Mr Documentary
DOCUMENTARIES / INFOMENTARIES
History, Profiles, Religion, Culture, Lifestyle, Sci-Tech, etc.
06/10/2026
مرنیوالوں سے سب ہی پیار کرتے ہیں، مختلف مذاھب، ثقافتوں میں مرنیوالوں کی یاد منانے کے مختلف طریقے ہیں مگر انڈونیشیا میں کچھ انوکھا ہوتا ہے۔ یہ لوگ سال میں ایک دن اپنے پیاروں کی لاشوں کو نکال کر گھر واپس لاتے ہیں اور جشن کی صورت میں خوشیاں مناتے ہیں۔ تابوتوں سے نکالے جانیوالے مردے شاید آپ کیلئے خوفناک ہوں مگر یہاں تو سال بھر اس جشن کا انتظار ہوتا ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں اس جشن کیساتھ پراسرار رسمیں بھی نبھائی جاتی ہیں۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ اس جشن کو مسلمان بھی مناتے ہیں۔
لوگ صرف خود نئے کپڑے نہیں پہنتے بلکہ لاشوں کو بھی نیا ملبوس پہنا کر خوشیوں میں شریک کرتے ہیں، بس یوں جانیں یہ ایک طرح کی عید جیسا تہوار ہوتا ہے۔ یہ جشن بیشتر اوقات اگست یا ستمبر کے مہینے میں منایا جاتا ہے، رقص و سرود کی محفل بھی سجتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ دل ہلا دینے والا منظر ہوتا ہے مگر اس انوکھی رسم کو دیکھنے دنیا بھر سے لوگ یہاں پہنچتے ہیں۔
مردوں کا ہولناک جشن دیکھنے سے پہلے جانتے ہیں توراجا ہیں کون؟
انڈونیشیا کے جنوب میں سولاویسی کا پہاڑی علاقہ اس قبیلے کا مسکن ہے، یہ توراجا قبیلہ کہلاتا ہے جو یہاں صدیوں سے آباد ہے، اس رسم کا نام مانینی اور مردوں کو تائو تائو کہا جاتا ہے۔ توراجا میں ان عقائد کو آلوک کہا جاتا ہے جبکہ حکومت انڈونیشیا اس عقائد کو آلوک تو دولو یعنی آبائو اجداد کا راستہ کے نام سے پہچانتی ہے، مزیدار بات یہ ہے کہ توراجا کے مختلف گائوں میں رہنے والوں میں 86 فیصد عیسائی اور 12 فیصد مسلمان شامل ہیں۔
توراجن میتوں کو کشتی کی طرح بنے ہوئے تابوتوں میں رکھتے ہیں، یہ سلسلہ 17ویں صدی کے پہلے سے جاری ہے، چوری چکاری اور بے حرمتی سے بچانے کیلئے پہاڑوں کی چٹانوں کو قبرستان کی شکل دی جاتی ہے۔ مختلف خاندانوں کے تابوتوں کی جگہ کسی تجوری کی طرح لگتی ہے، سال کے مخصوص دن انکو نکالا جاتا ہے تو نہ صرف مردے کو سجایا بنایا جاتا ہے بلکہ تابوت کی بھی صفائی کی جاتی ہے۔ توراجن کیلئے یہ دن نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، احترام کیساتھ مردوں کو نکالا جاتا ہے، خوشیاں منائی جاتی ہیں، رقص کیا جاتا ہے۔ بھینسوں اور خنزیروں کو ذبح کر کے کھانا بنایا جاتا ہے، مرنیوالے کی لاش کو شان و شوکت کیساتھ دفنایا جاتا ہے، پورے گائوں کی دعوت ہوتی ہے، اگر خاندان کے پاس رقم نہیں تو اسوقت تک مردے کو گھر میں ہی رکھا جاتا جبتک اخراجات کیلئے رقم کا انتظام نہ ہو جائے۔
مانینی، یعنی جس دن مردوں کا جشن منایا جاتا ہے، توراجنز اسے سب سے بڑا تہوار قرار دیتے ہیں، شاندار دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، مردوں کو تابوتوں سے نکال کر اپنے اپنے گھروں میں لاتے ہیں، انہیں نئے کپڑے پہناتے ہیں۔ رشتہ دار اپنے پیاروں کی لاشوں کیساتھ تصاویر اور سیلفی لیتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ کہ اس دل ہلا دینے والے جشن کو دیکھنے دنیا بھر سے لوگ توراجا پہنچتے ہیں۔
انڈونیشیا کے جنوب میں سولاویسی کا پہاڑی علاقہ اس قبیلے کا مسکن ہے، یہ توراجا قبیلہ کہلاتا ہے جو یہاں صدیوں سے آباد ہے، اس رسم کا نام مانینی اور مردوں کو تائو تائو کہا جاتا ہے۔ توراجا میں ان عقائد کو آلوک کہا جاتا ہے جبکہ حکومت انڈونیشیا اس عقائد کو آلوک تو دولو یعنی آبائو اجداد کا راستہ کے نام سے پہچانتی ہے، مزیدار بات یہ ہے کہ توراجا کے مختلف گائوں میں رہنے والوں میں 86 فیصد عیسائی اور 12 فیصد مسلمان شامل ہیں۔
توراجن میتوں کو کشتی کی طرح بنے ہوئے تابوتوں میں رکھتے ہیں، یہ سلسلہ 17ویں صدی کے پہلے سے جاری ہے، چوری چکاری اور بے حرمتی سے بچانے کیلئے پہاڑوں کی چٹانوں کو قبرستان کی شکل دی جاتی ہے۔ مختلف خاندانوں کے تابوتوں کی جگہ کسی تجوری کی طرح لگتی ہے، سال کے مخصوص دن انکو نکالا جاتا ہے تو نہ صرف مردے کو سجایا بنایا جاتا ہے بلکہ تابوت کی بھی صفائی کی جاتی ہے۔ توراجن کیلئے یہ دن نہایت اہمیت کا حامل ہوتا ہے، احترام کیساتھ مردوں کو نکالا جاتا ہے، خوشیاں منائی جاتی ہیں، رقص کیا جاتا ہے۔ بھینسوں اور خنزیروں کو ذبح کر کے کھانا بنایا جاتا ہے، مرنیوالے کی لاش کو شان و شوکت کیساتھ دفنایا جاتا ہے، پورے گائوں کی دعوت ہوتی ہے، اگر خاندان کے پاس رقم نہیں تو اسوقت تک مردے کو گھر میں ہی رکھا جاتا جبتک اخراجات کیلئے رقم کا انتظام نہ ہو جائے۔
