Observation Point
نماز قائم کرو
18/04/2026
کنجوس عوام کو اب یہ ٹیکس دیتے موت آئے گی ، حافظ صاحب کی خدمات سب بھول جائیں گے 😏😏😏
06/04/2026
03/04/2026
حکومتِ پاکستان سے بس اتنی سی گزارش ہے…
ہمیں نوچنے کے بجائے سکون سے کھائیں۔
ہم کوئی زندہ قوم تھوڑی ہیں جو بھاگ جائیں گے،
ہم تو پہلے ہی مردہ ہو چکے ہیں۔
اوپر سے ٹیکس لگا لگا کر ہمارا پوسٹ مارٹم کیوں کر رہے ہیں؟
یہ وقت نارمل نہیں ہے۔
ایک ایک روپیہ بچائیں۔
فضول خرچی چھوڑ دیں۔
صرف ضروریات تک خود کو محدود کر لیں… کیونکہ آنے والے دن شاید اس سے بھی زیادہ سخت ہوں۔
آج 458 روپے پیٹرول کا شور ہے…
کل یہ شور ختم ہو جائے گا۔
پھر کسی اداکارہ کی سرجری کی تصویر آ جائے گی اور پوری قوم اسی تماشے میں گم ہو جائے گی۔
کوئی کرکٹر تیسری شادی کرے گا تو ہم اسی پر بحث کرتے رہیں گے۔
ادھر دنیا کے بڑے لیڈر ایک دوسرے کو ہاتھ ہلا دیں گے،
اور ہم میمز بنانے میں مصروف ہو جائیں گے۔
اصل حقیقت یہ ہے کہ ہم سنجیدہ مسائل سے نظریں چرا چکے ہیں۔
یہ اب ایک باشعور قوم نہیں رہی…
یہ ایک منتشر ہجوم بن چکی ہے
جسے وقتی خبروں اور فضول موضوعات سے آگے دیکھنے کی فرصت ہی نہیں۔
اور یہی بے حسی اوپر بیٹھے لوگوں کو بے خوف بنا دیتی ہے۔
جب عوام خاموش ہو جائیں تو حکمران بے لگام ہو جاتے ہیں۔
جوابدہی ختم ہو جاتی ہے،
شعور مفقود ہو جاتا ہے،
اور ترجیحات بکھر جاتی ہیں۔
📜 شاعر نے کیا خوب کہا تھا:
"ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے"
"خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا"
اور ایک اور حقیقت بھی سن لو:
"خاموشی بھی ایک جرم ہے اس دورِ ستم میں"
"جو لب نہیں کھولتے وہ بھی شریکِ جرم ہوتے ہیں"
پیٹرول کا اس حد تک مہنگا ہونا صرف ایک خبر نہیں…
یہ عوام کا معاشی قتل ہے۔
عام آدمی پس رہا ہے،
گھر کا بجٹ ٹوٹ رہا ہے،
لیکن ہم پھر بھی خاموش ہیں۔
اور شاید یہی خاموشی…
ان مسائل کو اور طاقتور بنا رہی ہے۔
یاد رکھو!
