Azhar_Writes09
This page is for Poetries, Motivationl, Entertainment, Islamis & Historical Posts. Follow Page 😊❤
03/08/2024
ایک استاد نے اپنی کلاس میں فیل ہونے والے طالب علم سے فیل ہونے کی وجہ پوچھی تو اُس نے کچھ اِس طرح جواب دیا۔۔۔۔!
"استاد جی! سال کے 365 دِن ہوتے ہیں، روزانہ 8 گھنٹے سونے کے نکالو تو 122 دِن بنتے ہیں، سو (365-122) باقی بچے 243 دِن۔
گرمیوں، سردیوں کی چھٹیاں ملاؤ تو تقریباً 90 دِن بنتی ہیں، تو (243-90) باقی بچے 153 دِن۔
پورے سال میں 52 اتواریں (Sunday) ہوتی ہیں تو (153-52) باقی بچے 101 دِن۔
کبھی پاکستان ڈے، کبھی اقبال ڈے، کبھی قائد ڈے اور اِسی طرح عید، محرم وغیرہ کی چھٹیاں شامل کی جائیں تو تقریباً 20 چھٹیاں وہ بنتی ہیں، تو (101-20) باقی بچے 81 دِن۔
کھانے پینے، نہانے، کھیلنے کے اگر 5 گھنٹے بھی لگاؤ تو سال کے حساب سے 76 دِن بنتے ہیں، تو (81-76) باقی بچے 5 دِن۔
کبھی سکول کا ٹرپ چلا جاتا ہے، کبھی ہم بیمار ہو جاتے ہیں تو اگر اِن سب کے 4 دِن بھی لگاؤ تو (5-4) باقی بچا 1 دِن۔
اور استاد جی سال میں 1 دِن تو اپنی برتھ ڈے کا بھی آتا ہے، اب آپ ہی بتاؤ، بھلا اپنی برتھ ڈے والے دِن بھی کوئی پڑھتا ہے کیا۔۔؟
03/08/2024
روئے زمین پر پہلا انسانی قتل اور ہابیل قابیل کا واقعہ
🏜️یہ اس وقت کا واقعہ ہے جب روئے زمین پر انسانی زندگی ابتدائی حالت میں تھی اور حضرت حواء کے بطن سے ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ ایک ساتھ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کا نکاح دوسری مرتبہ پیدا ہونے والے لڑکے اور لڑکی کے ساتھ کر دیا جاتا تھا۔ ہابیل اور قابیل یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے بیٹے ہیں۔جب یہ جوان ہوئے تو دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح غازہ کے ساتھ جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا تو قابیل اس بات پر رضامند نہیں ہوا کیونکہ اقلیما ، غازہ کے مقابلے میں زیادہ خوبصورت تھی۔جو قابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کو سمجھایا کہ یہ اللہ کا حکم ہے لہٰذا تم یہ بات مان لو۔ اقلیما تمہارے ساتھ پیدا ہوئی ہے اس لئے وہ تیری بہن ہے، اس کے ساتھ تیرا نکاح نہیں ہوسکتا۔ مگر قابیل اپنی بات پر اڑا رہا ۔ با لآخر حضرت آدم علیہ السلام نے ان دونوں بھائیوں کو حکم دیا کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانی اللہ کے حضور میں پیش کرو۔ جس کی قربانی مقبول ہوگی وہی اقلیما سے نکاح کا حق دار ہوگا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی علامت یہ تھی کہ لوگ اپنی قربانیاں پہاڑ پر رکھ دیتے تھے اور آسمان سے آگ آکر انھیں کھا جاتی تھی (جلا کر ختم کر دیتی تھی)۔
قابیل کھیتی باڑی کرتا تھا اور ہابیل جانور پالتا تھا ۔ چنانچہ قابیل نے گندم کی بالیاں اور ہابیل نے ایک خوبصورت ، موٹا تازہ مینڈھا قربانی کے لئے ایک پہاڑ پر رکھ دیا اور اللہ سے دعا مانگی یا الٰہی ہماری قربانی کو قبول فرما ۔ آسمان سے آگ آئی اور اس نے ہابیل کی قربانی کو کھا لیا اور قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔جس سے قابیل کے دل میں ہابیل کے لئے غصہ ،حسد اور بغض پیدا ہوگیا اور وہ ہابیل سے کہنے لگا کہ میں تجھے مار ڈالوں گا کیونکہ تیری قربانی قبول ہوگئی ہے۔ ہابیل نے قابیل سے کہا ۔ اللہ تعالیٰ پرہیزگاروں کی قربانی قبول کرتا ہے اگر تو میرے قتل کے لئے مجھ پر ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھ پر ہاتھ نہیں اٹھاﺅں گا کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔
قربانی دے کر دونوں بھائی حضرت آدم علیہ السلام کے پاس آئے ، آدم علیہ السلام نے فرمایا اے قابیل تیری بہن اقلیما اب ہابیل پر حلال ہوئی اور تجھ پر حرام۔ قابیل اب مایوس ہوچکا تھا کہ اقلیما اس کے نکاح میں نہیں آسکتی اس لئے وہ ہابیل کو مارنے کی تدبیر میں رہنے لگا۔ اس دوران آدم علیہ السلام جب مکہ چلے گئے ، تو ایک دن قابیل نے دیکھا کہ ہابیل سورہا ہے تو سوچنے لگا کہ اسے کس طرح سے ماروں کیونکہ اس زمانے تک کسی نے کسی کو نہیں مارا تھا۔جب شیطان نے دیکھا کہ اسے قتل کرنے کا طریقہ نہیں آتا تو اس لعین نے ایک جانور پکڑا اور اس کا سر ایک پتھر پر رکھ کر دوسرا پتھر زور سے اس کے سر پر دے مارا جس سے وہ جانور اسی وقت مر گیا۔ یہ ترکیب دیکھ کر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کے ساتھ یہ ہی کیا اور زمین پر سے ایک پتھر اٹھا کر ہابیل کے سر پر دے مارا ،اور اپنے بے گناہ بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔
