Toward-Islam
Toward Islam: Deen aur Imaan ki Mazbooti ka Safar.
قرآن میں اللہ تعالیٰ کا حکم
دوسروں کو بدلنے سے پہلے، کیا ہم نے کبھی خود سے پوچھا کہ ہم واقعی مسلمان ہیں؟"
“Munafiqat Ka Haal — Dil Ki Andheri”
ان آیات میں ان لوگوں کا ذکر ہے جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں، مگر جب انہیں کہا جائے کہ فساد نہ کرو تو فوراً کہتے ہیں کہ “ہم تو صرف اصلاح کرنے والے ہیں۔”
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حقیقت میں یہی لوگ سب سے بڑے فساد کرنے والے ہیں، لیکن انہیں اس کا احساس تک نہیں ہوتا۔
یہ آیات ہمیں یہ پیغام دیتی ہیں کہ سچی اصلاح صرف تب ہوتی ہے جب نیت پاک ہو، روّیہ نرم ہو، اور عمل اللہ کے حکم کے مطابق ہو—ورنہ فساد کو بھی اصلاح کا نام دے دیا جاتا ہے۔
سورۃ البقرہ کی آیات 8، 9 اور 10 اُن لوگوں کے بارے میں ہیں جو زبان سے ایمان کا دعویٰ کرتے ہیں مگر دلوں میں ایمان نہیں ہوتا۔
قرآن ان کے کردار کو بے نقاب کرتا ہے کہ وہ اللہ اور مومنوں کو دھوکا دینا چاہتے ہیں، مگر حقیقت میں وہ خود اپنے آپ کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
ان کے دلوں میں بیماری ہے، اور اللہ اس بیماری کو مزید بڑھا دیتا ہے کیونکہ وہ سچ جاننے کے باوجود حق سے منہ موڑتے ہیں۔
یہ آیات ہمیں منافقت کی سنگینی، سچے ایمان کی اہمیت، اور عمل و نیت کے اخلاص کا پیغام دیتی ہیں۔
سورۃ البقرہ کی آیات 6 اور 7 میں اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی کیفیت بیان فرماتا ہے جو ہدایت سے جان بوجھ کر منہ موڑ لیتے ہیں۔ نہ نصیحت ان پر اثر کرتی ہے اور نہ ہی حق کی دعوت انہیں بدل سکتی ہے۔ اللہ ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مہر لگا دیتا ہے — یعنی وہ سچ کو دیکھنے، سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھتے ہیں۔
یہ آیات ہمیں یہ سبق دیتی ہیں کہ دل کا ضدی ہونا انسان کو ہدایت سے دور کر دیتا ہے۔
قرآن ہی ہدایت ہے! | متقی (پرہیزگار) کون؟ | سورۃ البقرہ کی ابتدائی 5 آیات کا پیغام
#سورۃالبقرہ
Holnaak Azaab: Farun aur Uski Qaum Par Aane Walay Azabon Ki Alamaak Waqia | Hazrat Musa (AS)
Har Namaz Ki Buniyaad | Surah Fatiha Urdu Tarjuma
Click here to claim your Sponsored Listing.