Reporter Quetta

Reporter Quetta

Share

Important News, Videos and pictures about Balochistan ,Pakistan and all around the world.

17/04/2026

ایک سال میں 26 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات، 430 جانیں ضائع، 34 ہزار زخمی

کوئٹہ — بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں ٹریفک حادثات نے خطرناک حد اختیار کر لی ہے۔ ریسکیو 1122 کے میڈیکل ہلیت افسر ڈاکٹر امیر بخش بلوچ نے بی این این کو خصوصی انٹرویو دیتے ہوئے بتایا کہ سال 2025 میں کوئٹہ اور اس کے آس پاس 26 ہزار سے زائد ٹریفک حادثات رپورٹ ہوئے، جن میں 430 افراد جاں بحق جبکہ 34 ہزار سے زیادہ زخمی ہوئے۔

ڈاکٹر امیر بخش بلوچ نے کہا کہ یہ اعدادوشمار تشویش ناک ہیں اور ماہرین کے مطابق حادثات کے بڑے اسباب میں خراب سڑکیں، تیز رفتاری، اوور لوڈنگ، ٹریفک قوانین کی کھلی خلاف ورزی اور ٹریفک انتظام کا فقدان شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر فوری طور پر عملی اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران مزید بگڑ سکتا ہے اور انسانی جانوں کا ضیاع جاری رہے گا۔

ریسکیو 1122 کی ٹیمیں مسلسل ایمرجنسی کیسز پر مامور ہیں، لیکن سڑکوں کی خراب حالت اور بڑھتی ہوئی گاڑیوں کی تعداد کی وجہ سے صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جا رہی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کوئٹہ کی سڑکیں اب صرف آمدورفت کا ذریعہ نہیں بلکہ موت کا جال بنتی جا رہی ہیں۔ فوری اصلاح کی ضرورت ہے تاکہ مزید قیمتی جانیں ضائع نہ ہوں۔

17/04/2026

نادرا نے MDCAT 2026 کے لیے بائیو میٹرک تصدیق لازمی قرار دے دی، 18 سال سے کم عمر طلبہ کو Juvenile Card حاصل کرنے کی ہدایت

اسلام آباد — پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (PMDC) نے MDCAT 2026 کے امیدواروں کے لیے اہم اعلان کرتے ہوئے نادرا (NADRA) کی بائیو میٹرک تصدیق کو لازمی قرار دے دیا ہے۔

اس نئی پالیسی کے تحت تمام امیدواروں کے لیے امتحان کے دن بائیو میٹرک تصدیق لازمی ہوگی۔ 18 سال یا اس سے زائد عمر کے امیدواروں کو اصل کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (CNIC) ساتھ لانا ہوگا، جبکہ 18 سال سے کم عمر کے امیدواروں کے لیے نادرا کا جاری کردہ Juvenile Registration Card (جونئیر رجسٹریشن کارڈ یا Juvenile Smart Card) لازمی قرار دیا گیا ہے۔

پی ایم ڈی سی کے مطابق، بغیر درست شناختی دستاویز اور بائیو میٹرک تصدیق کے کوئی بھی امیدوار MDCAT 2026 میں شرکت نہیں کر سکے گا۔ B-Form یا دیگر دستاویزات اب قبول نہیں کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد امتحانی عمل کو مزید شفاف، محفوظ اور دھاندلی سے پاک بنانا ہے۔

نادرا کے مطابق، Juvenile Card 18 سال سے کم عمر کے پاکستانی بچوں کو جاری کیا جاتا ہے۔ اس کے لیے والدین میں سے کسی ایک کا CNIC لازمی ہے اور بچے کی موجودگی کے ساتھ والدین کی بائیو میٹرک تصدیق بھی ضروری ہوتی ہے۔ طلبہ سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ بروقت نادرا کے قریبی مرکز سے اپنا Juvenile Card بنوا لیں تاکہ MDCAT رجسٹریشن اور ٹیسٹ کے دوران کوئی پریشانی نہ ہو۔

یہ پالیسی MDCAT 2026 کے لیے فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ تمام متعلقہ طلبہ و طالبات کو مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنے دستاویزات جلد از جلد مکمل کر لیں۔