ہابیل کے قتل کے بعد قابیل یہ سوچ کر بے حد پریشان ہوا کہ اب اس لاش کا کیا کرے۔یہ روئے زمین پر کسی انسان کا یہ پہلا قتل تھا، کیونکہ اس سے پہلے کوئی آدمی مرا ہی نہیں تھا۔ اس لئے قابیل حیران و پریشان تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کروں، چنانچہ وہ کئی روز تک بھائی کی لاش کو اپنی پیٹھ پر لاد کر پھرتا رہا۔اللہ تعالیٰ کو اپنے اس نیک بندے کی لاش کی بے حرمتی منظور نہ تھی چنانچہ اس جگہ پر دو کوّے آئے اور وہاں آکر آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈالا ۔ پھر زندہ کوّے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین میں گڑھا کھود ا اور اس میں اس مرے ہوئے کوّے کو ڈال کر مٹی سے دبادیا۔ کوّے کو دیکھ قابیل اپنے اوپر ملامت کرنے لگا کہ میں اس کوّ ے سے بھی گیا گزرا ہوں کہ اتنا بھی نہ کرسکا۔ اس طرح قابیل کو معلوم ہوا، کہ ہابیل کی لاش کو زمین میں گڑھا کھود کر دفن کردینا چاہیئے۔ چنانچہ اس نے ایک گڑھا کھود کر اس میں اپنے بھائی ہابیل کی لاش کو دفن کردیا۔
جب حضرت آدم علیہ السلام مکّہ سے واپس آئے اور ہابیل کو نہ پایا تو اس کو بہت تلاش کیا، مگر وہ نہ ملا، لوگوں سے پوچھنے لگے ، کسی نے جواب دیا کہ ہابیل کچھ دنوں سے نہ معلوم کہاں گیا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے ہابیل صدمے میں کھانا پینا اور سونا سب ترک کردیا اور شب و روز ہابیل کے غم میں رہنے لگے۔ ایک روز آپ نے خواب کی حالت میں دیکھا کہ ہابیل الغیاث الغیاث ، اے پد ر، اے پدر، پکار رہا ہے،حضرت آدم علیہ السلام نیند سے چونک کر اٹھے اور زار زار رونے لگے۔ اسی وقت حضرت جبرائیل علیہ السلام آئے اور حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا کو ہابیل کی قبر پر لے گئے ۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حوا نے قبر کھود کر ہابیل کو دیکھا کہ اس کا مغز نکلا ہوا ہے اوروہ خون سے آلودہ ہورہا ہے ۔ یہ حال دیکھ کر آپ ؑ دونوں بہت روئے۔
اور ہابیل کی لاش کو ایک تابوت میں بند کرکے اپنے مکان میں لاکر دفن کردیا ۔ اس وقت آپ ؑ کے ایک سو بیس بیٹے تھے جن میں سے سوائے ہابیل کے کوئی نہیں مرا تھا۔ روایت ہے کہ جب ہابیل قتل ہوگئے تو سات دن تک زمین میں زلزلہ رہا ۔ قابیل جو بہت خوبصورت تھا بھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل سیاہ اور بدصورت ہوگیا۔ آدم علیہ السلام نے قابیل کو اپنے دربار سے نکال دیا اور وہ یمن کی سر زمین عدن میں چلا گیا ، وہاں ابلیس اس کے پاس آکر کہنے لگا کہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھالیا تھا کہ وہ آگ کی پوجا کرتا تھا لہٰذا تو بھی آگ کی پرستش کیا کر۔ چنانچہ قابیل پہلا شخص ہے جس نے آگ کی پرستش کی اورزمین پریہ پہلا شخص ہے جس نے اللہ کی نافرمانی کی اور زمین پر خون ناحق کیا۔ یہ وہ پہلا مجرم ہے جو جہنم میں ڈالا جائے گا۔حدیث میں ہے کہ زمین پر قیامت تک جو بھی خونِ ناحق ہوگا۔اس کے عذاب کا ایک حصہ بوجھ اور گناہ قابیل پر بھی ہوتا ہے کیونکہ اس نے سب سے پہلے قتل کا طریقہ ایجاد کیا۔ قابیل کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ایک لڑکے نے جو کہ اندھا تھا۔ اس کو پتھر مار کر قتل کردیا۔ اور یہ بدبخت آگ کی پرستش کرتے ہوئے گمراہی و شرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھ مارا گیا۔ (ماخوذ : تفسیر ابن کثیرجلد دوم صفحہ۶۵ تا ۰۶ ۔ روح البیان جلد دوم، صفحہ۱۸۳)
کسی بے گناہ کو قتل کرنا (خون ناحق) بہت بڑا جرم ہے قابیل نے غصہ، حسد اور بغض میں گرفتار ہو کر اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا اس سے معلوم ہو ا کہ حسد، غصہ اور بغض انسان کے لئے کتنی بری اور خطرناک قلبی بیماری ہے. اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ارشاد فرمایا :” جو شخص کسی کو بلا وجہ مار ڈالے ، جبکہ اس نے نہ کسی کو قتل کیا تھا اور نہ زمین میں فساد پھیلایا تھا تو گویا اس نے تمام لوگوں کو قتل کردیا۔ اور جو شخص کسی بے قصور شخص کے قتل سے باز رہے گویا اس نے تما م لوگوں کو زندگی دی “(پارہ ۶،سورة مائدہ )
اللہ سے دعا ہے کہ وہ ہم سب کو غصہ حسد بغض اور تکبر اور ہر طرح کی گمراہی سے بچائے اور ان سے ہماری حفاظت فرمائے۔“ (آمین)
بیوی: آج دھونے کے لئے زیادہ کپڑے مت نکالنا۔
شوہر: کیوں؟
بیوی: کام والی ماسی دو دن نہیں آئے گی
شوہر: کیوں؟
بیوی: اپنی نواسی سے ملنے بیٹی کے پاس جا رہی ہے، کہہ رہی تھی دو دن نہیں آؤں گی۔
شوہر: ٹھیک ہے، زیادہ کپڑے نہیں نکالوں گا۔
بیوی: اور ہاں !!! ماسی کو پانچ سو روپے دے دوں؟
شوہر: کیوں؟ ابھی عید آ ہی رہی ہے، تب دے دیں گے۔
بیوی: ارے نہیں بابا !! غریب ہے بیچاری، بیٹی اور نواسی کے پاس جا رہی ہے، تو اسے بھی اچھا لگے گا۔اور کچھ اپنی نواسی کے لئے بھی لے جائے گی۔ اس کی بیٹی اور نواسی بھی خوش ہوجائیں گی۔ویسے بھی اس مہنگائی کے دور میں اس کی تنخواہ سےکیا بنتا ہوگا۔ اپنوں کے پاس جا رہی ہے،کچھ ہاتھ میں ہوگا تو خوش رہے گی۔
Follow the page for more.
شوہر: تم تو ضرورت سے زیادہ ہی جذباتی ہو جاتی ہو میرا خیال اس کی ضرورت نہیں۔
بیوی: آپ فکر مت کریں میں آپ سے ایکسٹرا پیسے نہیں مانگو گی۔ میں آج کا پیزا کھانے کا پروگرام منسوخ کر دیتی ہوں۔خواہ مخواہ 500 روپے اڑ جائیں گے، اس موٹی روٹی پیزا کے آٹھ ٹکڑوں کے بدلے اس کی مدد مجھے بہتر لگتی ہے۔
شوہر: واہ، واہ بیگم صاحبہ آپ کے کیا کہنے !! ہمارے منہ سے پیزا چھین کر ماسی کی پلیٹ میں؟ چلو آپ کی محبت میں یہ بھی برداشت کئے لیتے ہیں۔
