Asim Rahi Official

Asim Rahi Official

Share

��������
سجدوں سے تعلق بناؤ"��

دنیا داری میں فقط گناہوں کی لذت ہے۔�*

20/03/2025
29/05/2024

*معذرت کے ساتھ۔*
*کیا یہ ٹوپی پہن کر آپ تجارت کر سکتے ہیں۔۔۔؟*
*اپنے آفس جا سکتے ہیں، اپنے باس کے سامنے جاسکتے ہیں۔۔۔؟*
*دوست احباب کی محفل میں بیٹھ سکتے ہیں۔۔۔؟*
*کسی دعوت میں جاسکتے ہیں۔۔۔؟*
*علاقے کے کسی بڑے عہدیدار کے پاس جاسکتے ہیں۔۔۔؟*
*کیا یہ اس قابل ہے کہ آپ یہ پہن کر محلے کی چار گلیاں گھوم سکیں۔۔۔؟*

*اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ جو ٹوپی اس قابل بھی نہیں*
*اور اس کو ہم خلّاقِ عالم، مولائے کل، رب قہار و جبار، بادشاہوں کا بادشاہ، ربّ محمدؐ کے دربار میں پہن کر ایسے جاتے ہیں جیسے ربّ پر احسان کر رہے ہوں۔*

*ڈوب کے مرجانا چاہئے ہم مسلمانوں کو جو پنج وقتہ نماز کے لئے چند پیسے خرچ کرکے ایک عدد ڈھنگ کی ٹوپی تک نہ خرید سکیں اور پاؤں میں پہنی چپّل کسی بڑے برینڈ کے لوگو کا لشکارا مار رہی ہو*

*ملے وقت تو پورا سوچئے گا*
*ضرور سوچئے گا*

*اگر آپ اس پیغام سے متفق ہیں تو شیئر کیجئے، تاکہ سب لوگ اس کی طرف توجہ دے سکیں*

08/04/2024

‏"اگر آپ اسٹاک مارکیٹ کو سمجھنا چاہتے ہیں تو یہ پوسٹ صرف آپ کے لئے"

ایک گاؤں میں ایک اجنبی شخص آیا اور اس نے اعلان کروایا کہ وہ گاؤں والوں سے ایک بندر 10 روپے میں خریدے گا۔ اس گاؤں کے ارد گرد بہت زیادہ بندر تھے ، دیہاتی بہت خوش ہوئے، انہوں نے بندر پکڑنا شروع کر دیئے۔ اس آدمی نے ایک ہزار بندر 10، 10 روپے کے بدلے میں خریدے، اب گاؤں میں بندروں کی تعداد کافی کم ہو چکی تھی، چند ایک بندر باقی تھے جنہیں پکڑنا دشوار ہو گیا تھا۔ اس وقت تاجر نے اعلان کیا کہ اب وہ بندر 20 روپے میں خریدے گا، اس سے دیہاتیوں میں نیا جذبہ پیدا ہوا اور ایک دفعہ پھر انہوں نے پوری قوت سے بندر پکڑنا شروع کئے۔ چند دن بعد بندر اکا دکا ہی نظر آتے اور اس نئے آئے ہوئے تاجر کے ایک بڑے پنجرے میں تقریبا 1300 بندر جمع ہو چکے تھے ۔ جب تاجر نے بندروں کی خریداری میں سستی دیکھی تو اس نے فی بندر قیمت پہلے 25 روپے مقرر کی اور پھر اگلے دن قیمت 50 روپے کر دی۔ اس قیمت میں اس نے صرف 9 بندر خریدے ۔ اب جو بندر بھی نگاہ انسانی کی زد میں آتا ، داخل زندان کر دیا جاتا اسکے بعد وہ کام کے سلسلے میں کسی دور دراز شہر چلا گیا اور اسکا اسٹنٹ کام سنبھالنے لگا۔ اسکی غیر موجودگی میں اسکے اسٹنٹ نے دیہاتیوں کو جمع کر کے کہا کہ: ”بھائیو! اس بڑے پنجرے میں تقریبا 1450 جانور ہیں جو استاد نے جمع کئے ہیں۔ میں ایسا کرتا ہوں کہ تم سب کو یہ سارے 35 روپے فی بندر کے حساب سے بیچ دیتا ہوں، جب استاد آئے تو تم اسے یہ بندر 50 روپے میں بیچ دینا۔“ دیہاتی بہت خوش ہوئے اور انہوں نے اپنی ساری جمع پونجی خرچ کر کے بندر خرید لئے۔ اسکے بعد انہوں نے نہ کہیں تاجر کو دیکھا نہ ہی اسکے اسٹنٹ کو ، بس ہر جگہ
بندر ہی بندر تھے۔