17/04/2026

بلوچستان میں ایمبولینس بحران: 100 سے زائد گاڑیاں مبینہ طور پر سیاست دانوں کے گھروں میں


بلوچستان میں سرکاری ایمبولینسوں کے استعمال سے متعلق تشویشناک انکشاف سامنے آیا ہے جہاں ذرائع کا دعویٰ ہے کہ 100 سے زائد سرکاری ایمبولینسیں سرکاری ڈیوٹی کے بجائے بااثر سیاسی شخصیات اور سرداروں کے گھروں میں کھڑی ہیں۔

ذرائع کے مطابق بعض سیاست دان، خان اور نواب سرکاری کھاتے سے فراہم کی گئی ایمبولینسیں اپنے گھروں میں ذاتی ایمرجنسی کے لیے استعمال کر رہے ہیں تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری سہولت میسر ہو سکے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صوبے کے کئی سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اسٹریچر تک میسر نہیں جبکہ غریب مریض ایمبولینس جیسی بنیادی سہولت سے بھی محروم ہیں۔

عوامی اور سماجی حلقوں نے اس صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے میر سرفراز بگٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ مبینہ طور پر ذاتی استعمال میں رکھی گئی سرکاری ایمبولینسیں فوری طور پر واپس لی جائیں اور انہیں دوبارہ عوامی خدمت کے لیے ہسپتالوں اور ریسکیو سروسز کے حوالے کیا جائے۔

حکومتی سطح پر اس معاملے کی باضابطہ تصدیق سامنے نہیں آئی، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات کی جائیں تو بڑی تعداد میں سرکاری ایمبولینسوں کے اصل مقامات کا پتا چلایا جا سکتا ہے۔

یہ رپورٹ جمعے کے روز بلوچستان 24 پر نشر ہوئی تھی ۔

16/04/2026

کچلاک بائی پاس کے قریب سیکورٹی چیک پوسٹ پر نامعلوم مسلح افراد کا حملہ،
سیکورٹی فورسز اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ،
حملے میں دو حملہ آور ہلاک اور سیکورٹی فورسز کے دو اہلکار زخمی ہوئے،
سیکورٹی فورسز کی بروقت کاروائی سے دونوں حملہ آوروں ہلاک ہوئے، پولیس

16/04/2026

پنجگور سی پیک روڈ پر قائم پولیس ناکے اور چیک پوسٹیں ختم

پنجگور: پنجگور سی پیک روڈ پر قائم پولیس ناکے اور چیک پوسٹیں ختم چیک پوسٹوں کے نفری کو پولیس لائن رپورٹ کرنے کی ہدایت اور ساتھ میں اسلحہ اور ایمونیشن جمع کرنے کی تاکید

تفصیلات کے مطابق ایس پی پنجگور نے اپنے ایک حکم نامے میں پنجگور کے نصف درجن کے قریب پولیس چیک پوسٹوں کو کلوز کرنے کے احکامات جاری کرتے ہوئے نفری کو پولیس لائن میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے اور ساتھ میں سرکاری اسلح اور ایمونیشن بھی جمع کرنے کا حکم دیا ہے

ایس پی پنجگور کے حکم نامے میں یہ بات مینشن کی گئی ہے کہ یہ اقدام رشوت ستانی کے خاتمے کے لیے اٹھایا گیا ہے ان چیک پوسٹوں میں سبزاب گومازی ، سرادک ، دازی بونستان ، سرسانڈ ، گوران ، ہنگول شامل ہیں

تاہم عوامی حلقوں نے اس اقدام پر حیرانگی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ چیک پوسٹوں پر رشوت ستانی کا خاتمہ اچھی اور قابل ستائش عمل ہے

بڑھے تاہم نفری کو مکمل کلوز کرنے سے لوگوں میں عدم تحفظ کا احساس گا کیونکہ یہ روٹ کافی لمبی ہے کسی بھی ناخوشگوار حادثہ یا واردات کی صورت میں شہری خود کو غیر محفوظ تصور کر ینگے.