تین دن بعد
شوہر: (پونچھا لگاتی كام والی ماسی سے پوچھا) اماں کیسی رہی چھٹی؟
ماسی: صاحب بہت اچھی رہیں۔ مالکن جی نے پانچ سو روپے دیئے تھے بڑے کام آئے۔ اللہ سلامت رکھے اور اللہ آپ کو بہت زیادہ عطا کرے۔
شوہر: اماں 500 روپے کا کیا کیا لیا؟
ماسی: نواسی کے لئے 150روپے کی فراک لی اور 40روپے کی گڑیا، بیٹی کے لئے 50روپے کے پیڑے لے گئی تھی، 50 روپے کی جلیبیاں محلے میں بانٹ دیں' 60 روپے کرایہ لگ گیا تھا۔ 25 روپے کی چوڑیاں بیٹی کے لئے اور داماد کے لئے 50روپے کا بیلٹ لیا۔ باقی 75 روپے بچے تھے وہ بھی میں نے نواسی کو کاپی اور پنسل خریدنے کے لئے دے دئیے۔
جھاڑوپونچھا لگاتے ہوئےپوراحساب اس کی زبان پر رٹا ہوا تھا۔
شوہر: 500روپے میں اتنا کچھ ؟؟؟ وہ حیرت سے دل ہی دل میں غور کرنے لگا۔ اس کی آنکھوں کے سامنے آٹھ ٹکڑوں والا پیزا گھومنے لگا، وہ ان آٹھ ٹکڑوں کا موازنہ ماسی کے خرچ سے کرنے لگا۔ پہلا ٹکڑا بچے کی ڈریس کا، دوسرا ٹکڑا پیڑےکا، تیسرا ٹکڑا محلے کے لوگو ں کا' چوتھا کرایہ کا، پانچواں گڑیا کا، چھٹا ٹکڑا چوڑيوں کا، ساتواں داماد کی بیلٹ کا اور آٹھوا ں ٹکڑا بچی کی کاپی پنسل کا۔
آج تک اس نے ہمیشہ پیزا کا اوپر والا حصہ ہی دیکھا تھا، کبھی پلٹ كر نہیں دیکھا تھا کہ پیزا پیچھے سے کیسا لگتاہے۔ لیکن آج كا م والی ماسی نے پیزے کا دوسراحصہ دکھا دیا تھا۔ پیزے کے آٹھ ٹکڑے اسے زندگی کا مطلب سمجھا گئے تھے۔زندگی کے لئے خرچ یا خرچ کے لئے زندگی کا جدید مفہوم ایک جھٹکے میں اسے سمجھ میں آگیا۔ ہم ان چھوٹی چھوٹی باتوں پرکبھی غور ہی نہیں کرتے ہمارے لئے پانچ سو یا ہزار کی کوئی اہمیت بھی نہیں ہوتی لیکن یہ ہزار پانچ سو غریبوں کے لئے بڑی رقم ہوتے ہیں۔ اس لئے کبھی کبھی اپنی نہ محسوس ہونے والی چھوٹی چھوٹی خوشیاں کسی کے نام کرکے دیکھو آپ کو کیسے بڑی خوشی ملتی ہے۔
شاہ جی کا گھرانہ جب سے پڑوس میں آباد ھوا تھا محلے میں غیر محسوس انداز سے چند اچھی روایات کا پھر سے احیاء ھوا تھا ۔ لیکن اس میں سارا کمال ان کے چھوٹے سے کم سن برخودار زین کا تھا۔ وہ تقریبا" ہر روز کوئی نہ کوئی کھانے کی چیز یا سالن بھلے تھوڑی سی مقدار ہی میں صحیح لیکن ہمسائے میں بانٹنے آتا ۔ بڑی معصومیت سے پلیٹ پکڑاتے ھوئے کہتا ۔۔ " نانا جی نے بھیجا ھے " ہم شکریہ سے رکھ لیتے اور نانا جی کو سلام کا کہتے وہ فورا" وعلیکم السلام کہہ کر پلٹ جاتا۔ کبھی کسی کی ولادت کا ختم کبھی کسی کی شہادت کا ۔۔ ہم بڑوں تک کو معلوم نہ ھوتا لیکن متانت سے رکھ لیتے۔ کبھی ویسے ہی تحفتہ" کہ ہم نے بوٹی چاول بنائے تھے۔ آپ بھی لیں۔
بہت پیارا اور حسین سا معصوم چہرہ تھا لیکن ماں یا نانا کی تربیت بھی خوب تھی ۔ اب شرما شرمی اور بھی کچھ گھرانے ایک دوسرے کے ساتھ مل بانٹ کر کھانا شروع ھو گئے تھے ۔ اور بچے ہی نہی ہم بڑے بھی سلام کرنے میں پہل کرنے لگے تھے۔ لیکن ہم نے اس کے والد کے سواء کم ہی کسی کو دیکھا تھا۔ سید تھے تو پردہ تو سخت تھا ہی ۔ لیکن نانا جی بھی کبھی چھت یا گلی میں نظر نہ آئے ۔ چھت پر بھی وہی بچہ پرندوں کو دانہ دنکا ڈالتا نظر آتا۔
لیکن آج تو کمال ہی ھو گیا۔ میں چھوٹے شاہ جی سے پلیٹ پکڑ ہی رہا تھا کہ زلزلہ آگیا۔ زلزلہ شدید تھا ۔ میں اور باقی محلے دار تیزی سے باہر کو لپکے ۔ لیکن چھوٹے شاہ جی نے اچانک عجب حرکت کی۔ اس بچے نے بڑی زور سے زمین پر داہنا پاوں اٹھا مارا اور تحمکانہ لہجے میں گویا ھوا ۔
اے زمین مت کر !
دیکھتی نہیں ... ہم کھڑے تو ہیں ؟
زلزلہ تو خیر رک ہی گیا لیکن ہمیں ہنسی آگئی ۔ ہم سب نے ننھے زین کو گھیر لیا ۔ وہ گھر کو پلٹ رہا تھا۔ کہ میں نے پوچھا ۔ شاہ جی اگر یہ آپ کی بات نہ مانتی تو ؟
وہ بے نیازی سے بولا ۔ کیسے نہ مانتی !
میں نے کہا پھر بھی اگر نہ مانتی تو ؟
نہیں نانا جی نے بتایا ھے ایسا نہیں ھو سکتا ۔ عجب یقین و اطمنان تھا لہجے میں اور اک شان_ بے اعتنائی جو ہم بڑوں کو اب چبھ رہی تھی ۔
یار آج اپنے نانا جان سے تو ملواو ۔
ہیں ؟
اب وہ تیزی سے پلٹا تھا اور حیران ہماری جانب دیکھ رہا تھا
آپ لوگ نانا جان سے نہیں ملے ؟
عجب بے یقینی حیرت و اچھنبا تھا اس لہجے میں!
شیخ صاحب بولے یار ہمیں تو وہ کبھی باہر نظر ہی نہیں آئے ؟
آپ سب ان کو نہیں دیکھتے ؟
وہ حیران و پریشان ھو گیا تھا ۔ تاسف اور شدید درد تھا اس لہجے میں ۔
کیونکہ ہم سب یک زبان بولے تھے ۔ نہیں ۔
اچھا ۔۔ پھر آپ لوگ مدینہ منورہ ہی ھو آئیں ۔
ایک سنسنی کی لہر تھی جو میرے رگ و پے میں دوڑ گئی ۔۔۔
یہ زلزلہ نہیں بھونچال تھا جو میرے تقوی کے بت کے درپے ہے ۔ میں میں نہی رہا ۔
وہ ذات کا ہی نہیں کردار کا بھی سید نکل آیا تھا۔
پاکستانی ماوں کا پسندیدہ ترین مشغلہ: بچوں کا سر بنانا
جیسے ہی آپ ماں بنیں گی آپکی امی، ساس، خالہ، پھوپھو، تائی، چاچی اور ہر رشتہ دار خاتون آپکو ایک مشورہ ضرور دیگی اور وہ ہے بچے کا سر کیسے بنایا جائے۔
ان مشوروں میں بچے کے سر کو آگے پیچھے سے دبانا، بچے کے سر کے نیچے گتا، لکڑی، پلیٹ یا کوئی سخت چیز رکھنا۔ گردن کو اسطرح رکھنا کہ سر بالکل سیدھا رہے، خاص تکیوں کا استعمال، سر پر اینٹ رکھنا تک شامل ہیں۔
