Muhammad Ibrahim

Muhammad Ibrahim

Share

Muhammad Ibrahim – Islamic Scholar | Motivational Speaker
Sharing wisdom, peace & positive values.

Inspiring hearts, guiding minds, and promoting knowledge, faith, and good character. Welcome to my space of ideas🖋️
Where thoughts breathe, words inspire, and goodness finds a voice.

07/06/2026

01/06/2026

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيمِ
اپیل برائے تعاون تعمیر مدرسہ
الحمد للہ! دینی تعلیم کے فروغ، قرآن و سنت کی اشاعت اور آنے والی نسلوں کی اسلامی تربیت کے لیے مدرسہ کی تعمیر جاری ہے۔ آپ کا معمولی یا بڑا تعاون اس عظیم دینی مشن میں حصہ بن سکتا ہے اور آپ کے لیے صدقۂ جاریہ کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿مَّن ذَا الَّذِي يُقْرِضُ اللَّهَ قَرْضًا حَسَنًا فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً﴾
"کون ہے جو اللہ کو اچھا قرض دے، پھر اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس عطا فرمائے۔" (سورۃ البقرۃ: 245)
نیز ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
﴿إِنَّمَا يَعْمُرُ مَسَاجِدَ اللَّهِ مَنْ آمَنَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ﴾
"اللہ کی مسجدوں کو وہی لوگ آباد کرتے ہیں جو اللہ اور یومِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔" (سورۃ التوبہ: 18)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جب انسان فوت ہو جاتا ہے تو اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں سوائے تین چیزوں کے: صدقۂ جاریہ، نفع بخش علم، یا نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔" (صحیح مسلم)
محترم اہلِ خیر!
آج آپ کی دی ہوئی ایک اینٹ، ایک بوری سیمنٹ، ایک سریا یا تھوڑی سی مالی مدد بھی اس مدرسہ کی تعمیر میں شامل ہو کر قیامت تک آپ کے لیے اجر و ثواب کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
* ایک اینٹ کا حصہ ڈالیں۔
* ایک بوری سیمنٹ کا حصہ ڈالیں۔
* سریا، ریت، بجری یا مزدوری میں تعاون کریں۔
* ایک کمرہ یا تعمیر کے کسی حصے کی کفالت کریں۔
* اپنے مرحومین کے ایصالِ ثواب کے لیے حصہ شامل کریں۔
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو اللہ کے لیے مسجد بناتا ہے، اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بناتا ہے۔"
(صحیح البخاری، صحیح مسلم)
اگر آپ کی مالی استطاعت نہیں، لیکن آپ کا دل اس کارِ خیر میں شریک ہونے کی خواہش رکھتا ہے تو اس پیغام کو دوسروں تک پہنچائیں، اہلِ خیر کو اس منصوبے سے آگاہ کریں اور اس نیک کام کے لیے سفارش کریں۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿مَنْ يَشْفَعْ شَفَاعَةً حَسَنَةً يَكُنْ لَّهُ نَصِيبٌ مِّنْهَا﴾
"جو شخص نیک کام میں سفارش کرے گا، اس کے لیے بھی اس نیکی میں حصہ ہوگا۔" (سورۃ النساء: 85)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
"جو کسی نیکی کی طرف رہنمائی کرے، اسے بھی نیکی کرنے والے کے برابر اجر ملتا ہے۔"
(صحیح مسلم)
لہٰذا اگر آپ ایک روپیہ بھی نہ دے سکیں تو اس پیغام کو اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور اہلِ خیر تک ضرور پہنچائیں۔ ممکن ہے آپ کے ذریعے کوئی شخص اس تعمیر میں حصہ ڈال دے اور آپ بھی اس عظیم اجر میں شریک ہو جائیں۔
📞 رابطہ:
مہتمم: مفتی محمد ابراہیم آفریدی
0334-9032170
📱 ایزی پیسہ / نیا پے:
0333-1303099

اللّٰہم بارک للمنفقین والمتصدقین
اللہ تعالیٰ تمام معاونین، مخیر حضرات اور اس پیغام کو آگے پہنچانے والوں کے مال، اولاد، صحت اور عمر میں برکت عطا فرمائے، اور اس خدمتِ دین کو ان کے لیے نجات اور جنت کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین
#چندہ #صدقہ

01/06/2026

#چغلي #چغلـخور

27/05/2026

#عید #مبارک #تکبیرات #تشریق

26/05/2026

تکبیرات تشریق
#تکبیرات #حج #تشریق

Photos from Muhammad Ibrahim's post 24/05/2026

رائے درکار ہے: مدرسہ بنات کے لیے تہہ خانہ کہاں بنانا بہتر ہے؟
الحمدللہ، مدرسہ تعلیم القرآن والسنہ للبنات کی تعمیر کا منصوبہ ہے۔ آپ کے تجربے کے مطابق بچیوں کی سہولت، روشنی، ہوا اور بجٹ کے لحاظ سے کون سی جگہ بہترین رہے گی؟

