Al Qalam

Al Qalam

Share

Follow for more

06/10/2026

Jokes Time

06/10/2026

چالاک لڑکی (مکمل کہانی)

ایک تاجر نے اپنی دکان پر ایک بورڈ لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا مرد کی عقل عورت کی چالاکی پر غالب آجاتی ہے ۔ ایک روز ایک لوہار کی لڑکی بازار سے گزر رہی تھی ۔ اس کی نظر اس بورڈ پر پڑی ۔ اسے بہت غصہ آیا اس نے سوچا اس تاجر کو سبق سکھانا چاہیے ۔

اگلی صبح وہ خوب بن سنور کر ، اپنی بہترین پوشاک پہن کر تاجر کی دکان پر پہنچی ۔

السلام علیکم، اس نے کہا ۔

و علیکم السلام ، تاجر نے جواب دیا۔

لڑکی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

تاجر کو بہت تعجب ہوا ۔

کیا ہوا بی بی کیوں رو رہی ہو ، تاجر نے پوچھا کیا چاہیے تمھیں، مجھ سے کہو ۔ میں دلا دوں "

لڑکی روتی رہی ۔

بھئی کیوں روتی ہو ، تاجر نے کہا۔ میں نے کہا نا تمھیں جو چاہیے مل جائے گا مگر تم کہو تو کہ تمھیں کیا چاہیے ؟

کاش یہ ممکن ہوتا ، لڑکی نے کہا۔ پھر تاجر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پوچھا " آپکو میری آنکھوں میں کوئی خرابی نظر آتی ہے ؟ " بالکل نہیں، تاجر نے کہا۔

میرے بازوؤں میں ، اس نے اپنے سڈول بازو دکھائے ۔

تمھارے بازو تو بالکل شیشے کے مانند ہیں ۔ سفید جگمگاتے ہوئے تاجر نے کہا۔

لڑکی نے روتے ہوئے اپنے پیروں کی طرف اشارہ کیا۔

تو پھر ان میں کوئی عیب ہوگا؟

نہیں تو ۔ تمھارے پیر تو بڑے خوبصورت ہیں "

لڑکی نے اپنے سر سے رومال ہٹایا اور لمبے لمبے بالوں کو لہرا کر چھوڑا تو وہ ٹخنوں تک آنے لگے ۔ شاید میرے بال اچھے نہیں ہے ؟

تمھارے بال تو ریشم سے زیادہ ملائم ہیں "

لڑکی نے کہا میں داروغہ کی لڑکی ہوں ۔ جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ کہتا ہے میری بیٹی بھینگی ہے ، لولی ہے ، لنگڑی ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے ایسی لڑکی سے کون شادی کرے گا۔

تاجر نے کہا تم فکر نہ کرو کل میں خود داروغہ کے پاس جا کر پیغام دوں گا

اگلے روز صبح صبح تاجر خوب بن ٹھن کر داروغہ سے ملنے پہنچ گیا۔ داروغہ نے اسے دیوان خانے میں بٹھایا اور خاطر تواضع کی ۔ رسمی خیر و عافیت کی باتوں کے بعد وہ مطلب پر آیا ۔

داروغہ نے کہا "میری بیٹی ! میری تو کوئی بیٹی نہیں !

نہیں جناب، تاجر نے کہا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کی ایک لڑکی ہے اور وہ شادی کے لائق بھی ہے ۔

" لیکن میاں وہ تو بھینگی ہے ، "

" مجھے منظور ہے "

لنگڑی بھی ہے"

" مجھے منظور ہے ،

لولی ہے "

"کوئی بات نہیں "

آپ کو دس ہزار دینار دینے پڑیں گے "

تاجر سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر لڑکی کی خوبصورتی کا خیال آیا اور اس نے کہا مجھے منظور ہے ۔

نکاح ہوا ۔ دعوتیں ہوئیں ۔ اب دلھن کو دولھا کے گھر آنا تھا۔

تاجر دلھن کی رخصت کا انتظار کرنے لگا۔ بڑی دیر بعد ایک مزدور آیا اور ایک بڑی سی گٹھری ڈال گیا ۔ تاجر نے سوچا شاید اس میں دلھن کے کپڑے ہیں ۔ پھر خیال آیا ۔ کھول کر دیکھوں تو سہی۔ اس نے گٹھری کھولی تو اس میں ایک لڑکی بیٹھی نظر آئی ۔ بھینگی ، لولی لنگڑی ۔ اب تو وہ بہت چکرآیا ۔ اس نے پوچھا تم کون ہو ۔ لڑکی نے جواب دیا تمھاری دلھن

اب تاجر سمجھا کہ وہ لڑکی اسے بے وقوف بنا گئی۔

اگلے روز لوہار کی لڑکی وہاں سے گزری تو تاجر دونوں ہاتھ سر میں

دیے دکان پر بیٹھا ہے ۔

صبح بخیر لڑکی نے کہا ۔

" شیطان کی خالہ " اس نے لڑکی سے کہا۔ میں نے تمھارا

کیا بگاڑا تھا ۔

لڑکی نے سائن بورڈ کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا " اب آپ

کا کیا خیال ہے کون زیادہ چالاک ہے "

تو تم نے اسی لیے بدلہ لیا ؟ ،، تاجر نے پوچھا ۔

اگر تم میری مدد چاہتے ہو تو اس بورڈ کو اتار دو » لڑکی نےکہا۔
تاجر نے فورا بورڈ کو اتارا اور اس پر سنہری حرفوں سے لکھوایا۔ عورتوں کی چالاکی کے آگے مرد مات کھا جاتے ہیں ۔

اگلے روز لڑکی نے بورڈ دیکھا تو بہت خوش ہوئی ۔ اس نے کہا اب میں تمھیں اس مصیبت سے نجات دلاتی ہوں جس میں تم پھنس گئے ہو۔ اس نے تاجر سے کہا کہ شہر کے باہر خانہ بدوشوں کے خیمے لگے ہوئے ہیں انھیں رات میں کھانے پر بلالو اور ان کو کہو کہ خوب گانے گائیں اور ڈھول بجائیں۔اور وہ تم کو چچا کہے۔داروغہ کو بھی دعوت دو ۔ جب داروغہ پوچھے تو ٹھنڈی آہ بھر کر کہنا کہ آدمی اپنی اصلیت چھپا نہیں سکتا۔ میں دراصل اسی قبیلے سے ہوں اب خدا نے مجھے چار پیسے دیے ہیں ۔ تو انھیں کیسے بھول جاؤں ۔ داروغہ ضرور طلاق کے لیے کہے گا ۔

تاجر نے وہی کہا جو لڑکی نے کہا تھا۔ داروغہ بیٹھا ہوا تھا کہ خانہ بدوش گاتے بجاتے آئے ۔ اور چچا کہہ کر تاجر سے لپیٹتے ، مصافحہ کرنے لگے ۔

داروغہ نے تاجر سے پوچھا " جناب یہ کیا ہے ،

تاجر نے کہا کہ یہ میرے رشتہ دار ہیں ۔ دراصل میں بھی خانہ بدوش ہوں ۔ اب خدا نے مجھ پر فضل کیا ہے تو میں انھیں بھی یاد رکھتا ہوں اور پر سال میں کم از کم دو بار ان کی دعوت کرتا ہوں ۔