مانینی، یعنی جس دن مردوں کا جشن منایا جاتا ہے، توراجنز اسے سب سے بڑا تہوار قرار دیتے ہیں، شاندار دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے، مردوں کو تابوتوں سے نکال کر اپنے اپنے گھروں میں لاتے ہیں، انہیں نئے کپڑے پہناتے ہیں۔ رشتہ دار اپنے پیاروں کی لاشوں کیساتھ تصاویر اور سیلفی لیتے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ کہ اس دل ہلا دینے والے جشن کو دیکھنے دنیا بھر سے لوگ توراجا پہنچتے ہیں۔
06/09/2026
شیطان کی بائبل، ایک پراسرار تاریخی دستاویز
دنیا میں آسمانی یعنی اللہ کی کتابیں موجود ہیں، کیا کوئی کتاب ایسی بھی ہے جسے شیطان کی کتاب قرار دیا جائے؟ بوہمیا کی بینڈکٹائن خانقاہ میں لکھی گئی کتاب کو شیطان کی بائبل کیوں کہا جاتا ہے؟ ایک ایسی پراسرار کتاب جسے عوام کی نظروں سے چھپایا جاتا ہے، کیوں کہا جاتا ہے کہ اسے لکھنے والے راہب نے اپنی روح شیطان کو بیچی تھی؟ بڑی عجیب و غریب تاریخ ہے شیطانی بائبل کی جس سے متعدد پراسرار واقعات جڑے ہیں۔،
یہ ہے کوڈیکس گیگاس جسے عام طور پر سیٹینک بائبل یا شیطانی انجیل کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ شیطان کی بائبل بلاوجہ نہیں کہا جاتا بلکہ اسے پیچھے تاریخی حقائق ہیں، یہ پراسرار کتاب تیرہوں صدی میں بوہیمیا کی بینڈیکٹائن خانقاہ میں لکھی گئی (بوہیمیا آجکل کے دور میں چیک ریپبلک کہلاتا ہے)۔ یہ پراسرار کتاب 92 سینٹی میٹر لمبی اور 50 سینٹی میٹر چوڑی ہے، لاطینی زبان میں لکھی گئی 620 صفحات پر مشتمل اس کتاب کا وزن 75 کلو گرام ہے۔ ایک اندازے کے مطابق یہ شیطانی بائبل 1204 سے 1230 کے درمیان لکھی گئی ہے۔
اس پراسرار کتاب جس کیساتھ شیطانی معاہدہ جڑا ہے، یہ کتاب 1649 سے اسٹاک ہوم کے نیشنل لائبریری سوئیڈن کے ٹریژری روم میں محفوظ ہے۔ کوڈیکس گیگاس میں مذھبی، سائنسی متن کے علاوہ شیطانی مواد بھی موجود ہے، جس کے بارے میں آپ کو بتائیں گے مگر پہلے جانتے ہیں کہ یہ شیطانی بائبل کس نے اور کیوں لکھی؟
کوڈیکس گیگاس، ہرمن دی ریکلوز نے لکھی جو ایک بینڈیکٹائن راہب تھا اور تیرہویں صدی میں بوہیمیا کے شہر کروڈیم کے قریب رہتا تھا۔ تاریخی حوالوں میں بتایا جاتا ہے کہ ہرمن نے رہبانیت کا حلف توڑا تو اسے سخت ترین سزا کا حقدار قرار دیا گیا، اسے دیوار کیساتھ باندھ دیا گیا تا کہ بھوک اور پیاس سے مر جائے مگر ہرمن نے خانقاہ کے سربراہ ایبٹ سے التجا کی تو اسے ایک سال کی مہلت دی گئی تا کہ وہ ایک ایسی کتاب لکھ سکے جس میں تمام زمینی علوم شامل ہوں۔ ہرمن سال بھر اس کتاب پر کام کرتا رہا، سال کی آخری رات آ پہنچی مگر کام مکمل ہونے کے قریب تک بھی نہ پہنچا، اب ہرمن کے سامنے موت کھڑی تھی۔ ایسے میں ہرمن نے شیطان سے ایک سودا کیا، ہرمن کو مافوق الفطرت صلاحیت دی جائے تا کہ وہ سال کی آخری رات کتاب مکمل کر سکے اور اسکے عیوض ہرمن نے اپنی روح شیطان کو بیچ دی۔ ہرمن نے کوڈیکس گیگاس کے صفحہ 577 پر شیطان کی تصویر بھی بنائی ہے، جس میں سبز چہرہ، سرخ سینگ، دو سانپ کی طرح لہراتی زبانیں، خوفناک پنجے پھیلائے بازو والا شیطان،،، یہ ایک خوفناک تصویر ہے۔
06/08/2026
لندن کے بھوت
بھوت پریت چڑیل، جنات اور پریوں کی داستان صرف مشرق تک محدود نہیں، امریکہ اور یورپ میں بھی آسیب سر چڑھ کر بولتا ہے۔ برطانیہ میں ٹاور آف لندن، سب سے بڑی مثال ہے، ہزار سال پہلے تعمیر ہونیوالی پیچیدہ عمارتوں کا مجموعہ لندن ٹاور تاریخی حیثیت تو رکھتا ہے مگر اس کی اصل شہرت آسیب زدہ ہونا ہے۔ بھوت بدروحیں اور چڑیلیں، اسکی وجہ بھی ہے چونکہ لندن ٹاور ایک قید خانہ یا یوں جانیں ایسی اذیت گاہ بھی رہا ہے جہاں شاہی قیدیوں خوفناک اذیت دیکر موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا، صدیوں پرانی عمارتوں اور قلعوں میں انہی بھوتوں کا راج ہے۔
