Baloch

Baloch

Share

وَتُعِزُّ_مَن_تَشَاءُ_وَتُذِلُّ_مَن_تَشَاءُ.

21/06/2026

*پیارے نبی ﷺ کا پیارا فرمان*

*آپ ﷺ نے فرمایا:* مغرب اور عشاء کے دوران سونے سے باز رہا کرو۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* بدبودار اور گندے لہسن کو لوگوں کے سامنے نہ کھایا کرو۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* ان لوگوں کے درمیان مت بیٹھو جنہوں نے گناہ کو اپنا کھیل بنا لیا ہے۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* کبھی کسی کے منہ پر اس کی تعریف نہ کرو۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* جس نے ہمارے چھوٹوں پر رحم نہ کیا اور بڑوں کی عزت نہ کی، وہ ہم میں سے نہیں۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* گرم کھانا ٹھنڈا کر کے کھایا کرو۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* تم میں سے ہر ایک اپنے بھائی کے لیے وہی پسند کرے، جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

*آپ ﷺ نے فرمایا:* سلام کو عام کرو۔ آپ ﷺ نے فرمایا: کسی کو حقیر نہ سمجھو۔

*ویڈیو کو شیئر کریں فالو کریں*

سبحان اللہ 💚

21/06/2026

21/06/2026

# # # *واقعے کا خلاصہ*
باپ نے بیٹے کو 2 طرح سے جہاز دکھایا۔ دور سے جہاز چھوٹا لگا، اور قریب سے بہت بڑا۔ پھر باپ نے سمجھایا کہ اللہ بھی اسی طرح ہے۔ جو اللہ سے جتنا قریب ہوتا ہے، اسے اللہ اتنا ہی بڑا لگتا ہے۔

# # # *تفصیل اور سبق*

*1. اللہ کی عظمت کا اندازہ*
ہم اللہ کو دیکھ نہیں سکتے، اس لیے ہمیں لگتا ہے "اللہ ہے تو سہی"۔ لیکن جس کا دل اللہ کے ذکر، نماز، سجدے سے جڑ جاتا ہے، اس پر اللہ کی بڑائی کھل جاتی ہے۔ دور رہنے والا جہاز کو چھوٹا کہتا ہے، قریب والا اس کی اصل عظمت دیکھ لیتا ہے۔

*2. قرب کا مطلب*
اللہ کے قریب ہونے کا مطلب لمبی داڑھی یا بڑی ٹوپی نہیں۔ قرب کا مطلب ہے:
- *دل کا جھکاؤ*: ہر کام میں اللہ کو یاد رکھنا
- *بھروسہ*: مشکل میں پہلے اللہ کے سامنے رو لینا
- *محبت*: گناہ سے اس لیے بچنا کہ اللہ ناراض ہو جائے گا

*3. دنیاوی مثال سے روحانی سبق*
جہاز کی مثال ہمیں سمجھاتی ہے کہ ہمارا "ایمان" بھی کبھی کم اور کبھی زیادہ لگتا ہے۔ جب ہم دنیا میں گم ہو جائیں تو اللہ "چھوٹا" لگتا ہے۔ اور جب ہم تنہائی میں اللہ کو پکاریں تو وہی اللہ پوری کائنات سے بھی بڑا لگنے لگتا ہے۔

*خلاصہ:*
اللہ اپنی جگہ ہمیشہ "اللہ اکبر" ہے۔ فرق ہمارے دل کا ہے۔ جس کا دل اللہ سے جڑ گیا، اس کے لیے دنیا کی ہر چیز چھوٹی ہو جاتی ہے۔

*اللہ ہمیں بھی اپنا قرب عطا فرمائے۔ آمین۔*

20/06/2026

*ہمارے نبی ﷺ کی پیاری باتیں* 🌸

آپ ﷺ کا ہر عمل، ہر لفظ محبت تھا۔ چند پیاری باتیں جو دل کو سکون دیتی ہیں:

*1. اخلاق کے بارے میں*
آپ ﷺ نے فرمایا: *"تم میں سب سے بہتر وہ ہے جس کا اخلاق سب سے اچھا ہے"*
یعنی بڑا وہ نہیں جس کے پاس پیسہ ہے، بڑا وہ ہے جو نرم بولتا ہے۔

*2. مسکراہٹ کے بارے میں*
آپ ﷺ نے فرمایا: *"اپنے بھائی کے سامنے مسکرانا بھی صدقہ ہے"*
سوچو، بغیر کچھ خرچ کیے بھی ہم نیکی کما سکتے ہیں۔

*3. رحم کے بارے میں*
آپ ﷺ نے فرمایا: *"جو لوگوں پر رحم نہیں کرتا، اللہ اس پر رحم نہیں کرتا"*
رحم صرف انسانوں پر نہیں، جانوروں پر بھی۔