15/04/2026

بلوچستان میں سرکاری افسران کی لائیو لوکیشن کی ساتھ ڈیجیٹل مانیٹرنگ کا فیصلہ کیوں؟

بلوچستان حکومت نے فیلڈ افسران کی حاضری اور ترقیاتی منصوبوں کی نگرانی کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے لائیو لوکیشن پر مبنی ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔
یہ فیصلہ وزیراعلٰی بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی زیرِصدارت ہونے والے ایک اعلٰی سطح کے اجلاس میں کیا گیا جس میں صوبے میں جاری ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت، معیار اور درپیش مسائل کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اجلاس میں مختلف محکموں کے سیکریٹریوں نے اپنے اپنے شعبوں میں جاری منصوبوں پر بریفنگ دی۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ بعض منصوبوں کی رفتار سُست ہے جبکہ کئی منصوبے مختلف انتظامی اور تکنیکی مسائل کا سامنا کر رہے ہیں۔
وزیراعلٰی نے ضلعی افسران سے کہا کہ وہ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں رہنے کے بجائے فیلڈ میں اپنی موجودگی یقینی بنائیں اور منصوبوں کی نگرانی کریں۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ‘عوامی مسائل کے بروقت حل اور ترقیاتی اہداف کے حصول کے لیے مؤثر فیلڈ مانیٹرنگ کو یقینی بنایا جائے۔‘
سرفراز بگٹی نے تمام انتظامی سربراہان کو ہدایت کی کہ ایسے افسران جو 10 دن سے زائد عرصے تک فیلڈ سے غیرحاضر پائے جائیں اُن کے خلاف بلاامتیاز اور سخت کارروائی عمل میں لائی جائے۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق وزیراعلٰی کا کہنا تھا کہ مجوزہ ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم کے تحت افسران کی حاضری لائیو لوکیشن کے ذریعے چیک کی جائے گی۔
’اس سے نہ صرف ان کی موجودگی کی تصدیق ممکن ہوگی بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی پیش رفت کو بھی حقیقی وقت میں دیکھا جا سکے گا۔‘
سرفراز بگٹی نے ہدایت کی کہ صوبے میں جاری تمام ترقیاتی منصوبے جُون سے قبل ہر صورت مکمل کیے جائیں اور اس ضمن میں کسی بھی قسم کی تاخیر یا غفلت ہرگز برداشت نہیں کی جائے گی۔
وزیراعلٰی نے کہا کہ اس نظام سے حکومتی کارکردگی میں بہتری آئے گی، نگرانی کا عمل شفاف ہوگا اور عوامی وسائل کے استعمال میں جواب دہی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔

سرکاری ذرائع کے مطابق یہ فیصلہ ان شکایات کے بعد کیا گیا کہ صوبے کے دُوردراز علاقوں میں تعینات کئی سرکاری افسران فیلڈ میں ڈیوٹی دینے کے بجائے اپنا زیادہ تر عرصہ کوئٹہ میں گزارتے ہیں۔
ان ہی شکایات کے ازالے اور افسران کی نگرانی کے لیے اب حکومت نے صوبے میں ڈیجیٹل مانیٹرنگ سسٹم بنانے کا فیصلہ کیا ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق ڈیجیٹل مانیٹرنگ نظام کے تحت سرکاری افسران کو پابند کیا جائے گا کہ وہ ہفتے کے مقررہ دنوں میں اپنی لائیو لوکیشن بھیجیں تاکہ یہ تصدیق ہو سکے کہ وہ اپنی ڈیوٹی کی جگہ پر یا پھر فیلڈ میں موجود ہیں بھی یا نہیں۔
بلوچستان میں سرکاری ملازمین کے حوالے سے یہ شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ اُن کی بڑی تعداد ڈیوٹیوں پر حاضر ہوئے بغیر تنخواہیں وصول کر رہی ہے۔
جنوری 2024 میں اُس وقت کے نگراں صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر قادر بخش نے انکشاف کیا تھا کہ بلوچستان کے دو ہزار سے زائد اساتذہ گذشتہ کئی برسوں سے بیرونِ ملک بیٹھ کر تنخواہیں وصول کر رہے ہیں۔

15/04/2026

بلوچستان میں خواتین کی صحت کے لیے بڑی پیش رفت: سینیٹری پروڈکٹس پر ٹیکس 50 فیصد کم یا ختم کرنے کا فیصلہ