اسے کہتےہیں اسٹاک مارکیٹ۔ سمجھ تو آپ گئے ہوں گے۔

03/04/2024

31/03/2024

‏ماہرین نفسیات کہتے ہیں!
1) اگر آپ کسی ہوٹل، ریسٹورنٹ یا عوامی تقریبات میں چائے پیتے ہوئے عام طور پر گھر پر چائے پینے کی نسبت زیادہ چینی اور دودھ ڈالتے ہیں تو آپ کے بدعنوان اور کرپٹ ہونے کے زیادہ امکانات ہیں۔

2) اگر آپ پبلک واش روم میں گھر کی نسبت زیادہ ٹشو پیپر استعمال کرتے ہیں تو آپ کے اندر ایک چور چھپا بیٹھا ہے کہ اگر آپ کو کوئی موقع مل گیا تو آپ ضرور چوری کریں گے۔

3) اگر آپ تقریبات میں اپنی پلیٹ میں بھوک اور ضرورت سے زیادہ کھانا محض اس لیے ڈالتے ہیں کہ اس کا بل کسی دوسرے جیب سے جارہا ہے تو آپ فطرتا" لالچی ہیں۔

4) اگر راہ چلتے وقت سڑک پر ملنے والی چیزوں کو آپ اپنی ملکیت سمجھتے ہیں تو آپ میں چوری چکاری کی خصوصیات بھی موجود ہیں ۔
5) اگر عام طور پر آپ قطار کو توڑ کر آگے جانے کی کوشش کرتے ہیں تو اگر آپ کوئی طاقت ور عہدہ دیا جائے تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اپنی حیثیت کا ناجائز فائدہ اٹھائیں گے۔
6) اگر عام طور پر ٹریفک جام میں آپ قطار توڑ کر دوسری گاڑیوں کے اندر گھسنے کی کوشش کرتے ہیں تو جب آپ کو کبھی سرکاری پیسے کا رکھوالا بنایا جائے تو اس بات کا پورا امکان ہے کہ آپ اس میں غبن کے مرتکب ہوں گے، کیونکہ آپ کو قوانین و ضوابط پر عمل سے نفرت ہے۔
7) اگر ٹریفک ہدایات اور قوانین کو توڑ کر کوئی فخر محسوس کرتا ہے تو ایسا انسان اپنی ذاتی تسکین کے لئے کسی کی زندگی کو بھی خطرے میں ڈال سکتا ہے-
😎 اگر آپ اپنے گھر کے گندے پانی کا بہتر انتظام کرنے کی بجائے رخ دوسرے کے گھر کی طرف کر دیتے ہیں تو آپ کو معاشرتی آداب معلوم نہیں۔
9) اگر آپ گھر اور آفس کی فالتو لائٹس بند کرنے کے عادی نہیں ہیں تو موقع ملنے پر آپ ملکی اور قومی وسائل کو ضائع کرنے کا ارتکاب کریں گے۔
10) اگر آپ طالب علم ہیں اور امتحان کی تیاری صرف امتحان سر پر آنے پر کرتے ہیں تو آپ کاہل اور کام چور ہیں اور آپ اپنے ساتھ ساتھ اپنے والدین، معاشرہ اور قوم کے بھی دشمن ہیں۔
11) اگر آپ کا زیادہ وقت کہانیاں پڑھنے، فلمیں اور ڈرامے دیکھنے میں گزرتا ہے تو آپ خیالوں اور خوابوں کی دنیا میں رہنے والے، بےعمل انسان ہیں جو اپنے علاوہ لواحقین اور دوست احباب کا مستقبل بھی برباد کر رہے ہیں۔
آئیے جہاں بھی ہمیں موقع ملے ہم خود باکردار انسان بننے کی کوشش کریں۔ یہ زندگی عطیہ خداوندی ہے اور قوم کی امانت ہے۔ اس میں خیانت ہرگز نہ کریں...!
یاد رکھیں کرپشن، بدعنوانی اور ایسی بے شمار برائیوں کے خاتمے کی شروعات خود سے ہوتی ہیں۔ آئیے خود پہل کریں خود کو ان برائیوں سے پاک کرنے کی کوشش و محنت کریں ۔۔۔!
ایمانداری اور اچھے رویوں کا پیمانہ اپنے لئے، اپنے گھر کے لیے اور عوامی مقامات کے لئے ایک جیسا اور یکساں ہونا چاہئے ۔۔۔!
شکریہ

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Peshawar
25000