جب قومیں جاگتی ہیں تو تخت ہل جاتے ہیں…
اور جب قومیں سو جائیں تو ظلم بڑھ جاتا ہے۔
🇵🇰 پاکستان کو شور نہیں… شعور کی ضرورت ہے
30/03/2026
ساری کتابیں، 900 روپے کی ردی۔۔۔
یہ میری وہ کتابیں ہیں جو آج تک مجھ سے جدا نہیں ہوئی۔ کلاس نہم سے لے کر ماسٹر تک سارا نصاب ابھی تک موجود ہے۔۔۔ لیکن زندگی نے جو سبق دیا وہ ان میں سےکسی کتاب میں نہیں۔ جو ان کتابوں میں پڑھا ایسا کچھ بھی میری زندگی میں نہیں۔ نہ قائد اعظم کے چودہ نکات۔ نہ اکبر بادشاہ۔ نہ الجبرا۔ نہ مسٹر چپس۔ نہ سطح مرتفع پوٹھوہار۔ نہ ہی وہ پاکستان جو گندم کی پیداوار میں ساتواں خود کفیل ملک ہے۔
مجھے پیسے کمانے کا طریقہ تو کبھی بتایا نہ گیا۔ بس فوٹو سنتھسیز کا عمل پڑھاتے رہے۔ سارا دن کمسٹری کے فارمولے کو رٹہ لگواتے رہے۔ حالانکہ ہر چیز بنی بنائی ملتی ہے وہ بھی پیسوں سے۔ تو پیسہ کمانا تو کسی ماسٹر صاحب نے نہیں سکھایا۔
بیالوجی کی کتنی شاخی ہیں اگر یاد نہ ہوا تو فیل کر دیتے۔ لیکن مجھ سے کتنے لوگوں کی امیدیں وابستہ ہیں یہ کہیں نہیں سمجھایا گیا۔
تمام helping verbs تو مجھے یاد ہیں مجھے لیکن helping work کوئی بھی یاد نہیں۔ نہ ایسا سکھایا گیا۔ مجھے my father مضمون آج بھی یاد ہے۔ لیکن father خوش کیسے رہتا ہے یہ نہیں پتا۔
میں نے پڑھا ہے کہ پاکستان میں نمک کے اپنے بڑے بڑے پہاڑ ہیں۔ لیکن مجھے اپنے اس پہاڑ کا ایک چھوٹا سا پتھر کا ٹکڑا 100 روپے میں ملتا ہے۔
سوچنے لگا کہ اپنے اساتذہ سے پوچھوں کہ آپ نے جو پڑھایا وہ صحیح تھا؟ جب استاد کا دروازاہ کھٹکھٹایا تو آواز آئی کہ وہ مردم شماری کے لیے گئے ہیں۔ دوسرے استاد کا پتا کیا تو معلوم ہوا کہ وہ سکول کے بعد ڈینگی مہم کی میٹنگ میں ہیں۔ تیسرے استاد کا کی طرف گیا وہ پولیو مہم میں مصروف۔۔۔ یعنی میرے استادوں کو اصل مقصد سے ہٹا کر دوسرے کاموں میں لگا دیا۔ پھر ایک استاد یاد آیا کہ وہ اس وقت گھر ہوں گے۔ ان کے گھر پہنچا تومعلوم ہوا کہ 3 گھنٹے ہو گئے وہ آٹا لینے گئے واپس نہیں آئے۔
پھر مجھے سمجھ آگیا کہ کچھ بھی نہیں ان کتابوں میں جو مجھے 3 وقت عزت کی روٹی دے سکے۔ اتنی کتابیں پڑھنے کا کیا فائدہ ہوا اگر مزدوری ہی کرنی تھی؟
آخر میں تلخ بات یہ کہ کتابیں مجھے اتنا بھی نہ سکھا سکی کہ جو کتابیں پڑھ کے میں زمانے میں معتبر ٹھہرا۔ لوگ مجھے پڑھا لکھا کہتے ہیں۔ انہیں کتابوں پہ تبصرہ کرنے لگ گیا۔ بندۂ زیرک تُو کتنا پاگل ہے۔ایک ایک لیکچر کے ہزاروں روپے دئیے۔ فیسیں جمع کروائی۔ داخلے جمع کروائے۔ راتوں کو جاگ جاگ کر مشقیں لکھیں۔ ایک ایک کتاب سینکڑوں ہزاروں میں خرید کر پڑھی تھی۔ آج ردی میں اس کا صرف 900 روپے ریٹ لگا۔
بہت دکھ ہوا مجھے کہ اتنا مہنگا علم اتنے سستے میں کیسے بیچ سکتا ہوں۔ لیکن کیا کرتا روٹی کمانا تو سکھایا ہی نہیں گیا۔
پھر یوں ہوا کہ وہ ساری کتابیں 900 روپے میں بیچ کر اپنے پاس سے 250 روپے ڈال کر 10 کلو آٹے کا تھیلا لے کر گھر آگیا۔
ہزاروں ڈگریاں لے کر، علم پر دسترس پا کر
چھلکتے لفظ آنکھوں سے ، نہ پڑھ پاؤ تو جاہل ہو۔
بشکریہ عدنان صاحب
