طریقہ کام کر گیا! میزائل شعلوں کے دھوکے میں آگیا لیکن اس کے باوجود وہ جہاز کے انتہائی قریب سے گزرا۔

جیسے ہی میزائل کو محسوس ہوا کہ وہ اپنے ہدف کو تباہ کرنے لائق حد کے اندر ہے، وہ فضا میں ہی پھٹ گیا۔

اس دھماکے کی لہروں اور میزائل کے تیز رفتار ٹکڑوں نے ایف-35 کے پرخچے اڑا دیے۔ اس کی اسٹیلتھ کوٹنگ اتر گئی اور فلائٹ کنٹرول سسٹم تباہ ہو گیا۔

یہ کوئی براہِ راست ہٹ نہیں تھی جس سے جہاز آگ کا گولہ بن جاتا، اور یہی وجہ ہے کہ اتنا زیادہ نقصان ہونے کے باوجود پائلٹ طیارے کی ہنگامی لینڈنگ کروانے میں کامیاب رہا۔

اس نقصان کے بعد امریکی ایف 35 لڑاکا طیارے کو مشرقِ وسطیٰ کی ایک ایئربیس پر ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی۔

ایران کی اس حکتمتِ عملی نے ثابت کر دیا کہ امریکا کے جدید ترین طیارے کو گرانے کے لیے آپ کو اربوں ڈالر کے ریڈار کی ضرورت نہیں ہے.

03/04/2026

A10

03/04/2026

آبنائے ہرمز کے قریب ایران کی جانب سے ایک امریکی A10 جہاز کو بھی مار گرایا گیا ہے اور یہ آج ایران کی جانب سے مار گرایا جانے والا دوسرا امریکی جہاز ہے

متحدہ عرب امارات فرانس کے رافال ایف فائیو ورژن کے جوائنٹ ڈویلپمنٹ کے پروگرام سے پیچھے ہٹ گیا ہے اور اب فرانس اس ڈویلپمنٹ کو اکیلے فنانس کرے گا اور ممکنہ طور پر اسکی وجہ فرانس کی جانب سے اہم ٹیکنالوجیز کا ٹرانسفر نہ کیا جانا تھا

امریکہ نے ایک تیسرے ملک کے زریعے ایران کو دو دن کے سیز فائر کی آفر کی جسکا جواب ایران نے بھاری جوابی میزائل اور ڈرون حملوں کی صورت میں دیا ہے اور اسکے علاوہ ایران کی جانب سے پہلے پیش کیا جانے والے پندرہ نکاتی امریکی امن مسودہ مسترد کر دیا گیا ہے اور پاکستان میں ہونے والے امریکہ ایران مذاکرات سے بھی انکار کر دیا ہے

03/04/2026

امریکہ کی جانب سے اسکے ایف پندرہ جہاز کے مار گرائے جانے کی کنفرمیشن کی گئی ہے اور دونوں پائلٹوں کو ریسکیو کرنے کے لیے ریسکیو مشنز جاری ہیں اور مغربی اور اسرائیلی میڈیا سورسز کی جانب سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایک پائلٹ کو ریسکیو کر لیا گیا ہے جبکہ ریسکیو آپریشن میں شریک ایک بلیک ہاک ہیلی کاپٹر کو ممکنہ طور پر ایران کی جانب سے ہٹ کیا گیا جسکو عراق واپس جاتے دیکھا گیا اور وہ دھویں کی لہر چھوڑتا ہوا جا رہا تھا اسکے علاوہ ایران کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ جو امریکی پائلٹوں کو پکڑے گا اسکو انعام دیا گیا جائے گا اور ایرانی مسلح قبائل اس وقت امریکی پائلٹوں کو ڈھونڈنے کی کوششوں میں لگے ہوئے ہیں

برطانیہ اور فرانس کی جانب سے سے مستقبل میں میٹیور ائیر ٹو ائیر میزائل کی جگہ لینے والے میزائل کے لیے سٹڈی شروع کر دی گئی ہے

