Sanjh Lok Raj
سانجھ کی فکری تحریک کا مقصد نوجوانوں کو سوچنے کا عادی ب?
30/03/2026
پاکستان کا ریاستی نظریہ٫ ریاستی ملائیت اور ریاستی دانشور اپنا فرض سمجھتے ہیں کہ وہ عالمی سرمایہ داری کے حامی نظریات کی ترویج اور اشاعت کریں۔ ترقی پسند نظریات کا راستہ روکیں اور مزاحمت کو ترویج دینے والے خیالات پر مذہب کے ہتھیار لے کر حملہ آور رہیں۔ اس وجہ سے وہ سیکیولرازم، لبرلزم اور سوشلزم کو کفر قرار دیتے ہیں۔ عام پاکستانی ان کے درمیان فرق کو سمجھ ہی نہیں پاتا۔ وہ سوشلسٹوں کو لبرل اور سیکولر کو سوشلسٹ سمجھتے ہیں۔ ایران پر امریکی اسرائیلی حملے نے اس جنگ پر تبصرہ کرنے والوں میں فرق واضح کردیا ھے۔ لبرلز چونکہ سرمایہ داری نظام کے وکیل ھوتے ہیں اس وجہ سے وہ ایران میں ملائیت،، عورتوں کے حقوق اور انتخابی جمہوریت کے حوالے سے ایران ہی پر تنقید کر رھے ہیں۔ جبکہ مارکسی اسے سامراج کی دنیا بھر کے وسائل پر قبضے کی نظر سے تجزیہ کر رھے ہیں۔ اس جنگ کو دیکھنے کے زاویئے نے لبرلز اور مارکسیون کے درمیان فرق کو واضح کر دیا ھے
Liberals and Marxists Analysis of the US-Iran war 🎥 **Liberals vs. Marxists: Unpacking the US-Iran War | Critical Analysis** 🌍Dive deep into the ideological battleground as we explore the contrasting persp...
27/03/2026
ساتھیو!
29 مارچ 1849ء وہ سیاہ دن تھا جب شاہی قلعہ لاہور میں برطانوی استعمار نے پنجاب کی غلامی کا باضابطہ اعلان کیا ۔ اس دن سے ایک ایسے نوآبادیاتی (کالونیل) ڈھانچے کی بنیاد رکھی گئی جس نے نہ صرف ہماری معیشت اور سیاست کو جکڑا بلکہ ہمارے تعلیمی اور ذہنی ڈھانچے کو بھی غیر پیداواری بنا کر ہمیں فکری طور پر مفلوج کر دیا ۔
سانجھ کی فکری تحریک اسی کالونیل نظام کے تسلسل کو سمجھنے، اس کی تباہ کاریوں کو بے نقاب کرنے اور عوام کی امنگوں کے مطابق ایک نئے سماجی ڈھانچے کی تشکیل کے لیے 29 مارچ 2006 کو شروع کی گئی تھی ۔ ہمارا مقصد نوجوان نسل کو ان مادی وجوہات سے آگاہ کرنا ہے جو ہماری معاشی بدحالی کا سبب ہیں، تاکہ ہم جدید علوم کے ذریعے ان فرسودہ نظریات کا مقابلہ کر سکیں جو ہمیں آگے بڑھنے سے روکتے ہیں ۔
ہم آپ کو سانجھ کے یومِ تاسیس کی اس فکری نشست میں شرکت کی دعوت دیتے ہیں جہاں ہم مل کر:
معاشرے کی طبقاتی بناوٹ اور معاشی استحصال کے سائنسی اسباب پر گفتگو کریں گے ۔
تعلیمی نظام کو عالمی سرمایہ داری کے چنگل سے نکال کر اسے پیداواری بنانے کی راہ تلاش کریں گے ۔
اور ایک ایسے معاشرے کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کی جدوجہد کریں گے جو بے انصافی، ظلم اور جہالت سے پاک ہو ۔
آپ کی شرکت محض ایک حاضری نہیں بلکہ اس فکری تبدیلی کی جانب ایک قدم ہے جو سماجی انقلاب کا پہلا زینہ ہے ۔
بانی فکری تحریک سانجھ: مسعود خالد
25/03/2026
