M USAMA Shayan
Do The Right Fear No Man
، ﺍﯾﮏ ﺁﺱ ، ﺍﯾﮏ ﺍﺣﺴﺎﺱ❤
❤ﻣﯿﺮﯼ ﺳﻮﭺ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﻝ ، ﺍﯾﮏ ﻣﺠﺎﻝ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺧﯿﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺕ ، ﺍﯾﮏ ﺷﺎﻡ
ﺗﻤﮩﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﺍﯾﮏ ﺩﻋﺎ ، ﺍﯾﮏ ﻓﺮﯾﺎﺩ
ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
، ﻣﯿﺮﺍ ﺟﻨﻮﻥ ، ﻣﯿﺮﺍ ﺳﮑﻮﻥ ❤
❤ﺑﺲ ﺗﻢ ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ﺗﻢ
22/07/2021
عنبر کہے خوشبو سے اَذاں ، عید مبارَک
عید آ گئی اے جانِ جہاں ، عید مبارَک
یاقوت لبوں پر ترے قربان شگوفے
چندا ترے ہنسنے کا نشاں ، عید مبارَک
دیدار جنہیں تیرا ملے اُن کو بھی تبریک
جو تجھ کو جہاں دیکھے ، وَہاں عید مبارَک
ملنے کو تجھے صف میں کھڑا ہوں سرِ دَربار
ملکائیں ، شہنشاہِ زَماں ، عید مبارَک
بوسوں کی ترے رُخ کے ملے تتلی کو عیدی
ہر سمت ہو خوشیوں کا سماں ، عید مبارَک
اَللہ مری ساری خوشی بھیج دے تجھ کو
غم بھیجے ترے سارے یہاں ، عید مبارَک
راتیں تری تاباں رہیں ، دِن نورِ دَرخشاں
خوشبو ہو تری اور جواں ، عید مبارَک
کشمش ہو دَہَن میں تو لب اَنگور کو چومیں
منہ میٹھا ہو ، نمکین زَباں ، عید مبارَک
ہر پل ترا عشرت کدے میں شان سے گزرے
غنچوں سا ہنسے ، غنچہ دَہاں ، عید مبارَک
وُہ جوڑیں گے ہر شعر کے کب پہلے حرف کو!
کر دیتے ہیں قیس اِن میں نہاں #عید مبارَک
09/06/2021
انشا جی اٹھو اب کوچ کرو اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن کو دیکھو تو سہی سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو سجنی سے کرو گے بہانا کیا
پھر ہجر کی لمبی رات میاں سنجوگ کی تو یہی ایک گھڑی
جو دل میں ہے لب پر آنے دو شرمانا کیا گھبرانا کیا
اس روز جو اُن کو دیکھا ہے اب خواب کا عالم لگتا ہے
اس روز جو اُن سے بات ہوئی وہ بات بھی تھی افسانہ کیا
اس حسن کے سُچے موتی کو ہم دیکھ سکیں پر چُھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں وہ دولت کیا وہ خزانہ کیا
اس کو بھی جلا دکھتے ہوۓ من ایک شعلہ لال بھبوکا بن
یوں آنسو بن بہہ جانا کیا یوں ماٹی میں مل جانا کیا
جب شہر کے لوگ نہ رستہ دیں کیوں بن میں نہ جا بسرام کرے
دیوانوں کی سی نہ بات کرے تو اور کرے دیوانہ کیا
ابن انشا
کیا لگے آنکھ ، کہ پِھر دل میں سمایا کوئی
رات بھر پِھرتا ہے اِس شہر میں سایا کوئی
فِکر یہ تھی کہ شب ہجر کٹے گی کیوں کر
لُطف یہ ہے کہ ہمَیں یاد نہ آیا کوئی
شوق یہ تھا کہ محبت میں جلیں گے چُپ چاپ
رنج یہ ہے کہ، تماشہ نہ دِکھایا کوئی
شہْر میں ہمدمِ دیرِینہ بُہت تھے ناصر
وقت پڑنے پہ مِرے کام نہ آیا کوئی
ناصرکاظمی
18/01/2021
18 جنوری 1955 کو محض 42 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہوجانے والے عظیم افسانہ نگار کی آج 66ویں برسی ہے۔
اردو افسانے کا ذکر تب تک مکمل نہیں ہوتا جب تک اس میں سعادت حسن منٹو کو شامل نہ کیا جائے، جن کی زندگی تو تمام ہوگئی مگر ان کے قلم کی سیاہی کبھی ختم نہ ہوئی اور وہ تب تک افسانے لکھتے رہے جب تک انہوں نے اپنے بستر پر ہی ہمیشہ کے لیے آنکھیں بند نہ کیں۔
منٹو آج بھی بہت سے لوگوں کے ناپسندیدہ افسانہ نگار ہونے کے باوجود وہ بہت سوں کے پسندیدہ افسانہ نگار بھی ہیں۔
لیکن ان حضرات کے بارے میں کیا کہا جائے جو ہمیشہ منٹو کے پڑھنے والوں کو یہی تاکید کرتے رہتے ہیں کہ "بچوں کو منٹو کی کہانیوں سے دور رکھیں"، مگر وہ خود ان کے افسانے چھپ چھپ کر پڑھتے رہتے ہیں، اور ان کے افسانوں میں جنسی لذت کا پہلو تلاش کرتے ہوئے بھرپور لطف اٹھاتے ہیں۔
شاید ایسے ہی لوگوں کے بارے میں منٹو نے کہا تھا کہ معاشرے کے تاریک پہلوؤں سے پردہ اٹھاتی میری تلخ کہانیوں میں اگر آپ کو جنسی لذت نظر آتی ہے تو یقیناً آپ ذہنی طور پر بیمار ہیں۔
انہوں نے اپنے ایک مضمون میں لکھا تھا کہ "مجھے آپ افسانہ نگار کی حیثیت سے جانتے ہیں، اور عدالتیں ایک فحش نگار کی حیثیت سے، حکومت مجھے کمیونسٹ کہتی ہے اور کبھی ملک کا بہت بڑا ادیب۔ کبھی میرے لیے روزی کے دروازے بند کیے جاتے ہیں اور کبھی کھولے جاتے ہیں۔ میں پہلے بھی سوچتا تھا اور اب بھی سوچتا ہوں کہ میں کیا ہوں۔ اس ملک میں جسے دنیا کی سب سے بڑی اسلامی سلطنت کہا جاتا ہے، میرا مقام کیا ہے، میرا اپنا مصرف کیا ہے؟"
سعادت حسن منٹو کو 14 اگست 2012 کو بعد از مرگ نشانِ امتیاز سے نوازا گیا.
10/12/2020
#ہاۓ
26/11/2020
24/11/2020
کیا کرو گے
She's awesome
26/10/2020
Tag your friends
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the establishment
Telephone
Website
Address
Multan
65900