Meer Collection
دُنیائے اَدب کی سب سے بڑی ویبسائٹ
( میر کُولیکشن )
🍁 پر خُوشں آمدید 🍁
25/11/2024
میں چاند تو توڑ کر لانے سے رہا
ضد کرے گی تو اُسے آئینہ دیکھا دُوں گا
25/11/2024
بڑی مُدت میں گُر سیکھا ہے ہم نے کامیابی کا
لگا لیتے ہیں، ہوتا ہے جہاں درکار جو چہرہ...
25/11/2024
میں پا نا سکا کبھی اِس خلش سے چُھٹکارا
وہ مجھ کو جیت بھی سکتا تھا جانے کیوں ہارا
25/11/2024
میری تصویر بنانے کی جو دُھن ہے تم کو
کیا اداسی کے خد و خال بنا پاؤ گے ؟
تم پرندوں کے درختوں کے مصور ہو میاں
کس طرح سبزۂ پامال بنا پاؤ گے؟
سر کی دلدل میں دھنسی آنکھ بناسکتےہو
آنکھ میں پھیلتے پاتال بنا پاؤ گے؟
جو مقدر نے میری سمت اچھالا تھا کبھی
میرے ماتھے پہ وہی جال بنا پاؤ گے؟
مل گئی خاک میں آخر کو سیاہی جن کی
میرے ہمدم وہ میرے بال بنا پاؤ گے؟
یہ جوچہرےپہ خراشوں کی طرح ثبت ہوئے
یہ اذیت کے مہ و سال بنا پاؤ گے؟
زندگی نے جو میرا حال بناچھوڑاہے
میری تصویر کا وہ حال بنا پاؤ گے؟
25/11/2024
جہاں تلک تو مری ذات کا تعلق ہے
ترے سوا یہ جہاں بھر سے لا تعلق ہے
ہمیں اکٹھے کبھی دیکھنا کہیں بیٹھے
نہیں ہے، پھر بھی لگے گا بڑا تعلق ہے
میں اس کو توڑتے، اندر سے ٹوٹ پھوٹ گئی
مرا خیال تھا کمزور سا تعلق ہے
خوشی کے بارے میں محدود علم رکھتی ہوں
وہ یوں کہ اس سے مرا دور کا تعلق ہے
ہمارا ربط، تعارف سے ماورا ہے دوست
کبھی کسی کو بتانا پڑا، تعلق ہے؟
میں قطع کرتی نہیں سرسری تعلق بھی
تمہارے ساتھ تو اچھا بھلا تعلق ہے
تعلقات کشیدہ ہیں آج کل سب سے
اور اس کی وجہ تمہارا مرا تعلق ہے
میں تجھ سے ربط بنا کر رہوں گی جو بھی ہو
تو آزما لے جہاں تک ترا تعلق ہے
کسی کے ساتھ بنایا تو پھرکھلا مجھ پر
براہِ راست تعلق بھی کیا تعلق ہے!
25/11/2024
ایک اُلجھن رات دن پلتی رہی دل میں کہ ہم
کس نگر کی خاک تھے کس دشت میں ٹھہرے رہے
25/11/2024
عجب طرح کی رفاقت ہمارے بیچ رہی
ہمارے بیچ دعا تھی سلام تھا ہی نہیں
جچا نہ اس لئے بھی پھر کوئی کلام ہمیں
غمِ حیات سے بڑھ کر کلام تھا ہی نہیں
25/11/2024
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﺟﻮ ﺩﮬﯿﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﭘﮑﮯ ﺍﯾﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﭗ ﮐﺎ ﺗﺮﯼ خاموشی ﺳﮯ
ﺭﻭﺡ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﮩﺠﮯ ﮐﻮ
ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﮐﺎ ﺭﺷﺘﮧ
ﯾﻌﻨﯽ ﻭﺟﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﮞ،
ﺟﯿﺴﮯﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺳﺎﻣﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ
ﺑﻦ ﮐﮩﮯ، ﺑﻦ ﺳﻨﮯ ﮨﯽ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﯿﭻ
ﻋﮩﺪ ﻭ ﭘﯿﻤﺎﻥ ﮐﺎ ﺗﻌﻠﻖ ﮨﮯ..!!
25/11/2024
ہم خانہ بُدوش لوگوں کی یہ منزلیں نہیں
ہم اگلے جہاں کہ لوگ ہیں اور راستے میں ہیں
25/11/2024
چاند!!!
ایک سے مسافر ھیں
ایک سا مقدر ھے!!!
میں زمین پر تنہا-
اور وہ
أسمانوں میں!
25/11/2024
سینے میں کسک بن کے بسے رہتے ہیں برسوں
وہ لمحے جو پلٹ کر کبھی آنے نہیں ہوتے
25/11/2024
صیّاد تو اِمکان ِ سفر کاٹ رہا ہے
اندر سے بھی کوئی مِرے پر کاٹ رہا ہے
اے چادرِ منصب! تِرا شوق ِ گل ِ تازہ
شاعر کا تِرے دست ِ ہنر کاٹ رہا ہے
جس دن سے شمار اپنا پناہ گیروں میں ٹھہرا
اُس دن سے تو لگتا ہے کہ گھر کاٹ رہا ہے
کس شخص کا دل میں نے دکھایا تھا، کہ اب تک
وہ میری دعاؤں کا اَثر کاٹ رہا ہے
قاتل کو کوئی قتل کے آداب سکھائے
دستار کے ہوتے ہوئے سر کاٹ رہا ہے
میرزادہ وصیؔ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Address
Line Number 4 Street No 10
Sialkot