Sada

Sada

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Sada, Musician/Band, SWAT KPK, Swat.

17/06/2026

ښځه یوازې نوم نه دی، هغه د کور عزت، د مینې سمندر او د صبر یوه ښکلي بیلګه ده 💐" ゚

29/05/2026

"ماں کی دعا"
ایک غریب لڑکا تھا، اُس کا نام اسد تھا۔ اُس کے والد کا انتقال ہو چکا تھا اور وہ اپنی بوڑھی ماں کے ساتھ رہتا تھا۔ وہ ہر روز محنت مزدوری کرتا، مگر آمدنی بہت کم تھی۔ اُس کی ماں ہمیشہ کہتی:
“بیٹا، حلال رزق اگر کم بھی ہو تو اُس میں برکت ہوتی ہے۔”
ایک دن اسد کو راستے میں ایک بیگ ملا، جو پیسوں سے بھرا ہوا تھا۔ اُس کے دل میں خیال آیا: “یہ رکھ لو، اب غربت ختم ہو جائے گی۔” مگر اُسے اپنی ماں کی بات یاد آگئی۔ اُس نے وہ بیگ پولیس کے حوالے کر دیا۔
چند دن بعد معلوم ہوا کہ وہ بیگ ایک امیر آدمی کا تھا۔ وہ شخص اسد کی ایمانداری سے بہت خوش ہوا اور اُسے اچھی نوکری دے دی۔
جب اسد گھر آیا تو اُس کی ماں کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ اُس نے کہا:
“میں نے کہا تھا نا، حلال رزق کا دروازہ کبھی بند نہیں ہوتا۔”
سبق: سچائی اور صبر انسان کو کبھی شرمندہ نہیں کرتے۔

28/05/2026

اسے عدل و انصاف کہتے ہیں، حقیقی انصاف۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ یاد آ گئے۔
زمین پر لیٹے ہوئے یہ شخص ڈاکٹر الحسن عبد الرحمن واتارا ہیں۔ یہ ساحلِ عاج کے صدر ہیں، جو اپنی ذاتی خرچ پر حج کے لیے گئے ہیں۔ انہوں نے سعودی شاہی دیوان سے درخواست کی تھی کہ انہیں سرکاری پروٹوکول کے تحت شاہی محل میں، دنیا کے دیگر حکمرانوں اور وزراء کی طرح، نہ ٹھہرایا جائے۔
اب سوال یہ ہے کہ ان کی حفاظت کے لیے محافظ کہاں ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنے ساتھ سکیورٹی نہیں لائے، بلکہ اپنے ملک کے عام لوگوں کے ساتھ حج ادا کر رہے ہیں۔ حتیٰ کہ سعودی سکیورٹی کو بھی اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے۔
ڈاکٹر الحسن کے اقتدار میں آنے کے بعد ساحلِ عاج میں امن، سیاسی استحکام اور معاشی بہتری آئی ہے۔ اس غریب ملک کی فی کس آمدنی تقریباً پانچ ہزار ڈالر تک پہنچ گئی ہے۔
وہ اللہ تعالیٰ کے ایک مخلص اور انصاف پسند بندے ہیں، جو اخلاص کے ساتھ عبادت اور خدمت کرتے ہیں۔
انہوں نے انصاف کیا، اسی لیے سکون اور امن کے ساتھ سو رہے ہیں۔

24/05/2026

لوگ کہتے ہیں کہ عورت شادی کے بعد محفوظ ہو جاتی ہے، مگر تلخ حقیقت یہ ہے کہ عورت شادی کے بعد سب سے زیادہ عدمِ تحفظ محسوس کرتی ہے۔
محبت میں دھوکہ، طلاق کی دھمکی، خرچ میں کمی، دوسری عورت کا خوف، سسرال میں بے قدری، اس کی رائے کو نظر انداز کرنا — یہ سب چیزیں عورت کو آہستہ آہستہ یہ احساس دلاتی ہیں جیسے وہ خود کو کھو رہی ہو۔
اور باپ کا گھر! وہاں عورت کو غلطی کرنے کا حق ہوتا ہے، وہ کھل کر ہنس سکتی ہے، اپنی رائے بے خوفی سے بیان کر سکتی ہے، اور اگر گھر میں جھگڑا بھی ہو جائے تو باپ کبھی یہ نہیں کہتا: “میرے گھر سے نکل جاؤ خاص کر پشتون قبلے میں ایسے ہوتے