سولہویں صدی سے بیسویں صدی تک کا زمانہ نوآبادیاتی دور کہلاتا ھے جب کچھ یورپی ممالک نے دنیا کے دور دراز اور پسماندہ علاقوں سے تجارت شروع کی مقامی لوگوں پر مشتمل افواج بنائیں اور پھر سازشوں کے ذریعے ان ممالک پر قبضہ کر لیا۔ یہ قبضہ ان ممالک کی زمینوں , معددنیات٫ قدرتی وسائل پر تھا۔ آج کا دور جدید نوآبادیاتی دور ھے جس میں پوسٹ کالونیل ملکوں کی معیشت پر تو عالمی سامراجی معاشی نظام کا قبضہ ھے جبکہ ایسی معیشت کو چلانے کیلئے جو سیاسی نظام تشکیل دیا جاتا ھے وہ مقامی افواج اور بیوروکریسی کی ماتحتی میں چلایا جاتا ھے۔ آج کی معدنیات وہ ڈیٹا ھے جو دنیا بھر کے انسان تخلیق کر کے سوشل میڈیا پر ڈالتے ہیں۔ ان ڈیجیٹل کمپنیوں کا ھمارے سماج میں اتنا اثر بڑھ گیا ھے کہ بنکنگ کے نظام سے دفاعی سسٹم تک ڈیجیٹل ھو چکا ھے۔ عالمی سرمایہ داری کی معیشت کے کارندے ممالک کا انحصار اب انہی ڈیجیٹل کمپنیوں پر ھے۔ پارلیمنٹ کو بالادستی حاصل نہیں اور اج کے زمانے میں digital sovereignty بھی ملٹی نیشنل ڈیجیٹل کمپنیوں کے پاس ھے۔ یہ کالونیل غلامی کا ایک نیا مرحلہ ھے
Digital Colonialism 🌍💻 Dive deep into the complex world of **Digital Colonialism** in our latest video! Discover how tech giants leverage digital platforms to dominate emergin...
10/12/2025
Decolonizing punjab
Indigenous Philosophy 🌍✨ Dive deep into the mesmerizing realm of Indigenous Philosophy! In this eye-opening video, we unravel the profound wisdom and ancient teachings of Indigen...
30/11/2025
https://youtu.be/5RPy4DPvTf8?si=Q25jZndeTvDC6bpg
کالونیل دور میں برطانوی سامراج نے ہندوستان پر فوج کے ذریعے قبضے کیئے اور بیوروکریسی کی آمریت مسلط کر کے کالونیل معاشی نظام کو چلایا۔ آذادی کی تحریکوں کے نتیجے میں جو سیاسی نظام متعارف کروایا وہ بھی بیوروکریسی کے ماتحت رکھا۔ 1947،ء میں رسمی آذادی کے بعد سماجی اور سیاسی نظام میں سٹرکچرل تبدیلیوں کے بعد ملک فوجی امریکی دفاعی معاہدوں کے نتیجے میں امریکی افواج کے کنٹرول میں چلا گیا۔ جسے نیو کالونیل نظام کہتے ہیں۔ نیوکالونیل معیشت چلانے کیلئے اب کوئی ملک براہ راست تو قابض نہیں ھے مگر ملک کے سیاسی اور معاشی نظام پر مقامی فوج کے ذریعے عالمی سرمایہ داری یا امریکہ ہی کا قبضہ ھے۔ ملک کو زراعت پر جامد رکھ کر ، ملٹی نیشنل کمپنیوں کی مصنوعات کیلئے آذاد منڈی برقرار رکھنے کی ذمہ داری پوسٹ کالونیل افواج کی ھے۔ ا1954ء تک پاکستان کی بیوروکریسی نے فوج کے اقتدار پر قبضے کی راہ ھموار کر دی تھی۔ یہ قبضہ آج تک جاری ھے
Role of Army in Neo-Colonial Economy dive deep into the complex interplay between military influence and economic dynamics in our latest thought-provoking video! As nations grapple with the remn...