کیوں داروغہ کو بہت غصہ آیا ۔ اس نے تاجر سے کہا تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ تم خانہ بدوشوں میں ہو؟ لاحول ولا قوة ، میری لڑکی اور خانہ بدوشوں میں جائے ۔ تم ابھی لڑکی کو طلاق دو ۔

جناب یہ آپ کیا کر رہے ہیں ۔ تاجر نے کہا ۔ اسی رشتے سے تو میری عزت افزائی ہے ۔

اس نے کہا شادی پر جو کچھ خرچ ہوا ہے میں دینے کے لیے تیار ہوں ۔

تاجر راضی نہ ہوا ۔

اچھا ڈبل رقم لے لو۔ داروغہ نے تاجر سے کہا۔

اب تاجر نے ہامی بھری ۔ اور لڑکی کو طلاق دے دی۔

اگلے روز وہ لوہار کے گھر پہنچا۔ اور شادی کی تجویز رکھی مگر اس شرط پر کہ میں پہلے لڑکی دیکھوں گا۔

لوہار نے کہا جناب ایسی شرط کیوں ۔ ہمارے یہاں یہ چلن نہیں ہے

تاجر نے کہا " میں بن دیکھے شادی نہیں کر سکتا ۔ چاہو تو مجھ سے

ڈبل رقم لے لو ۔

لوہار کی برادری کا ایک اور شخص قریب ہی بیٹھا تھا اس نے کہا ۔ " ٹھیک ہے ۔ ہمیں کیا اعتراض ہو سکتا ہے ۔ ہماری لڑکی کوئی لولی لنگڑی تھوڑی ہے جو ہم لڑکی دکھانے سے گھبرائیں"

لوہار نے نے لڑکی کو آواز دی ۔

تاجر نے دیکھا یہ وہی لڑکی ہے۔ وہ اسے دیکھ کر ہنسنے لگی ۔ تاجر نے اس لڑکی سے شادی کرلی اور دونوں ہنسی خوشی رہنے لگے۔

06/09/2026

چالاک لڑکی

ایک تاجر نے اپنی دکان پر ایک بورڈ لگا رکھا تھا جس پر لکھا تھا مرد کی عقل عورت کی چالاکی پر غالب آجاتی ہے ۔ ایک روز ایک لوہار کی لڑکی بازار سے گزر رہی تھی ۔ اس کی نظر اس بورڈ پر پڑی ۔ اسے بہت غصہ آیا اس نے سوچا اس تاجر کو سبق سکھانا چاہیے ۔

اگلی صبح وہ خوب بن سنور کر ، اپنی بہترین پوشاک پہن کر تاجر کی دکان پر پہنچی ۔

السلام علیکم، اس نے کہا ۔

و علیکم السلام ، تاجر نے جواب دیا۔

لڑکی اچانک پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی ۔

تاجر کو بہت تعجب ہوا ۔

کیا ہوا بی بی کیوں رو رہی ہو ، تاجر نے پوچھا کیا چاہیے تمھیں، مجھ سے کہو ۔ میں دلا دوں "

لڑکی روتی رہی ۔

بھئی کیوں روتی ہو ، تاجر نے کہا۔ میں نے کہا نا تمھیں جو چاہیے مل جائے گا مگر تم کہو تو کہ تمھیں کیا چاہیے ؟

کاش یہ ممکن ہوتا ، لڑکی نے کہا۔ پھر تاجر کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر دیکھا اور پوچھا " آپکو میری آنکھوں میں کوئی خرابی نظر آتی ہے ؟ " بالکل نہیں، تاجر نے کہا۔

میرے بازوؤں میں ، اس نے اپنے سڈول بازو دکھائے ۔

تمھارے بازو تو بالکل شیشے کے مانند ہیں ۔ سفید جگمگاتے ہوئے تاجر نے کہا۔

لڑکی نے روتے ہوئے اپنے پیروں کی طرف اشارہ کیا۔

تو پھر ان میں کوئی عیب ہوگا؟

نہیں تو ۔ تمھارے پیر تو بڑے خوبصورت ہیں "

لڑکی نے اپنے سر سے رومال ہٹایا اور لمبے لمبے بالوں کو لہرا کر چھوڑا تو وہ ٹخنوں تک آنے لگے ۔ شاید میرے بال اچھے نہیں ہے ؟

تمھارے بال تو ریشم سے زیادہ ملائم ہیں "

لڑکی نے کہا میں داروغہ کی لڑکی ہوں ۔ جب بھی کوئی پیغام آتا ہے تو وہ کہتا ہے میری بیٹی بھینگی ہے ، لولی ہے ، لنگڑی ہے ۔ اب آپ ہی بتائیے ایسی لڑکی سے کون شادی کرے گا۔

تاجر نے کہا تم فکر نہ کرو کل میں خود داروغہ کے پاس جا کر پیغام دوں گا

اگلے روز صبح صبح تاجر خوب بن ٹھن کر داروغہ سے ملنے پہنچ گیا۔ داروغہ نے اسے دیوان خانے میں بٹھایا اور خاطر تواضع کی ۔ رسمی خیر و عافیت کی باتوں کے بعد وہ مطلب پر آیا ۔

داروغہ نے کہا "میری بیٹی ! میری تو کوئی بیٹی نہیں !

نہیں جناب، تاجر نے کہا۔ مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ آپ کی ایک لڑکی ہے اور وہ شادی کے لائق بھی ہے ۔

" لیکن میاں وہ تو بھینگی ہے ، "

" مجھے منظور ہے "

لنگڑی بھی ہے"

" مجھے منظور ہے ،

لولی ہے "

"کوئی بات نہیں "

آپ کو دس ہزار دینار دینے پڑیں گے "

تاجر سوچ میں پڑ گیا ۔ پھر لڑکی کی خوبصورتی کا خیال آیا اور اس نے کہا مجھے منظور ہے ۔

نکاح ہوا ۔ دعوتیں ہوئیں ۔ اب دلھن کو دولھا کے گھر آنا تھا۔

تاجر دلھن کی رخصت کا انتظار کرنے لگا۔ بڑی دیر بعد ایک مزدور آیا اور ایک بڑی سی گٹھری ڈال گیا ۔ تاجر نے سوچا شاید اس میں دلھن کے کپڑے ہیں ۔ پھر خیال آیا ۔ کھول کر دیکھوں تو سہی۔ اس نے گٹھری کھولی تو اس میں ایک لڑکی بیٹھی نظر آئی ۔ بھینگی ، لولی لنگڑی ۔ اب تو وہ بہت چکرآیا ۔ اس نے پوچھا تم کون ہو ۔ لڑکی نے جواب دیا تمھاری دلھن

اب تاجر سمجھا کہ وہ لڑکی اسے بے وقوف بنا گئی۔

کہانی جاری ہے ۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط کل اپلوڈ کی جائے گی ۔
اگر کوئی ابھی پڑھنا چاہتا ہے تو کمنٹ میں لنک موجود ہے ۔