کوئٹہ — خواتین کی صحت اور فلاح و بہبود کے شعبے میں ایک اہم اور مثبت پیش رفت سامنے آئی ہے۔ صوبائی حکومت اور اراکین اسمبلی نے بنیادی حفظانِ صحت کی مصنوعات (سینیٹری پروڈکٹس) پر عائد ٹیکس میں 50 فیصد کمی یا مکمل خاتمے کے لیے قانون سازی پر اتفاق رائے کر لیا ہے۔

صوبائی وزیر تعلیم راحیلہ حمید درانی کی زیر صدارت منعقدہ اہم اجلاس میں یہ فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں اراکین پارلیمنٹ اختر بی بی اور رحمت صالح بلوچ، سیکرٹری عبداللہ خان، ڈاکٹر طاہرہ کمال بلوچ اور اقوام متحدہ کے متعلقہ اداروں کے نمائندوں نے شرکت کی۔

اجلاس کے شرکاء نے متفقہ طور پر فیصلہ کیا کہ بلوچستان اسمبلی میں مشترکہ قرارداد پیش کی جائے گی تاکہ کم آمدنی والی خواتین کو سینیٹری پروڈکٹس کی خریداری پر معاشی بوجھ کم کیا جا سکے۔ اس اقدام سے نہ صرف خواتین کی صحت کے معیار میں نمایاں بہتری آئے گی بلکہ ان کی معاشی حالت کو بھی ریلیف ملے گا۔

شرکاء کا کہنا تھا کہ یہ اقدام خواتین کے بنیادی حقوق اور ان کی صحت کی حفاظت کی جانب ایک اہم قدم ہے، خاص طور پر دیہی علاقوں اور غریب طبقے کی خواتین کے لیے جو اکثر اس بنیادی ضرورت کو پورا کرنے میں مشکلات کا شکار رہتی ہیں۔

یہ فیصلہ بلوچستان میں خواتین کی فلاح و بہبود کے لیے کیے جانے والے اقدامات کی ایک نئی کڑی ثابت ہوگا۔

15/04/2026

جامعہ بلوچستان میں انٹرن شپ پروگرام پر اسٹیک ہولڈرز میٹنگ کا انعقاد کیا گیا.

جامعہ بلوچستان میں انسانی حقوق انٹرن شپ پروگرام کے حوالے سے علاقائی اسٹیک ہولڈرز میٹنگ کا انعقاد کیا گیا۔

یہ میٹنگ اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے حقوقِ پاکستان دوم منصوبے کے تحت منعقد ہوئی، جس کا مقصد طلبہ اور حالیہ گریجویٹس کو تین ماہ کی انٹرن شپ کے ذریعے عملی تجربہ فراہم کرنا ہے۔

میٹنگ سے اسکول آف لیڈرشپ فاؤنڈیشن کے نمائندہ فیضان عرفات، ڈائریکٹر جنرل ہیومن رائٹس و سوشل ویلفیئر اشرف گچکی، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندہ ذوالفقار درانی، نیشنل کمیشن برائے انسانی حقوق کی نمائندہ فرخندہ اورنگزیب، ویمن ڈویلپمنٹ ڈیپارٹمنٹ کے نمائندے اور ڈائریکٹر کیو اے اے ڈی جامعہ بلوچستان ڈاکٹر آصف سجاد ڈائریکٹر جی آئی ایل جامعہ بلوچستان ڈاکٹر وحید نورنے خطاب کیا۔

مقررین نے نوجوانوں کو عملی تربیت، ادارہ جاتی تعاون اور انسانی حقوق کے فروغ کی اہمیت پر زور دیا، جبکہ پروگرام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔
آخر میں شرکاء نے باہمی تعاون کے فروغ اور نوجوانوں کے لیے مزید مواقع پیدا کرنے کے عزم کا اظہار کیا۔

14/04/2026

پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں شدید بحران: اجباری برطرفیوں، تنخواہوں کی تاخیر اور سہولیات کی کٹوتی کا نیا رپورٹ سامنے آگیا