19/05/2026

🌸 پھول صرف خوبصورتی کی علامت نہیں، بلکہ محبت، خوشی اور زندگی کی خوبصورت یادوں کا بھی حصہ ہوتے ہیں۔ جو لوگ پھولوں کی طرح نرم دل اور خوش اخلاق ہوتے ہیں، وہ ہمیشہ دوسروں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ 🌹

18/05/2026

“خواتین کے حقوق کا احترام ہر معاشرے کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ عورت صرف ماں، بہن یا بیٹی ہی نہیں بلکہ ایک مکمل انسان ہے جس کے اپنے حقوق، جذبات اور عزت ہوتی ہے۔ کسی بھی عورت پر ظلم، زیادتی، تشدد یا اس کے حقوق کی پامالی نہ صرف غیر انسانی عمل ہے بلکہ ایک مہذب معاشرے کے لیے شرمناک بھی ہے۔
تعلیم، آزادی، انصاف اور برابری ہر عورت کا بنیادی حق ہے۔ عورت کو کمزور سمجھ کر اس پر ظلم کرنا دراصل معاشرے کی کمزوری کو ظاہر کرتا ہے۔ ایک ترقی یافتہ قوم وہی ہوتی ہے جہاں عورت کو عزت، تحفظ اور مکمل حقوق حاصل ہوں۔
ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم خواتین کے ساتھ حسن سلوک کریں، ان کے حقوق کا دفاع کریں اور ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی کریں جو ظلم، ناانصافی اور نفرت کو بڑھاتے ہیں۔ عورت کی عزت دراصل پورے معاشرے کی عزت ہے، اور اس کا تحفظ ہم سب پر فرض ہے۔”

18/05/2026

ایک لمحہ سوچنے کی بات...
جب کوئی عورت اس حد تک مجبور ہو جائے کہ اپنی جان لینے کا فیصلہ کرے، تو یہ صرف ایک فرد کا دکھ نہیں ہوتا بلکہ پوری معاشرے کے لیے ایک سوال ہوتا ہے۔ آخر ایسا کیا درد، ظلم، بے بسی یا خاموش تکلیف تھی جس نے اسے یہ قدم اٹھانے پر مجبور کر دیا؟
اپنی بیویوں، بہنوں، بیٹیوں اور گھر کی عورتوں کے ساتھ محبت، عزت اور نرمی سے پیش آئیں۔ عورت بھی احساسات رکھتی ہے، اسے بھی عزت، سکون اور اپنائیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ اتنا ظلم، سختی اور بے قدری نہ کریں کہ کوئی خود کو تنہا اور بے سہارا محسوس کرنے لگے۔
آئیں اپنے گھروں کو محبت، احترام اور سمجھداری کا گہوارہ بنائیں، تاکہ کسی ماں، بہن یا بیٹی کو خاموشی میں ٹوٹنا نہ پڑے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کی مغفرت فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ 🤲💔

