Orbit school system

Orbit school system

Share

Education for all.. .

22/01/2026
22/01/2026

’’ہم نے اپنی نسل کو ناکارہ خود بنایا‘‘

یہ کہنا شاید تلخ ہو، مگر سچ یہی ہے کہ ہم پاکستانی اپنی آئندہ نسلوں کو خود ہی ناکارہ اور مفلوج بنا رہے ہیں۔
گھروں میں بچوں کی تربیت کا جو ماڈل رائج ہے، اس میں ماں ہر کام کا مرکز ہے۔
اور بچے صرف "حکم دینے والے" بن کر پروان چڑھتے ہیں۔ ماں بچے کے جوتے پالش کرے، لنچ باکس تیار کرے، کتابیں کور کرے، بستر لگائے، اور یہاں تک کہ پانی کا گلاس بھی لا کر دے۔
تو پھر اس بچے سے خود مختاری اور ذمہ داری کی توقع کرنا سراسر ناعاقبت اندیشی ہے۔
بچوں کو ہر چیز حاضر ملنے کی عادت ہو جاتی ہے۔ وہ کسی چیز کی قدر کرنا نہیں سیکھتے،
نہ ہی ان میں خود کچھ کرنے کی خواہش یا تربیت پیدا ہو پاتی ہے۔ ماں اگر ہر لمحہ بچوں کی خدمت میں مصروف رہے گی
تو وہ بچے کبھی خود کفیل، باہمت اور باعمل شہری نہیں بن سکتے۔
پھر جب یہی بچے بڑے ہو کر شوہر بنتے ہیں، تو بیوی سے بھی وہی توقع رکھتے ہیں جو بچپن میں ماں سے رکھی گئی۔
بیوی کو "خدمت گزار" کا درجہ دیا جاتا ہے، نہ کہ ایک شریکِ زندگی کا۔
بیوی کے جذبات، احساسات اور تھکن کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے، کیونکہ انہیں زندگی بھر یہی سکھایا گیا کہ عورت کا کام صرف مرد کی خدمت ہے۔
یوں ایک نسلی روایتی غلامی پروان چڑھتی ہے، جس میں عورت بس دیتی ہے اور مرد صرف لیتا ہے۔
یہ نظام نہ صرف خاندان بلکہ معاشرے کو بھی برباد کر رہا ہے۔ ہم نئی نسل کو ذمہ داری، خود اعتمادی اور خود انحصاری کی تربیت دینے کے بجائے سہل پسندی، نرگسیت اور بے عملی سکھا رہے ہیں۔
اصلاح کیسے ممکن ہے؟
ماں باپ کو چاہیے کہ بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی خود کام کرنے کی عادت ڈالیں۔
بچے خود اپنے کپڑے رکھیں، لنچ باکس تیار کریں، اپنے بستر لگائیں، اور اپنی چیزوں کی حفاظت کرنا سیکھیں۔
اسی طرح شوہروں کو بھی سکھایا جائے کہ بیوی کی خدمت لینا نہیں، بلکہ اس کے ساتھ زندگی بانٹنا اصل مردانگی ہے۔
یاد رکھیں،
اگر ہم نے اپنے بچوں کو آسانیاں دینے کے نام پر ان سے ان کی صلاحیتیں چھین لیں، تو آنے والا کل صرف پچھتاوے کا دن ہوگا۔

28/09/2025

استاد کی بے عزتی – ایک قوم کی بربادی

آج کے دور کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ استاد کی عزت صرف تقریروں اور کتابوں تک محدود ہو گئی ہے۔ حقیقت میں استاد کی وہ حیثیت جو کبھی مقدس ہوا کرتی تھی، اب تماشہ بن گئی ہے۔ شاگرد استاد سے علم حاصل کرنے کے بجائے اس پر جملے کستے ہیں، والدین معمولی بات پر استاد کو نیچا دکھاتے ہیں، اور معاشرہ استاد کو اس قابل بھی نہیں سمجھتا کہ اسے عزت کی روٹی دے۔

یہ وہی استاد ہے جس نے ہمیں "ا، ب، پ" سے روشناس کرایا، قلم پکڑنا سکھایا، لفظوں کو جملوں میں جوڑنا سکھایا۔ مگر آج کے شاگرد اسی استاد کو کلاس میں بے توقیر کرتے ہیں، اس کی بات کا مذاق اڑاتے ہیں۔ شرم آنی چاہیے ان والدین کو جو اپنے بچے کی غلطی چھپانے کے لیے استاد پر انگلی اٹھاتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آج ہم سب مل کر استاد کی عزت کو روند رہے ہیں۔

قومیں اس وقت برباد ہوتی ہیں جب ان کے استاد کی عزت خاک میں ملا دی جائے۔ یاد رکھو! فوج ملک کی سرحدیں بچاتی ہے، مگر استاد تمہاری نسلوں کی سرحدوں کی حفاظت کرتا ہے۔ اگر استاد بے عزت ہو جائے تو تمہاری آنے والی نسلیں بھیگتے ہوئے چراغ کی مانند بجھ جائیں گی۔