06/08/2026

"لو میں آیا" چینی لوک کہانی
چین کے مانگی چو شہر میں ایک مشہور ڈاکو رہتا تھا۔ اسے کسی نے نہیں دیکھا تھا مگر سب اسے "لو میں آیا" کے نام سے جانتے تھے۔ وہ جہاں بھی ڈاکہ ڈالتا یا چوری کرتا وہاں کسی دیوار پر "لو میں آیا" ضرور لکھ دیا کرتا تھا۔

رفتہ رفتہ اس کی سرگرمیاں اتنی بڑھ گئیں کہ عوام نے حکومت سے درخواست کی کہ انہیں اس سے چھٹکارا دلایا جائے ۔ کوتوال کو حکم دیا گیا کہ کسی بھی طرح "لو، میں آیا" کو گرفتار کر لیا جائے ۔ گرفتاری کے لئے آٹھ روز کی مدت مقرر کر دی گئی۔

کوتوال سوچ میں پڑ گیا ۔ وہ کوئی عام چور نہیں تھا، وہ اتنا چالاک تھا کہ کسی کے پاس اس کی پوری معلومات نہیں تھی، کوئی اس کے رنگ روپ ، قد و قامت کے بارے میں نہیں جانتا تھا۔ ایسے چور کو ایک مقررہ وقت کے اندر گرفتار کرنا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور تھا۔

کوتوال اور اس کے عملے نے چور کی تلاش میں رات دن ایک کر دیے ۔ آخر ایک
شخص کو گرفتار کر کے منصف کے سامنے پیش کر دیا ۔ کوتوال نے کہا: حضور! یہی "لو، میں آیا" ڈاکو ہے۔ اسے سخت سے سخت سزا دے کر شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کیجئے ۔“ منصف نے پوچھا۔ ” تمہارے پاس کیا ثبوت ہے کہ یہی وہ ڈاکو ہے۔“

حضور !“ کوتوال نے عرض کیا، ہم نے بڑی ہوشیاری سے اس پر نگاہ رکھی اور اس کی نقل و حرکت کی خبر رکھتے رہے۔ یقین ہو جانے کے بعد ہی ہم نے اسے گرفتار کیا ہے۔“ منصف نے ملزم سے پوچھا۔ ” تمہارا اس بارے میں کیا کہنا ہے؟“

"حضور! انہیں اپنی کارکردگی دکھانے کے لئے کسی نہ کسی کو گرفتار کرنا ہی تھا۔ بد قسمتی سے میں ان کے ہتھے چڑھ گیا۔ یہ مجھے پکڑ لائے میں بے گناہ ہوں ۔ ملزم نے کہا۔

منصف کو شش و پنج میں مبتلا دیکھ کر کوتوال نے کہا: ”حضور ! آپ اس کی باتوں کا اعتبار نہ کریں۔ یہ بہت چالاک ہے۔“

منصف نے کوتوال کی بات کا اعتبار کر لیا اور قیدی کو فی الحال قید خانے میں رکھنے کا حکم جاری کر دیا۔

قیدی در حقیقت ”لو میں آیا“ ہی تھا۔ اس نے قید خانے پہنچتے ہی اپنی چالاکی دکھانی شروع کر دی۔ اس نے جیل کے محافظوں سے تو دوستی کی ہی ... جیل کے افسر سے تنہائی میں کہا: خالی ہاتھ بڑوں کی خدمت میں حاضر ہونا ہمارا شیوہ نہیں ہے۔ میرے پاس جو کچھ تھا وہ مجھے قید کرنے والے سپاہیوں نے چھین لیا۔ پھر بھی آپ کو میں ایک چھوٹا سا نذرانہ دینا چاہتا ہوں ۔ پہاڑی پر دیوتا کے مندر کے ایک اینٹ کے نیچے میں نے تھوڑی سی چاندی چھپا رکھی ہے۔ آپ اسے لے لیں“

افسر نے پہلے تو قیدی کی بات کا اعتبار نہیں کیا، مگر پھر بھی قیدی کی بتائی ہوئی جگہ پر پہنچ گیا اور نشان زدہ اینٹ ہٹا کر دیکھا تو وہاں سے ایک سیر چاندی برآمد ہوئی ۔ افسر نے وہ چاندی رکھ لی۔

اس واقعے کے بعد قید خانے کا وہ افسر ڈاکو کے ساتھ دوستانہ سلوک کرنے لگا۔ چند روز گزر گئے۔ ایک روز ڈاکو نے افسر سے موقع دیکھ کر کہا: ”صاحب، میں نے فلاں پل کے
نیچے بہت سے دولت گاڑ رکھی ہے۔ آپ وہ بھی لے لیجئے ۔ اب میرے تو کسی کام کی نہیں ۔“ افسر نے کہا: پل پر ہمیشہ لوگوں کی آمد و رفت جاری رہتی ہے ۔ میں وہاں سے گڑی ہوئی دولت کیسے نکال سکتا ہوں؟“

آپ اپنے ساتھ دو چار جوڑے کپڑے لے جائیں۔ ساتھ میں ایک خالی تھیلا بھی لے جائیں ۔ سب سمجھیں گے آپ ندی پر کپڑے دھونے گئے ہیں۔ آپ دولت نکال کر تھیلے میں ڈال لیں۔ کپڑے بھی پانی میں گیلے کر کے تھیلے میں ڈال لیں اور تھیلا لے آئیں ۔ کوئی آپ پر شک نہیں کر سکتا ۔ قیدی نے ترکیب بتائی۔

افسر نے قیدی کی ترکیب پر عمل کیا اور پل کے نیچے سے دولت نکال لایا ۔ اب ان دونوں کی دوستی اور گہری ہوگئی۔

ایک رات افسر اپنے قیدی دوست کے لئے جیل خانے میں شراب لایا۔ دونوں نے بیٹھ کر شراب پی۔ جب افسر کو نشہ چڑھ گیا تو قیدی نے اس سے کہا، آج رات مجھے گھر جانے کی اجازت دیجئے ، سویرے تک میں لوٹ آؤں گا۔ آپ اپنے دل میں یہ خیال بالکل نہ لائیں کہ میں فرار ہونا چاہتا ہوں، اگر میں فرار ہوتا ہوں تو اس کا مطلب ہوگا کہ میں نے اپنے جرم کو قبول کر لیا اور میں بھاگوں کیوں؟ آج نہیں تو کل منصف مجھے رہا کر ہی دے گا کیونکہ میں نے کوئی جرم نہیں کیا ہے۔“

قیدی نے اتنے اعتماد سے یہ بات کہی کہ کوتوال پس و پیش میں پڑ گیا۔ قیدی کے فرار ہونے یا جیل خانے سے باہر جانے کی بات پھیل جاتی تو اس کی ملازمت کو خطرہ ہو سکتا ہے مگر قیدی پر اسے بھروسا ہو چکا تھا، اس لئے اس نے اسے اجازت دے دی۔

