WS

WS

Share

Waseem Akram Mewat Haryana

11/07/2026

*انسانی جان اتنی سستی کیوں ہوگئی؟*

✍🏻*محمد عادل ارریاوی*
22 محرم الحرام 1448ھ
_______________________________

آج ملک ہندوستان کے حالات پر نظر ڈالی جائے تو دل خون کے آنسو روتا ہے۔ صبح آنکھ کھلتے ہی اخبار کے صفحات ہوں یا موبائل کی اسکرین ہر طرف قتل عصمت دری ظلم بربریت لوٹ مار اور بے رحمی کی خبریں گردش کرتی نظر آتی ہیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے انسانی جان کی حرمت ختم ہوتی جارہی ہے اور انسانیت سسک سسک کر دم توڑ رہی ہے۔
کہیں شوہر کا قتل کہیں بیوی کا قتل کہیں بھائی کا قتل کہیں معصوم بچی کا قتل کہیں عاشق کا قتل کہیں محبوبہ کا قتل کہیں باپ کا قتل کہیں بہن کا قتل کہیں دوست کا قتل کہیں رشتہ دار کا قتل اور کہیں پڑوسی کا قتل۔ آخر اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ انسانی جان آخر اتنی سستی کیوں ہوگئی ہے؟
اطلاعات کے مطابق حال ہی میں راجستھان میں ایک نہایت افسوس ناک اور دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا۔ ایک معصوم تیرہ سالہ طالبہ اسکول سے اپنے گھر واپس لوٹ رہی تھی۔ راستے میں جب وہ ایک رکشے میں سوار ہوئی تو مبینہ طور پر رکشہ ڈرائیور اسے ایک ہوٹل تک لے گیا جہاں اس کے ساتھ 32 نوجوانوں نے گروپ بناکر 5 دن تک لگاتار ان کی عزت و عصمت کو پامال کیا اسے مختلف مقامات پر لے جایا گیا اور بعد ازاں وہ معصوم جان اس دنیا سے رخصت ہوگئی۔ یہ واقعہ پوری انسانیت کیلئے بہت بڑا سانحہ ہے۔
اسی طرح دہلی سے بھی ایک افسوس ناک خبر سامنے آئی ہے جہاں ایک خاتون نے معمولی گھریلو اختلاف پر اپنے شوہر کو قتل کردیا۔
کشن گنج میں رضوان نامی ایک شخص کی شادی ہوئی۔ شادی کے کچھ عرصے بعد وہ روزگار کی غرض سے بیرونِ ملک چلا گیا تاکہ وہ اپنے گھر والوں کی بہتر پرورش کرسکے۔ اطلاعات کے مطابق اس کی غیر موجودگی میں اس کی بیوی کے ناجائز تعلقات قائم ہوگئے۔ روزانہ کئی کئی افراد آتے اور ان کے ساتھ ہمبستر ہوکر جاتے عورت کا کہنا ہے مجھے خود نہیں معلوم کتنے لوگوں کے ساتھ میں سوئی ۔جب اس کا شوہر تقریباً تین سال بعد واپس اپنے گھر آیا تو مبینہ طور پر بیوی نے اپنے عاشق کے ساتھ مل کر اسے قتل کردیا تاکہ ان کے تعلقات کا راز فاش نہ ہو اور وہ بدنامی سے بچ سکیں۔ انسان سوچنے پر مجبور ہوجاتا ہے کہ آخر انسان کی وفاداری محبت اور رشتوں کی حرمت کو کیا ہوگیا ہے؟
چند دن پہلے پونے مہاراشٹر میں بھی ایک نہایت افسوس ناک واقعہ پیش آیا جہاں ایک لڑکی نے شادی سے پہلے اپنے ہونے والے شوہر کو اپنے عاشق کے ساتھ مل کر پہاڑ سے دھکا دے دیا جس کے نتیجے میں وہ کھائی میں گر کر جاں بحق ہوگیا۔
ایک اور مقام پر معمولی سے زمینی تنازع کی بنیاد پر ایک شخص کو چاقو مار کر قتل کردیا گیا جبکہ وہاں موجود لوگ بے بسی کے ساتھ یہ منظر دیکھتے رہے۔
اسی طرح ایک ٹرین میں معمولی سی بات پر ایک مولانا کو جان سے مار دیا گیا۔ یہ سب واقعات دیکھ کر لگتا ہے کہ برداشت صبر اور تحمل جیسی اعلیٰ صفات ہمارے معاشرے سے رخصت ہوتی جارہی ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ قتل و غارت گری کا یہ سلسلہ صرف ہندو معاشرے تک ہی محدود نہیں رہا بلکہ مسلمانوں میں بھی ایسے افسوس ناک واقعات میں اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ یہ حقیقت ہر شخص کے لیے لمحۂ فکریہ ہے۔
آج شاید ہی ہندوستان کا کوئی ایسا علاقہ ہو جہاں روزانہ قتل عصمت دری خواتین کے خلاف جرائم اور دیگر سنگین واقعات کی خبریں سامنے نہ آتی ہوں۔ آئے دن بے شمار ایسے سانحات پیش آرہے ہیں جو انسانیت کے سر کو شرم سے جھکا دیتے ہیں۔ معصوم بچیوں کی عزت پامال کرنا بے گناہ انسانوں کو بے رحمی سے قتل کردینا اور معمولی باتوں پر کسی کی زندگی چھین لینا گویا روزمرہ کا معمول بنتا جارہا ہے۔
آخر انسان کی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی؟ کیا انسان صرف ایک کھلونا بن کر رہ گیا ہے؟ ایک ماں باپ اپنی اولاد کو کتنی محبت محنت اور قربانی سے پروان چڑھاتے ہیں ان کے روشن مستقبل کے خواب دیکھتے ہیں لیکن کچھ سنگ دل لوگ معمولی سی بات ذاتی مفاد لالچ غصے یا انتقام کی آگ میں کسی کی پوری زندگی ختم کردیتے ہیں۔
آخر اس ملک میں ہو کیا رہا ہے؟ حکومت بڑھتے ہوئے جرائم کے سدباب کے لیے مؤثر اور مضبوط لائحۂ عمل کیوں اختیار نہیں کرتی؟ قانون کا خوف مجرموں کے دلوں سے کیوں ختم ہوتا جارہا ہے؟ کب تک یہ قتل و غارت گری ظلم و بربریت اور بے گناہ انسانوں کے خون سے اس ملک کی سرزمین رنگین ہوتی رہے گی؟ کب تک ہم روزانہ ایسی دل خراش خبریں سنتے پڑھتے اور افسوس کا اظہار کرتے رہیں گے؟
ہم صرف افسوس نہیں بلکہ سنجیدگی سے غور و فکر کریں کہ اگر آج کسی کے ساتھ یہ معاملہ پیش آتا ہے تو ممکن ہے کل ہمارے ساتھ بھی آئے اور اگر معاشرے میں اخلاق دینی تربیت قانون کی بالادستی انصاف کی بروقت فراہمی اور انسانی جان کی حرمت کو دوبارہ زندہ نہ کیا گیا تو ایسے سانحات میں کمی لانا انتہائی دشوار ہوگا۔
اللہ ربّ العزت ہمارے ملک کو امن و امان کا گہوارہ بنائے ہر بے گناہ انسان کی جان و آبرو کی حفاظت فرمائے آمین یارب العالمین ۔
https://whatsapp.com/channel/0029Vb7o1YqDDmFXH65zVm0o