16/05/2026

عنوان: شمیلہ کی خاموش چیخ
(ایک ظلم بھری لمبی کہانی)
شمیلہ ایک معصوم، خوبصورت اور نرم دل لڑکی تھی۔ وہ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی۔ اس کے والد غریب ضرور تھے مگر اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتے تھے۔ شمیلہ بچپن سے ہی بہت سمجھدار تھی۔ گھر کے سارے کام کرتی، ماں کا ہاتھ بٹاتی اور سب سے ادب سے بات کرتی۔
شمیلہ کے خواب بہت بڑے تھے۔ وہ چاہتی تھی کہ پڑھ لکھ کر کچھ بنے، مگر غربت نے اس کے خواب ادھورے چھوڑ دیے۔ ایک دن اس کے والد نے کہا:
“بیٹی، تمہارے لیے ایک اچھا رشتہ آیا ہے، لوگ ٹھیک لگتے ہیں۔”
شمیلہ خاموش ہوگئی۔ اس نے صرف اتنا کہا: “ابا، جیسے آپ کی مرضی۔”
چند مہینوں بعد شمیلہ کی شادی ایک شہر کے آدمی ارسلان سے ہوگئی۔ شادی کے شروع کے دن اچھے گزرے۔ شمیلہ نے سوچا کہ شاید قسمت بدل گئی ہے، مگر وہ خوشی زیادہ دیر نہ رہی۔
کچھ ہفتوں بعد اس کی ساس نے اصل رنگ دکھانا شروع کردیا۔
“تمہیں کام کرنا نہیں آتا؟ تمہارے ماں باپ نے کچھ نہیں سکھایا؟”
شمیلہ خاموش رہتی۔ وہ ہر بات برداشت کرتی۔ صبح جلدی اٹھتی، پورا گھر صاف کرتی، کھانا پکاتی، کپڑے دھوتی، مگر پھر بھی اسے طعنے ملتے۔
ایک دن شمیلہ کو بخار تھا، جسم کانپ رہا تھا، مگر ساس نے کہا:
“بیماری کا بہانہ مت کرو، اٹھو اور کام کرو!”
شمیلہ آنکھوں میں آنسو لیے کام کرتی رہی۔
اس کا شوہر ارسلان بھی بدل چکا تھا۔ پہلے وہ محبت سے بات کرتا تھا، اب ہر وقت غصے میں رہتا۔ اگر کھانے میں نمک کم ہوجاتا تو چیختا:
“تم کسی کام کی نہیں ہو!”
رات کو شمیلہ خاموشی سے اپنے کمرے میں جا کر روتی۔ کبھی اپنی ماں کو یاد کرتی، کبھی اللہ سے دعا مانگتی:
“یا اللہ، میرا قصور کیا ہے؟”
وقت گزرتا گیا۔ شمیلہ ماں بننے والی تھی۔ اس نے سوچا شاید اب سب بدل جائے گا، مگر ظلم اور بڑھ گیا۔
ساس کہتی: “پتہ نہیں لڑکا ہوگا یا لڑکی، اگر لڑکی ہوئی تو گھر میں کوئی خوشی نہیں ہوگی!”
یہ سن کر شمیلہ کا دل ٹوٹ جاتا۔
ایک رات شمیلہ کی طبیعت بہت خراب ہوگئی۔ اسے شدید درد تھا، مگر کسی نے اسپتال لے جانا ضروری نہ سمجھا۔ وہ پوری رات تکلیف میں تڑپتی رہی۔ صبح پڑوس کی ایک عورت نے حالت دیکھی تو فوراً اسپتال لے گئی۔
ڈاکٹر نے غصے سے کہا: “اتنی دیر کیوں کردی؟ یہ عورت بہت کمزور ہوچکی ہے!”
شمیلہ نے ایک بیٹی کو جنم دیا۔ مگر گھر والوں نے خوشی منانے کے بجائے اسے طعنے دیے۔
“لڑکی پیدا کی ہے!”
شمیلہ اپنی بیٹی کو سینے سے لگا کر روتی رہی۔
کچھ مہینوں بعد ظلم حد سے بڑھ گیا۔ ارسلان نے ایک دن غصے میں شمیلہ کو بہت برا بھلا کہا اور گھر سے نکال دیا۔
بارش ہورہی تھی۔ شمیلہ اپنی چھوٹی سی بیٹی کو گود میں اٹھائے سڑک کنارے کھڑی تھی۔ اس کے پاس نہ پیسے تھے، نہ سہارا۔
وہ اپنے ماں باپ کے گھر پہنچی۔ باپ نے بیٹی کی حالت دیکھی تو رو پڑا۔
“بیٹی، تم نے ہمیں بتایا کیوں نہیں؟”
شمیلہ روتے ہوئے بولی: “ابا، میں آپ کو پریشان نہیں کرنا چاہتی تھی…”
وقت گزرا۔ شمیلہ نے ہمت نہ ہاری۔ اس نے سلائی سیکھ لی، محنت شروع کی، اپنی بیٹی کو پڑھایا۔ آہستہ آہستہ وہ مضبوط عورت بن گئی۔
ایک دن وہی لوگ، جنہوں نے اسے کمزور سمجھا تھا، اس کی کامیابی دیکھ کر حیران رہ گئے۔
شمیلہ نے اپنی بیٹی سے کہا:
“بیٹا، عورت کمزور نہیں ہوتی، بس لوگ اسے کمزور سمجھتے ہیں۔ ظلم سہنا مجبوری ہوسکتی ہے، مگر ہمیشہ چپ رہنا ضروری نہیں۔”
کہانی کا سبق:
کسی عورت پر ظلم کرنا بہت بڑا گناہ ہے۔ عورت بھی عزت، محبت اور سکون کی حقدار ہوتی ہے۔ 💔