لندن ٹاور دنیا بھر میں آسیب زدہ عمارات کے طور پر مشہور ہے، اسے 1078 میں ولیم دا کنکوئرر نے تعمیر کروایا، قلعے میں نظر آنیوالا تھامسن اے بیکٹ کا بھوت، اندھیری راتوں میں بھٹکتا پھرتا ہے۔ مارٹن ٹاورز میں ریچھ کی شکل والے بھوت کا راج ہے، جس کو دیکھ کر ایک گارڈ خوف سے مر چکا ہے۔ ایک عمارت پرنسز ٹاورز ہے، یہاں معزول بادشاہ ایڈورڈ پنجم اور اسکے بھائی شہزادہ رچرڈز کا قبضہ ہے، ان دونوں کو رچرڈز سوئم نے 1483 میں قتل کیا گیا تھا۔ وائٹ لیڈی کی چڑیل چاندنی راتوں میں بالکونی میں ٹہلتی نظر آتی ہے، اس عمارت کا نام ہی وائٹ ٹاور رکھ دیا گیا، ویکفیلڈ ٹاور میں ہنری ششم نامی بھوت کا قبضہ ہے۔
سب سے خطرناک عمارت ٹاور گرین ہے، اس عمارت میں شاہی خاندان اور سیاسی ملزمان کو موت کے گھاٹ اتارا جاتا تھا، 1536 میں کنگ ہنری ہفتم نے اپنی محبوب ملکہ کوئین این بوئلن بیوفائی کے الزام میں اسی عمارت میں سر قلم کر کے مروایا تھا۔ ٹاور گرین میں کوئن این کا سر کٹا بھوت اندھیری راتوں میں چیختا پھرتا ہے، صرف اتنا ہی نہیں اسی عمارت میں اربیلا اسٹیورٹ، کوئن لیڈی جین گرے اور مارگریٹ پول کے بھوت بھی موجود ہیں، ان تینوں کو بھی اسی عمارت میں تلوار سے گردن کاٹ کر موت کے گھاٹ اتارا گیا تھا۔
🏰
06/06/2026
یہ عظیم الشان چٹان نما ڈسک، چار سے پانچ ٹن وزنی، کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ ایک ملک کی کرنسی ہے۔ یہ کوئی ماضی کا قصہ نہیں بلکہ اس انوکھے ملک میں یہ کرنسی صدیوں سے رائج ہے اور آج بھی استعمال کی جاتی ہے۔ بحرالکاہل میں واقع جزیرہ یاپ، ان چار ریاستوں میں سے ایک ہے جو مائکرونیشیا کی آزاد خود مختار ریاست تسلیم کی جاتی ہے۔ یاپ جزیرہ گوام کے قریب واقع ہے اور اسکی آبادی لگ بھگ 12 ہزار سے زائد ہے۔
ریاستہائے متحدہ مائیکرونیشیا میں چار ریاستیں شامل ہیں،،، اس میں سے ایک یاپ ہے۔ یہ خطہ فلپائن اور ہوائی کے درمیان واقع ہے۔ صدیوں سے آباد یہ ریاستیں قدیم ثقافت سے جڑی ہیں۔ تاریخ طور پر ملایا، انڈونیشیا، نیوگنی اور سولومن آئی لینڈ سے ہجرت کرنیوالوں نے یاپ آباد کیا، 1526 میں پرتگالی سیاحوں نے بحرالکاہل کے بیچ جزیرے کو دریافت کیا۔
اب آتے ہیں اس انوکھی کرنسی کی جانب،،، کرپٹو کرنسی اور بٹ کوائن کے جدید دور میں اسٹون ایج کرنسی ایک عجوبہ لگتی ہے۔ تو جناب صورتحال یہ ہے کہ یاپ میں سونے، چاندی یا دیگر قیمتی دھاتیں موجود نہیں، باہمی تجارت کیلئے لائم اسٹون کی 2 ہزار سال پرانی چٹانوں سے بنائی گئی کرنسی کو رے کہا جاتا ہے۔ جزیرہ یاپ کی ڈسک نما کرنسی رے ایک اعشاریہ چار انچ قطر سے 12 فٹ قطر تک، اور وزان کے اعتبار سے 5 ٹن تک ہوتا ہے۔ ایک امریکی ڈالر میں 246 رے آتے ہیں۔ بھاری بھرکم ڈونٹ نما یہ کرنسی کسی جائیداد کی طرح ہوتی ہے، یعنی اسکی ملکیت منتقل ہوتی ہے اور جزیرے میں جس جگہ موجود ہے وہیں رہتی ہے، چھوٹے رے کو سکوں کی طرح استعمال کیا جاتا ہے۔
پتھر کے سکوں کا استعمال بیسویں صدی کے شروع میں ہسپانوی اور جرمن تجارتی تنازعات میں بہت کم ہو گیا تھا، دوسری جنگ عظیم میں جب جاپان نے مائیکرونیشیا ریاستوں پر قبضہ کیا تو رے کی بھاری کرنسی کو تعمیرات میں استعمال کیا اور لنگر کے طور پر بھی آزمایا۔ اگرچہ رے میں اب دھاتی سکوں اور کاغذی کرنسی چلتی ہے مگر روایتی طور پر یاپسیسز رے کے استعمال کو ترجیح دیتے ہیں، آج بھی یاپ میں سماجی لین دین میں رے کا استعمال کیا جاتا ہے۔
06/05/2026
انسان اپنے ماضی اور اجداد کے بارے میں جاننا چاہتا ہے، صدیوں پہلے کا انسان کیا سوچتا تھا؟ کیسے زندگی گزارتا تھا؟ صدیوں کا سفر کیسے طے کیا؟ یہ ہے 4 ہزار سال پرانا قصبہ، خطہ عرب، ایک چھوٹا قصبہ جہاں لگ بھگ 500 انسان بستے تھے۔ محلے، گھر، گلیاں، جی ہاں اس قصبے کا نام الناتھہ تھا اور یہ موجودہ سعودی عرب کا حصہ ہے۔ ماہرین آثار قدیمہ کے مطابق 3 اعشاریہ 7 ایکڑ پر پھیلے اس قصبے میں دو مرکزی علاقے تھے، 4400 سال پہلے قصبے کو محفوظ رکھنے کیلئے 15 کلو میٹر دیوار بھی بنائی گئی تھی۔
پی ایل او ایس ون جرنل کے مطابق الناتھہ 2400 قبل مسیح آباد ہوا اور 1500 قبل مسیح تک آباد رہا۔ فرانسیسی ماہرین آثار قدیمہ نے الناتھہ پر ریسرچ کی ہے جس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ اس دور میں بسایا گیا جب انسان خانہ بدوش زندگی چھوڑ کر شہری طرز زندگی کی طرف آ رہا تھا، اس قصبے کے گھروں کو چھوٹی چھوٹی گلیوں سے جوڑا گیا ہے۔