قیدی نے باہر جانے کے لئے دروازے کا استعمال نہیں کیا۔ وہ چھت پر سے کود کر قید خانے سے باہر چلا گیا۔ صبح ہونے سے پہلے وہ واپس بھی آگیا۔ اس نے خراٹے لے کر سو رہے افسر کو جگا کر کہا " لو میں آیا۔“

واہ ! تم بڑے شریف آدمی ہو ۔ تم نے اپنا وعدہ پورا کیا۔ میں تم سے خوش ہوں۔ افسر نے خوش ہو کر کہا۔
آتا کیسے نہیں؟ میرے نہ لوٹنے سے آپ کی عزت خاک میں مل جاتی ۔ مجھے یہ گوارا نہ تھا۔ آپ نے جو احسان مجھ پر کیا ہے اسے میں زندگی بھر نہیں بھول سکوں گا۔ شکریے کے اظہار کے لئے میں آپ کے گھر میں، ایک چھوٹا سا تحفہ دے آیا ہوں ۔ آپ گھر جا کر تحفہ دیکھ آئیں۔ مجھے تو اب قید خانے سے جلد ہی رہائی مل جائے گی ۔ قیدی نے کہا۔

قید خانے کا افسر فورا گھر پہنچا۔ اس کی بیوی نے خوشی خوشی اسے خبر دی .... جانتے ہو آج کیا ہوا ؟ سویرا ہونے میں تھوڑی دیر باقی تھی کہ روشن دان میں سے ایک گٹھری اندر آگری۔ میں نے کھول کر دیکھا، اس میں سونے چاندی کی تھالیاں تھیں ۔“

افسر سمجھ گیا کہ قیدی اسی تحفے کا ذکر کر رہا تھا۔ اس نے بیوی کو ہدایت دی ۔ کسی سے اس بات کا ذکر نہ کرنا۔ ان تھالیوں کو چھپا کر رکھ دو۔ جب کچھ وقت گزر جائے گا تب ہم انہیں بیچ کر نقد روپے حاصل کر لیں گے ۔“

دوسرے دن عدالت میں کئی فریادی حاضر ہوئے ۔ سب کا کہنا یہی تھا کہ رات ان کے گھر میں سونے چاندی کا قیمتی سامان چوری ہو گیا ... سب کے گھر کی دیواروں پر لو میں آیا لکھا ہوا تھا..

منصف نے کوتوال سے کہا۔ ” وہ قیدی صحیح کہتا تھا ، وہ لو میں آیا نہیں ہے۔ وہ تو قید خانے میں ہے اور ”لو، میں آیا اب بھی دھڑلے سے چوریاں کر رہا ہے۔ اصلی چور کی تلاش کی جائے اور اس بے گناہ کو آزاد کر دیا جائے۔

قید خانے کا افسر اچھی طرح سمجھ چکا تھا کہ یہی اصلی چور ہے مگر وہ کسی سے اس حقیقت کا اظہار نہیں کر سکتا تھا۔ کیونکہ اس نے چور سے نہ صرف پہلے بلکہ حالیہ چوری میں سے بھی حصہ حاصل کیا تھا ۔ قیدی آزاد کر دیا گیا۔

06/06/2026

آخری بس۔۔ ایک سنسنی خیز کہانی (مکمل کہانی)

کراچی سے حیدرآباد جانے والی رات کی آخری بس ہمیشہ کی طرح مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ گرمی کا موسم تھا، مگر رات کی ہوا میں ہلکی خنکی شامل ہو چکی تھی۔ بس کے اندر پنکھے چل رہے تھے، مگر پھر بھی پسینے اور ڈیزل کی ملی جلی بو ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔

وقاص کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا باہر اندھیرے میں گزرتی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پچیس سال کا نوجوان تھا اور ایک نجی کمپنی میں ملازم تھا۔ دو دن پہلے اسے اطلاع ملی تھی کہ اس کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، اسی لیے وہ جلدی جلدی کراچی سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔

بس میں مختلف قسم کے لوگ بیٹھے تھے۔ کوئی موبائل پر بات کر رہا تھا، کوئی اونگھ رہا تھا، اور کچھ لوگ خاموشی سے سفر کر رہے تھے۔

وقاص کے برابر والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔ اس نے سادہ شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور بار بار بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کالا بیگ تھا جسے وہ کسی قیمتی چیز کی طرح سنبھالے ہوئے تھا۔

کچھ دیر بعد بس ایک ہوٹل پر رکی۔

کنڈکٹر نے آواز لگائی، “پندرہ منٹ کا اسٹاپ ہے۔ چائے پانی کرلیں۔”

لوگ اترنے لگے۔ وقاص بھی چائے لینے باہر چلا گیا۔

ہوٹل کے باہر ہلکی روشنی تھی۔ چند ٹرک ڈرائیور چارپائیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ وقاص ابھی چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کی نظر بس کے قریب کھڑے دو آدمیوں پر پڑی۔

دونوں دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے۔

“پکا یہی آدمی ہے؟”

“ہاں، کالا بیگ اسی کے پاس ہے۔”

وقاص نے بے اختیار ان کی طرف دیکھا، مگر دونوں فوراً خاموش ہو گئے۔

اسے عجیب سا احساس ہوا، مگر اس نے زیادہ توجہ نہ دی۔

پندرہ منٹ بعد بس دوبارہ روانہ ہو گئی۔

کچھ دیر بعد زیادہ تر مسافر سو چکے تھے۔ بس اب سنسان سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ باہر مکمل اندھیرا تھا۔

اچانک…

ڈرائیور نے زور سے بریک لگائی۔

بس جھٹکے سے رکی اور کئی مسافر گھبرا کر جاگ گئے۔

“کیا ہوا؟” کسی نے پوچھا۔

سامنے سڑک پر ایک سفید کار ترچھی کھڑی تھی۔

اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، تین مسلح آدمی بس میں داخل ہو گئے۔

“سب لوگ خاموش رہیں!” ایک ڈاکو چیخا۔

بس میں خوف پھیل گیا۔ عورتیں سہم گئیں۔ ایک بچہ رونے لگا۔

ڈاکو ایک ایک مسافر سے موبائل اور پیسے لینے لگے۔

وقاص کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

اسی دوران ایک ڈاکو کی نظر اس شخص پر پڑی جس کے پاس کالا بیگ تھا۔

وہ فوراً اس کے قریب گیا۔

“بیگ دے!”

آدمی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

“اس میں کچھ نہیں…”

“میں نے کہا بیگ دے!”

اس شخص نے بیگ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

اچانک دوسرے ڈاکو نے پستول سیدھا اس کے سر پر تان دیا۔

بس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

پھر…

دھماک!!!