جو عورت سر بنانے میں بہت expert مانی جائے گی اور اپنی کامیابی کے قصے سناتی نظر آئیگی اسکے بچے(جو کہ اب بڑا ہو چکا ہوگا) کا سر ایک بار غور سے دیکھیں۔ اسکا سر پیچھے سے سیدھا ہو گا
سر کا اس طرح سیدھا ہوجانا Flat head syndrome کہلاتا ہے۔ جو کہ پاکستانی ماوں کے مطابق ایک achievement ہے۔ دراصل ایک abnormal کنڈیشن ہے۔ سر کی ایک سطح کو بالکل سیدھا کر دینا اور ہڈی کی ساخت کو تبدیل کر دینا سراسر غلط ہے۔ flat head syndrome کے بچوں میں
● باریکی کے کام (یعنی fine motor skills)
●زبان کا استعمال( یعنی Language development)
● فہم و فراست ( یعنی cognitive skills)
● جذباتیات (یعنی emotional intelligence)
میں کمی آسکتی ہے۔
سب میں نہیں ہوتا لیکن ایسا ہونا ممکن ہے اور ایسے بہت سے کیسز رپورٹ بھی ہوئے ہیں۔
تو پھر سر بنانے کیلئے کیا کرنا چاہیے؟؟
تو اسکا جواب ہے کہ بچے کو سکون سے جینے دیں۔ کچھ بھی مت کریں۔ بچے کو کبھی کروٹ اور کبھی سیدھا سلائیں سر کو ایک جگہ پہ fix نہ رکھیں تاکہ وہ کسی بھی جگہ سے flat نہ ہو جائے اور سر کی ہڈی کو اپنی اصلی شکل اختیار کرنے دیں جو کہ گول ہے۔
اور سر بنانے کا مشورہ دینے والوں کا مشورہ ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے نکال دیں۔
انسان کو کیسے پتہ چلے کہ اس کا دل بیمارہے؟اس سلسلہ میں حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ نے کچھ علامت بتائی ہیں-
💛 پہلی علامت: 💛
جب انسان فانی چیزوں کو باقی چیزوں پر ترجیح دینے لگے تو وہ سمجھ لے کہ میرا دل بیمار ہے ۔ مثلاً دنیا کا گھر اچھا لگتا ہے مگر آخرت کا گھر بنانے کی فکر نہیں ہے۔ دنیا میں عزت مل جائے مگر آخرت کی عزت یا ذلت کی سوچ دل میں نہیں۔ دنیا میں آسانیاں ملیں مگر آخرت کے عذاب کی پرواہ نہیں۔
💛 دوسری علامت: 💛
جب انسان رونا بند کردے تو وہ سمجھ لے کہ دل سخت ہوچکا ہے۔ کبھی کبھی انسان کی آنکھیں روتی ہیں اور کبھی کبھی انسان کا دل روتاہے۔ دل کا رونا آنکھوں کے رونے پر فضیلت رکھتاہے۔ یہ ضروری نہیں کہ انکھ سے پانی کا نکلنا ہی رونا کہلاتا ہے، بلکہ اللہ کے کئی بندے ایس بھی ہوتے ہیں کہ ان کےدل رو رہے ہوتے ہیں گویا ان کی آنکھوں سے پانی نہیں نکلتا مگر ان کا دل سے رونا اللہ تعالیٰ کے ہاں قبول ہو جاتاہے اور ان کی توبہ کے لئے قبولیت کے دروازے کھل جاتے ہیں تو دل اور آنکھوں میں سے کوئی نہ کوئی چیز ضرور روئے اور بعض کی تو دونوں چیزیں رورہی ہوتی ہیں۔آنکھیں بھی رو رہی ہوتی ہیں اور دل بھی رورہا ہوتاہے ۔
💛 تیسری علامت: 💛
مخلوق سے ملنے کی تو تمنا ہو لیکن اسے اللہ رب العزت سے ملنا یاد ہی نہ ہو تو سمجھ لے کہ یہ میرے دل کے لیے موت ہے ۔ لوگوں کے ایک دوسرے کے ساتھ ایسے تعلقات ہوتے ہیں کہ ان کے دل میں ایک دوسرے سے ملنے کی تمنا ہوتی ہے وہ اداس ہوتے ہیں اور انہیں انتظار ہوتاہے مگر اللہ کی ملاقات یاد ہی نہیں ہوتی۔
💛 چوتھی علامت: 💛
جب انسان کا نفس اللہ رب العزت کی یاد سے گھبرائے اور مخلوق کے ساتھ بیٹھنے سے خوش ہو تو وہ بھی دل کی موت کی پہچان ہے۔ اللہ کی یاد سے گھبرانے کا مطلب یہ ہے کہ جب انسان کا دل تسبیح پڑھنے اور مراقبہ کرنے سے گھبرائے۔ اس کے لیے مصلیٰ پربیٹھنا بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ ایک موٹا سا اصول سمجھ لو کہ اگر بندے کا اللہ کے ساتھ تعلق دیکھنا ہو تو اس کا مصلے پر بیٹھنا دیکھ لو۔ ذاکر شاغل بندہ مصلے پر اسی سکون کے ساتھ بیٹھتا ہے جس طرح بچہ ماں کی گود میں سکون کےساتھ بیٹھتا ہے اور جس کے دل میں کجی ہوتی ہے اس کے لیے مصلے پر بیٹھنا مصیبت ہوتی ہے وہ سلام پھیر کر مسجد سے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں۔ کئی تو ایسے ہوتے ہیں کہ
مسجد میں آنے کے لیے
ان کا دل آمادہ
ہی نہیں ہوتا.
"ﺍﺭﺩﻭ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮐﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ"
ﺟﺎﻧﻮﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﺑﭽﮧ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺑﭽﮧ ﮨﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ
مثلاً ﺳﺎﻧﭗ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ ،
ﺍﻟﻮ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ،
ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ،
ﻟﯿﮑﻦ ﺍﺭﺩﻭ ﻣﯿﮟ
ﺍﻥ ﮐﮯ لئے ﺟﺪﺍ ﺟﺪﺍ ﻟﻔﻆ
ﮨﯿﮟ ۔ ﻣﺜﻼً :
ﺑﮑﺮﯼ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﻣﯿﻤﻨﺎ
ﺑﮭﯿﮍ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﺑﺮّﮦ
ﮨﺎﺗﮭﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﭘﺎﭨﮭﺎ
ﺍﻟﻮّ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﭘﭩﮭﺎ
ﺑﻠﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ : ﺑﻠﻮﻧﮕﮍﮦ