الناتھہ کانسی کے دور سے تعلق رکھتا ہے اور نخلستان خیبر کے قریب واقع ہے، مدینہ منورہ کے قریب مکہ المکرمہ اور عقبہ کے درمیان مرکزی شاہراہ کے قریب دریافت کیا گیا ہے۔ جزیرہ نما عرب کے صحرا میں موجود نخلستان آبادی کا باعث تھے، ہر نخلستان اور آبادی کے اطراف حفاظت کیلئے دیوار تعمیر کی جاتی تھی، الناتھہ کی موجودگی کا پتہ بھی ایسی ہی دیوار سے چلا تھا۔ اسی طرح کی دیواریں خیبر کے قلعے کے اطراف بھی موجود ہیں جو فرانس کے ماہرین آثار قدیمہ نے ڈھونڈ نکالیں۔ یہ وہی خیبر ہے جو تاریخ اسلام میں حضرت علی مرتضیٰ کی شجاعت کے حوالے سے یاد کیا جاتا ہے، قلعہ خیبر مدینہ منورہ سے تقریبا 150 کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔
الناتھہ کے گرد دیواریں تقریبا 15 کلو میٹر پھیلی ہوئی ہیں جو 4 ہزار سال قبل تعمیر کی گئی تھیں، فرانس میں سینٹر نیشنل ڈی لاریچرچی سائنٹیفک (سی این آر ایس) اور سعودی عرب کی رائل کمیشن فار ال اولا کے مشترکہ کوششوں کے باعث انسانی تاریخ کا یہ اہم گوشہ بے نقاب ہوا ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق یہ دایوریں 2250 سے 1950 قبل مسیح کے درمیان تعمیر کی گئی تھیں، اس کا اندازہ تعمیراتی میٹریل کی ریڈیو کاربن ڈیٹنگ ٹیسٹ کے بنیاد پر کیا گیا ہے۔
4000 سال پہلے یہ ایسا دور تھا جب انسان صحرا میں پانی دیکھ کر گھر بسانے کے سوچتا تھا، خانہ بدوشی سے تنگ آ کر گائوں، دیہات، قصبے اور شہر آباد کرنے کا پہلا مرحلہ، آج سعودی عرب میں موجود دو بڑے نخلستان، پہلا خیبر اور دوسرا تبوک میں تیما نخلستان، اسی دور سے تعلق رکھتے ہیں۔ یہ دونوں نخلستان انسانی تاریخ کا اہم ترین باب ہیں جہاں تہذیب نے جنم لیا۔
06/05/2026
دنیا کی پہلی زبان؟ قدیم ترین زبانوں کی تاریخ
دنیا کی پہلی زبان کونسی تھی؟ اس وقت دنیا میں 7 ہزار زبانیں موجود ہیں مگر 90 فیصد ختم ہونیوالی ہیں چونکہ ان کے بولنے والے ہزاروں یا سیکڑوں میں ہیں۔ اب بھی دنیا میں ہزاروں سال پرانی زبانیں موجود ہیں مگر سوال یہ ہے کہ انسان نے کب زبان بولنا سیکھا، پہلی زبان کون سی تھی۔ تاریخ داں اور ماہر لسانیات یہ سلسلہ لگ بھگ 5 ہزار سال پہلے شروع ہوا۔ چلیں زبانوں کی تاریخ جانتے ہیں، اس داستان میں ایسا بہت کچھ ہے جو آج کے انسانی معاشرے کیلئے حیران کن اور نئی دریافت جیسا ہو۔
حقیقت یہ ہے کہ طویل عرصہ انسان اشاروں، لایعنی صوتی تاثرات، نعروں اور دیگر ذرائع سے رابطوں کا کام لیتا رہا، پھر لفظ اور جملے وجود میں آئے ہونگے۔ سچ پوچھیں تو عہد قدیم میں انسانی تاریخ جوکھم کا کام ہے، ہاں مگر یہ ضرور ہے کہ جدید ترین تحقیقات کے مطابق دنیا کی قدیم ترین زبان کی تاریخ 5 ہزار سال قدیم دریافت کی گئی ہے۔ آئیے آج جانتے ہیں دنیا کی قدیم زبانیں کون سی تھیں، جی ہاں ماضی کا صیغہ اسلئے استعمال کیا ہے کہ بیشتر قدیم ترین زبانیں وجود کھو بیٹھیں۔ مگر اب بھی دنیا میں ہزاروں سال پرانی زبانیں رائج ہیں، آگے چل کر آپ کو بتائیں گے کہ آج دنیا میں کون سی قدیم ترین زبانیں رائج ہیں، شاید یہ معلومات آپکے لئے حیران کن ثابت ہو۔
اب تک ہونیوالی لسانی تحقیقات کے حوالے سے قدیم ترین زبانوں میں سمیری، اکادی، سامی اور مصری غیر سامی زبانیں شامل ہیں جو آج دنیا میں موجود نہیں، سمیری تہذیب میسوپوٹیمیا خطے سے تعلق رکھتی ہے جو آج عراق کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ سمیری زبان کم و بیش 3100 سال قبل مسیح گویا 5 ہزار سال پرانی ہے۔ سمیرین کیونی فارم رسم الخط منیں لکھی جاتی تھی جو آج تاریخی نوادرات کی شکل میں ہمارے سامنے موجود ہے۔ اسی خطے یعنی میسوپوٹیمیا میں دوسری تہذیب عکادی کہلاتی ہے، اسکا تعلق 2500 قبل مسیح سے ہے اور اکادی زبان بھی اتنی ہی پرانی ہے۔ اس زبان کے بھی نمونے دریافت کیے جا چکے ہیں، عکادی زبان کی اہمیت یہ بھی ہے کہ اسکی کوکھ سے عبرانی اور عربی زبانوں نے جنم لیا۔ قدیم مصری زبان، یہ غیر سامی زبان ہے اور مصر میں لگ بھگ چار ہزار سال پہلے یعنی 3200 قبل مسیح رائج تھی، صدیوں کے سفر میں یہ زبانیں اپنا وجود کھو بیٹھیں۔ چلیں جانتے ہیں ہماری دنیا میں بولی یا لکھی جانیوالی زبانوں میں قدیم ترین کونسی ہیں۔ آپ یہ جان کر حیران رہ جائینگے آج بھی ایسی زبانیں موجود ہیں جو ہزاروں سال سے زندہ ہیں۔