20/03/2026
ایک ہی بستی میں کہیں عید کی خوشیاں منائی جا رہی ہیں اور کہیں روزہ رکھا جا رہا ہے۔ یہ منظر صرف اختلافِ رائے نہیں بلکہ ہماری اجتماعی کمزوری کی عکاسی کرتا ہے۔ دین ہمیں اتحاد، بھائی چارے اور یکجہتی کا درس دیتا ہے، مگر ہم چھوٹے چھوٹے مسائل میں بٹ کر اصل روح کو بھلا بیٹھتے ہیں۔
چاند ایک ہی ہوتا ہے، رب ایک ہی ہے، نبی ﷺ ایک ہی ہیں—پھر ہمارے فیصلے کیوں مختلف ہو جاتے ہیں؟ اختلاف اگر علم اور دلیل کی بنیاد پر ہو تو قابلِ احترام ہے، لیکن جب یہی اختلاف تفرقہ اور دوری کا سبب بن جائے تو لمحۂ فکریہ بن جاتا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم برداشت، احترام اور اتحاد کو فروغ دیں۔ دوسروں پر تنقید کرنے کے بجائے اپنے رویوں کا جائزہ لیں۔ کیونکہ خوبصورت معاشرہ وہی ہوتا ہے جہاں اختلاف کے باوجود دل جڑے رہیں۔
اللہ ہمیں صحیح سمجھ، اتحاد اور اخلاص عطا فرما
16/03/2026
🦄** ایک گاؤں میں مولوی صاحب رہتے تھے*
مولوی صاحب کا کوئی دوسرا ذریعہ
آمدنی نہ تھا، گاؤں میں رہتے ہوئے گزارہ بہت مشکل تھا *
اسی گاؤں میں کوئی نیک دل جاگیردار بھی رہتا تھا*
اس جاگیردار نے زمین کا ایک ٹکڑا مولوی صاحب کو ہدیہ کردیا کہ ویسے بھی سارا دن آپ فارغ ہوتے ہیں تو کھیتی باڑی کریں تاکہ گزارہ اچھا ھو،*
مولوی صاحب نے اس زمین پر گندم کاشت کرلی۔ جب فصل ہری بھری ھوگئی تو مولوی بہت خوش ہوا* اسلیئے دن کا اکثر وقت وہ کھیت میں ھی بیٹھا رہتا اور فصل دیکھ دیکھ کر خوش ہوتا *
لیکن اچانک ایک ناگہانی مصیبت نے ان کو آن گھیرا گاؤں کے ایک آوارہ گدھے نے کھیت کی راہ دیکھ لی گدھا روزانہ کھیت میں چرنے لگا*
مولوی صاحب نے پہلے تو چھوٹے موٹے صدقے دیئے لیکن گدھا منع نہیں ہوا پھر اس نے مختلف سورتیں پڑھ پڑھ کر پھونکنا شروع کردیں لیکن گدھا پھر بھی ٹس سے مس نہیں ہوا *
ایک دن پریشان حال بیٹھا گدھے کو فصل اجاڑتے دیکھ رہا تھا کہ ادھر سے ایک کسان کا گزر ہوا گدھے کو چرتا دیکھ کر کسان نے پوچھا*
مولوی صاحب آپ عجیب آدمی ہیں گدھا فصل تباہ کر رہا ہے اور آپ ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے ہیں *مولوی صاحب نے عرض کیا جناب میں ہاتھ پر ہاتھ دھرے کہاں بیٹھا ھوں*
ابھی تک ایک مرغی اور بکری کا صدقہ دے چکا ہوں اور کل سے آدھا قرآن شریف بھی پڑھ کر پھونک چکا ہوں لیکن گدھا ہٹتا ھی نہیں *مجھے تو یہ گدھا کافر لگتا ہے جس پر کوئی شے اثر نہیں کرتی*
کسان کے ہاتھ میں ایک ڈنڈا تھا وہ سیدھا گدھے کے پاس گیا اور گدھے کو دوچار ڈنڈے کس کر مارے تو گدھا کسی ہرن کی طرح چوکڑیاں بھرتا ہوا بھاگ کھڑا ہوا اس کسان نے کھیت سے باہر آکر ڈنڈا مولوی صاحب کے حوالے کرتے ہوئے کہا *
قبلہ مولوی صاحب قرآن گدھوں کو بھگانے کیلئے نازل نہیں کیا گیا گدھوں کو بھگانے کیلئے اللہ تعالی نے یہ ڈنڈا بھیجا ہے*
ھم بھی عجیب قوم ہیں ہمارے گدھے جو ھم پہ مسلط ہیں کروڑوں نہیں بلکہ اربوں لوٹتے چلے جاتے ہیں اور ھم صرف دعاؤں اور صدقات و خیرات کے زریعے ان گدھوں سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتے ہیں *جب تک یہ ہجوم ایک قوم بن کر ان لٹیروں سے نجات کیلئے ڈنڈا استعمال نہیں کرے گی* یہ گدھے ملک و قوم کے تمام وسائل یونہی لوٹتے رہینگے...🦄
