New Christian Singer
God bless you my name is Arvin john.from Pakistan
پاکستان میں نئی ایپ چھا گئی ۔اس پر جتنی زیادہ رقم لگاو گئے اتنا ہی زیادہ فائدہ زیادہ ھو گا۔کم سے کم 560 روپے لگا کر اپنا اکاونٹ بناو۔میرا ریفرل کوڈ لگاو۔https://licrown.ai/auth/sign-up?ref=AYES5074
11/10/2025
ایک ماں اور بھائی آپنی ہی بیٹی اور بہن کے جسم کو لوگوں کے آگے پیش کر رھے ھے۔۔جہاز گراؤنڈ ساہیوال میں ایک اپنی سگی بیٹی کو 500/1000 کے لیے لوگوں کے سامنے پیش کر رھی ھے۔یہ ھے قیامت کوئی اس کا سہارا نہیں بنتا اس کے رشتے دار اس کو برا کہتے ھے لیکن وجہ نہیں پوچھتے۔۔۔میں عوام سے پوچھتے ھو۔ ایسی ماں کا کیا ھونا چاہیے ۔اس کا بھائی اس کے لیے مال دار بندے تلاش کرتا ھے۔۔محلے دار سب جانتے ھے جب ان سے بات کرتے ھے تو لڑتے ھے۔۔سمجھ نہیں آتی آگے کیا لکھو۔بس دعا کرو اس لڑکی کو کوئی سہارا مل جائے
25/09/2025
1970 کی دہائی کا افغانستان۔ وہ وقت جب کابل کو "ایشیا کا پیرس کہا جاتا تھا۔
اُس دور میں خواتین یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کرتی تھیں، دفاتر میں کام کرتی تھیں اور اپنی مرضی سے لباس پہن سکتی تھیں۔ گلیوں میں موسیقی کی آوازیں گونجتی تھیں، سنیما گھر آباد تھے، اور نوجوان روشن مستقبل کے خواب دیکھتے تھے۔ لیکن پچھلے 59 برسوں میں افغانستان نے جو سیاسی اور مذہبی طوفان جھیلے، انہوں نے ملک کی شناخت کو یکسر بدل کر رکھ دیا۔
1973 میں بادشاہ ظاہر شاہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا اور افغانستان میں جمہوریہ قائم ہوئی۔ اس کے بعد اقتدار کی کھینچا تانی شروع ہوئی جس نے ملک کو سیاسی عدم استحکام میں دھکیل دیا۔ 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا جس نے ایک طویل اور خونریز جنگ کو جنم دیا۔ لاکھوں افغان شہید ہوئے، مہاجر بنے اور پورا معاشرہ ہجرت، غربت اور تشدد کا شکار ہوا۔ اس دور میں مذہب کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا اور جہاد کے نام پر نئی نسل کو ہتھیار اُٹھانے پر مجبور کیا گیا۔
1990 کی دہائی میں سوویت انخلا کے بعد خانہ جنگی نے ملک کو مزید تباہ کر دیا۔ مختلف گروہوں نے کابل پر قبضے کے لیے جنگ لڑی اور ملک ٹکڑوں میں بٹ گیا۔ اسی دوران طالبان کا عروج ہوا جنہوں نے سخت مذہبی قوانین نافذ کیے، خواتین کی تعلیم پر پابندی لگائی، موسیقی اور فنون لطیفہ پر پابندی لگا دی۔
2001 میں امریکا اور اتحادی افواج کی مداخلت نے طالبان کو ہٹا تو دیا لیکن امن قائم نہ ہو سکا۔ اگلے دو دہائیوں تک جنگ، خودکش حملے اور سیاسی عدم استحکام افغانستان کا مقدر بنے رہے۔ آخرکار 2021 میں طالبان دوبارہ برسرِاقتدار آئے اور ایک بار پھر خواتین کے حقوق کو اسلامی طرز عمل پر محدود کر دیا گیا۔ مغربی سکالرز کے مطابق تعلیمی ادارے بند ہوئے اور معاشرہ خوف میں جکڑ گیا۔
19/08/2025
جسم فروشی۔روٹی سے شروع پھر عادت۔
سچی کہانی۔۔اس کو ضرور پڑھے اور شعر کرے۔پلیز