22/05/2026

#بغیرتحقیق فیصلہ: ڈیجیٹل دور کا معاشرتی ناسور اور ہمارا زوال
کالم نگار: محمد ابراہیم آفریدی
آج ہمارے معاشرے میں ایک عجیب، ہولناک اور خود غرضانہ نفسیاتی مزاج جنم لے چکا ہے۔ ہم ایک ایسے دور سے گزر رہے ہیں جہاں دلیل سے زیادہ جذبات کو اہمیت دی جاتی ہے، جہاں تحقیق کی دھیمی اور سنجیدہ آواز کے مقابلے میں پروپیگنڈے کے فلک شگاف شور پر کان دھرے جاتے ہیں، اور جہاں ٹھوس مادی ثبوتوں کے مقابلے میں من گھڑت جذباتی کہانیوں پر یقین کر لیا جاتا ہے۔ مکر و فریب کی اس منڈی میں سچائی کی قیمت کوڑیوں کے بھاؤ لگ چکی ہے۔ بالخصوص سوشل میڈیا کے اس دورِ فتن میں یہ فکری اور اخلاقی بیماری اب محض ایک برائی نہیں رہی، بلکہ ایک وبائی صورت اختیار کر چکی ہے جو ہمارے خاندانی اور سماجی ڈھانچے کو اندر سے کھوکھلا کر رہی ہے۔انٹرنیٹ کی مجازی دنیا میں اب کسی پر بھی الزام لگانا دنیا کا آسان ترین کام بن چکا ہے۔ کسی کے خلاف ایک مبہم سا دعویٰ سامنے آتا ہے، کچھ سنسنی خیز اور پرکشش جملوں کے ساتھ چند ویڈیوز اپ لوڈ ہوتی ہیں، اور دیکھتے ہی دیکھتے پورا معاشرہ بغیر کسی تحقیق کے، اور بغیر دوسرے فریق کا مؤقف سنے، خود ہی جج، وکیل اور جلاد کی کرسی پر براجمان ہو جاتا ہے۔
سوشل میڈیا کے یہ "لائکس" اور "شیئرز" دراصل وہ لکڑیاں ہیں جو کسی کی عزت کو سرِعام نذرِ آتش کرنے کے لیے استعمال کی جا رہی ہیں، اور المیہ یہ ہے کہ ہم سب اس تماشے کے تماشائی ہی نہیں، بلکہ برابر کے حصہ دار بن چکے ہیں۔
دینِ اسلام کی بنیاد ہی عدل، انصاف اور گہرے تدبر پر قائم ہے۔ قرآنِ کریم ہمیں بار بار عقل و شعور کو استعمال کرنے اور کسی بھی بات کی تہہ تک پہنچنے کی دعوت دیتا ہے۔ اسلام جذبات کی رو میں بہہ جانے کے بجائے ٹھنڈے دماغ سے حقیقت کا ادراک کرنے کا حکم دیتا ہے، مگر افسوس کہ ہم نے اپنے وقتی جذبات، تعصبات اور ذاتی پسند و ناپسند کو الٰہی احکام پر ترجیح دے دی ہے۔
اللہ رب العزت کا ارشادِ گرامی ہے:﴿يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنْ جَآءَكُمْ فَاسِقٌۢ بِنَبَاٍ فَتَبَيَّنُوْۤا اَنْ تُصِيْبُوْا قَوْمًا بِجَهَالَةٍ فَتُصْبِحُوْا عَلٰى مَا فَعَلْتُمْ نٰدِمِيْنَ﴾ (الحجرات: 6)
ترجمہ: "اے ایمان والو! اگر تمہارے پاس کوئی فاسق (جھوٹا، گناہ گار یا غیر معتبر شخص) کوئی خبر لے کر آئے تو اچھی طرح تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم نادانی میں کسی قوم کو نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پچھتانا پڑے۔"
غور کیجیے! یہ آیتِ مبارکہ گویا چودہ سو سال پہلے ہی آج کے اس "فیک نیوز" (Fake News) اور ڈیجیٹل میڈیا کے دور کے لیے ایک الہامی گائیڈ لائن کے طور پر نازک ترین اصول وضع کر رہی ہے۔ فاسق کی خبر سے مراد ہر وہ خبر ہے جس کا منبع سچا اور قابلِ اعتماد نہ ہو۔ مگر ہمارا المیہ دیکھیے کہ آج کسی بھی خبر کی صداقت جاننے، اس کے پسِ منظر کو ٹٹولنے اور اس کے معاشرتی اثرات پر غور کرنے سے پہلے، محض ایک 'کلک' یا 'شیئر' کے ذریعے اسے کروڑوں لوگوں تک وائرل کرنا ہم اپنا اولین مذہبی اور اخلاقی فریضہ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ ہماری اس ایک نادانی سے کسی کا گھر اجڑ سکتا ہے اور کسی کی زندگی بھر کی کمائی ہوئی عزت خاک میں مل سکتی ہے۔