اسلام آباد — راولپنڈی اسلام آباد یونین آف جرنلسٹس (RIUJ) نے ایک تفصیلی رپورٹ جاری کرتے ہوئے پاکستانی میڈیا انڈسٹری میں جاری شدید بحران کی نشاندہی کی ہے۔ اقتصادی بدحالی کی وجہ سے میڈیا ہاؤسز میں بڑے پیمانے پر اجباری برطرفیوں، تنخواہوں میں غیر قانونی کٹوتیوں اور ماہوں کی تاخیر کا سلسلہ جاری ہے، جس سے صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی مالی سلامتی شدید خطرے میں پڑ گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق، اسلام آباد اور راولپنڈی سمیت ملک بھر کے میڈیا ہاؤسز میں یہ صورتحال پیش آ رہی ہے، جس نے صحافتی برادری میں بڑے پیمانے پر بے چینی پیدا کر دی ہے۔

1. جبری برطرفیوں اور ڈاؤن سائزنگ کا سلسلہ:
- سچ ٹی وی نے اپنے 50 فیصد ورک فورس کو برطرف کر دیا، لاہور بیورو بند کر دیا گیا اور اسلام آباد کے سٹاف کو بغیر کسی واجبات کے فارغ کر دیا گیا۔
- آج ٹی وی ملک بھر میں ڈاؤن سائزنگ کر رہا ہے، جس میں فیلڈ رپورٹرز، کیمرہ آپریٹرز اور ٹیکنیکل سٹاف شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
- نکتہ (Nukta) نے ڈیجیٹل میڈیا کے درجنوں ملازمین کو بغیر نوٹس کے فارغ کر دیا۔
- آب تک نیوز نے اسلام آباد میں 8 رپورٹرز اور ایڈیٹرز کو برطرف کر دیا اور بیورو آپریشنز کو شدید کم کر دیا۔
- نیوز ون نے متعدد شہروں کے بیوروز میں درجنوں برطرفیوں کی تصدیق کی گئی ہے۔
- اردو نیوز اور انڈیپنڈنٹ اردو نے کئی سینئر جرنلسٹک پوزیشنز ختم کر دیں۔
- جی ٹی وی سے بھی متعدد ملازمین کی برطرفی کی رپورٹس سامنے آئی ہیں۔

2. تنخواہوں کی تاخیر اور ادائیگیوں میں رکاوٹیں:
- نیو نیوز اور جی ٹی وی میں 2 سے 3 ماہ کی تنخواہوں کی مسلسل تاخیر معمول بن چکا ہے۔
- سنو نیوز میں تنخواہوں کی ادائیگیاں غیر منظم اور نامنظم ہو گئی ہیں۔
- پرنٹ میڈیا (ڈیلی جنگ سمیت دیگر) کے سٹاف کی پرانی واجبات ابھی تک ادا نہیں کی گئیں۔

3. بنیادی سہولیات میں کٹوتیاں:
رپورٹ میں فیلڈ سٹاف کے پٹرول اور مینٹیننس الاؤنسز ختم یا شدید کم کرنے کا ذکر کیا گیا ہے، جس سے ان کی پیشہ ورانہ نقل و حرکت متاثر ہو رہی ہے۔ خواتین ملازمین کے لیے پک اینڈ ڈراپ سروس بھی کئی بڑے میڈیا ہاؤسز نے ختم کر دی ہے، جو ان کی سیکیورٹی اور رسائی کو شدید خطرے میں ڈال رہا ہے۔

آر آئی یو جے کی یہ رپورٹ متاثرہ میڈیا پروفیشنلز سے براہ راست تصدیق کے بعد تیار کی گئی ہے۔ یہ موجودہ بحران کی آفیشل ریکارڈ کے طور پر سامنے آئی ہے اور مزید معلومات آنے کے ساتھ اپ ڈیٹ ہوتی رہے گی۔
یونین نے میڈیا مالکان سے اپیل کی ہے کہ وہ ملازمین کے حقوق کا خیال رکھیں، جبکہ حکومت سے بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ اس بحران میں فوری مداخلت کرتے ہوئے میڈیا ورکرز کی حفاظت اور مالی استحکام کو یقینی بنایا جائے۔
یہ صورتحال نہ صرف صحافیوں کی روزی روٹی کو متاثر کر رہی ہے بلکہ آزاد اور غیر جانبدار صحافت کے مستقبل پر بھی سوالات اٹھا رہی ہے۔