ﺑﭽﮭﯾﺮﺍ : ﮔﮭﻮﮌﯼ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﮐﭩﮍﺍ : ﺑﮭﯿﻨﺲ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﭼﻮﺯﺍ : ﻣﺮﻏﯽ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺑﺮﻧﻮﭨﺎ : ﮨﺮﻥ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺳﻨﭙﻮﻻ : ﺳﺎﻧﭗ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﮔﮭﭩﯿﺎ : ﺳﻮﺭ ﮐﺎ ﺑﭽﮧ
ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡ ﺑﻌﺾ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻏﯿﺮ
ﺟﺎﻧﺪﺍﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ﮐﮯ لئے
ﺧﺎﺹ ﺍﻟﻔﺎﻅ ﻣﻘﺮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺟﻮ ﺍﺳﻢ ﺟﻤﻊ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺭﮐﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ؛
ﻣﺜﻼً :
ﻃﻠﺒﺎﺀ ﮐﯽ ﺟﻤﺎﻋﺖ،
پرﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ غول،
ﺑﮭﯿﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﮔﻠﮧ،
ﺑﮑﺮﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﺭﯾﻮﮌ،
ﮔﻮﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﻮﻧﺎ ،
ﻣﮑﮭﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﻠﮍ،
ﺗﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﮭرﻣﭧ ﯾﺎ ﺟﮭﻮﻣﮍ ،
ﺍٓﺩﻣﯿﻮں ﮐﯽ ﺑﮭﯿﮍ ،
ﺟﮩﺎﺯﻭﮞ ﮐﺎ ﺑﯿﮍﺍ ،
ﮨﺎﺗﮭﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﺍﺭ،
ﮐﺒﻮﺗﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﭨﮑﮍﯼ،
ﺑﺎﻧﺴﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﻨﮕﻞ ،
ﺩﺭﺧﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﮭﻨﮉ،
ﺍﻧﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﮐﻨﺞ ،
ﺑﺪﻣﻌﺎﺷﻮﮞ ﮐﯽ ﭨﻮﻟﯽ ،
ﺳﻮﺍﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺩﺳﺘﮧ،
ﺍﻧﮕﻮﺭ ﮐﺎ ﮔﭽﮭﺎ،
ﮐﯿﻠﻮﮞ ﮐﯽ ﮔﮩﻞ ،
ﺭﯾﺸﻢ ﮐﺎ ﻟﭽﮭﺎ،
ﻣﺰﺩﻭﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﺟﺘﮭﺎ،
ﻓﻮﺝ ﮐﺎ ﭘﺮّﺍ،
ﺭﻭﭨﯿﻮﮞ ﮐﯽﭨﮭﭙﯽ،
ﻟﮑﮍﯾﻮﮞ ﮐﺎ ﮔﭩﮭﺎ،
ﮐﺎﻏﺬﻭﮞ کی ﮔﮉﯼ،
ﺧﻄﻮﮞ ﮐﺎ ﻃﻮﻣﺎﺭ،
ﺑﺎﻟﻮﮞ ﮐﺎ ﮔُﭽﮭﺎ،
ﭘﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﮈﮬﻮﻟﯽ،
ﮐﻼﺑﺘﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﻨﺠﯽ ۔
ﺍﺭﺩﻭ ﮐﯽ ﻋﻈﻤﺖ ﮐﺎ ﺍﻧﺪﺍﺯﮦ ﺍﺱ ﺳﮯکیجئے ﮐﮧ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﻮﺭ ﮐﯽﺻﻮﺕ ﮐﮯ لئے ﻋﻠﯿﺤﺪﮦ ﻟﻔﻆ ﮨﮯ،
ﻣﺜﻼ :
ﺷﯿﺮ ﺩﮬﺎڑﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮨﺎﺗﮭﯽ ﭼﻨﮕﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﮭﻮﮌﺍ ﮨﻨﮩﻨﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﺪﮬﺎ ﮨﯿﭽﻮﮞ ﮨﯿﭽﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮐﺘﺎ ﺑﮭﻮﻧﮑﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﻠﯽ ﻣﯿﺎﺅﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ،
ﮔﺎﺋﮯ ﺭﺍﻧﺒﮭﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﺳﺎﻧﮉ ﮈﮐﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﮑﺮﯼ ﻣﻤﯿﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﻮﺋﻞﮐﻮﮐﺘﯽ ﮨﮯ ،
ﭼﮍﯾﺎ ﭼﻮﮞ ﭼﻮﮞ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﮐﻮﺍ ﮐﺎﺋﯿﮟ ﮐﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺗﺎﮨﮯ ،
ﮐﺒﻮﺗﺮ ﻏﭩﺮ ﻏﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﮑﮭﯽﺑﮭﻨﺒﮭﻨﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﺮﻏﯽ ککڑاتی ﮨﮯ،
ﺍﻟﻮ ﮨﻮﮐﺘﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﻮﺭ ﭼﻨﮕﮭﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻃﻮﻃﺎ ﺭﭦ ﻟﮕﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﻣﺮﻏﺎ ﮐﮑﮍﻭﮞ کوں ﮐﮑﮍﻭﮞ ﮐﻮﮞ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﭘﺮﻧﺪﮮ ﭼہچہاتے ﮨﯿﮟ ،
ﺍﻭﻧﭧ ﺑﻐﺒﻐﺎﺗﺎ ﮨﮯ،
ﺳﺎﻧﭗ ﭘﮭﻮﻧﮑﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﮔﻠﮩﺮﯼ ﭼﭧ ﭼﭩﺎﺗﯽ ﮨﮯ ،
ﻣﯿﻨﮉﮎ ٹرّﺍﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺟﮭﯿﻨﮕﺮ ﺟﮭﻨﮕﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ،
ﺑﻨﺪر ﮔﮭﮕﮭﯿﺎﺗﺎ ﮨﮯ ،
*ﮐﺌﯽ ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯﻭﮞ ﮐﮯ لئے ﻣﺨﺘﻠﻒ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﮨﯿﮟ*
ﻣﺜﻼ
ﺑﺎﺩﻝ ﮐﯽ ﮔﺮﺝ،
ﺑﺠﻠﯽ ﮐﯽ ﮐﮍﮎ ،
ﮨﻮﺍ ﮐﯽﺳﻨﺴﻨﺎﮨﭧ ،
ﺗﻮﭖ کی ﺩﻧﺎﺩﻥ ،
ﺻﺮﺍﺣﯽ ﮐﯽ ﮔﭧ ﮔﭧ ،
ﮔﮭﻮﮌﮮ کی ﭨﺎﭖ ،
ﺭﻭپیوں کی ﮐﮭﻨﮏ ،
ﺭﯾﻞ ﮐﯽ ﮔﮭﮍ ﮔﮭﮍ،
ﮔﻮﯾﻮﮞ کی ﺗﺎﺗﺎ ﺭﯼ ﺭﯼ،
ﻃﺒﻠﮯ کی ﺗﮭﺎﭖ،
ﻃﻨﺒﻮﺭﮮ ﮐﯽ ﺁﺱ،
گھڑی کی ٹک ٹک،
ﭼﮭﮑﮍﮮ ﮐﯽ ﭼﻮﮞ،
ﺍﻭﺭ
ﭼﮑﯽ کی ﮔﮭُﻤﺮ۔
*ﺍﻥ ﺍﺷﯿﺎﺀ ﮐﯽ ﺧﺼﻮﺻﯿﺖ ﮐﮯ لئے ﺍﻥ
ﺍﻟﻔﺎﻅ ﭘﺮ ﻏﻮﺭ ﮐﯿﺠﯿﮯ* :
ﻣﻮﺗﯽ ﮐﯽ ﺁﺏ ،
ﮐﻨﺪﻥ ﮐﯽ ﺩﻣﮏ،
ﮨﯿﺮے ﮐﯽ ﮈﻟﮏ ،
ﭼﺎﻧﺪﻧﯽ ﮐﯽ ﭼﻤﮏ ،
ﮔﮭﻨﮕﮭﺮﻭ ﮐﯽ ﭼﮭُﻦ ﭼﮭُﻦ ،
ﺩﮬﻮﭖ ﮐﺎ ﺗﮍﺍﻗﺎ ،
ﺑﻮ ﮐﯽ ﺑﮭﺒﮏ ،
ﻋﻄﺮ ﮐﯽ ﻟﭙﭧ ،
ﭘﮭﻮﻝ ﮐﯽ ﻣﮩﮏ ۔
ﻣﺴﮑﻦ ﮐﮯ ﻣﺘﻌﻠﻖ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﻟﻔﺎﻅ
ﺟﯿﺴﮯ
ﺑﺎﺭﺍﺕ ﮐﺎ ﻣﺤﻞ ،
ﺑﯿﮕﻤﻮﮞ کا ﺣﺮﻡ ،
ﺭﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﺎ ﺍﻧﻮﺍﺱ،
ﭘﻮﻟﯿﺲ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮎ ،
ﺭﺷﯽ ﮐﺎ ﺁﺷﺮﻡ ،
ﺻﻮﻓﯽ ﮐﺎ ﺣﺠﺮﮦ ،
ﻓﻘﯿﮧ ﮐﺎ ﺗﮑﯿﮧ ﯾﺎ ﮐﭩﯿﺎ ،
ﺑﮭﻠﮯ ﻣﺎﻧﺲ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ،
ﻏﺮﯾﺐ کا ﺟﮭﻮﻧﭙﮍﺍ ،
ﺑﮭﮍﻭﮞ ﮐﺎ ﭼﮭﺘﺎ ،