گولی چل گئی۔

ایک عورت چیخ پڑی۔

وقاص کے کان سن ہونے لگے۔

جس آدمی کے ہاتھ میں بیگ تھا، وہ سیٹ سے نیچے گر چکا تھا۔

اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا۔

ڈاکو فوراً بیگ اٹھا کر نیچے اترنے لگے، مگر جاتے جاتے زخمی آدمی نے وقاص کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی۔

وہ بمشکل بولا:

“یہ… بیگ… واپس… مت جانے دینا…”

اور پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکال کر وقاص کے ہاتھ میں رکھ دی۔

اگلے ہی لمحے اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔

وہ مر چکا تھا۔

وقاص ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے احساس ہوا…

ڈاکو بس سے جاتے ہوئے کالا بیگ تو لے گئے تھے۔

مگر وہ چھوٹی چابی… اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

اور بس کے آخری حصے میں بیٹھا ایک اجنبی شخص مسلسل اسے گھور رہا تھا…

قسط دوم: چابی کا راز

بس میں خوف اور بے چینی پھیلی ہوئی تھی۔ کچھ لوگ زخمی آدمی کو دیکھ رہے تھے، کچھ خاموش بیٹھے تھے۔ ڈرائیور نے قریب کے پولیس اسٹیشن جانے کے لیے بس دوبارہ چلائی۔

وقاص کے ہاتھ پسینے سے بھر چکے تھے۔

اس نے آہستہ سے اپنی مٹھی کھولی۔

وہی چھوٹی سی چابی۔

عام چابیوں سے مختلف… اس پر صرف ایک نمبر لکھا تھا:

“47”

وقاص نے فوراً چابی جیب میں ڈال لی۔

اسے بار بار احساس ہو رہا تھا کہ کوئی اسے دیکھ رہا ہے۔

اس نے نظر اٹھائی۔

بس کے آخری حصے میں بیٹھا وہ اجنبی آدمی اب بھی اسے غور سے دیکھ رہا تھا۔

کچھ دیر بعد بس پولیس اسٹیشن پہنچی۔ بیان لیے جانے لگے۔ ہر مسافر پریشان تھا۔ وقاص نے چابی کے بارے میں کسی کو کچھ نہ بتایا۔

صبح ہونے کے قریب بس دوبارہ روانہ ہوئی۔

اب بس میں پہلے جیسا شور نہیں تھا۔ ہر کوئی خاموش تھا۔

وقاص نے سوچا شاید معاملہ ختم ہو گیا ہے۔

مگر جب وہ اگلے اسٹاپ پر اترا تو اسے محسوس ہوا کہ وہی اجنبی آدمی بھی اس کے پیچھے اترا ہے۔

وقاص تیز چلنے لگا۔

آدمی بھی پیچھے آنے لگا۔

وقاص کا دل گھبرانے لگا۔ وہ سیدھا ایک چائے کے ہوٹل میں داخل ہو گیا۔ آدمی بھی کچھ فاصلے پر رک گیا۔

تبھی وقاص کے موبائل پر ایک نامعلوم نمبر سے کال آئی۔

“ہیلو؟”

دوسری طرف سے دھیمی آواز آئی:

“اگر زندہ رہنا چاہتے ہو تو وہ چابی کسی کو مت دینا۔”

وقاص چونک گیا۔

“آپ کون بول رہے ہیں؟”

“جس آدمی کو کل رات قتل کیا گیا… وہ میرا بھائی تھا۔”

وقاص خاموش رہ گیا۔

آواز دوبارہ آئی:

“اس بیگ میں پیسے نہیں تھے۔ وہ کچھ فائلیں تھیں… ایسے لوگوں کے خلاف، جو بہت طاقتور ہیں۔”

“اور یہ چابی؟”

“ریلوے اسٹیشن کے لاکر نمبر 47 کی چابی ہے۔”

وقاص کے ہاتھ کانپ گئے۔

“پولیس کے پاس کیوں نہیں جاتے؟”

چند لمحے خاموشی رہی۔

پھر آواز آئی:

“کیونکہ ہمیں نہیں معلوم پولیس میں کون ان لوگوں کے ساتھ ملا ہوا ہے۔”

کال کٹ گئی۔

وقاص گہری سوچ میں ڈوب گیا۔

وہ سیدھا ریلوے اسٹیشن پہنچا۔

پرانے لاکر روم میں واقعی نمبر 47 موجود تھا۔

اس نے کانپتے ہاتھوں سے چابی لگائی۔

کلک…

لاکر کھل گیا۔

اندر ایک فائل، چند تصاویر اور ایک یو ایس بی پڑی تھی۔

وقاص ابھی چیزیں دیکھ ہی رہا تھا کہ اچانک پیچھے سے آواز آئی:

“بہت غلطی کر دی تم نے۔”

وقاص نے چونک کر مڑ کر دیکھا۔

وہی اجنبی آدمی دروازے پر کھڑا تھا۔

اس کے ہاتھ میں پستول تھا۔

“فائل مجھے دو۔”

وقاص کے جسم میں سرد لہر دوڑ گئی۔

“یہ سب کیا ہے؟”

آدمی آہستہ سے مسکرایا۔

“کچھ راز… راز ہی رہیں تو بہتر ہوتا ہے۔”

اسی لمحے باہر سے پولیس سائرن کی آواز سنائی دی۔

اجنبی آدمی ایک لمحے کے لیے گھبرایا۔

وقاص نے موقع دیکھ کر فائل اٹھائی اور پوری طاقت سے اسے دھکا دیا۔

پستول زمین پر گر گئی۔

وقاص تیزی سے باہر کی طرف بھاگا۔

پیچھے آدمی چیخ رہا تھا۔

چند منٹ بعد پولیس نے اسے گرفتار کر لیا۔

بعد میں پتا چلا کہ مقتول شخص ایک صحافی تھا، جو ایک بڑے غیر قانونی نیٹ ورک کے خلاف ثبوت جمع کر رہا تھا۔ ڈاکو اصل میں عام لٹیرے نہیں، بلکہ اسی گروہ کے لوگ تھے۔

وقاص کئی دن تک اس واقعے کو بھول نہ سکا۔

اسے آج بھی یاد تھا…

اگر اُس رات مرنے والا شخص آخری لمحے میں وہ چابی اسے نہ دیتا…

تو شاید سچ ہمیشہ کے لیے دفن ہو جاتا۔

06/05/2026

آخری بس۔ ایک سنسنی خیز کہانی

کراچی سے حیدرآباد جانے والی رات کی آخری بس ہمیشہ کی طرح مسافروں سے بھری ہوئی تھی۔ گرمی کا موسم تھا، مگر رات کی ہوا میں ہلکی خنکی شامل ہو چکی تھی۔ بس کے اندر پنکھے چل رہے تھے، مگر پھر بھی پسینے اور ڈیزل کی ملی جلی بو ماحول میں پھیلی ہوئی تھی۔

وقاص کھڑکی کے ساتھ والی سیٹ پر بیٹھا باہر اندھیرے میں گزرتی روشنیوں کو دیکھ رہا تھا۔ وہ پچیس سال کا نوجوان تھا اور ایک نجی کمپنی میں ملازم تھا۔ دو دن پہلے اسے اطلاع ملی تھی کہ اس کے والد کی طبیعت اچانک خراب ہو گئی ہے، اسی لیے وہ جلدی جلدی کراچی سے اپنے گاؤں جا رہا تھا۔

بس میں مختلف قسم کے لوگ بیٹھے تھے۔ کوئی موبائل پر بات کر رہا تھا، کوئی اونگھ رہا تھا، اور کچھ لوگ خاموشی سے سفر کر رہے تھے۔

