BNN

BNN

Share

BNN (Balochistan News Network) is a digital news platform based in Balochistan Pakistan. Our mission is to inform the public highligh www.bnnbalochistan.com

We deliver breaking news reports and stories from across Balochistan with accuracy credibility, and professionalism.

10/06/2026

ہزار ہزار روپے بانٹنے کی باری آئی تو کچھ صحافیوں کی جیبیں بھر دی گئیں، لیکن جب ایک صحافی نے اپنا حق مانگا تو اسے دھکے دے کر باہر نکال دیا گیا

10/06/2026

محمد آصف آج اپنے بچوں کے پاس چلا گیا

10/06/2026

کوئٹہ: پرائیویٹ ہسپتالوں میں OPD مفت ہو گئی

10/06/2026

بی بی شہیدکی حکومت نے ملازمین کے ساتھ وحشیانہ رویہ رکھا ہے

10/06/2026

میں نے اپنی بیٹی کو سرخ جوڑے میں رخصت کیا تھا، لیکن وہ کفن میں واپس آئی۔

10/06/2026

ساڑھے چار ارب کا سامان جلا دیا گیا، مگر سوال اب بھی زندہ ہے: اسمگلنگ ختم ہوئی یا صرف مال؟

تحریر | سید زادہ عبدالوکیل

کوئٹہ میں پاکستان کسٹمز کی جانب سے تقریباً ساڑھے چار ارب روپے مالیت کے ضبط شدہ غیر ملکی اور ممنوعہ سامان کو نذرِ آتش کرنے کی کارروائی کو حکام ایک بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں، مگر اس کے ساتھ کئی اہم سوالات بھی جنم لے رہے ہیں۔

64 ٹرکوں پر مشتمل سامان کو سخت سکیورٹی میں تلفی کے مقام تک پہنچایا گیا، آگ لگا دی گئی، تصاویر بن گئیں، بیانات جاری ہو گئے اور کامیابی کے دعوے بھی سامنے آ گئے۔ لیکن اصل سوال یہ ہے کہ اگر ہر ماہ اربوں روپے کا اسمگل شدہ سامان پکڑا اور جلایا جا رہا ہے تو پھر اسمگلنگ کا نیٹ ورک آخر اتنا مضبوط کیوں ہے؟

بلوچستان گزشتہ کئی دہائیوں سے اسمگلنگ کے اہم راستوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ سرحدی علاقوں سے غیر قانونی تجارت کے خلاف بے شمار آپریشنز، اعلانات اور مہمات چلائی گئیں، لیکن زمینی حقائق آج بھی وہی سوال پوچھ رہے ہیں: کیا اسمگلنگ رک رہی ہے یا صرف پکڑے جانے والے سامان کی مقدار بڑھ رہی ہے؟

حکام کا کہنا ہے کہ سامان تلف کرنے سے غیر قانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہوگی، مگر ناقدین کا مؤقف ہے کہ اصل کامیابی سامان جلانے میں نہیں بلکہ اسمگلنگ کے پورے نیٹ ورک کو توڑنے میں ہے۔ جب تک سپلائی چین، سہولت کار اور مالی مفادات کے مراکز قانون کی گرفت میں نہیں آتے، اربوں روپے کا سامان جلانے کے باوجود مسئلہ اپنی جگہ برقرار رہ سکتا ہے۔

یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جس سامان کو آج جلایا گیا، وہ کبھی نہ کبھی سرحد پار کر کے ملک کے اندر پہنچا تھا۔ سوال یہ ہے کہ وہ راستے کہاں ہیں جن سے یہ سامان گزرا؟ وہ حلقے کون ہیں جنہوں نے اس تجارت کو ممکن بنایا؟ اور ان کے خلاف کیا کارروائی ہوئی؟

عوامی حلقوں میں یہ سوال بھی زیر بحث ہے کہ اگر ہر ماہ اربوں روپے مالیت کا سامان تلف کیا جائے گا تو کیا یہ اس بات کا اعتراف نہیں کہ اسمگلنگ کا حجم اب بھی انتہائی وسیع ہے؟

بلاشبہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں اہم ہیں، لیکن بلوچستان کے عوام صرف جلتے ہوئے سامان کی تصاویر نہیں بلکہ اسمگلنگ کے مستقل خاتمے کے نتائج دیکھنا چاہتے ہیں۔ کیونکہ اصل کامیابی آگ لگانے میں نہیں، بلکہ اس نظام کو ختم کرنے میں ہے جو اربوں روپے کا غیر قانونی سامان ملک کے اندر پہنچانے کی صلاحیت رکھتا ہے