07/05/2026

چارسدہ، خیبر پختونخوا: ایک خواجہ سرا طویل علالت کے بعد انتقال کر گیا۔
یہ خواجہ سرا ڈراموں میں اداکاری بھی کرتا تھا۔ چند روز قبل اسے پشاور کے ایک اسپتال منتقل کیا گیا، مگر مقامی لوگوں اور اسپتال انتظامیہ نے داخل کرنے کی اجازت نہیں دی۔
مرحوم کے قریبی افراد کے مطابق ڈاکٹروں کا کہنا تھا کہ اسے خواتین وارڈ میں نہیں رکھا جا سکتا، جبکہ مردوں کے وارڈ میں بھی مسائل تھے۔
یہ واقعہ معاشرے میں خواجہ سراؤں کے ساتھ ہونے والے رویے پر کئی سوالات اٹھاتا ہے۔

02/05/2026

افسوس 🥺
کیا ہم نے کبھی اپنی بہن کے بارے میں سوچا ہے؟
آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے کہ ہم اپنی بیٹیوں اور بہنوں کے حقوق پوری طرح ادا نہیں کرتے؟
آج کل بہت لوگ کہتے ہیں کہ عورتوں کو حقوق دیے جائیں۔ لیکن ہماری اپنی معاشرت میں بھی، دین اور روایات کے اندر رہتے ہوئے، عورت کو عزت اور حقوق حاصل ہیں۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہم خود ان اصولوں پر عمل کم کرتے ہیں۔
ہم اپنی بیٹیوں کے حقوق پر کم توجہ دیتے ہیں، جو کہ فکر کی بات ہے۔
جب ایک لڑکی بالغ ہوتی ہے، تو اکثر اس کی شادی میں تاخیر ہو جاتی ہے۔ بعض اوقات زیادہ خرچ اور ولور (دلہن کی رقم) کی وجہ سے یہ معاملہ مشکل بن جاتا ہے۔
یہ حالات بعض لڑکیوں کو ذہنی دباؤ اور مشکلات کی طرف لے جاتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ ہے:
👉 ولور اور شادی کے اخراجات بہت زیادہ رکھے جاتے ہیں
👉 لڑکی کی خوشی اور رائے کو کم اہمیت دی جاتی ہے
حالانکہ بیٹی ایک امانت ہے، کوئی تجارت نہیں۔
جب بیٹی کی شادی عزت اور خوشی سے نہ ہو، تو بعد میں خاندان کو پچھتاوا ہوتا ہے۔
اس لیے بہتر ہے کہ ہم پہلے ہی سوچ سمجھ کر فیصلے کریں۔
اے والدین اور بزرگوں!
آئیں ہم:
ولور کو آسان بنائیں
بیٹیوں کی رائے کو اہمیت دیں
شادی کو سادہ اور بروقت کریں
اس سے نہ صرف ہماری بیٹیاں خوش رہیں گی بلکہ ہمارا معاشرہ بھی بہتر ہوگا۔
یہ باتیں میں نے دل کے درد سے کی ہیں 💔
اللہ ہم سب کو صحیح راستہ دکھائے 🤲

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Swat?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


SWAT KPK
Swat
19130