゚ ゚
12/03/2026
د پخوا زمانی قصہ دہ، پہ غرہ کی د کلی نہ لری بوڈا د خپل نمسی سرہ اوسیدو
روژہ راغلہ نمسی نیکہ تہ ویل
دادا مونگ تہ بہ سنگہ د اختر پتہ لگی او دا روژی بہ سنگہ شمارو؟
نیکہ یی سوچ اوکو او بیا یی یو ترکیب پہ مازغو کی راغی
نمسی تہ یی ویل،
داسی کار اوکہ دی سائڈ تہ یو کٹوئ کیگدہ او روزانہ پکی د بیزی یوہ پچہ وراچوہ ،
بیا بہ اوشمارو چی کلہ دیرش پورہ شی نو اختر بہ وی
نمسی ھمدغسی روزانہ د بیزی یوہ پچہ دی کٹوی تہ وراچولہ
یو ورز دا بیزہ راپرانستی شوی وہ او د دغی کٹوی کی یی خہ ڈیری پچی اوکڑہ
نیکہ یو ورز دی نمسی تہ ویل
بچی ورشہ او دغہ کٹوی کی پچی اوشمارہ چی سو روژی شوی
نمسی یی ورغی اوچی کٹوئ یی راولٹہ کڑہ نو خیران شو
او پہ منڈہ منڈہ راغی او نیکہ تہ یی ویل
دادا نور نہ پوھیگم خو دومرہ اندازہ لگی چی
غٹ اختر ھم تیر شوے دی
❤️❤️😲😲🤪🤪😲😲❤️❤️
10/03/2026
گامے کی بیوی انتقال کر گئی رات دن رُوتا رہتا۔ایک لڑکی سے گامے کا رونا دیکھا نہ گیا وہ تعزیت کیلئے گامے کے گھر گئی-لڑکی کو احوال بتاتے بتاتے گامے نے روتے ہوئے لڑکی کا ہاتھ پکڑ لیا کہ یہاں بیٹھ کر ہم میاں بیوی کھانا کھاتے تھے پھر روتے ہوئے کندھے پر ہاتھ رکھ کر صحن میں لے گیا یہاں بیٹھ کر ہم چائے پیتے تھے پھر رُوتے ہوئے لڑکی کو کمرے میں لے گیا یہاں ڈبل بیڈ پر ہم میاں بیوی مل کر سوتے تھے
پھر روتے ہوئے اسے ڈبل بیڈ پر ساتھ لٹا کر عین غین دیا لڑکی کو جب احساس ھوا تو گھر جا کر ماں سے شکایت کی
ماں آگ بگولہ ہو کر بولی۔ تم گئی کیوں تھی گامے بیغیرت کے پاس؟
لڑکی بولی۔ اماں وہ بہت زور سے رُو رہا تھا ۔ماں نے کہا پُتر اُس خبیث نے رُوتے رُوتے پورا پنڈ یہہ دیا ھے۔
------
پیٹرولیم سمری پر دستخط کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف کی آنکھوں سے آنسو نکل پڑے
(خبر)
09/03/2026
سپریم لیڈر شمالی کوریا ’کم جونگ ان‘ کی جانب سے اہم بیان جاری کیا گیا، اپنے بیان میں انہوں نے ایران کو رہبر مجتبیٰ خامنہ ای کے انتخاب پر مبارکباد دی، کہا کہ ’’امید ہے مجتبیٰ خامنہ ای والد کی
طرح اس*رائی*ل کا تکبر توڑیں گے اور امید ہے کہ وہ اپنے والد کی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے۔
Disclaimer:
This report is based on claims and information from international media sources and official statements. Some details may not yet be independently verified, This content is provided strictly for informational purposes.
08/03/2026
انتہائی اعلیٰ درجے کا ذلیل انسان تھا وہ شخص جس نے یہ قانون بنایا تھا کہ پانچ لاکھ تنخواہ لینے والے کو پٹرول بجلی، گاڑی اور گھر سب فری ملے گا اور 30 ہزار تنخواہ لینے والا ہر چیز اپنی تنخواہ سے خریدے گا۔
Behrain😭
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Swabi