وقاص کے برابر والی سیٹ پر ایک ادھیڑ عمر شخص بیٹھا تھا۔ اس نے سادہ شلوار قمیض پہن رکھی تھی اور بار بار بے چینی سے اپنی گھڑی دیکھ رہا تھا۔ اس کے ہاتھ میں ایک کالا بیگ تھا جسے وہ کسی قیمتی چیز کی طرح سنبھالے ہوئے تھا۔

کچھ دیر بعد بس ایک ہوٹل پر رکی۔

کنڈکٹر نے آواز لگائی، “پندرہ منٹ کا اسٹاپ ہے۔ چائے پانی کرلیں۔”

لوگ اترنے لگے۔ وقاص بھی چائے لینے باہر چلا گیا۔

ہوٹل کے باہر ہلکی روشنی تھی۔ چند ٹرک ڈرائیور چارپائیوں پر بیٹھے چائے پی رہے تھے۔ وقاص ابھی چائے کا کپ ہاتھ میں لے کر کھڑا ہی ہوا تھا کہ اس کی نظر بس کے قریب کھڑے دو آدمیوں پر پڑی۔

دونوں دھیمی آواز میں بات کر رہے تھے۔

“پکا یہی آدمی ہے؟”

“ہاں، کالا بیگ اسی کے پاس ہے۔”

وقاص نے بے اختیار ان کی طرف دیکھا، مگر دونوں فوراً خاموش ہو گئے۔

اسے عجیب سا احساس ہوا، مگر اس نے زیادہ توجہ نہ دی۔

پندرہ منٹ بعد بس دوبارہ روانہ ہو گئی۔

کچھ دیر بعد زیادہ تر مسافر سو چکے تھے۔ بس اب سنسان سڑک پر تیزی سے دوڑ رہی تھی۔ باہر مکمل اندھیرا تھا۔

اچانک…

ڈرائیور نے زور سے بریک لگائی۔

بس جھٹکے سے رکی اور کئی مسافر گھبرا کر جاگ گئے۔

“کیا ہوا؟” کسی نے پوچھا۔

سامنے سڑک پر ایک سفید کار ترچھی کھڑی تھی۔

اس سے پہلے کہ کوئی کچھ سمجھ پاتا، تین مسلح آدمی بس میں داخل ہو گئے۔

“سب لوگ خاموش رہیں!” ایک ڈاکو چیخا۔

بس میں خوف پھیل گیا۔ عورتیں سہم گئیں۔ ایک بچہ رونے لگا۔

ڈاکو ایک ایک مسافر سے موبائل اور پیسے لینے لگے۔

وقاص کا دل زور زور سے دھڑک رہا تھا۔

اسی دوران ایک ڈاکو کی نظر اس شخص پر پڑی جس کے پاس کالا بیگ تھا۔

وہ فوراً اس کے قریب گیا۔

“بیگ دے!”

آدمی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا۔

“اس میں کچھ نہیں…”

“میں نے کہا بیگ دے!”

اس شخص نے بیگ مضبوطی سے پکڑ لیا۔

اچانک دوسرے ڈاکو نے پستول سیدھا اس کے سر پر تان دیا۔

بس میں مکمل خاموشی چھا گئی۔

پھر…

دھماک!!!

گولی چل گئی۔

ایک عورت چیخ پڑی۔

وقاص کے کان سن ہونے لگے۔

جس آدمی کے ہاتھ میں بیگ تھا، وہ سیٹ سے نیچے گر چکا تھا۔

اس کے سینے سے خون بہہ رہا تھا۔

ڈاکو فوراً بیگ اٹھا کر نیچے اترنے لگے، مگر جاتے جاتے زخمی آدمی نے وقاص کا ہاتھ پکڑ لیا۔

اس کی سانس ٹوٹ رہی تھی۔

وہ بمشکل بولا:

“یہ… بیگ… واپس… مت جانے دینا…”

اور پھر اس نے اپنی جیب سے ایک چھوٹی سی چابی نکال کر وقاص کے ہاتھ میں رکھ دی۔

اگلے ہی لمحے اس کی گرفت ڈھیلی پڑ گئی۔

وہ مر چکا تھا۔

وقاص ابھی سنبھل بھی نہ پایا تھا کہ اسے احساس ہوا…

ڈاکو بس سے جاتے ہوئے کالا بیگ تو لے گئے تھے۔

مگر وہ چھوٹی چابی… اب اس کے ہاتھ میں تھی۔

اور بس کے آخری حصے میں بیٹھا ایک اجنبی شخص مسلسل اسے گھور رہا تھا…
قسط ختم ۔ کہانی جاری ہے ۔۔۔۔
اگلا قسط کل اپلوڈ کی جائے گی ۔ اگر کسی نے پوری کہانی ابھی پڑھنی ہے تو کمنٹ میں لنک موجود ہے ۔

05/31/2026

مہنگائی سے تنگ ایک خاندان نے فیصلہ کیا کہ جنگل میں ڈیر ا لگالیتے ہیں ،وہاں پھل اور شکار مل جائے گا اور کوئی جھونپڑی وغیرہ بنا کر گزارہ کر لیں گے ۔اُنہوں نے برگد کے ایک بڑے درخت کے نیچے ڈیرا لگا لیا۔
گھر کے سر براہ نے خاندان کے افراد میں کام تقسیم کیا ،ایک بیٹے کو خشک لکڑیاں لانے کا کہا‘دوسرے کو پانی کی ذمہ داری سونپ دی تیسرے کے ذمہ آگ جلانے کھانا پکانے اور چوتھے کو شکار پر مامور کیا۔
سر براہ کے حکم پر لبیک کہتے ہوئے سبھی اپنی ذمہ داریاں نبھانے لگے اور اپنے اپنے کام میں مشغول ہو گئے ۔
درخت پر بیٹھی فاختہ یہ منظر دیکھ رہی تھی اُس نے سر براہ سے کہا:تم لوگ کیا منصوبہ بنارہے ہو؟
خاندان کے سر براہ نے کہا:شہر میں قحط اور مہنگائی کی وجہ سے گزارہ مشکل ہو گیا تھا اِسی لئے ہم جنگل میں آگئے ،یہاں شکار کرکے گزارہ کرلیں گے ۔

جیسے خرگوش ‘ہرن اور تم جیسی فاختہ کا شکار کریں گے ۔اگر میں مہنگائی کا حل بتادوں تو میرا شکار چھوڑ دوگے؟فاختہ نے کہا۔
خاندان کے سر براہ نے اثبات میں جواب دیا‘ مگر مہنگائی کا حل کیا کرو گی؟
فاختہ نے جواب دیا:وہ سامنے والے درخت کے نیچے خزانہ دفن ہے تم لوگ وہ لو اور شہر واپس چلے جاؤ اور ہم جانوروں اور پرندوں کو امن وامان سے رہنے دو ۔