آج ہماری دنیا میں بولی جانیوالی قدیم ترین زبانیں کون سی ہیں؟ پہلے نمبر پر ہے تامل زبان، جی ہاں ہندوستان کا علاقہ تامل ناڈو، تاریخی حوالوں کے مطابق تامل زبان 3000 قبل مسیح سے موجود ہے، آپ یہ جان کر بھی حیران ہونگے کہ تامل زبان صرف انڈیا نہیں بلکہ سری لنکا اور سنگا پور کی سرکاری زبانوں میں شامل ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا کا قدیم ترین ادب بھی تامل زبان سے تعلق رکھتا ہے۔ 2 ہزار سال پہلے کے شاعر تھروولوور کا مجموعہ جسے تھروکورل کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ سچ ہے کہ موجودہ تحقیقات کے مطابق تامل دنیا کی قدیم ترین زبان ہے۔
دوسرے نمبر پر کوئی اور نہیں بلکہ سنسکرت زبان، اس کی مذھبی حیثیت بھی ہے اور سنسکرت ہندو مت، بدھ اور جین مت کی زبان مانی جاتی ہے۔ وید، اپنشد، مہا بھارت اور رامائن جیسی مقدس کتابوں کے باعث اسے دیوتائوں کی زبان کہا جاتا ہے۔ ہندوستان میں بولی جانیوالی ہندی کے علاوہ متعدد زبانوں نے سنسکرت سے ہی جنم لیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ سنسکرت کی گرامر کو سب سے پہلے پانینی نے اپنی تصنیف اشٹادھیانی میں مرتب کیا تھا۔ چوتھی صدی قبل مسیح کی مرتب کردہ سنسکرت گرامر کا آج بھی مطالعہ کیا جاتا ہے۔
تیسرے نمبر پر ہے چینی زبان، ویسے یہ بھی حقیقت ہے کہ تحریر کی شکل کے حوالے سے بات کی جائے تو چینی زبان قدیم ترین ثابت ہوتی ہے، چینی طرز تحریر کے 1250 قبل مسیح کے لکھی قدیم تختیاں اسکا ثبوت ہیں۔ بہرحال جناب یہ بھی سچ ہے کہ تاریخ میں چینی زبان کے کئی ڈائیلیکٹ سامنے آتے ہیں، کینٹونیز، وو، ژیانگ، پوتونگھوا، من، گان وغیرہ وغیرہ، آجکل جو چینی زبان ایک ارب سے زیادہ لوگ بولتے ہیں اسے میڈارن کہا جاتا ہے
چوتھے نمبر پر ہے عظیم فلسفیوں کی زبان یونانی یا گریک، 1450 قبل مسیح بحیرہ روم کی دنیا میں سب سے زیادہ بولی جانیوالی زبان ہوا کرتی تھی۔ عظیم بازنطینی سلطنت کی قومی زبان بھی یہی تھی، عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل کی زبان، پھر اسی قدیم یونانی زبان سے جدید زبان نکلی جو آج بولی جاتی ہے، یونان اور قبرص کی سرکاری زبان کو آج 13 ملین سے زیادہ لوگ استعمال کرتے ہیں
دنیا کی قدیم ترین پانچویں زبان عبرانی ہے، بنی اسرائیل کی زبان، یہودیت اور سامریت مذھبی زبان، عبرانی، کنعانی زبانوں کی علاقائی بولی کے طور پر استعمال کی جاتی تھی، عبرانی قدیم سے جدید تک لگ بھگ تین ہزار سال پرانی زبان ہے۔
لاطینی بھی ایک قدیم اور مذھبی زبان ہے، ساتویں صدی قبل مسیح لاطیم میں بولی جاتی تھی، یہ روم کے اطراف کا علاقہ ہے۔ سلطنت روم کے بعد یہ سرکاری زبان بنی، عیسائیت کیساتھ فروغ پاتی رہی، یورپ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطی کے کئی علاقوں میں بولی جاتی تھی۔ گو کہ آج لاطینی ایک مردہ زبان قرار دی جاتی ہے مگر یہ بھی سچ ہے کہ انگریزی زبان میں ساٹھ فیصد لاطینی شامل ہے۔ صرف اتنا ہی نہیں یورپ کی بیشتر زبانوں میں جیسے اطالوی، فرانسیسی، ہسپانوی اور رومانوی زبان میں بھی لاطینی کا گہرا اثر ہے۔
اس کے بعد ساتویں نمبر پر آتی ہے فارسی یا پرشین، فارس دنیا کی عظیم سلطنت ہوا کرتا تھا، فارسی زبان لگ بھگ 550 قبل مسیح سے موجود ہے، یہ زبان ایران کی سرکاری زبان ہے جبکہ افغانستان، تاجکستان، ازبکستان اور دیگر خطوں میں بولی جاتی ہے۔ فارسی نے دیگر دیگر زبانوں کو بھی متاثر کیا ہے جن میں اردو اور ترکی زبان شامل ہیں۔
آٹھویں نمبر پر ہے عربی، تقریبا 2500 سال قدیم زبان، ابتدا جزیرہ نما عرب سے ہوئی، مذھب اسلام کی زبان، قران مجید عربی زبان میں نازل ہوا۔ عربی زبان کے مختلف ڈائلیکٹس ملتے ہیں مگر یہ ایشیا ہی نہیں بلکہ افریقہ میں بھی بولی جاتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ 420 ملین افراد عربی بولتے ہیں۔
