Usman

Usman

Share

HVAC Chiller, split, package, duct split unit, maintenance

01/11/2025

الحمدللہ رب العالمین ❤️

23/07/2025

الحمدللہ رب العالمین

14/12/2023

کشمیر سے واپسی آتے ہوئے

28/11/2023

🥀 _*سنی سنائی باتوں اور وہم و گمان کی ممانعت*_ 🥀

ابو قلابہ کہتے ہیں سیدنا ابو عبداللہؓ نے سیدنا ابو مسعودؓ سے یا سیدنا ابو مسعودؓ نے سیدنا ابو عبداللہ حذیفہؓ سے کہا تو نے رسول اللہﷺ کو زَعَمُوْا ( وہم و گمان) کے متعلق کیا فرماتے سنا ؟
انھوں نے کہا کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: زَعَمُوا آدمی کی بری سواری ہے (یعنی براتکیہ کلام ہے)
*وضاحت:* زَعَمُوْا کے لفظی معانییہ ہیں انھوں نے گمان کیا ان کا خیال ہے انھوں نے جھوٹ بولا، انھوں نے کہا انھوں نے بے حقیقت دعوی کیا انھوں نے یقین رکھا اس حدیثِ مبارکہ کا مفہوم یہ ہے کہ مسلمان کو وہی بات یا حدیث بیان کرنی چاہیے جس کے سچا ہونے کا یقین ہو ہر سنی سنائی بات کو آگے بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے جیسا کہ سیدنا ابوہریرہ ‌رضیؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا
*کَفٰی بِالْمَرْئِ کَذِبًا اَنْیُّحَدِّثَ بِکُلِّ مَا سَمِعَ*
آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہ بات کافی ہے کہ وہ جو سنے اسے (بغیر تحقیق کے) آگے بیان کردے
(مسلم)
چونکہ عصر حاضر میں لوگوں میں گپ شپ لگانے باتوں کے بتنگڑ بنانے اور دنیا کے مختلف خطوں اور ان کے باسیوں کے تذکرے کرنے کی جنون کی حد تک رغبت پائی جاتی ہے اس لیے وہ اپنی بات کو سہارا دینے کے لیےیوں کہتے ہیں آج بازار میں یہ بات ہو رہی تھی لوگوں کو یہ بات کہتے ہوئے سنا گیا ہے فلاں اخبار میں اس قسم کی بات شائع ہوئی ہے یہ انداز زَعَمُوا کا مصداق ہے شیخ البانیؒ کہتے ہیں اس حدیث میں زَعَمُوْا کے کلمے کے استعمال کی مذمت کی گئی ہے اگرچہ یہ قَالَ کے معنی میں بھی مستعمل ہے قرآن مجید میں جہاں مذموم اقوام کے مذمت والے امور کا تذکرہ کیا گیا وہاں اس لفظ کا استعمال ہوا جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا *زَعَمَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا اَنْ لَّنْ یُّبْعَثُوْا*
(سورۂ تغابن: ۷)
اس کے بعد کہا گیا
*بَلٰی وَ رَبِّیْ لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ*
(سورۂ تغابن: ۷)
اس قسم کی کئی آیات ہیں امام طحاوی نے بعض آیات ذکر کرنے کے بعد کہا ان تمام آیات میں اللہ تعالیٰ نے مذموم قوموں کے مذموم حالات اور ان کی جھوٹی باتوں کا ذکر کیا اس لیے مسلمانوں کے لیے اس چیز کو ناپسند کیا گیا ہے کہ وہ اخلاق و ادیان اور اقوال و افعال میں قابل مذمت لوگوں کی عادات کو اپنائیں اہل ایمان کو تو یہ زیب دیتا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اخلاق، ان کے قابل تعریف منہج اور سچے اقوال کو اسوہ بنائیں جو ایمان کی حالت میں سبقت لے جا چکے ہیں اللہ تعالیٰ ان سب سے راضی ہو امام بغوی نے شرح السنۃ: ۱۲/ ۳۶۲ میں کہا آپﷺ نے لفظ زَعَمُوا کی مذمت اس لیے کی ہے کہ زیادہ تر اس لفظ کا استعمال ایسی باتوں کے لیے ہوتا ہے جو زبانوں پر مشہور ہوتی ہیں لیکن ان کی کوئی سند یا ثبوت نہیں ہوتا آپﷺ نے لفظ زَعَمُوا کو سواری سے تشبیہ دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ آدمی اس لفظ کے ذریعے اپنی مقصود بات تک رسائی حاصل کرتا ہے ماحصلیہ ہے کہ نبی کریمﷺ اس حدیث میں بیانات و روایات میں تحقیق کرنے کا حکم دے رہے ہیں یعنی اگر کوئی شخص حدیث بیان کرنا چاہتا ہے تو صرف ثقہ راویوں کی بیان کردہ احادیث روایت کرنی چاہئیں وگرنہ وہ اس ارشادِ نبوی کا مصداق بن جائے گا: آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیےیہی کافی ہے کہ وہ ہر سنی سنائی بات بیان کر دے نیز آپﷺ نے فرمایا جس آدمی نے کوئی حدیث بیان کی جبکہ اس کا خیال ہو کہ وہ جھوٹ ہے تو وہ جھوٹوں میں سے ایک ہو گا (صحیحہ: ۸۶۶)
📚 (مسند احمد :9658(صحیح)

03/09/2023

ہر پریشانی کا حل

Send a message to learn more

02/09/2023

,دعا کے تین درجے ہیں سن کے جائے

02/09/2023

Allah o akbar

Want your business to be the top-listed Engineering Company in Jeddah?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Jeddah
47200