گھر کے سر براہ نے بچوں سے مل کر وہ جگہ کھودی وہاں سے سونے سے بھر ا ہوا ایک مٹکا ملا۔اُنہوں نے خزانہ لیا اور فاختہ کا شکریہ ادا کرتے ہوئے شہر کا رخ کیا اور خوشحالی زندگی گزارنے لگے۔
اُن کے پڑوسیوں کو پتہ چلا کہ یہ کیسے امیر ہو گئے ۔اُنہوں نے چاپلوسی سے اُن سے راز پوچھا تو سادہ لوح پڑوسی نے سب کچھ بتادیا۔وہ فوراً خاندان سمیت جنگل میں پہنچ گئے اور بچوں کے ذمہ کام لگانے لگا۔
ایک کو کہا تم لکڑیوں کا بندوبست کرو ۔اُس نے کہا میں لکڑہارا نہیں کہ لکڑیاں اکٹھی کرتا پھروں ۔جسے پانی کا کہا،اُس نے کہا:میں ماشکی نہیں جو پانی بھروں ‘اور شکارکرنے والے نے کہا مجھ سے نہیں ہوتا شکارو کار ۔غرض وہ ایک دوسرے کی طرف ٹالتے رہے اور اُن کی نا اتفاق سے کوئی کام بھی نہیں ہوا۔
فاختہ سامنے درخت پر بیٹھی سب کچھ دیکھ رہی تھی اُس نے سر براہ سے پوچھا:”آپ لوگ یہاں کیا کررہے ہو؟“
ہم لوگ تیرا شکار کرکے گزارہ کریں گے؟
فاختہ نے کہا:جو کچھ کر سکتے ہوتو کرلو تم مجھے شکار نہیں کر سکتے ؟
سربراہ نے حیرت سے وجہ پوچھی تو فاختہ کہنے لگی ۔
آپ لوگوں میں اتحاد واتفاق نہیں ہے تم نے اور کیا شکار کرنا ہے تم مجھے شکار نہیں کر سکتے ۔خاندان کا سر براہ سمجھ گیا چنانچہ وہ ناکام شہر واپس لوٹ گئے

05/29/2026

مکافاتِ عمل اور پراسرار صندوق (قسط: دوم)
تہہ خانے کی ہوا بوجھل اور خوفناک ہو چکی تھی۔ شہریار کے پیر ٹھوس سونے میں تبدیل ہو کر زمین کے ساتھ جم چکے تھے، اور وہ لوہے کے اس دیوہیکل صندوق کی کالی گہرائی کی طرف کھنچا جا رہا تھا۔ وہ درد اور خوف سے چیخ رہا تھا، لیکن اس کی آواز تہہ خانے کی دیواروں سے ٹکرا کر وہیں دم توڑ رہی تھی۔ امیر ترین آدمی بننے کا خواب اب اس کا سب سے بڑا ڈراؤنا خواب بن چکا تھا۔
"مجھے معاف کر دو! مجھے یہ سونا نہیں چاہیے! مجھے میری زندگی واپس دے دو!" شہریار نے روتے ہوئے صندوق سے نکلنے والے اس سیاہ سائے کے سامنے التجا کی۔
صندوق کے اندر سے وہی بھاری اور گرجدار آواز دوبارہ گونجی: "شہریار! تم نے خط کی وارننگ کو مذاق سمجھا۔ کائنات کا اصول ہے کہ حرص کی کوئی حد نہیں ہوتی، اور جو انسان اپنی حد بھول جاتا ہے، وہ اپنی ہی تخلیق کردہ دلدل میں دھنس جاتا ہے۔ تمہارا سونا اب تمہارا کفن ہے!"
سیاہ سایہ تیزی سے بڑھا اور شہریار کے سینے تک پہنچ گیا۔ اب اس کا آدھا جسم سونے کا بن چکا تھا۔ موت کو اتنے قریب دیکھ کر شہریار کے ذہن میں اپنے بوڑھے باپ کا چہرہ گھوم گیا۔ اسے یاد آیا کہ والد نے کہا تھا، *"یہ ہمارے خاندان کی سب سے بڑی آزمائش ہے۔"* شہریار کو اچانک احساس ہوا کہ اس کے والد نے اس صندوق کو کبھی کیوں نہیں کھولا تھا، اور وہ کیوں ایک عام سی، سادہ زندگی پر خوش تھے۔ وہ جانتے تھے کہ انسان کی اصل دولت اس کا سکون اور اس کا ایمان ہے، جو حرص کے آتے ہی رخصت ہو جاتے ہیں۔
سچی ندامت کے چند آنسو شہریار کی آنکھوں سے نکلے اور اس کے سونے کے گالوں پر بہتے ہوئے نیچے گرے۔ جیسے ہی وہ آنسو اس کے سونے کے ہاتھوں پر گرے، وہاں سے سونا پگھلنا شروع ہو گیا۔
شہریار کو ایک امید کی کرن نظر آئی۔ اس نے گڑگڑا کر کہا، "اے مالک! میں اپنی غلطی تسلیم کرتا ہوں۔ میں نے دولت کے لیے انسانیت اور اپنے باپ کے اصولوں کو بیچ دیا۔ مجھے ایک موقع دے، میں اس جھوٹے سونے کو خاک میں ملا دوں گا!"
جیسے ہی اس نے سچے دل سے توبہ کی، ایک زوردار دھماکہ ہوا اور پورے تہہ خانے میں ایک سفید چمکدار روشنی پھیل گئی۔ شہریار پر غشی طاری ہو گئی اور وہ زمین پر گر پڑا۔
جب اگلی صبح شہریار کی آنکھ کھلی، تو سورج کی مدہم سی روشنی تہہ خانے کے دانہ روزن سے اندر آ رہی تھی۔ وہ خوفزدہ ہو کر اٹھ بیٹھا اور سب سے پہلے اپنے ہاتھوں اور پیروں کو دیکھا۔ وہ بالکل ٹھیک تھے! گوشت پوست کے عام انسانی ہاتھ۔ اس نے فوراً کمرے کے کونوں پر نظر دوڑائی۔ وہ سارا سونا، جس کے انبار اس نے تین دن میں لگائے تھے، اب مٹی اور راکھ کے ڈھیر میں بدل چکا تھا۔
لوہے کا صندوق اپنی اصل حالت میں واپس آ چکا تھا اور اس کا ڈھکن بند تھا۔ اس پر ایک نیا چمکدار تالا لگا ہوا تھا، جس پر اب کوئی چابی نہیں تھی۔
شہریار نے گہرا سانس لیا۔ اس کی آنکھوں میں اب حرص کی چمک نہیں بلکہ ایک عجیب سا سکون تھا۔ اس نے محسوس کیا کہ وہ سونا تو کھو چکا ہے، لیکن اپنی زندگی اور روح واپس پا چکا ہے۔ اس نے راکھ کے اس ڈھیر کو دیکھا اور مسکرا دیا۔
اس واقعے کے بعد شہریار بدل گیا۔ اس نے وہ پرانا مکان اور صندوق ویسے ہی چھوڑ دیا اور شہر میں ایک چھوٹی سی دکان کھول کر ایمانداری سے کاروبار شروع کیا۔ اب وہ امیر ترین آدمی تو نہیں تھا، لیکن شہر کا سب سے پرسکون اور خوش اخلاق انسان ضرور بن گیا تھا، جو غریبوں کی مدد کرتا اور سب کو یہی نصیحت کرتا:
"زندگی کی اصل خوبصورتی اور برکت قناعت میں ہے، کیونکہ جو دولت دوسروں کا حق مار کر یا اپنی روح کو بیچ کر حاصل کی جائے، وہ سونا نہیں بلکہ انسان کو نگل جانے والا زہر ہوتی ہے۔"