ﻟﻮﻣﮍﯼ کی ﺑﮭﭧ ،
ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﮐﺎ ﮔﮭﻮﻧﺴﻠﮧ ،
ﭼﻮﮨﮯ ﮐﺎ ﺑﻞ ،
ﺳﺎﻧﭗ ﮐﯽ ﺑﺎﻧﺒﯽ ،
ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﭼﮭﺎﻭﻧﯽ،
ﻣﻮﯾﺸﯽ ﮐﺎ ﮐﮭﮍﮎ ،
ﮔﮭﻮﮌﮮ ﮐﺎ ﺗﮭﺎﻥ
(اقتباس: ﺷﻮﺭﺵ ﮐﺎﺷﻤﯿﺮﯼ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ “ﻓﻦ ﺧﻄﺎﺑﺖ“ سے)
Azhar_Writes09 🖌📩
عشقیہ کہانی
پرانی بات ھے ۔ ابھی موبائل فون کا رواج نہیں ایا تھا ۔ یونیورسٹی کے ھاسٹل میں اس زمانے کی پی ٹی سی ایل کے دو فون تھے ۔ جب موقع ملتا ایسے ھی ادھر اُدھر کا نمبر ملاتے کہ شاید کسی مہوش سے بات ھو جائے ۔ ھمارے دو تین دوستوں کی اسی طرح دوستی ھو چکی تھی اور وہ اس بات پہ بہت نازاں تھے۔
کرنا خدا کا کیا ھوا کہ ایک دن حسبِ معمول کوششوں میں لگے ھوئے تھے کہ فون کی دوسری جانب ایک نفیس سی کھنکتی ھوئی زنانہ آواز ابھری ۔ پہلے تو ھمارے اپنے اوسان خطا ھو گئے لیکن اپنے آپ سے کہا ' برخوردار ایسا موقعہ پتہ نہیں پھر ملے نہ ملے ھمت نہیں ہارنی چاہیے ' چنانچہ تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے ھوئے اور شوٹ و شوٹ چلتی سانسوں کو کنٹرول کرتے ھوے السلام و علیکم کہا اور بہانہ بناتے ھوے کہا کہ امجد جیدی گھر پر ھے ۔ ساتھ ھی ساتھ دل میں دعا کی کہ خدا کرے اس نام کا کوئی شخص اس گھر میں نہ ھو ۔ دعا قبول ھوئی اور جواب ایا یہاں پر امجد جیدی نہیں رھتے ۔ اس پر ھم نے کہا شاید رانگ نمبر مل گیا ھے اور بات کو لمبا کرتے ھوئے کہا آپ کو خوامخواہ زحمت دی جس کے لئے معذرت خواہ ھیں ۔ بات کو مزید جاری رکھتے ھوئے نہایت شستہ انداز میں وضاحت کی کہ وہ ھمارہ کلاس فیلو ھے اور آج ھم نے مل کے اسائنمنٹ تیار کرنی تھی جس کیلیے اس نے یہاں ھاسٹل آنا تھا۔
دوسری طرف سے رس گھولتی آواز نے کہا کوئی بات نہیں ۔ اس پہ جلدی سے کہ مبادہ فون بند نہ کر دیا جائے ھم نے ھمت کر کے کہا کہ معلوم ھوتا ھے آپ بھی ھماری طرح سٹوڈنٹ ھیں ۔ اس پہ ھماری خوشی کی انتہا نہ رھی جب فون بند کرنے کی بجائے جواب آیا ھاں میں کالج میں پڑھتی ھوں۔ اب باقاعدہ گفتگو شروع ھو گئی ۔ ایک دوسرے کے سبجیکٹ پوچھے گئے ۔ پڑھائی کے معاملے میں پیش آنے والی مشکلات وغیرہ کا ذکر ھوا۔ چونکہ یونیورسٹی میں پڑھتے تھے اس لیئے مشکلات کے حل کیلیے ھم نے اپنی ممکنہ خدمات پیش کر دیں ۔ اس طرح یہ رانگ نمبر واقفیت میں بدل گیا اور پھر وقتا" فوقتا" فون آنے جانے لگ گئے ۔
فون پہ بات چیت کا یہ سلسلہ ھمارے دل میں گھر کرتا گیا اور آھستہ آھستہ اُنسیت میں تبدیل ھوتا گیا ۔ ملاقات کی تڑپ جاگ اٹھی۔ اس پر اپنے ایک جہان دیدہ کلاس فیلو سے مشورہ کیا تو پہلے پہل اس نے مذاق اڑایا کہ چیونٹی کے بھی پر نکل آئے ھیں۔ بعد میں مشورہ دیا کہ اب بلا جھجک ملاقات کی بات کر دی جائے اور اظہارِ محبت کیا جائے ۔ گذارش کی دیہاتی بندے ھیں گھبراہٹ ھوتی ھے ۔ کہا خط لکھ کے کہہ دو ۔
چنانچہ ھم نے ڈرتے ڈرتے ایک خط لکھا
" مجھے نہیں معلوم کہ فون پہ ھونے والی باتوں کا سلسلہ کب ایک کسک میں تبدیل ھوا اور دل میں آپ سے ملنے کی تمنا جاگ اٹھی ۔ کیا آپ اس صورتِ حال میں میری مدد کر سکیں گی "
خاطر خواہ اور مثبت جواب آیا اور کہا گیا کہ پہلے ھم ان کی گلی کا چکر لگائیں۔ وہ ھمیں دیکھنا چاہ رھی تھیں۔ اس پہ ھم کھل اٹھے ۔ مگر مسئلہ یہ ھوا کہ غربت کے مارے ھمارے پاس نہ تو ڈھنگ کے اور نہ ھی فیشنِ وقت کے کپڑے تھے اور نہ کوئی سواری ۔ اور ھم پہلا امپریشن خراب نہیں کرنا چاہتے تھے کیونکہ ھم نے کہہ رکھا تھا کہ ھم ایک وجیہ نوجوان ھیں جس کی شکل وحید مراد سے ملتی ھے اور اس کی طرح کے فیشن کرتے ھیں ۔
دوستوں سے منت کر کے ایک اچھی رنگین دھاریوں والی امپورٹڈ قمیض اور فیشنی جینز کی پینٹ لی۔ سواری کے سلسلے میں ایک دوست نے مہربانی کی اور اپنی موٹر سائکل دیدی لیکن چونکہ ھمیں چلانی نہیں آتی تھی اسی دوست سے عرض کیا کے وہ ھمیں وھاں لے جائے ۔ کچھ
رد و کد کے بعد ھماری حالت پہ ترس کھا کے راضی ھوگیا
پری وِش سے وقت اور دن طئے کیا۔ نشانی کے طور پر موٹر سائکل کا نمبر بھی بتا دیا تاکہ پہچاننے میں کوئی دقّت نہ ھو ۔
مقررہ دن کو مانگے کی رنگین قمیض اور بلیو جینز پہنی ۔ ایک دوست کے فیشنی گاگل آنکھوں پہ چڑھائے اور مانگے کی موٹر سائکل پہ ڈرائیور ( موٹر سائکل کے مالک ) کے پیچھے بیٹھ کر اس احتیاط کے ساتھ کوچہء جاناں کو چل دئے کہ اس کے کپڑے اور گیٹ اپ بالکل سادہ اور ھم سے کمتر ھو کیونکہ کوئی رسک نہیں لینا چاہتے تھے۔
حسینہ بالکونی میں کھڑی ھماری راہ دیکھ رھی تھی ۔ آسمانی رنگ کے سوٹ میں کسی اپسراء سے زیادہ خوبصورت لگ رھی تھی ۔ موٹر سائکل کو پہچان گئی چوری چھپے ھاتھ ھلایا ۔ ھم نے بھی جوابی ھاتھ ھلائے اور جب تک وہ نظر آتی رھی ھم ادھر اُدھر دیکھ کر گاھے گاھے ھاتھ ھلاتے گئے ۔
اپنی اس عظیم کامیابی پر بہت خوش ھاسٹل پہنچے تو رھا نہ گیا اور اسے فون کیا اور پوچھا کہ ھم اس کو کیسے لگے۔ اُس کی آواز میں بھی خوشی جھلک رھی تھی۔ چہک کر بولی
" آپ بہت اچھے اور پیارے لگ رھے تھے لیکن یہ باندر کون تھا جو آپ کے پیچھے بیٹھا تھا......