برطانیہ جاپان اور اٹلی کی جانب سے بنائے جا رہے چھٹی نسل کے جہاز کے لیے Edgewing کو 850 ملین ڈالر کا کانٹریکٹ دے دیا گیا ہے جس کے تحت یہ کمپنی اس جہاز کے ڈیزائن فیز کو لیڈ کرے گی

چین نے اپنے نئے ٹائپ 055 کلاس ڈسٹرائر Anqing سے تائیوان کے قریب لائیو فائر ایکسرسائز کی ہے

برطانیہ کی جانب سے کنفرم کیا گیا ہے کہ سال 2027 سے اسکے ڈریگن فائر لیزر ویپن سسٹم کو ٹائپ 45 ڈسٹرائرز پر نصب کر دیا جائے گا

امریکی E/A 18G growler جہاز نے جاپانی OP 3C سرویلنس جہاز کے ساتھ مشترکہ پرواز کی ہے

یوکرین نے اپنے زیر استعمال ایم 1 ابراہم ٹینکوں کو ڈرونز کے حملوں سے بچنے کے لیے ایکسپلوسیو ری ایکٹیو آرمر اور حفاظتی گرلز سے لیس کر دیا ہے

جنوبی کوریا سال 2029 سے اپنا کورین سٹائل آئرن ڈوم سسٹم LAMD ڈیپلائے کرنے کا ارادہ رکھتا ہے ۔۔یہ ائیر ڈیفینس سسٹم آئرن ڈوم کی طرح آرٹلری پروجیکٹائلز کو انٹرسیپٹ کرنے کے لیے ڈیزائن کیا جا رہا ہے

امریکی نیوی کی جانب سے جنرل ڈائنامکس کو 1.27 ارب ڈالر کی مالیت کا کانٹریکٹ دیا گیا ہے جس کے تحت یہ کمپنی ورجینیا کلاس آبدوزوں کی موڈیفیکشن کا کام کرے گی

امریکی آرمی اور نیوی کی جانب سے common ہائپر سونک میزائل کا ٹیسٹ کیا گیا ہے

02/04/2026

یہ کوئی معمولی واقعہ نہیں بلکہ ایرانی ڈرون ٹیکنالوجی کا شاہکار ہے۔
یہ ایران سے 1500 کلومیٹر دور سعودی عرب کی پرنس سلطان ائیر بیس پر کھڑا 700 ملین ڈالر کا اواکس طیارہ ہے جسے صرف 5 ہزار مالیت کے ایرانی شاہد ڈرون نے اس قدر درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا کہ سیدھا امریکی طیارے کے درمیان میں اس کا ریڈار والا حصہ تباہ ہو گیا۔
یہ اواکس طیارہ 400 کلومیٹر ریڈار رینج رکھتا تھا اور بغیر فیول بھرے 7 ہزار کلومیٹر تک پرواز کر سکتا تھا یعنی جنگ کے دوران یہ 7400 کلومیٹر کی رینج میں امریکہ طیاروں اور دیگر جنگی آلات کو فوری معلومات فراہم کر سکتا تھا۔
یہ اواکس طیارے اور خطے میں دیگر ریڈار امریکہ کی آنکھیں ہیں اور انہیں تباہ کر دینا امریکہ کو اندھا کر دینے کے مترادف ہے جو ایران بہت کم پیسوں میں کر رہا ہے۔ کہنے کو یہ ہاتھیوں اور چیونٹیوں کی لڑائی ہے لیکن نڈر چیونٹیاں ہار نہیں مان رہیں اور ہاتھیوں کے ناک میں گھس چکی ہیں۔

01/04/2026

Air. Jet

01/04/2026

I got over 500 reactions on one of my posts last week! Thanks everyone for your support! 🎉

Website

Address


Multan

Alerts

Be the first to know and let us send you an email when Pakistan ISI posts news and promotions. Your email address will not be used for any other purpose, and you can unsubscribe at any time.

Subscribe

We will notify you when anything happens in Multan.