05/28/2026

مکافاتِ عمل اور پراسرار صندوق
شہریار ایک بے حد ذہین لیکن انتہائی حریص اور خود غرض تاجر تھا۔ اس کا ماننا تھا کہ دنیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے کندھوں پر پاؤں رکھنا ناگزیر ہے۔ اپنے بوڑھے باپ کی نصیحتیں، "بیٹا! حلال اور ایمانداری میں برکت ہے،" اسے ہمیشہ فضول معلوم ہوتی تھیں۔ جب اس کے والد کا انتقال ہوا، تو انہوں نے وراثت میں شہریار کے لیے ایک پرانا، خستہ حال مکان اور ایک عجیب و غریب نصیحت چھوڑی: ’’اس گھر کے تہہ خانے میں ایک صدی پرانا لوہے کا صندوق ہے، اسے کبھی مت کھولنا۔ یہ ہمارے خاندان کا سب سے بڑا راز اور سب سے بڑی آزمائش ہے۔‘‘والد کے انتقال کے بعد شہریار نے اپنی چالاکیوں سے کاروبار کو تو چمکا لیا، لیکن اس کی حرس بڑھتی گئی۔ وہ راتوں رات شہر کا امیر ترین آدمی بننا چاہتا تھا۔ ایک رات، جب اس کا ایک بہت بڑا سودا نقصان میں بدل گیا، وہ غصے اور مایوسی کی حالت میں اسی پرانے مکان کے تہہ خانے میں جا پہنچا۔ مٹی اور جالیوں سے اٹے اس اندھیرے کمرے کے کونے میں وہی بھاری، زنگ آلود لوہے کا صندوق رکھا تھا، جس پر ایک عجیب سا تالا لٹک رہا تھا۔"بوڑھا سستی فلموں کی طرح مجھے ڈراتا رہا،" شہریار نے حقارت سے ہنستے ہوئے سوچا۔ "ضرور اس میں دادا پردادا کے زمانے کے سونے کے سکے ہوں گے جو وہ مجھ سے چھپانا چاہتے تھے۔"اس نے ایک بھاری ہتھوڑا اٹھایا اور پوری طاقت سے تالے پر دے مارا۔ تین چار ضربوں کے بعد تالا ٹوٹ گیا اور ایک چیخنے کی آواز کے ساتھ صندوق کا بھاری ڈھکن کھل گیا۔ لیکن اندر کوئی سونا چاندی نہیں تھا۔صندوق کے اندر صرف ایک چمکدار، سیاہ پتھر کا پیالہ تھا جس کے اندر سرخ رنگ کا ایک مائع (لیقوڈ) چمک رہا تھا، اور اس کے ساتھ ایک پرانا خط تھا۔ شہریار نے مایوسی سے خط اٹھایا اور پڑھنا شروع کیا۔ خط پر لکھا تھا:
"یہ 'حرص کا پیالہ' ہے۔ اس میں موجود مائع کا ایک قطرہ اگر تم کسی بھی دھات پر ٹپکاؤ گے، تو وہ فوراً خالص سونے میں بدل جائے گی۔ تم جتنا چاہو سونا بنا سکتے ہو، لیکن یاد رہے... کائنات کا اصول ہے کہ کچھ پانے کے لیے کچھ کھونا پڑتا ہے۔ اس سونے کی قیمت تمہاری زندگی کا کوئی نہ کوئی قیمتی حصہ چکائے گا۔ سونا بناتے ہوئے اپنی حد یاد رکھنا، ورنہ یہ صندوق تمہیں نگل جائے گا۔"
شہریار کی آنکھیں چمک اٹھیں۔ اس نے خط کو وہیں پھینکا اور آزمانے کے لیے جیب سے لوہے کی ایک عام سی چابی نکالی۔ جیسے ہی اس نے پیالے سے ایک قطرہ اس چابی پر گرایا، چابی ایک تیز روشنی کے ساتھ چمک اٹھی اور دیکھتے ہی دیکھتے چمکدار، بھاری سونے میں تبدیل ہو گئی۔ شہریار کی خوشی کی انتہا نہ رہی۔ وہ پاگلوں کی طرح ہنسنے لگا۔ "قیمت؟ کیسی قیمت؟ میں اب دنیا کا بادشاہ ہوں!"اگلے تین دن شہریار نے خود کو تہہ خانے میں بند کر لیا۔ اس نے گھر کا سارا لوہا، تانبا اور پیتل اکٹھا کیا اور انہیں سونے میں بدلتا گیا۔ اس کے پاس اب سونے کے انبار لگ چکے تھے۔ وہ اب شہر کا امیر ترین شخص بن چکا تھا۔ لیکن چوتھے دن، جب وہ آئینے کے سامنے کھڑا ہوا، تو اس کے پاؤں تلے سے زمین نکل گئی۔آئینے میں اس کا اپنا عکس غائب تھا! اس کی جگہ ایک دھندلا، کالے سائے جیسا ہیرو نظر آ رہا تھا۔ گھبرا کر اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا، اس کے ہاتھ کی جلد آہستہ آہستہ سخت اور پیلی ہو رہی تھی... جیسے وہ خود گوشت پوست کے انسان سے سونے کے بت میں تبدیل ہو رہا ہو! وہ خوف سے چیخ اٹھا اور بھاگتا ہوا تہہ خانے کی طرف گیا تاکہ اس جادو کو روکنے کا طریقہ ڈھونڈ سکے۔لیکن جیسے ہی اس نے تہہ خانے کا دروازہ کھولا، اس نے دیکھا کہ وہ لوہے کا صندوق خود بخود بڑا ہو چکا تھا، اور اس کے اندر سے ایک خوفناک، کالی اندھیری طاقت کا طوفان نکل رہا تھا جو پورے کمرے کو اپنی لپیٹ میں لے رہا تھا۔ صندوق کے اندر سے ایک بھاری، شیطانی آواز گونجی: "وقت پورا ہوا شہریار! سودا مکمل کرنے کا وقت آ گیا ہے!"شہریار نے پیچھے بھاگنے کی کوشش کی، لیکن اس کے پیر اب مکمل طور پر ٹھوس سونے کے بن چکے تھے اور وہ زمین سے چپک گیا تھا۔ وہ صندوق کی اس کالی گہرائی کی طرف کھنچنے لگا۔پہلی قسط کا اختتام!کیا شہریار اس جادوئی اور عبرت ناک قید سے نکل پائے گا؟ کیا وہ اپنی انسانیت واپس پا سکے گا یا ہمیشہ کے لیے اس اندھے صندوق کا حصہ بن جائے گا؟ جاننے کے لیے اگلی قسط کا انتظار کیجیے۔
اگر کسی نے پوری کہانی ابھی پڑھنی ہے تو کمنٹ میں لنک موجود ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Miami?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Downtown Miami
Miami, FL