Azhar_Writes09
03/08/2024
چچا بشیر پیرس میں ایفل ٹاور کی سیر کر رہا تھا
کہ اچانک ایک خوبرو میم پر نظر پڑی،
بشیر اُس میم پر دل ہار بیٹھا۔
پریشانی تو یہ تھی کہ اب اس میم سے بات کیسے کرے سوائے پنجابی کے اس کو اور کوئی زبان بھی نہیں آتی تھی اچانک ایک ترکیب ذہن میں آئی،
کاغذ پر پینسل سے چائے کا کپ بنایا اور جا کر میم کو دکھایا...!!!!
میم نے دیکھا تو مُسکرا کے ساتھ چل دی ہوٹل میں بیٹھ کر بشیر نے پھر کاغذ پر کھانے کے برتن کی تصویر بنائی، میم کی طرف سے آفر قبول ہوئی، کھانے کا آرڈر دے دیا کھانے سے فارغ ہونے کے بعد میم نے بشیر سے پینسل کاغذ لیا اور ایک خوبصورت پلنگ کی تصویر بنا کر بشیر کے سامنے کی...!!!!
چاچا بشیر شرم سے پانی پانی ہوا جا رہا تھا
کہ اب کیا بولے میم کو،🤔🤔
آخِر ہمت کر کے ڈرتے ڈرتے میم سے
بولا تہانوں کِس طرح پتہ چلیا اے کہ
میں فرنیچر دا کم کردا واں🤔🤔
کیا اپ بھی وہی سوچ رہے جو بشیر چچا سوچ رہاتھا🤔 ؟
😳🙈🙈😂😂
کسی اور بشیرا سے اس واقعے کی مماثلت اتفاقیہ ہوسکتی ہے۔۔۔۔۔🙃
02/08/2024
Independent Dreams 😳😳😂
02/08/2024
لیلیٰ مجنوں کی اصل کہانی
لیلیٰ مجنوں کا قصہ کیا تھا۔یہ ایک عربی داستان ہے۔اس کے کرداروں کو تاريخی طور پر ثابت مانا جاتا ھے۔لیلیٰ مجنوں دو حقیقی عاشق تھے ۔صدیوں تک اس میں بہت کچھ افسانہ طرازی کی گئی۔عربی سے فارسی میں اس کو پہلے پہل "رودکی" نے منتقل کیا۔اس کے بعد نظامی گنجوی نے اس کو فارسی میں لکھا۔اب تک ہزار سے زاہد مرتبہ اس داستان کو مختلف زبانوں میں، مختلف لوگ نثر و نظم میں لکھ چکے ہیں۔سب سے زیادہ مقبولیت و اہمیت نظامی گنجوی کیمجنوں کا اصل نام ، قیس ابن الملوح ابن مزاحم ہے۔مجنوں لغوی طور پر پاگل، دیوانے اور عاشق کو کہتے ہیں۔لیلیٰ کا نام لیلیٰ بنت مہدی ابن سعد بیان کیا جاتا ہے۔عربی و عبرانی میں لیلیٰ یا لیلہ رات کے لیے بولا جاتا ہے۔عربی میں لیلیٰ مجنوں کی بجائے مجنون لیلیٰ بولا جاتا ہے۔ترکی میں ایک اسم صفت لیلیٰ کی طرح سے مراد محبت کی وجہ سے پاگل، جنونی کے لیے بولا جاتا ہے۔محققین نے لیلیٰ کے عربی لیلیٰ )رات( سے اس کے معنی سانولی رنگت بھی لیا ہے۔کئی مصنفین نے اپنے قصے میں لیلیٰ کو سانولی صورت والی بنا کر پیش کیا ہے۔ مشہور ہے کہ لیلیٰ کالی یعنی سیاہ رنگت والی تھی۔لیکن اگر لیلیٰ کو عربی النسل بیان کیا جاتا ہے تو اس طرح لیلیٰ کا کالا ہونا ایک خلاف واقعہ بات ہوگی۔بچپن میں قیس اور لیلیٰ دونوں اپنے قبیلے کی بکریاں چراتے تھے۔وہ ساتھ بیٹھتے اور آپس میں باتیں کرتے۔ اس دوران انھیں ایک دوسرے سے محبت ہو گئی نظامی گنجوی کے قصے لیلیٰ مجنوں کے مطابق لیلیٰ اور مجنوں بچپن میں ایک ہی مدرسے میں پڑھنےجاتے تھے،ان میں باہمی الفت پیدا ہوئی۔ مجنوں کی توجہ تعلیم کی بجائے لیلیٰ کی طرف رہتی، جس پر استاد سے اسے سزا ملتی،مگر استاد کی چھڑی مجنوں کے ہاتھوں پر پڑتی اور درد لیلیٰ کو ہوتا۔استاد نے یہ بات لیلیٰ و مجنوں کے گھر والوں کو بتائی، جس پرلیلیٰ کے مدرسے جانے اور گھر سے نکلنے پر پابندی لگ گی۔ایک دن پھر مجنوں کی نظر لیلیٰ پر پڑ گی، اور بچن کا عشق تازہ ہو گيا۔ مجنوں نے لیلیٰ کا ہاتھ مانگا، مگر لیلیٰ کے باپ نے انکار کردیا۔لیلیٰ کا بھائی تبریزمجنوں کو مارنے کی کوشش کرتا ہے۔ مکر مجنوں اس کو قتل کر دیتا ہے۔ جس پر مجنوں کوسرے عام محبت کا اظہارکرنے اورلیلی کے بھائی کو مارنے پر سنگسار کرنے کی سزا سنائی گئی۔کچھ کہانیوں میں تبریز کے قتل کا قصہ نہیں ہے بلکہ، رشتہ دینے سے انکار کیا جاتا ہے اور کچھ عرصہ بعد لیلیٰ کی شادی کسی دوسرے کے ساتھ کر دی جاتی ہے۔ جس پر قیس، پاگل سا ہوجاتا ہے۔جامعہ ازہر شعبہ اردو کے سربراہ ڈاکٹر ابراہیم محمد ابراہیم المصری لکھتے ہیں کہ لیلیٰ مجنوں کی شدید عشق و محبت کی کہانی کوئی فرضی داستان نہیں ہے جیسا کہ ڈاکٹر طحہٰ حسین نے خیال ظاہر کیا ہے۔ یہ پہلی صدی ہجری کا سچا واقعہ ہے جو عرب کے نجد کے علاقے میں رونما ہوا اور لازوال بن گیا۔مجنوں ایک مالدار نجدی قبیلے بنو عامر کے سردار کا بیٹا تھا۔ وہایک گوراچٹا، خوب صورت اور خوش گفتار نوجوان تھا۔ شاعر تھاقیس نے لیلی کے اوپر شاعری کرتے ھوے ایک جگہ لکھا ھے۔ترجمہ۔’’وہ ایک چاند ہے جو ایک سرد رات میں آسمان کے وسط میں چمک رہا ہے، وہ نہایت حسین ہے۔ اس کی آنکھیں اس قدر سیاہ ہیں کہ انھیں سرمے کی ضرورت نہیں۔قیس کے والدیں اپنے خاندان کے ساتھ لیلیٰ کے والد کے پاس گئےاور لیلیٰ کا رشتہ مانگا۔ لیلیٰ کے ماں باپ کو داغ بدنامی گوارا نہ ہوا اور انھوں نے رشتہ دینے سے انکار کر دیا۔