28/11/2025
پاکستان 1947ء میں برطانیہ کی غلامی سے آذاد ھو کر 1954 ء میں امریکی غلامی میں چلا گیا۔ برطانوی غلامی کے دور کو کالونیلزم کہا جاتا ھے جب برطانیہ کا آپکے معاشی و سیاسی نظام پر براہ راست قبضہ تھا۔ نیو کالونیلزم اس دور کو کہتے ہیں جب عالمی سرمایہ داری کا آپکے معاشی نظام پر تو براہ راست قبضہ ھے مگر سیاسی نظام پر آپکی فوج کے ذریعے امریکہ کا قبضہ ھے۔ کالونیل غلامی کے خاتمے پر نیو کالونیل معیشت کو چلانے کیلئے ریاستی ڈھانچے میں جو تبدیلیاں کی گئیں وہ بیوروکریسی کی آمریت تھی جو کہ گورنر جنرل غلام محمد کے ذریعے کروائی گئیں۔ فوج کا کردار سیاست میں فوج کو بیوروکریسی کے جونیئر پارٹنر کے طور پر شامل کیا پھر 1958ء میں فوج نے پاکستان کے معاشی اور سیاسی نظام پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ یہ قبضہ آج تک جاری ھے۔ پاکستان کے عوام کو اس قبضے کو سمجھنا اس لیئے ضروری ھے تاکہ وہ ایسی حکمت عملی بنانے میں مدد دے کہ عالمی سرمایہ داری کی ھمیں پسماندہ اور غریب رکھنے کے معاشی تدلط سے چھٹکارا مل سکے
Paving the way for the Generals to take over the Political System 🌟 Are the Generals the New Frontier of Political Power? 🌟 Dive into a scintillating discussion as we unravel the intricate dance between the military and p...
25/11/2025
یہ تو آپ نے سنا ھوگا کہ. فوج نے سیاسی حکومت کا تختہ الٹ دیا مگر یہ نہیں سنا ھوگا کہ کسی ملک کی بیوروکریسی نے ملک کے اقتدار اعلئ پر قبضہ کر لیا۔ لیاقت علی خان کے قتل کے بعد گورنر جنرل خواجہ ناظم الدین کا عہدہ گھٹا کر انہیں وزیر اعظم بنا دیا اور ایک بیوروکریٹ ملک غلام محمد کو گورنر جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔ چاہیئے تو یہ تھا کہ قانون ساز اسمبلی اپنا اجلاس منعقد کر کے اپنا وزیراعظم منتخب کرتی مگر یہ اکھاڑ پچھاڑ کن مقاصد کے تحت اور کن لوگوں کی ایماء پر ھوئی۔ تاریخ سے یہ بات مٹا دی گئی ھے لیکن آنے والے واقعات نے تصدیق کر دی کہ برطانوی سامراج کے آخری مہرے لیاقت علی خان کو راستے سے ہٹا کر مطلق العنان اختیارات کے حامل عہدے گورنر جنرل پر ملک غلام محمد کا قبضہ کروا کر امریکی مہرے کے ذریعے پاکستان کو سوشلزم کا راستہ روکنے کیلئے عالمی سرمایہ داری کی فوجی چھاونی بنانا تھا جس کے بعد سے پاکستان آج تک امریکی کالونی ھے
Bureaucracy takes over pakistan in 1951 🌍✨ Dive into the pivotal moment of 1951 when bureaucracy took center stage in Pakistan's evolution! In this captivating video, we unravel the complex layers...