باسک زبان، مغربی یورپ میں بولے جانیوالی قدیم زبان ہے۔ پہلی صدی قبل مسیح سے تعلق رکھنے والے یہ زبان اسپین اور فرانس کے تقریبا 10 ہزار مربع کلومیٹر علاقے میں اب بھی استعمال کی جاتی ہے۔ ہسپانوی خانہ جنگی کے دوران 1936 میں پہلی بار اس باسی زبان کو سرکاری حیثیت میں ملی تھی۔ یہ عہد قدیم کی پیلیو یورپین زبانوں میں بچ جانیوالی واحد زبان شمار کی جاتی ہے۔
آرمینیائی زبان، دنیا کی قدیم زبانوں میں دسویں نمبر پر آتی ہے اور اسکا تعلق 405 عیسوی سے ہے۔ آرمینیا کی سرکاری زبان، اسکے علاوہ جارجیا سمیت روس کے کئی علاقوں، ایران، مصر، آذر بائیجان، لبنان عراق، فرانس، بلغاریہ اور امریکہ کے بعض علاقوں میں بھی بولی جاتی ہے۔
جدید تحقیق کے مطابق اس وقت دنیا میں 7 ہزار سے زائد زبانیں بولی جاتی ہیں، لسانیات کی معروف ویب سائٹ ایتھینیلوگ کے مطابق ان میں سے 90 فیصد زبانیں ایسی ہیں جنہیں بولنے والوں کی تعداد ایک لاکھ سے کم ہے جبکہ دو سو سے ایک سو پچاس زبانیں ایسی ہیں جنکو بولنے والوں کی تعداد دس لاکھ تک پہنچتی ہے۔ 357 زبانیں ایسی ہیں جنہیں بولنے والوں کی تعداد 50 سے بھی کم ہے اور یہ زبانیں جلد ناپید ہو جائینگی۔
تو جناب یہ تھی زبانوں کی تاریخ، اب ہم جان سکتے ہیں ہماری زبان اردو تو ابھی کل کی بات ہے، زبانوں کی دنیا 5 ہزار سال سے آباد ہے
06/04/2026
ہندوستان، کالے جادو کا مرکز پراسرار مایانگ
ہندوستان کا دارالحکومت دہلی ہے مگر کالے جادو کا کیپٹل ہے مایانگ، پراسرار ہندوستان کا پراسرار علاقہ، جہاں کا جادو صدیون سے خوف و دہشت کی علامت ہے، یوں جانیں کہ مہا بھارت کا مشہور کردار گھاؔٹو تکچ نے بھی جادو مایانگ جا کر سیکھا تھا۔ صدیوں سے پراسرار دھند میں لپٹا مایونگ آج بھی خوف و دہشت کی علامت ہے، اس سرزمین میں ایسے راز پوشیدہ ہیں کہ آپ جان کر حیران رہ جائیں، چلیں چند منٹ کیلئے چلتے ہیں کالے جادو کی سرزمین مایانگ
بھارت کی ریاست آسام، گوہاٹی سے تقریبا 40 کلومیٹر دور، برہم پتر ندی کے کنارے بسا خاموش چھوٹا سا گائوں مایانگ، ویسے تو یہ کسی بھی ہندوستانی دیہات کی طرح ایک چھوٹا سے قصبہ ہے مگر صدیوں سے اس کی پہچان کالے جادو کی سرزمین ہے۔ مایانگ آج بھی اپنے اندر صدیوں کے اسرار چھپائے موجود ہے۔ کہا جاتا ہے صدیوں پہلے کالے جادو کے سنتوں نے اس گائوں کو جنگل کاٹ کر بسایا تھا، یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ 1337 میں محمد شاہ کی ایک لاکھ فوج کو ایک نہتی جادوگرنی نے بھسم کر دیا تھا۔ گائوں کے مقامی لوگ بتاتے ہیں کہ آج بھی مکانوں کی کھدائی کے دوران پرانی تلواریں اور ہتھیار زمین سے برامد ہوتے ہیں۔ آج بھی مایانگ میں تانترک جنتر منتر کرتے ہیں، جانوروں کی بلی چڑھائی جاتی ہے، جادوئی ہانڈیاں اڑائی جاتی ہیں۔ ہاں یہ بات ضرور ہے کہ لوگ صرف اپنی خواہشات اور دشمنی پوری کرنے کیلئے نہیں بلکہ علاج کیلئے بھی مایانگ کا رخ کرتے ہیں۔ مایانگ میں ڈائن ڈاکٹر کثرت سے ملتے ہیں، زخموں پر تانبے کی چھوٹی پلیٹ رکھ کر علاج کیا جاتا ہے، علاج کامیاب ہو تو تانبے کی پلیٹ گر کر بکھر جاتی ہے، اب جانے یہ جادو ہے یا کرتب مگر ایسا ہوتا ضرور ہے۔ صرف اتنا نہیں اگر کسی کی کوئی قیمتی چیز کھو گئی تو بھی تانترک پانی بھرے بڑے پیالے میں تیرتے پھول کے ذریعے گمشدہ چیز کا پتہ بتاتے ہیں۔ ان معالجوں کو مقامی زبان میں اوجا یا بیز کہا جاتا ہے۔ کالے جادو کے ماہر ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں، انسانی کھوپڑیاں، انسانی پتلے، سلگتے ہوون، رنگ، پھل، پھول، کالے جادو کے سحر، جانوروں اور پرندوں کی ہڈیاں، پراسرار ماحول ریڑھ کی ہڈی میں خوف کی لہر پیدا کرتا ہے۔ کوئی بھی انسان اس ماحول میں دہشت زدہ رہ جاتا ہے مگر من کی مراد پانے کیلئے ہزاروں لوگ یہ خطرہ مول لیتے ہیں۔
مایانگ کی پراسرار داستانیں بھارتی میڈیا میں بھی آتی رہی ہیں، کہا جاتا ہے کہ مایانگ میں ہزاروں منتر سینہ بہ سینہ صدیوں سے نسلوں کو منتقل ہو رہے ہیں۔ مایانگ والے یہ دعویٰ بھی کرتے ہیں کہ منش یعنی انسان کو کسی بھی جانور یا مچھلی میں تبدیل کرنے کے منتر بھی موجود ہیں تو دوسری طرف تنقید کرنیوالوں کا کہنا ہے اگر ایسا ہے تو مایانگ قدرتی آفات جیسے سیلاب سے کیوں نہیں بچ پاتا۔ خیر یہ تو سچ ہے کہ برہم پتر ندی میں سیلاب کے باعث یہ گائوں اکثر نشانہ بنتا ہے۔