افسوس! ہم نے استاد کو نوکر سمجھ لیا، حالانکہ وہی دراصل معمارِ قوم ہے۔ یہ زلت اور یہ بے توقیری جاری رہی تو آنے والی نسلوں کو نہ علم ملے گا، نہ شعور، نہ ہی کوئی اخلاق۔ پھر رونا دھونا رہ جائے گا اور یہ قوم غلامی کی زنجیروں میں جکڑ دی جائے گی۔

استاد کی عزت محض نعرہ نہیں، یہ تمہاری بقا کا سوال ہے۔ اگر آج بھی نہ جاگے تو یاد رکھو: تمہارا حال بھی ان قوموں جیسا ہو گا جو کتابیں جلانے اور استاد کو ذلیل کرنے کے بعد تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دی گئ

16/11/2024

بچوں سے گفتگو کرنا سیکھیں ۔

بچوں کی تربیت ایسا عمل ہے جس میں والدین کو سکھانے سے پہلے خود سیکھنا پڑتا ہے۔ ایک فہرست بنتی ہے اُن فنون اور طریقوں (art & skills) کی جو اس عمل میں سیکھنا ضروری ہوتے ہیں۔ ان تمام میں گفتگو کرنے کا فن سرِ فہرست ہے۔

گفتگو کا فن کیا ہے؟ گفتگو کا فن یہ ہے کہ انسان یہ جان جائے کہ کیا بولنا ہے، کیوں بولنا ہے، کب بولنا ہے اور کیسے بولنا ہے؟ یعنی یہ اپنی روزمرہ گفتگو کو منظم کرنے کا نام ہے۔ گفتگو کا یہ نظم بڑوں سے زیادہ چھوٹوں سے بات کرتے ہوئے اپنانا بہت ضروری ہے کیونکہ بڑے تو اکثر ہماری بات کو سمجھ لیتے ہیں لیکن بچے انہیں نہیں سمجھ پاتے۔ گویا بچے وہی کچھ سیکھتے ہیں جو ہم بولتے ہیں اور جیسے بولتے ہیں۔

ہم بچوں سے ہر روز مختلف موضوعات پر گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ اس میں زیادہ تر گفتگو بے سوچے سمجھے یا غیر ضروری باتوں پر مشتمل ہوتی ہے مثلاً کہاں گئے تھے؟ یہ کیا کر رہے ہو؟ یہ کام کرلو۔۔۔۔ یا پروفیشنل قسم کی ہوتی ہے مثلاً کل کا ٹیسٹ کیسا ہوا؟ تمہارا فائنل ٹرم کب ہے؟ کلاس میں کون تم سے زیادہ ذہین ہے اور زیادہ مارکس لے رہا ہے؟ وغیرہ۔ یہی وجہ ہے کہ والدین اور بچوں میں رابطہ کی خلا (communication gap) پیدا ہوتی جارہی ہے۔ اس کے حل کے لیے ذیل میں کچھ تجاویز دی جارہی ہیں جو یقیناً والدین کے لیے معاون ثابت ہوں گی:

) بچوں سے باشعور گفتگو(Conscious Conversation) کریں یعنی آپ کو معلوم ہو کہ آپ کیا بول رہے ہیں اور کیوں بول رہے ہیں۔
) بچے کے جسمانی لیول پر آکر اور اُس کی طرف دھیان دے کر گفتگو کریں۔
) گفتگو آسان، غیر مبہم اور واضح ہو۔ بچے کی عمر کے حساب سے الفاظ کا چناؤ کریں۔
) سمجھانے سے پہلے بچے کو سمجھیں۔ بچے کی ذہنی و جذباتی کیفیت کو پرکھیں۔
) گفتگو کے دوران بولنے سے زیادہ سننے کی کوشش کریں۔
) بامعنی حرکات و سکنات (Meaningful Gestures) اپنائیں کیونکہ یہ اثر رکھتی ہیں۔
) صرف کرو، نہ کرو(Do or Don’t) کا طریقہ مت اپنائیں بلکہ گفتگو میں سوال جواب بھی شامل کریں۔ کوشش کریں کہ سوال اوپن اینڈڈ(open ended) ہوں تاکہ بچہ بولنے سے پہلے سوچے، سمجھے اور کچھ نیا کھوجے۔
) تعریف یا تنقید بچے کی نہیں بلکہ اُس کے رویے کی کریں تاکہ وہ خود پسند ہونے کے بجائے اپنے رویے میں تبدیلی پر فوکس کرسکے۔
) گفتگو کے دوران جذبات سے مت مغلوب ہوں یعنی گفتگو ری ایکٹِو نہ ہو بلکہ رسپانسِو ہو۔
) گفتگو تب کریں جب بچے بات سننے اور سمجھنے کی پوزیشن میں ہوں۔ ماہرین کے بقول بچے عموماً سونے سے پہلے، سفر کے دوران، کسی کامیابی کے موقع پر بہت متوجہ ہوکر بات سنتے ہیں۔
) باوقار گفتگو ہونا ضروری ہے مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہم حد سے زیادہ سنجیدہ ہوجائیں۔ باتوں میں مزاح کا ہونا بھی بہت ضروری ہے۔
) بچے کہانیوں میں بہت دلچسپی لیتے ہیں اس لیے انہیں کہانیوں کی صورت میں سمجھائیں۔ کہانیاں پڑھیں اور خود بھی کہانیاں بنائیں۔