22/11/2025
راولپنڈی سازش کیس پاکستان کی 1947ء میں برطانیہ سے رسمی آذادی اور 1954 میں امریکی غلامی میں چلے جانےکی درمیانی تاریخ کا ایک واقعہ ھے۔ کچھ جرنیل اور فوجی افسران جو پاکستان کو امریکی غلامی میں دھکیلے جانے کی لیاقت علی خان کی کوششوں سے ناخوش تھے ان کی ایک میٹنگ کی مخبری پر کسطرح اس وقت کی حکومت نے فوجی بغاوت کا کیس بنایا، سکندر مرزا اور جنرل ایوب خان نے کسطرح اپنا رستہ ھموار کیا۔ ان فوجی افسروں کو رستے سے ہٹا کر امریکی غلامی میں جانے کی راہ مکمل صاف کر لی۔ بعد اذاں ان افسروں سزائیں سنائی گئیں مگر جب پاکستان دفاعی معاہدوں کے ذریعے امریکہ کی فرنٹ لائن دفاعی ریاست بن گیا تو ان افسروں کو رہائی مل گئی ان میں سے پھر ہر ایک نے راولپنڈی سازش کیس پر کھل کر اظہار کیا اور عائشہ جلال نے امریکی اور برطانوی ڈی کلاسیفائیڈ خفیہ دستاویزات کے حوالے سے لکھا کہ یہ مقدمہ امریکی خارجہ پالیسی اور سرد جنگ کا نتیجہ تھا
The Rawalpindi Conspiracy case was itself a Conspiracy 🌍 Dive into history's shadows with our explosive video on the Rawalpindi Conspiracy case! 🕵️♂️ Uncover the untold secrets behind this pivotal event that s...
14/11/2025
پاکستان کے پہلے گورنر جنرل نے جو سیاسی رحجان متعارف کروایا تھا کہ مرکز صوبوں کو اپنی مقبوضات اور کالونیوں کیطرح چلائے گا، مرکز سے اختلاف رکھنے والی صوبائی وزارتیں برطرف کی جا رہی تھیں۔ پریس کوکنٹرول کرنے کیلئے سیفٹی ایکٹ مسلسل نافذ تھا لوگوں کو کنٹرول کرنے کیلئے ایمرجنسی نافذ تھی، مسلم لیگ کو پاکستان لیگ بنانے یا کسی دوسری سیاسی پارٹی کے قیام کی اجازت دینے کےامکان کو قاِئداعظم خود مسترد کر چکے تھے۔ ایسے میں پہلی غیر فرقہ وارانہ سیاسی جماعت مسلم لیگ ہی سے الگ ھوئے دو قائدین میاں افتخارالدین اور سردار شوکت حیات نے بنائی۔ وہ سمجھتے تھے کہ برطانیہ نے ہمیں سیاسی رسمی آذادی دی ھے مگر معاشی آذادی نہیں دی۔ وہ پاکستان ڈومینین کو آذاد نہیں سمجھتے تھے انہوں نے اس نئی پارٹی کا نام " آذاد پاکستان پارٹی " رکھا۔ پارٹی کا منشور تھا کالونیل معیشت سے آذادی، جاگیرداری کا خاتمہ ، معاشی انصاف اور جمہوریت۔ اس سے پہلے ایک کوشش پاکستان پیپلز پارٹی بنا کر کی گئی مگر گورنر جنرل کے حکم سے اس کے تمام لیڈروں کو گرفتار کر لیا گیا اور انکی گرفتاری پر احتجاج کرنے والوں پر سیدھی گولیاں چلا کر 700 کے قریب احتجاجیوں کو مار دیا گیا۔
Pakistan's First Non-Communal Party 🌟 Unveiling History: Discover Pakistan's First Non-Communal Party! 🌟 In this groundbreaking video, we dive deep into the revolutionary steps taken towards ...