جب ہم تاریخ اور قرآن کے جھروکوں میں جھانکتے ہیں، تو سورۂ یوسف میں مکر، فریب اور ظاہری مظلومیت کا ایک ایسا عبرت ناک واقعہ ملتا ہے جو رہتی دنیا تک کے منصفوں اور انسانوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ جب حضرت یوسف علیہ السلام پر زلیخا کی طرف سے الزام لگایا گیا، تو ظاہری طور پر تمام تر ہمدردیاں اور شاہی اثر و رسوخ ایک عورت کے ساتھ تھا جو خود کو مظلوم ثابت کر رہی تھی۔ لیکن ایک دانا منصف نے جذبات اور مکر کے اس دبیز پردے کو چاک کرنے کے لیے مادی ثبوت کو بنیاد بنایا۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے:﴿فَلَمَّا رَاٰ قَمِيْصَهٗ قُدَّ مِنْ دُبُرٍ قَالَ اِنَّهٗ مِنْ كَيْدِكُنَّ ؕ اِنَّ كَيْدَكُنَّ عَظِيْمٌ﴾ (یوسف: 28)
ترجمہ: "نہیں جب (عزیزِ مصر) نے دیکھا کہ یوسف کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا ہے تو اس نے کہا: یقیناً یہ تم عورتوں کا مکر ہے، بیشک تمہارا مکر بڑا بھاری ہے۔"
یہ آیت اس نفسیاتی اور معاشرتی حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ مظلومیت کا لبادہ، آنسوؤں کا سیلاب اور مکر و فریب کی جذباتی چالاکیاں انسان کو حقیقت سے کوسوں دور لے جا سکتی ہیں۔ اگر کرتے کا اگلا حصہ پھٹا ہوتا تو حضرت یوسف مجرم ہوتے، لیکن پیچھے سے پھٹے ہوئے کرتے نے گواہی دی کہ وہ اپنا دامن بچا کر بھاگ رہے تھے اور وار پیچھے سے کیا گیا تھا۔ اسی لیے اسلام نے محض زبانی دعوؤں، روایتی مظلومیت یا سنسنی خیز بیانات پر فیصلے صادر کرنے کے بجائے، مادی ثبوتوں، قرائن اور غیر جانبدارانہ گہری تحقیق کو لازم قرار دیا ہے۔جہاں قرآنِ مجید مکر اور جذباتی چالوں سے ہوشیار رہنے کا سخت حکم دیتا ہے، وہیں احادیثِ مبارکہ بھی اس آزمائش اور فتنے کی سنگینی کو پوری صراحت کے ساتھ واضح کرتی ہیں۔ رسول اللہ ﷺ نے انسانی نفسیات اور بالخصوص خواتین کی اس صلاحیت کا تذکرہ فرمایا جو مردوں کے فیصلوں پر اثر انداز ہوتی ہے۔
آپ ﷺ کا فرمان ہے:«مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِلُبِّ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ» (صحیح بخاری: 304)
ترجمہ: "میں نے عقل اور دین میں (ایک خاص فطری اعتبار سے) کمی کے باوجود، کسی عقلمند اور پکے ارادہ رکھنے والے مرد کی عقل کو ہرا دینے (یا اسے اپنے قابو میں کر لینے) والی تم (عورتوں) سے زیادہ کوئی نہیں دیکھی۔"
اس حدیث کی تشریح میں محدثین فرماتے ہیں کہ یہاں عورت کی تحقیر مقصود نہیں، بلکہ مردوں کو یہ سمجھانا مقصود ہے کہ عورت کے اندر اللہ نے ایک ایسی کشش، جذباتی اثر اور تدبیر رکھی ہے کہ وہ بڑے سے بڑے حازم (مضبوط اور دانا) مرد کو بھی اپنے زیرِ اثر لا کر اس کے فیصلے تبدیل کروا سکتی ہے۔ لہٰذا، مردوں کو ایسے معاملات میں اپنی عقل اور شرعی اصولوں کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑنا چاہیے۔اسی تسلسل میں، ایک اور مقام پر آپ ﷺ نے کائنات کے سب سے بڑے فتنوں اور آزمائشوں کا ذکر کرتے ہوئے امت کو خبردار کیا اور فرمایا:
«فَاتَّقُوا الدُّنْيَا وَاتَّقُوا النِّسَاءَ، فَإِنَّ أَوَّلَ فِتْنَةِ بَنِي إِسْرَائِيلَ كَانَت| فِي النِّسَاءِ» (صحیح مسلم: 2742)