حقیقت جو بھی ہو یہ ضرور ہے کہ لاتعداد لوگ مایانگ جادو نگری کے اسیر ہیں، جائز ناجائز خواہشات کو پورا کرنے کیلئے ہزاروں لوگ ہر مہینے کالے جادو کی سرزمین پہہنچتے ہیں۔ صرف اتنا ہی نہیں مایانگ کی شہرت کے باعث ہر سال ہزاروں سیاح بھی جادو نگر جاتے ہیں۔ اسی لئے یہاں مایانگ سینٹرل میوزیم اینڈ ایمپوریم بنایا گیا ہے، اس میوزیم میں مایانگ کے پرسرار داستانوں سے جڑی اشیا، جادوئی آلات، منتر پوتھیاں، منتر کی کتابیں، درختوں کی چھال پر لکھے نسخے اور منتر، تلواریں اور ثقافت سے جڑی اشیا رکھی گئی ہیں۔ دوسری جانب ہر سال یہاں مایانگ پوبی تورا جشن بھی منایا جاتا ہے، دراصل پوبی تورا ، مایانگ سے جڑا گھنا جنگل ہے جہاں گینڈوں کی کثرت موجود ہے، جنگلی حیات اور جادو کا سالانہ تہوار ہزاروں لوگوں کو اپنی جانب متوجہ کرتا ہے۔
06/03/2026
2 ارب سالہ پراسرار پہاڑ، دیوتائوں کا مسکن؟
دنیا بھر میں پہاڑ مخروطی شکل، نوکدار بلند و بالا چوٹیوں سے پہچانے جاتے ہیں، مگر آج اپکو ایک ایسے عظیم الشان پہاڑ سے ملواتے ہیں جو چپٹا ہے، بالکل جیسے کسی نے کیک کا ٹکڑا کاٹ کر رکھ دیا ہو۔ دنیا کے قدیم تریں پہاڑ سے کئی پراسرار کہانیاں جڑی ہیں، ویسے یہ ہے ہی اتنا عجیب و غریب اور پرہیبت پہاڑ، سیدھا اور چپٹا، 9 ہزار 220 فیٹ بلند پہاڑ جس کے اوپر جانا تقریبا ناممکن ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ دھند میں لپٹے پراسرار پہاڑ کو دیوتائوں کا مسکن یا خلائی مخلوق کا گھر کہا جاتا ہے۔
تو جناب یہ ہے وینزویلا کا خوفناک مائونٹ رورائما، 2 ارب سال پرانا، 14 کلومیٹر پر پھیلا پاکارائما مائونٹین رینج، جہاں وینزویلا، گیانا اور برازیل آپس میں ملتے ہیں۔ یہ دراصل ٹیپوئی مائونٹینز کہلاتے ہیں، 2 ہزار 810 میٹر بلند، 5 کلومیٹر چوڑا یہ آسمان کا چھوتا پہاڑ ایک عجوبہ ہے، نوکیلی چوٹی کے بجائے وسیع و عریض میدان، صرف اتنا نہیں قدرت کا یہ عجوبہ شفاف جھیلوں، بلند آبشاروں سمیت قدرتی خزانوں سے مالامال ہے۔ بس یوں سمجھیں کہ پہاڑ کی عمودی چوٹی بادلوں میں معلق ایک جزیرہ دکھائی دیتی ہے، یا کوئی بڑا میدان یا پھر آسمان چھوتی ایک دیو ہیکل میز، اربوں سال قدیم مائونٹ رورائما قدرت کا پراسرار معجزہ ہے، جہاں جنگلی حیات، پودوں، جانوروں اور حیاتیاتی نمود ایک حیرت کدہ ہے۔ مقامی لوگ اس عجوبے کو گمشدہ دنیا بھی کہتے ہیں جبکہ اسے ٹیپوئی پکارا جاتا ہے جس کا مطلب دیوتائوں کا گھر ہے، مقامی روایات کے مطابق صدیوں پہلے رورائما پہاڑ ایک مافوق الفطرت درخت تھا جس میں دنیا کی ہر فصل اور پھل موجود تھا، مکونائیما نامی افسانوی شخصیت کے اس پیڑ کو کاٹ ڈلا جس کے بعد یہ پتھر میں تبدیل ہو گیا۔
بہرحال جناب، جیولوجیکل سوسائٹی آف لندن کی تحقیق کے مطابق مائونٹ رورائما ایک بڑے ریت کے پتھر کی باقیات ہیں جو لگ بھگ ایک اعشاریہ 8 بلین سال قدیم ہے۔ ابتدا میں یہ علاقہ ریت کا طویل میدان تھا جو آہستہ آہستہ سکڑ کر چٹان میں تبدیل ہو گیا، چٹان پر پتھر کی پرتیں جمع ہوتی گئیں اور تقریبا 180 ملین سال پہلے مٹ گئی اور پھر رفتہ رفتہ یہ عظیم الشان چپٹا پہاڑ وجود میں آیا۔ مائونٹ رورائما کا منفرد ارضیاتی ماحول اچھوتے جانور، پرندے اور پودوں پر مشتمل ہے جو سخت موسم میں بقا میں اپنی مثال آپ ہیں۔ مائونٹ رورائما پر رہنے والے مینڈکوں کے چار اقسام کا ڈی این اے تجزیہ کیا گیا تو پتہ چلا یہ انکا سلسلہ 5 اعشاریہ تین ملین سال پرانا ہے۔ کچھ نایاب جانور جیسے نایاب پرندے اور سیاہ مینڈک صرف دنیا میں اسی مقام پر پائے جاتے ہیں۔
مائونٹ رورائما مہم جو اور سیاحوں کیلئے ایک پرکشش مقاسم بن چکا ہے، ہائیک کرنیوالے مہم جو دنیا کے اس عجوبہ پہاڑ کی چوٹی یعنی عظیم میدان پر پہنچ کر جشن مناتے ہیں۔ یہ سفر آسان نہیں چونکہ اسمیں جگہ جگہ آبشاور، جھرنے، جھیلیں، جنگل، چٹانیں اور دشوار گزار منزلیں آتی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ قدرت کا یہ عجوبہ دنیا کی ارضیاتی اور حیاتیاتی منظر پر ایک انوکھی تصویر ہے۔
Can Dubai recover its global trust after Iran war? UAE-Israel ties will make the Emirates isolated in region? The hidden rivalry of Muhammad Bin Salman and Muhammad Bin Zayed? Internal disputes within UAE’s 7 states, How Saudi Arabia’s Neom City could challenge Dubai’s dominance?