*4. ماں کے بارے میں*
ایک صحابی نے پوچھا: "سب سے زیادہ حسن سلوک کس سے کروں؟"
آپ ﷺ نے 3 بار فرمایا: *"تمہاری ماں سے"* پھر چوتھی بار فرمایا: "تمہارے باپ سے"۔

*5. صبر کے بارے میں*
آپ ﷺ نے فرمایا: *"مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اگر اسے خوشی ملے تو شکر کرتا ہے، اور اگر تکلیف ملے تو صبر کرتا ہے۔ اور یہ دونوں اس کے لیے بہتر ہیں"*

*آپ ﷺ کی 1 عادت:*
آپ کسی سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کرتے تھے۔ خادم کو بھی کبھی ڈانٹا نہیں۔ اور بچوں سے ایسے ملتے تھے جیسے وہ آپ کے اپنے ہوں۔

آپ ﷺ کی سیرت پڑھو تو دل خود کہتا ہے: "کاش ہم بھی ایسے بن جائیں"۔

اگر دل اجازت دے پوسٹ لازمی لائیک فالو شئیر لازمی کریں شکریہ 🙏

20/06/2026

*ہمارے نبی ﷺ اپنی امت کے لیے کتنا روئے...* 💔

نبی کریم ﷺ کا دل اپنی امت کے لیے درد سے بھرا ہوا تھا۔ آپ ﷺ کا رونا ہماری بخشش کی دعا تھا۔ چند واقعات:

*1. تہجد کا رونا*
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: ایک رات آپ ﷺ نے ساری رات ایک آیت پڑھی: _"اگر تو انہیں عذاب دے تو وہ تیرے بندے ہیں، اور اگر بخش دے تو غالب حکمت والا ہے"_ [المائدہ: 118]۔ اور ساری رات روتے رہے، رو کر داڑھی مبارک تر ہو گئی، جائے نماز تر ہو گئی۔ جب فجر ہوئی تو فرمایا: "اے عائشہ! مجھے کیوں نہ رونا چاہیے جبکہ اللہ نے مجھ پر آیت نازل کی ہے"۔

*2. امت کی شفاعت کا رونا*
ایک دن آپ ﷺ نے قرآن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعائیں پڑھیں۔ ابراہیمؑ نے کہا "جو میری نافرمانی کرے تو بخشنے والا ہے"۔ عیسیٰؑ نے کہا "اگر تو انہیں عذاب دے..."۔ یہ پڑھ کر آپ ﷺ نے ہاتھ اٹھائے اور رو کر کہا: _"یا اللہ! میری امت، میری امت"_۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبریلؑ کو بھیجا اور فرمایا: "محمدؐ سے پوچھو کیوں روتے ہو؟"۔ جبریلؑ نے پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا: "میں اپنی امت کے لیے رو رہا ہوں"۔ اللہ نے فرمایا: "اے جبریل! محمدؐ سے کہہ دو ہم آپ کو آپ کی امت کے معاملے میں راضی کر دیں گے، ناراض نہیں کریں گے"۔

*3. امت کے گناہوں کا بوجھ*
آپ ﷺ فرمایا کرتے تھے: "ہر نبی کی ایک قبول ہونے والی دعا ہوتی ہے، ہر نبی نے دنیا میں مانگ لی۔ میں نے اپنی دعا قیامت کے دن اپنی امت کی شفاعت کے لیے بچا رکھی ہے"۔ آپ ﷺ کو فکر تھی کہ میری امت پل صراط سے کیسے گزرے گی، حساب کیسے دے گی۔

*4. امت کے فتنوں کا رونا*
آپ ﷺ نے فرمایا: "میری آنکھیں سو جاتی ہیں، دل نہیں سوتا"۔ آپ ﷺ کو امت پر آنے والے فتنے، گمراہی، آپس کی لڑائی کا پہلے سے علم تھا۔ اسی لیے روتے تھے کہ "یا اللہ میری امت کو بچا لینا"۔

*سبق:*
وہ نبی ﷺ جس کے لیے اللہ نے فرمایا _"لَقَدْ جَاءَكُمْ رَسُولٌ مِّنْ أَنفُسِكُمْ عَزِيزٌ عَلَيْهِ مَا عَنِتُّمْ"_ - "تمہارے پاس تم ہی میں سے رسول آیا، تمہاری تکلیف اس پر شاق گزرتی ہے"۔ وہ ہماری ایک گناہ کی بخشش کے لیے روئے۔

اور ہم؟ ہم کتنی بار ان ﷺ پر درود بھیجتے ہیں؟ کتنی بار ان کا نام سن کر دل نرم ہوتا ہے؟

*دعا:* یا اللہ، ہمیں اپنے نبی ﷺ کی سچی محبت عطا فرما۔ قیامت کے دن ان ﷺ کے جھنڈے تلے جمع فرما۔ آمین ثم آمین۔

اللہم صل علی محمد و علی آل محمد ﷺ

دل اجازت دے پوسٹ لازمی شیئر کریں شکریہ 🙏

Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Kandhkot?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Kandhkot