12/11/2025
ایک زمانے میں علم کا منبع و ماخذ کسی شخصیت کو سمجھا جاتا تھا جیسے فلسفے میں ارسطو کے خیالات نے ایک ہزار سال تک علم کی دنیا پر راج کیا۔ کیونکہ یہ بات ارسطو نے کی ھے یہی آخری سچائی تھی ۔ کوئی اس پر سوال اٹھاتا تو لوگوں کی غصے اور قہر والی نگاھوں کی ذد میں آ جاتا۔ اس طرح کی شخصیت کو اتھارٹی یا سند کہا جاتا تھا۔ آپ نے اب بھی یہ انداز تحریر دیکھا ھوگا کہ فلاں نے فرمایا۔ پھر سائنس کے آغاز میں اتھارٹی پر سوال اٹھنے لگے اور کسی دعوے کی سچائی کیلئے تجرباتی تصدیق لازمی قرار پائی۔ جیسے ارسطو نے کہا تھا عورت کے دانت تعداد میں مرد سے کم ھوتےہیں۔ برٙرینڈ رسل نے کہا کہ چونکہ اب ثابت ھو چکا ھے کہ عورت کے دانت مرد کے برابر ھوتے ہیں۔ ارسطو کی دو بیویاں تھیں اس نے ان کے منہ میں انگلی ڈال کر دانتوں کی تعداد کی تصدیق کرنے کی زحمت گوارا نہیں کی۔ یہی مقام علامہ اقبال کو حاصل ھے۔ ان کی بہت ساری باتیں زندگی کے تجربہ نے غلط ثابت کردی ہیں۔ مگر ریاست انہیں فلسفہ پر اتھارٹی منوانے پر بضد ھے
Was Allama Iqbal a Philosopher? 🌟 Discover the genius of Allama Iqbal in today's video: "Was Allama Iqbal a Philosopher?" 📚 Uncover the depth behind his poetry and philosophy as we explor...
10/11/2025
https://youtu.be/RfBIGi2bvJs?si=jQwFqSAOjBJmbJ4f
پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی جہاں قائداعظم نے نوذائیدہ ملک کیلئے سوشلزم کا خطرہ دکھا کر امریکہ کو قائل کرنے کی کوشش کی تھی کہ وہ پاکستان کو عالمی سرمایہ داری نظام کی پناہ میں لے لے وہاں عوام کی سطح پر مطالبے وہ کیئے جا رھے تھے جن کو صرف سوشلسٹ نظام معیشت ہی سے پورا کیا جا سکتا تھا۔ جیسے ہندو حاگیرداروں کے ہندوستان کیطرف جبری انخلا کے بعد اس ذمین پر کام کرنے والے مسلمان مزارعین کا مطالبہ تھا کہ یہ جاگیریں ان مسلمان مزارعین میں فی خاندان کزارا یونٹ کے حساب سے تقسیم کر دی جائیں تو پنجاب کے وزیراعلئ ممتاز دولتانہ نے زرعی اصلاحات متعارف کروانے کا آغاز کیا۔ جس میں جاگیرداروں کیلئے خود کاشت رقبہ کی نشاندھی کرنا تھی باقی جنگلات، چراگاہ، بیج فارم، مویشی فارم اس سے مستثنئ تھے۔ جب حکومت نیوکالونیل سرمایہ داری کیلئے رستہ ھموار کر رھی ھو جاگیرداری جس کا لازمی جزو تھا تو ایسی زرعی اصلاحات کا کیا حشر ھوا ھو گا
ُPakistan’s First AgriculturalReforms in Punjab 🌾 **Unlocking Potential: Pakistan's First Agricultural Reforms in Punjab** 🌾Join us as we dive deep into the groundbreaking agricultural reforms taking pla...
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the organization
Telephone
Address
College Road
Pakpattan
57400