14/04/2026

سریاب روڈ، فیض آباد کے سامنے فائرنگ کا افسوسناک واقعہ؛ تین افراد جانبحق، دو زخمی

کوئٹہ — سریاب روڈ پر فیض آباد کے سامنے منگل کی دوپہر فائرنگ کا ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا جس میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے تین افراد جاں بحق ہو گئے جبکہ دو افراد زخمی ہوئے۔

ہلاک ہونے والوں میں مقامی نوجوان بھی شامل ہے۔ زخمیوں کی شناخت میر جمیل اور میر حفیظ کے نام سے ہوئی ہے۔ زخمیوں کو فوری طور پر قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جا رہی ہے۔

عینی شاہدین کے مطابق اچانک ایک گاڑی سے اتر کر نامعلوم افراد نے فائرنگ شروع کر دی جس کے نتیجے میں تین افراد موقع پر ہی ہلاک ہو گئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور لوگ ادھر ادھر بھاگنے لگے۔

پولیس کی ٹیم فوری طور پر موقع پر پہنچ گئی اور علاقے کو گھیرے میں لے کر تفتیش شروع کر دی ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات جاننے کے لیے تمام ممکنہ زاویوں سے تفتیش کی جا رہی ہے اور ملزمان کو جلد گرفتار کر لیا جائے گا۔

اس افسوسناک واقعے پر علاقے کے عوام نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے اور حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ ملزمان کو فوری طور پر گرفتار کر کے انہیں سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ مستقبل میں ایسے واقعات کا تکرار نہ ہو۔

13/04/2026

د پښتونخوا ملي عوامي ګوند د ايالتي مشر عثمان خان کاکړ د مرګ يو کال پوره شو، د کاکړ مور ساره بي بي د هغه د ماشوم توب، سياست او د ژوند د اخيري شپو په اړه څه وايي؟ د ډيوه همکار حفيظ الله ستوري شيراني ورسره ځانګړې مرکه تياره کړې ستاسو پام ورته را اړوو:

12/04/2026

ایک محسن استاد کو خراجِ تحسین — پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر، یونیورسٹی آف بلوچستان کے علمی ارتقاء کے معمار

کوئٹہ ___ یونیورسٹی آف بلوچستان نے اپنے مایہ ناز سابق پروفیسر بائیوکیمسٹری پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر کو ان کی دہائیوں پر محیط گراں قدر علمی و انتظامی خدمات پر خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔

وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظہور احمد بازئی نے ایک خصوصی تقریب میں پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر کو اعزازی شیلڈ پیش کی۔

پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر یونیورسٹی کے علمی ارتقاء کے کلیدی معماروں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے فیکلٹی ڈویلپمنٹ کے لیے دیرپا حکمت عملی مرتب کی اور ایچ ای سی کوالیفکیشن اسٹرینتھننگ پروگرام کے تحت 29 اساتذہ کو بیرون ملک پی ایچ ڈی کے مواقع فراہم کیے۔ انہی اساتذہ میں ڈاکٹر وحید نور (جو اب CBRM کی قیادت کر رہے ہیں)، ڈاکٹر عجب خان کاسی (امریکی پیٹنٹس کے حامل) اور تھائی لینڈ سے آرٹیفیشل انٹیلیجنس میں ڈاکٹریٹ حاصل کرنے والے سکالرز شامل ہیں جن کی بدولت جامعہ میں جدید شعبوں کا قیام ممکن ہوا۔

ان کی کاوشوں سے سینٹر فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز اِن ویکسینولوجی اینڈ بائیوٹیکنالوجی کا قیام عمل میں آیا۔ انہی کی قیادت میں تیار کردہ ویکسین آج پاکستان سمیت پڑوسی ممالک میں بھی استعمال ہو رہی ہے۔

پروفیسر ڈاکٹر عباس حیدر 2009 میں ریٹائر ہوئے، تاہم ان کا وژن اور محنت آج بھی یونیورسٹی آف بلوچستان کی بنیاد ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جامعہ نے 2026 میں پہلی بار ٹائمز ہائر ایجوکیشن ورلڈ یونیورسٹی رینکنگ میں جگہ بنائی۔

یونیورسٹی آف بلوچستان اپنے اس محسن استاد کے علمی وژن اور قومی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھے گی۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Quetta?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Quetta