10/06/2026

بندوق بردار آئے، ٹرک جلائے اور پیچھے چھوڑ گئے تباہی کی داستان

رپورٹ | سید زادہ عبدالوکیل

مستونگ، نوشکی، چاغی اور بلوچستان کے دیگر علاقوں میں معدنیات سے لدے ٹرکوں کو نذرِ آتش کیے جانے کے واقعات ایک بار پھر صوبے کی سکیورٹی، معیشت اور روزگار کے حوالے سے سنگین سوالات کھڑے کر رہے ہیں۔ بظاہر جلنے والی گاڑیاں چند ٹرک دکھائی دیتی ہیں، مگر حقیقت میں ان شعلوں کی لپیٹ میں ہزاروں خاندانوں کا روزگار، مقامی تجارت اور بلوچستان کی کمزور معیشت بھی آ رہی ہے۔

گزشتہ کئی برسوں سے بلوچستان میں مختلف شاہراہیں اور معدنیات کی ترسیل کے راستے حملوں کی زد میں رہے ہیں۔ حالیہ ہفتوں کے دوران مستونگ، نوشکی اور چاغی میں متعدد ٹرکوں کو آگ لگائے جانے کے واقعات نے ٹرانسپورٹرز اور کاروباری حلقوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے۔

بلوچستان پاکستان کا سب سے بڑا صوبہ ہے اور معدنی وسائل کے اعتبار سے ملک کی ریڑھ کی ہڈی سمجھا جاتا ہے۔ ریکوڈک سے لے کر سیندک، کوئلے کی کانوں سے لے کر کرومائیٹ اور دیگر معدنی ذخائر تک، صوبہ اربوں روپے کی معاشی سرگرمیوں کا مرکز ہے۔ ان معدنیات کی ترسیل کے لیے روزانہ سینکڑوں گاڑیاں بلوچستان کی شاہراہوں پر سفر کرتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق ایک ہیوی ٹرک کی مالیت کروڑوں روپے تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس میں موجود معدنیات، ایندھن اور دیگر سامان کو شامل کیا جائے تو نقصان کی مقدار مزید بڑھ جاتی ہے۔ ایک گاڑی کے جلنے کا اثر صرف مالک تک محدود نہیں رہتا بلکہ ڈرائیور، کلینر، لوڈر، ورکشاپ مالکان، فیول اسٹیشنز اور درجنوں دیگر افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔

حالیہ حملوں کے بعد متعدد ٹرانسپورٹرز نے بعض علاقوں میں گاڑیاں بھیجنے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو معدنیات کی ترسیل، سرمایہ کاری اور کاروباری سرگرمیوں پر دور رس منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جب ایک ٹرک جلتا ہے تو اس کا نقصان کون برداشت کرتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں زیادہ تر مال بردار گاڑیاں مکمل انشورنس کے بغیر چلتی ہیں۔ ایسے میں گاڑی جلنے کی صورت میں اکثر نقصان براہِ راست مالک اور اس کے خاندان کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔ حکومتی سطح پر بعض اوقات امدادی پیکجز یا اعلانات تو سامنے آتے ہیں، مگر متاثرین کا مؤقف ہے کہ ان نقصانات کا مکمل ازالہ ش*ذ و نادر ہی ہو پاتا ہے۔

دوسری جانب بلوچستان پہلے ہی بے روزگاری، غربت اور ترقیاتی مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں معدنیات کی ترسیل پر حملے نہ صرف کاروباری سرگرمیوں کو متاثر کرتے ہیں بلکہ ان ہزاروں مزدوروں کے مستقبل کو بھی غیر یقینی بنا دیتے ہیں جن کا روزگار براہِ راست اس شعبے سے وابستہ ہے۔

جلتے ہوئے ٹرک شاید چند گھنٹوں میں راکھ بن جاتے ہیں، لیکن ان کے اثرات مہینوں اور بعض اوقات برسوں تک محسوس کیے جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بلوچستان میں حالیہ حملوں کو صرف سکیورٹی کا مسئلہ نہیں بلکہ ایک معاشی بحران کے طور پر بھی دیکھا جا رہا ہے۔

آخر سوال وہی ہے جو ہر حملے کے بعد مزید اہم ہو جاتا ہے: اگر بلوچستان کی شاہراہوں پر ٹرک جلتے رہے تو سب سے بڑا نقصان کس کا ہوگا؟ شاید جواب وہی عام مزدور، ڈرائیور اور خاندان ہیں جو پہلے ہی معاشی مشکلات کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں۔

10/06/2026

ڈاکٹرز عوام کے لئے سرافہ احتجاج ہیں ینگ ڈاکٹرز ایسوسی ایشن

10/06/2026

سرکار کے ہاتھ سے بلوچستان نکل چکا صرف ریڈ زون باقی ہے لشکری رئیسانی

09/06/2026

ایف سی نے نصراللہ اچکزئی کو قتل کردیا خاندانی زرائع

Want your business to be the top-listed Media Company in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Address


Quetta
Quetta
87300