From geopolitics to economics, this documentary explains how the Middle East is changing — and whether Dubai can remain the region’s financial capital?
Watch till the end and share your opinion in the comments.
Accord Israel Ties
06/02/2026
پراسرار موسیقی، سیکڑوں جان سے گئے
بڑی عجیب سی بات ہے مگر حقیقت یہ ہے موسیقی کی ایک دھن ایسی بھی ہے جسے سنکر سیکڑوں افراد جان کی بازی ہار گئے۔ ہنگری کے موسیقار نے ایسی پراسرار دھن بنائی کہ زمانہ دیوانہ ہو گیا، سچ تو یہ ہے کہ یہ موسیقار خود بھی اپنی ہی دھن کا نشانہ بن گیا۔ اس جان لیوا دھن پر ایک زمانے تک مختلف ممالک میں پابندی بھی عائد رہی، خوف، دہشت، مایوسی اور گہری اداسی، مگر اس کے باوجود یہ موسیقی دنیا بھر میں مقبولیت کے جھنڈے بھی گاڑتی رہی۔ یقین جانیں اس خطرناک دھن پر 100 گلوکاروں نے دنیا کی 28 زبانوں میں گانے ریکارڈ کروائے تو ٹاپ چارٹ ثابت ہوئے۔
تو جناب اس دھن کو سیڈ سنڈے یا گلومی سنڈے کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ 1933 ہنگری کے موسیقار ریژسو سیریس نے اپنی محبوبہ کی جدائی میں یہ اداس دھن تخلیق کی، اس محبوبہ کی یاد میں جو ریژسو سیریس کو چھوڑ کر چکی تھی۔ نجانے اس دھن میں ایسا کیا تھا کہ سب کو دیوانہ بنا لیتی ہے، ایسا گہرا نفسیاتی تاثر چھوڑتی ہے کہ انسان اداسی کے دلدل میں اترتا چلا جاتا ہے۔ ایک زمانے تک اس دھن کے قصے میڈیا پر چھائے رہے، اخبارت میں خودکش نغمہ گونجتا رہا، تخلیق کار ریژسو سیریس نے بھی بڑے عجیب انداز میں خودکشی کی، اس حوالے سے بھی آپ کو آگے چل کر آگاہ کرینگے۔
دراصل یہ دھن ریژسو سیریس نے 1932 کے آخر میں بنائی تھی جب وہ پیرس میں تھے، یہ کمپوزیشن پیانو پر سی مائنر میں ترتیب دی گئی تھی جو اپنے اندر گہری اداسی رکھتی تھی۔ یہ وہ وقت ہے جب ریژسو سیریس کا ملک ہنگری نہایت غیر یقینی اور فاشسٹ دور سے گزر رہا تھا، جہاں بادشاہ کے بغیر ایسی حکومت قائم تھی جسے ریجنسی کہ جاتا تھا۔ عوام آمریت تلے ناانصافی اور آلام کا شکار تھے، شاید یہی تاثر اس دھن میں تھا جس نے پورے ہنگری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
تو جنب 1933 میں یہ اداس دھن سامنے آئی، مقبولیت حاصل کی، تخلپق کار سمیت متعدد جان سے گئے، اسی باعث کوئی گلوکار اسے اپنی آواز دینے پر راضی نہ ہوا۔ 1935 میں پہلی مرتبہ اسے ہنگری کے پوپ سنگر پال کالمار نے گایا، گانا ریلیز ہوا تو واقعات میں یکایک اضافہ ہو گیا۔ پہلے جان لیوا واقعات کی تعداد 17 تھی مگر گانا ریلیز ہونے کے نعد چند سالوں میں تعداد 100 سے اوپر پہنچ گئی، سو 1941 میں ہنگری حکومت نے گانے پر پابندی عائد کر دی جو 2003 تک موجود رہی۔ تخلیق کار ریژسو سیریس نے نہایت افوسناک انداز میں اپنی جان لی، 1968 میں پہلے تو اس فنکار نے اونچی عمارت سے چھلانگ لگا کر جان دینے کی کوشش کی مگر بچ گیا، پھر چند روز بعد اسپتال میں ہوش میں آیا تو موقعہ پا کر گلے میں تار لپٹ کر جان سے گیا۔ اتفاق سے یہ اتوار کا دن تھا، یعنی سیڈ سنڈے، اس گانے پر صرف ہنگری نہیں بلکہ مختلف ممالک میں مختلف ادوار میں سخت پابندیاں عائد رہیں،،، 30 کی دہائی میں یورپ میں اسے خوفناک جان لیوا واقعات سے جوڑا گیا جس کے بعد مختلف ممالک میں ریڈیو پر نشر کرنے کی پابندی عائد رہی، حتیٰ کہ برطانیہ اور امریکہ میں بھی سیڈ سنڈے کے مختلف ورژنز پر پابندیاں عائد کی گئیں۔
یہ اداس گانا اب تک دنیا کی 28 زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے جبکہ 100 سے زائد گلوکاروں نے اسے گایا ہے، اگر آپ کو قاتل دھن کی داستان پر یقین نہیں آتا تو ایک بار انٹرنیٹ پر جائیں، سیڈ سنڈے یا گلومی سنڈے سرچ کریں لاتعداد بکھری داستانیں آپ کے سامنے ہونگیں
#
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Address
Hillside Avenue
Queens, NY
21309B