ترجمہ: "دنیا (کی محبت) سے بچو اور عورتوں (کی آزمائشوں اور چالوں) سے بچو، کیونکہ بنی اسرائیل میں سب سے پہلا فتنہ عورتوں ہی کی وجہ سے پیدا ہوا تھا۔"
ان تمام شرعی نصوص، آیات اور احادیث کا مقصد کسی ایک جنس کی تذلیل یا اس پر مستقل الزام تراشی ہرگز نہیں ہے، کیونکہ قرآنِ مجید میں جہاں عورتوں کے مکر کا ذکر ہے، وہاں مردوں کی چالوں اور سازشوں کے لیے بھی "فَيَكِيْدُوْا لَكَ كَيْدًا" (سورہ یوسف: 5) جیسے الفاظ استعمال ہوئے ہیں۔ ان احکام کا اصل اور حقیقی مقصد انسان کو جذباتی اندھے پن، اندھی تقلید، جلد بازی میں کیے گئے فیصلوں اور ظاہری مظلومیت کے پیچھے چھپے عبرت ناک حقائق سے باخبر رکھنا ہے۔ اسلام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہر چمکتی چیز سونا نہیں ہوتی اور ہر روتا ہوا چہرہ مظلوم کا نہیں ہوتا۔
آج ہمارے اردگرد روزانہ یہ تماشا برپا ہوتا ہے کہ کسی بھی دعوے کو صرف اس لیے سچ مان لیا جاتا ہے کیونکہ اسے کیمرے کے سامنے روتے دھوتے، چیخنے چلانے یا انتہائی مظلوم بن کر پیش کیا گیا ہوتا ہے۔ ہمارا یہ جذباتی معاشرہ فوری طور پر ملزم کے گلے میں پھانسی کا پھندا تیار کر لیتا ہے۔ لیکن جب وقت گزرتا ہے، قانون اپنا کام کرتا ہے، اور اصل حقائق کی گرد بیٹھتی ہے، تو معلوم ہوتا ہے کہ کہانی کا دوسرا رخ تو بالکل ہی مختلف تھا، عدالتی ثبوت کچھ اور کہہ رہے تھے اور پسِ پردہ کھیل بہت گہرا اور خوفناک تھا۔اس جذباتی اندھیر نگری اور بغیر تحقیق کے فیصلے صادر کرنے کا سب سے ہولناک اور بھیانک نتیجہ کیا نکلتا ہے؟ اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ جب معاشرے میں کوئی واقعی "حقیقی مظلوم" (چاہے وہ مرد ہو یا عورت) اپنی سچی بپتا اور درد لے کر سامنے آتا ہے، تو لوگ اس کے سچے آنسوؤں اور حقیقی زخموں کو بھی ماضی کے مکر و فریب کے تجربات کا تسلسل سمجھ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ یوں معاشرے سے ہمدردی کا جنازہ نکل جاتا ہے، سچے مظلوم بے یار و مددگار رہ جاتے ہیں، اور انصاف کا پورا نظام پاش پاش ہو جاتا ہے۔
وقت کا شدید تقاضا ہے کہ ہم اب بھی ہوش کے ناخن لیں۔ سوشل میڈیا کی اس بھیڑ چال اور "ڈیجیٹل عدالتوں" کے جج بننے کے بجائے قرآنی اصولِ تحقیق کو اپنائیں۔ اسلام کا بنیادی اصول نہ تو مرد کی اندھی اور متعصبانہ حمایت ہے اور نہ ہی عورت کی یکطرفہ اور جذباتی طرفداری۔ اسلام کا ترازو تو صرف اور صرف تحقیق، ٹھوس شہادت، انصاف اور حق' کا ترازو ہے۔
اگر ہم نے آج اپنی اس فکری اور سماجی بیماری کا علاج نہ کیا، اور بغیر تصدیق کے خبریں پھیلانے اور فیصلے سنانے کے اس سلسلے کو نہ روکا، تو یہ بے لگام جذباتی لہر ہمارے پورے سماجی امن، خاندانی سکون اور اخلاقی اقدار کو راکھ کا ڈھیر بنا دے گی۔ اللہ ہمیں سچ سننے، سچ کا ساتھ دینے اور تحقیق کو اپنا شعار بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔
کالم تھوڑا لمبا ہوگیا اس کے لیے معذرت
شکریہ
مفتی محمد ابراہیم آفریدی
#کالم
العربي - أخبار DW اردو

22/05/2026

د عرفی روژه

#عرفی #روژه #فضيلت

21/05/2026

د قدم ښوئېدل

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Peshawar?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Peshawar

Opening Hours

Monday 15:00 - 22:00
Saturday 15:00 - 22:00