آج جو کہانی سنانے لگا ھو حقیقت پر مبنی ھے۔۔آج سے پندرہ ماہ یعنی ڈیڑھ سال پہلے میرا آپریشن ھوا ۔ایک شام میں سیر کرنے نکلا کیونکہ آپریشن کے بعد میرا چلانا ضروری تھا۔میں سیر کر رھا تھا مجھے ایک لڑکے کی آواز آئی۔میں رکا اور اس سے ملا میں نے اس کو پہچانا۔ ہیں اس نے اپنا تعارف کروایا یہ میرے دوست کا بیٹا تھا ۔میرادوست فوت ھو چکا تھا ۔خیر اس نے مجھے بولا چاچو آپ گھر آنا اس نے مجھ سے میرا فون نمبر بھی لیا۔۔دو دن بعد اس کا فون آیا کہ آپ آئے نہیں۔میں نے بولا یار میں آتا ھو۔ ۔لیکن مجھ سے جا نا ھوا۔۔دوسرے دن اس کی بہن کا فون آیا کہ آپ آئے نہیں ۔میں نے بولا آتا ھو۔ خیر اس کے دو دن بعد پھر فون آیا میں ان کے گھر چلا گیا۔جب گھر کیا تو ان کی بہت بری حالت تھی کیونکہ ان کے باپ کے ھوتے بہت اچھا گھر تھا۔خیر ان سے حا پوچھا ان لوگوں نے بتایا کہ بہت برے حالات ھے۔کافی بیک کے اور سود کے پیسے دینے تھے۔تھوڈی دیر بعد میں ا گیا۔۔پھر مجھے باہر سے معلوم ھوا کہ اس گھر کی لڑکی دھندا کرتی ھے اور اس کی ماں ۔بھائج اور شوہر مل کر لڑکی سے دھندا کرواتے ھے۔میں پریشان ھوا کیونکہ ان کا باپ اچھا آدمی تھا شہر میں سے کا ۔ام تھا۔۔خیر ایک دن میں ان کی لڑکی کو ایک نجمہ نامی عورت کے ڈیرے سے لے کر آیا اور اس کے بھائی اور ماں اور شوہر سے پوچھا کہ یہ کیا ھو رھا ھے۔تم لوگوں کو شرم نہیں آتی ۔ایک 24 سالہ لڑکی جس کی زندگی برباد ھو رھی ھے تمہاری وجہ سے تو ماں بھائی شوہر نے سارا الزام لڑکی پر لگا دیا کہ یہ خود دھندا کرتی ھے۔خیر سب معلوم کرنے کے بعد پتا چلا کہ لڑکی روٹی کی وجہ سے یہ کام کرنے لگی کیونکہ اس کے دو بچے تھے جن کو ایک ماں کبھی بھوگا نہیں دیکھ سکتی۔اور دھندا ماں بھائی شوہر مل کر کرواتے تھے۔اسی دروان اس کا شوہر اس کو چھوڑ کر چلا گیا۔پھر اس لڑکی کو میں نے بولا تیرا سارا قرض میں دے دونگا اور میں نے دیا بھی بیک کا اور سود کا قرض۔۔جب کے اس دوران میں نے بہت الزام سہے اپنوں سے بھی اور باہر والوں سے بھی ۔یہ الزام ابھی تک چل رھے ھے۔خیر اس کو میں نے سمجھایا کہ اب ایسا کام مت کرنا۔چند دن پہلے مجھے پتا چلا کہ یہ لڑکی پھر دھندا کر رھی ھے۔۔آج میں نے اس کو سمجھایا لیکن وہ آگے سے مجھ پر برس پڑی۔کہ میں ایسی ہی ھوں اور دھندا ہی کرونگی۔۔میں حیران ھوا کہ آج اس کا رویہ بدلا ھوا تھا۔۔خیر میں واپس آ گیا اور ایک بات سیکھی کہ کبھی کسی سے نیکی نا کرو اگر کرو تو اس کے شر سے بچو۔۔دوسری بات یہ دھندا روٹی سے شروع ھوا تھا اور آج اس لڑکی کی عادت بن گیا۔یہ لڑکی اس کام سے کبھی باز نہیں آ سکتی۔۔کیقنکہ اس کو عادت پڑ گئی اور اس کی ماں بھائی کبھی نہیں چاہتے کہ یہ دھندا چوڑے کیونکہ لڑکی کے دھندا کرنے سے ان کا پیٹ پالتا ھے۔۔روٹی اور ضرورت نے ان کو مجبور کر دیا ھے۔۔خدا ایسے لوگوں کو پیٹ بھر روٹی دے اور ساتھ ماں باپ بھائی اچھے اور غیرت مند دے۔۔ورنہ اس لڑکی جیسی معصوم دھندا ہی کرنے پر مجبور ھو جاتی ھے
29/07/2025
Hello Beautiful People 😍😘
22/06/2025
Zindgi....
20/09/2024
With Arvin Sahotra – I just made it onto their weekly engagement list by being one of their top engagers! 🎉
20/09/2024
I've received 300 reactions to my posts in the past 30 days. Thanks for your support. 🙏🤗🎉
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Street 2
Sahiwal
57000