علماء ہریانہ 08/07/2026

⚜️*`علاقہ میوات ( حلقہ ٹپوکڑہ) میں فتنہ شکیلیت کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں، اھل حق کی خاموشی لمحہ فکریہ`*

🖊️محمد اسجد ربانی قاسمی گھاسیڑوی
16 محرم الحرام 1448ھ 2 جولائی 2026ء

📜*علاقہ میوات بالخصوص حلقہ ٹپوکڑہ میں ان دنوں فتنہ شکیلیت خاموش مگر نہایت منظم انداز میں اپنے قدم جمانے کی کوشش کر رہا ہے۔ نہایت قابل تشویش امر یہ ہے کہ نوگاؤں کا ایک شخص شکیل بن حنیف سے بالمشافہ ملاقات کر چکا ہے ۔ مزید اس کی آن لائن کلاسوں میں باقاعدگی سے شریک بھی ہو رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ معاملہ کسی ایک فرد تک محدود نہیں ۔ اگر اس کی بروقت روک تھام نہ کی گئی تو اس کے اثرات دور رس اور نہایت نقصان دہ ثابت ہو سکتے ہیں۔ اہل بصیرت کیلئے یہ لمحہ فکریہ ہے ۔*

*تاریخ شاہد ہے کہ جب بھی کسی باطل فکر نے اہلِ سنت کے علاقوں میں سر اٹھایا اکابر امت نے خاموش تماشائی بننے کے بجائے علم حکمت اور جرأت کے ساتھ اس کا تعاقب کیا ۔ آج بھی یہی وقت کا تقاضا ہے کہ علاقہ میوات کے اکابر علماء، ائمہ، خطباء، ذمہ داران مدارس اور دینی جماعتوں کے قائدین متحد ہو کر اس فتنے کے سدباب کیلئے میدان میں آئیں۔ نجی گفتگو یا انفرادی تشویش کافی نہیں بلکہ اجتماعی اور منظم جدوجہد کی ضرورت ہے ۔*