03/10/2024

We are hiring
Female School Teachers

19/08/2024

تمام والدین سے گزارش ہے کہ
اپنے بچوں کو باقاعدگی سے سکول بھیجیں !!
کیونکہ سکول میں باقاعدہ کلاسز شروع ہو چکی ہیں
منجانب
پرنسپل ادارہ ہذا

Send a message to learn more

Photos from Orbit school system's post 17/08/2024
Photos from Orbit school system's post 17/08/2024

دو میں سے ایک سوچ چن لیں
پہلی سوچ
1۔ کوئ فائدہ نہیں ۔ درخت لگائے جاتے ہیں اور پھر ہزاروں کی تعداد میں حکومت کاٹ دیتی ہے ۔ ۔۔۔ ڈیولپمنٹ کے نام پر 🤦‍♀️
2۔ درخت لگانا حکومت کا کام ہے
3۔ ہمارے پاس وقت نہیں ہے ان کاموں کے لئے
4۔ بچے یا جانور پودے خراب کر دیتے ہیں اس لئے فائدہ نہیں
ہمارے پاس درخت لگانے کے لئے جگہ ہی نہیں ہم کیا کرسکتے ہیں
دوسری سوچ
1۔ درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے اس لئے مجھے درخت لگانے چاہئیں
2۔ درخت میری اور میری آئندہ نسلوں کی بقاء کے لئے ضروری ہیں اس لئے مجھے درخت لگانے چاہئیں
3۔ جس طرح انتہائی مصروفیت کے باوجود میں کھانے پینے کے لئے وقت نکالتا ہوں اسی طرح وقت نکال کر مجھے درخت لگانے چاہئیں کیونکہ کھانے پینے کی طرح یہ بھی میری زندگی کے لئے اتنا ہی ضروری ہیں
4۔ ہمیں بچوں کو اس عمل میں اپنا ساتھی بنا لینا چاہئے انہیں سراہنا چاہئے
5۔ جانوروں سے بچاؤ کے لئے باڑ لگانی چاہئے یا ایسے پودے لگائیں جنہیں جانور نہ کھاتے ہوں.
جگہ نہ ہونے کی صورت میں بیل دار ہو دے لگا کر اس کار خیر کو سر انجام دے سکتے ہیں
کیونکہ
مالی دا کم پانی دینا بھر بھر مشکاں پاوے
مالک دا کم پھل پھول لانا لاوے یا نا لاوے

05/05/2024

کیا آپ اپنے بچے سے اس کے بیگ اور کتابوں کو ہاتھ لگانے سے پہلے اس سے پوچھتے ہیں؟ کیا آپ اس سے یہ اجازت مانگتے ہیں کہ آپ اس کی کتابیں اور کاپیاں دیکھ لیں؟

اگر نہیں تو پھر وہ اپنے بیگ ، کتابوں اور کاپیوں کو اپنا نہیں سمجھتا۔ وہ سمجھتا ہے کہ یہ تو میری ہیں ہی نہیں۔

اور اگر آپ کو یہ لگتا ہے کہ اب کیا چیک نہ کریں کہ بچے نے اسکول میں کیا کیا یا ٹیچر نے شاید کوئی پیغام لکھا ہو! وہ سب بیگ میں ہی ہو گا نا۔۔۔۔۔! تو پوچھنے سے کیا ہو جائے گا.......!؟

بچے کو اچھا لگے گا اور صرف اچھا نہیں لگے گا بلکہ اسے پتہ چلے گا کہ یہ میری چیز ہے۔ آپ اسے حکم دیں کر کہیں گے کہ اپنی کاپی چیک کراؤ یا ڈائری دکھاؤ وغیرہ تو وہ آپ سے تو دور ہو گا ہی ، اس سے پہلے وہ اس کاپی یا کتاب سے دور ہو جائے گا۔

وہ جب اسکول کا کام کر رہا ہو چاہے وہ رنگ بھرنا ہی کیوں نا ہو تو آپ اس سے پہلے یہ پوچھیے کہ کیا آپ اس کے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں ، اس کا کام دیکھ سکتے ہیں؟

Want your school to be the top-listed School/college in Pir Mahal?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


683/24 GB Pirmahal
Pir Mahal
36000