اس دوران قبیلہ ثقیف کے ایک نوجوان نے بھی جس کا نام ورد تھا، لیلیٰ کو شادی کا پیغام دیا۔ لیلیٰ کے والدین نے یہ رشتہ قبول کر لیا۔قیس اس قدر مضطرب ھوا کہ وہ بیمار ہو گیا۔ اس کے والدین نے چاہا کہ وہ اپنے قبیلے کی کسی اور خوبصورت لڑکی سے شادی کر لے مگر اب قیس لیلیٰ کی محبت میں اتنی دور نگل گیا تھا کہ واپسی ممکن نہ تھی۔رفتہ رفتہ قیس کی حالت ایسی ہو گئی کہ اسے اپنے تن بدن کا ہوش نہ رہا۔لوگوں نے قیس کے باپ کو مشورہ دیا کہ وہ اسے مکہ لے جائےاور بیت اللہ کی پناہ میں دعا مانگے۔قیس کا باپ الملوح اسے لے کر مکہ گیا اور حرم شریف میں اس سے کہا کہ غلاف کعبہ سے لپٹ کر لیلیٰ اور اس کی محبت سے نجات کی دعا مانگے۔اس کے جواب میں جب قیس نے یہ دعا مانگی کہاے اللہ! مجھے لیلیٰ اور اس کی قربت عطا فرما تو الملوح قیس کو واپس لے آئے۔راستے میں اس نے ایک جگہ پہاڑی پر اپنے آپ کو گرانے کی بھی کوشش کی مگر لوگوں نے پکڑ لیا۔اپنے قبیلے میں واپس پہنچ کر قیس کا باپ ایک بار پھر لیلیٰ کے باپ کے پاس گیا تا کہ اسے لیلیٰ کی اپنے بیٹے سے شادی پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے،مگر پھر انکار ھو گیا۔لیلیٰ کی شادی اس دوسرے لڑکے سے کر دی گئی جس کا پیام آیا تھا۔ لیلیٰ خود بھی قیس کی محبت میں گرفتار تھی مگر خاندان کی نیک نامی اور والدین کی اطاعت سے مجبور تھی۔قیس کو یہ معلوم ہوا کہ لیلیٰ کی شادی ہو گئی ہے تو اس پر قیامت ٹوٹ پڑی۔اس کا ذہنی توازن بگڑ گیا۔ وہ اپنے وجود کو بھول گیا۔گوشہ نشین ہو گیا اور پھر ایک دن صحرا میں نکل گیا۔لیلیٰ کو آوازیں دیتا، پہاڑوں، درختوں، جنگلی جانوروں سے پوچھتا لیلیٰ کہاں ہے۔اسی حال میں ایک دن اس کی نظر ایک ہرنی پر پڑی۔ وہ اس کے پیچھے ہو لیا اور نگاہوں سے اوجھل ہو گیا۔اس کے گھر والے صحرا میں اسے ڈھونڈتے رہے۔چوتھے دن وہ انھیں ایک پتھریلی وادی میں ریت پر مردہ پڑا ملا.روایات کے مطابق لیلیٰ بھی شاعرہ تھی اور یہی چیز ہے جس نے اس محبت بھرے قصے کو ایک المیہ بنا دیا جس کے لیے دل اور آنکھیں روتے ھیں۔یہ ممکن تھا کہ یہ محبت شادی کے ذریعے ان کے اجتماع پر منتجہوتی اور خوشیوں بھری زندگی انھیں حاصل ہوتی۔مگر تقدیر کے آگے تدبیر کا کہاں بس چلتا ھے۔انسانی عشق کا یہ قصہ عشق الٰہی تک پہنچانے کا ذریعہ بن گیا۔امیر خسرو نے اس واقعہ کہ 1299ع میں کتابی شکل دی اور جامی نے 1484ع میں لیلی مجنوں پر 3860 صفحوں کی کتاب لکھی۔شیرازی جیسے بڑے فارسی شاعر نے اس قصے کو 1520ع میں لکھا۔بلھے شاہؒ فرماتے ھیں۔
کیتا سوال میاں مجنوں نوں تیری لیلا رنگ دی کالی اے
دتا جواب میاں مجنوں نےتیری انکھ نہ ویکھن والی اے
قرآن پاک دے ورق چٹےاتے لکھی سیاہی کالی اے
چھڈ وے بلھیا دل دے چھڈیاتے کی گوری تے کی کالی اے
خلاصہ ترجمہ۔ کسی نے مجنوں سے کہا تیری لیلی تو رنگ کی کالی ھے۔ مجنوں نے جواب دیا۔ تیری آنکھ دیکھنے والی نھیں۔ قران پاک کے سفید کاغذوں پہ کالی سیاھی سے لکھا ھوا ھے۔دل کے سودے میں کالی اور گوری کوی معنی نھیں رکھتے-
30/07/2024
1972ء میں سامراء شہر میں فون کے کارکن تاریں بچھانے کے لئے کھدائی کر رہے تھے کہ اچانک انہیں رخام کی ایک مربع شکل کی تختی ملی، جو نکالنے کے دوران کچھ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوئی۔ اسے بغداد کے قومی عجائب گھر لایا گیا، جہاں اس کی لیبارٹری میں مرمت کی گئی۔ مرمت کے بعد انکشاف ہوا کہ یہ ایک شمسی گھڑی ہے۔
یہ تختی تقریباً مربع شکل کی ہے، جس کی لمبائی 80 سینٹی میٹر اور چوڑائی 76 سینٹی میٹر ہے۔ تختی کے اوپری حصے میں "صنعة علی بن عیسیٰ" لکھا ہوا ہے۔ اس گھڑی کی تقسیمات میں دن کے بارہ گھنٹے شامل ہیں۔ بائیں کنارے سے صبح کا پہلا گھنٹہ شروع ہوتا ہے اور دوپہر کے وقت چھٹے گھنٹے پر پہنچ کر ختم ہوتا ہے۔ پھر زوال کا آغاز ہوتا ہے اور سایہ بتدریج بڑھتا جاتا ہے یہاں تک کہ عصر کا وقت آجاتا ہے۔ جب سورج غروب ہوتا ہے تو دن کا اختتام ہوتا ہے، اور اس وقت گھڑی پر بارہ بجتے ہیں یعنی مغرب کا وقت۔
آج بھی یہ طریقہ نماز کے اوقات مقرر کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ سامراء کی اس گھڑی کی تاریخ کا اندازہ اس کے صانع علی بن عیسیٰ سے ہوتا ہے، جو نویں صدی عیسوی کے وسط میں سامراء میں رہتا تھا۔ لہٰذا، یہ اپنی نوعیت کی قدیم ترین گھڑی ہے جو اسلامی دور کی ہے اور سامراء میں دریافت ہوئی ہے جس پر صانع کا نام بھی موجود ہے۔ اس لئے یہ اسلامی دور کی مشرقی تہذیب کی ایک شان دار علامت سمجھی جاتی ہے
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Satellite Town , Main City
Sargodha
40100