*ضرورت اس امر کی ہے کہ مساجد کے خطبات، مدارس کے اسباق، دینی اجتماعات اور عوامی نشستوں میں عقائد اہلِ سنت کو مدلل انداز میں بیان کیا جائے اور شکیلیت جیسے گمراہ کن افکار کی حقیقت واضح کی جائے۔ بہ طورِ خاص نوجوان نسل کو سوشل میڈیا اور آن لائن ذرائع سے پھیلائے جانے والے شبہات سے محفوظ رکھنے کیلئے علمی و فکری رہنمائی کا مؤثر انتظام کیا جائے۔ اسلئے کہ یہی وہ طبقہ ہے جسے دشمن دین سب سے پہلے اپنا ہدف بناتا ہے۔*

*اھل میوات ہمیشہ سے دین و سنت کے محافظ اور اکابرین کے نقش قدم پر چلنے والے رہے ہیں۔ امید ہے کہ اس مرتبہ بھی علماء و ذمہ داران اپنی دینی غیرت کا ثبوت دیتے ہوئے اس فتنے کی سرکوبی کیلئے متحدہ لائحہ عمل اختیار کریں گے قبل ازیں یہ آگ مزید پھیل جائے ۔ رب العالمین اہل حق کو اتحاد بصیرت اور استقامت عطا فرمائے ۔ باطل فتنوں سے امت کی حفاظت فرمائے اور ہمیں دین حق پر ثابت قدم رکھے ۔*

آمین یا رب العالمین

علماء ہریانہ 👇

علماء ہریانہ WhatsApp Group Invite

18/04/2026

इस इंस्टाग्राम अकाउंट को कोई भी मुसलमान फॉलो ना करें और इस को ज्यादा से ज्यादा रिपोर्ट मारे ये कादयानी फ़िरका वालों का अकाउंट है is instagram account Ko unfollow kro or jiyada se jiyada report maro please ye account Qadyani firka ka account hai
اس انسٹاگرام اکاؤنٹ کو کوئی بھی مسلمان بھائی فالو نہ کریں اور اس کو زیادہ سے زیادہ رپورٹ مارے برائے مہربانی کیونکہ یہ اکاؤنٹ قادیانیوں کا ہے

20/02/2026

*اپیل اپیل اپیل اپیل* *مکمل پڑھنا دوستو* پوری دنیا کے مسلمانوں سے گزارش ہے کہ انڈیا میں بننے والی فلم..... *Allaah Banday* جو کہ انڈیا کے سینما گھروں میں ریلیز ہو چکی ہے اسے انڈیا میں روکا جائے الله پاک قرآن میں فرماتا ہے: *"اگر تم اپنے لوگوں کے سامنے مجھے رد کرو گے تو میں تمہیں اپنی نظروں میں رد کرونگا".* اس فلم میں ہمارے پیارے نبی صلی الله علیہ وآلہٖ وسلم کا کردار ادا کرنے والے لعنتی شخص کی تصویر آنے والی ہےجو کہ ہمارے آقا کی بہت بڑی توہین ہے. پوری دنیا کے مسلمانوں سے گزارش کی جاتی ہے کہ یہ Film نہ دیکھیں۔ جتنی جلدی ممکن ہو اس میسج کو پھیلا دیں کم از کم آپ کے فون میں جتنے نمبر ہیں ان تک تو لازمی پہنچائیں. Please میرے کہنے سے نہیں تو اپنے پیارے *نبی صلی الله علیہ وآلہٖ وسلم* کی محبت میں اس پوسٹ کوپھیلا دینا *نوٹ* 👉: ⭕ اگر یہ فلم اس بات سے بے خبر کسی مسلمان نے دیکھ لی تو، اس کے شرک کے ذمہ دار ہم ہوں گے، کیونکہ یہ بات ہمیں معلوم تھی مگر ہم نے دوسروں تک نہیں پہنچائی۔ دعا گو،، *Forward to all Muslims* 🙏🙏😭 *_جب عذاب آتا ہے تو پوری قوم پر آتا ہے_*

Ramzan Aane Wala Hai 🤲💚 Molana Tariq Jameel Sahab Bayan 💚#shorts #bayan 14/02/2026

Ramzan Aane Wala Hai 🤲💚 Molana Tariq Jameel Sahab Bayan 💚#shorts #bayan Enjoy the videos and music that you love, upload original content and share it all with friends, family and the world on YouTube.

Mere Nabi ﷺ Ne Farmaya Mera Ummati Kabhi Jhoot Nahi Bolega Molana Tariq Jamil Bayan #allah #shorts 14/02/2026

Mere Nabi ﷺ Ne Farmaya Mera Ummati Kabhi Jhoot Nahi Bolega Molana Tariq Jamil Bayan #allah #shorts Mere Nabi ﷺ Ne Farmaya Mera Ummati Kabhi Jhoot Nahi Bolega Molana Tariq Jamil BayanWe Muslim💯Your Queries:-tariq jameel letesttariq jameel 2021maulana tarik...

Category

Website

Address


Nuh Road
Area