Kashif Rana

Kashif Rana

Share

کاشف رانا کی شاعری

10/08/2023

10-08-2023
کب تک دل بہلانا ہو گا ؟ کب تک درد چُھپانے ہونگے
جُھوٹے پُھول ہنسی کے کب تک ہونٹوں پر مہکانے ہونگے

آنکھوں نے تو سِیکھ لیا ہے اشکوں کے پانی کو پینا
دِل کو بھی اب دُکھ سہنے کے سب کُلیے سمجھانے ہونگے

مہلت ہے دو چار دنوں کی لپٹی ہے مایوسی اب بھی
جتنے کام اُدھورے ہیں سب جلدی میں نِمٹانے ہونگے

تنہائی میں ساتھ ہمارے یادیں آہیں، آنسُو، گِریہ
تھک کر اپنے ہاتھوں خُود سے زخم اپنے سہلانے ہونگے

کس کو کس کی فکر رہے گی کون سنے گا کون کہے گا
شکوہ کیسا غیروں سے جب اپنے ہی بیگانے ہونگے

مکھی کے سر جتنا بھی بہہ جائے تو بخشے گا مالک
جذبوں کی پیمائش کے بھی آنسو ہی پیمانے ہونگے

اِک دن ایسا ہو گا کاشف سب کو ہم پر پیار آئے گا
لیکن تب یہ وقت نہ ہو گا قصے اور افسانے ہونگے

کاشف رانا

06/08/2023

تازہ غزل
05-08-2023
وقت کی دوڑ پہ سَب کی ہی نظَر ہوتی ہے
مَرنے والے کو کہاں اِس کی خبَر ہوتی ہے

دِن گُزرتا ہے ترے غم سے اُلجھ کر میرا
اور شَب مَرگ کے بِستر پہ بسَر ہوتی ہے

دَستبَردار محبت سے ہُوئے ہو تَو سُنو
آگ بُجھتی ہے پَہ یہ بارِ دِگَر ہوتی ہے

فاصلے تُجھ سےتَسلسُل سے بڑھےجاتے ہیں
زندگی! دیکھو کہاں کیسے امَر ہوتی ہے

بِلبِلاتا ہُوں بہت دَرد سے تنہائی میں
لَب کی مُسکان مگر میرا ہُنَر ہوتی ہے

نَقص بے جا ہیں زمانے کے مگر یہ کیا؟ کہ
مُخلصی دِل کی فقط دِل کا ضرَر ہوتی ہے

تشنگی ہے یہ محبت یا کہ پھر آہ و بُکا
یُوں بھی سُنتاہوں کہ یہ سوزِجگَر ہوتی ہے

پاس ہو کر بھی کوئی پاس نہیں ہوتا تھا
دُور ہُوں اَب تَو کِسے میری خبَر ہوتی ہے

اَشک ہوتے ہیں نہ کاشف کوئی اُمّیدِ وفا
بے کلی بے کہ بَس اِک زادِ سفَر ہوتی ہے

کاشف رانا

09/04/2023

09-04-2023
ہوتے ہی جُدا تجھ سے یہ محسُوس ہُوا ہے
ہَنستا ہُوا مُجھ میں کوئی مایُوس ہُوا ہے

سینے میں بسایا ہے ترے درد کو اک عمر
تب جاکے کہیں مُجھ سے یہ مانُوس ہُوا ہے

بخشے گا سکُوں روح کو سوچا تھا ترا وصل
لیکن مرا ہر کام ہی معکُوس ہُوا ہے

دیکھے ہیں بدلتے ہُوئے لہجے بھی ادا بھی
ہر شخص یہاں موسمی ملبُوس ہُوا ہے

اک بار مُجھے تُو نے سراہا تھا بصد شکر
اندازِ بیاں تب سے ہی مخصُوص ہُوا ہے

میں گریۂ دوراں میں شرمسار ہوں خُود سے
دل ہو کے خفا غیر کے محرُوس ہُوا ہے

بُجھ جائے گا اک روز عدم فکر سے کاشف
کیوں ایسے دِیے کا ہی تُو فانوس ہُوا ہے

کاشف رانا

08/04/2023

08-04-2023
خواہشِ نوعِ بشر ہے یہ کہ چاہے جائیں
جی میں آتا ہے کبھی ہم بھی سراہے جائیں

بعد محنت کے ملے پھل کی خوشی ہو جیسے
پہلے وقتوں کے اناجوں کی طرح گاہے جائیں

ہم کہ دن کارِ زمانہ میں ہی کاٹیں ہیں مگر
رات کو دیر تلک بستر پہ کراہے جائیں

اب بھی کچھ لوگ سہارا ہیں دکھی دنیا کا
ایسے لوگوں کا ہی حق ہے کہ یہ چاہے جائیں

عشق اک بار ہی ہوتا ہے سو کر لئے ہم
دوسری بار اسی راہ بھلا کاہے جائیں

ایک دوجے کی محبت کا بھرم رکھتے ہیں
کیوں نہ خوش وضع روابط کو نباہے جائیں

دیکھ کر سہم سے جاتے ہیں ابھی بھی کاشف
چلتے چلتے جو کسی جا سے دوراہے جائیں

کاشف رانا

02/04/2023

02-04-2023
جُدائی روگ ہے اور دل پہ وہ رقم دن ہے
جو رات لمبی مُسافت ہے تو قدم دن ہے

خُوشی نہیں ہے مگر سب مجھے مُبارک دیں
میں کیک کاٹوں نہ کاٹوں مرا جنم دن ہے

کاشف رانا

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Al Doha Al Jadeeda?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Al Doha Al Jadeeda