Agripoint

Agripoint

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Agripoint, Professional Service, Multan.

24/01/2026
28/09/2025

Best Product for false s**t of Rice

19/09/2024

پاکستان میں فصلوں کی پیداوار کیوں کم آتی ہے؟

1. پانی کی قلت اور ناقص آبپاشی نظام

پاکستان ایک زرعی ملک ہونے کے باوجود پانی کی شدید کمی کا شکار ہے۔ زیادہ تر آبپاشی کا انحصار دریاؤں اور نہروں پر ہے، لیکن ناقص نہری نظام اور پانی کا ضیاع، فصلوں تک مناسب پانی کی فراہمی میں رکاوٹ بنتا ہے۔ ملک میں پانی کی قلت کا مسئلہ بڑھ رہا ہے جس کی بڑی وجہ ڈیموں کی کمی اور زیرِ زمین پانی کے ذخائر کا کم ہونا ہے۔

2. جدید زرعی ٹیکنالوجی کا فقدان

دنیا میں جدید زرعی ٹیکنالوجی جیسے ڈرپ ایریگیشن، ایگرو کیمیکلز کا مؤثر استعمال اور ٹریکٹرز، ہارویسٹرز جیسی مشینری کو اپنانے سے زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے۔ لیکن پاکستان میں زیادہ تر کسان اب بھی پرانے روایتی طریقے استعمال کرتے ہیں۔ اس سے نہ صرف محنت زیادہ لگتی ہے بلکہ پیداوار بھی کم ہوتی ہے۔

3. کھادوں اور بیجوں کا ناقص معیار

پاکستانی کسان اکثر ناقص معیار کے بیج اور کھاد استعمال کرتے ہیں۔ جدید اور بہتر معیار کے بیج کسانوں تک نہیں پہنچتے، یا پھر مہنگے ہوتے ہیں۔ اسی طرح کھادوں کا غیر متوازن یا زائد استعمال زمین کی زرخیزی کو کم کر دیتا ہے اور پیداوار متاثر ہوتی ہے۔

4. زرعی تحقیق اور تعلیمی اداروں کی کمی

پاکستان میں زرعی تحقیق اور تعلیم پر زیادہ زور نہیں دیا جاتا۔ زرعی یونیورسٹیاں اور تحقیقاتی ادارے موجود ہیں، مگر ان کی تحقیقی صلاحیت محدود ہے اور ان کے نتائج کسانوں تک نہیں پہنچ پاتے۔ زرعی پیداوار بڑھانے کے لیے تحقیقاتی اداروں کی ضرورت ہے جو کسانوں کو نئی تکنیک اور بہتر اقسام کے بیج فراہم کر سکیں۔

5. حکومتی پالیسیوں میں عدم تسلسل

حکومت کی زرعی پالیسیوں میں عدم تسلسل اور ان کی ناکافی عملداری ایک اہم مسئلہ ہے۔ کسانوں کو مناسب سبسڈی اور مالی امداد فراہم نہیں کی جاتی، اور زرعی اصلاحات کے نفاذ میں تاخیر یا عدم توجہ سے زرعی شعبہ مشکلات کا شکار ہے۔

6. آب و ہوا کی تبدیلی

موسمیاتی تبدیلیاں جیسے خشک سالی، شدید بارشیں، اور غیر متوقع موسمی حالات فصلوں کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ مثال کے طور پر، کپاس اور گندم جیسی فصلیں موسمیاتی تبدیلیوں سے براہ راست متاثر ہوتی ہیں، جس سے پیداوار میں کمی آتی ہے۔

7. زرعی زمین کی تقسیم

پاکستان میں زمین کی تقسیم کی روایت بھی زرعی پیداوار میں کمی کا باعث ہے۔ زمین چھوٹے ٹکڑوں میں تقسیم ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے جدید مشینری کا استعمال ممکن نہیں ہوتا۔ چھوٹے کسانوں کے پاس وسائل اور زمین کی کمی کی وجہ سے وہ نئی ٹیکنالوجی اور طریقوں کا استعمال نہیں کر سکتے۔

8. حفاظتی اقدامات کی کمی

فصلوں کو کیڑوں اور بیماریوں سے بچانے کے لیے مناسب حفاظتی اقدامات نہیں کیے جاتے۔ بہت سے کسان بیماریوں اور کیڑوں کے خلاف کیمیکلز کا غلط یا بے جا استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے پیداوار کم ہو جاتی ہے۔

9. نقل و حمل اور ذخیرہ کرنے کی ناقص سہولیات

فصلوں کی کاشت کے بعد، ان کو مناسب طریقے سے ذخیرہ اور بازار تک پہنچانے کی سہولیات کا فقدان ہے۔ خراب ٹرانسپورٹیشن اور کولڈ اسٹوریج کی عدم موجودگی کی وجہ سے فصلوں کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو جاتا ہے۔

10. مالی مشکلات اور قرضوں کا بوجھ

کسانوں کو مالی وسائل کی کمی کا سامنا ہوتا ہے۔ اکثر کسان بینکوں اور دیگر مالیاتی اداروں سے قرض لیتے ہیں، جن کی سخت شرائط یا زیادہ شرح سود کی وجہ سے وہ نقصان میں چلے جاتے ہیں، اور اپنی پیداوار بہتر بنانے کے لیے سرمایہ کاری نہیں کر پاتے۔

یہ عوامل پاکستان میں زرعی شعبے کو متاثر کرتے ہیں، اور مجموعی پیداوار میں کمی کا باعث بنتے ہیں۔ اگر ان مسائل پر قابو پا لیا جائے تو زرعی پیداوار میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے۔

19/09/2024

پودوں کو ڈی اے پی کھاد کیسے ملتی ہے؟

ڈی اے پی (DAP) ایک کیمیائی کھاد ہے جس میں دو اہم غذائی اجزاء شامل ہوتے ہیں: فاسفورس اور نائٹروجن۔ یہ دونوں اجزاء پودوں کی صحت مند نشوونما کے لیے انتہائی ضروری ہوتے ہیں۔ ڈی اے پی پودوں کو درج ذیل طریقے سے غذائیت فراہم کرتی ہے:

1. مٹی میں شامل ہونے کے بعد: جب ڈی اے پی کو زمین میں ڈالا جاتا ہے تو یہ مٹی میں حل ہو کر فاسفورس اور نائٹروجن خارج کرتا ہے، جو پودوں کی جڑوں کے ذریعے جذب ہو جاتے ہیں۔ یہ دونوں اجزاء مٹی میں پانی کے ساتھ مل جاتے ہیں اور پودوں کی جڑیں انہیں پانی کے ذریعے جذب کرتی ہیں۔

2. فاسفورس کی فراہمی: ڈی اے پی میں موجود فاسفورس پودوں کی جڑوں کو مضبوط کرتا ہے اور ان کی بڑھوتری میں مدد دیتا ہے۔ یہ توانائی کی منتقلی میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے، جس سے پودوں میں پھول اور پھل بہتر طور پر بنتے ہیں۔

3. نائٹروجن کی فراہمی: ڈی اے پی کا دوسرا اہم جزو نائٹروجن ہے، جو پودوں کی سبز پتوں اور شاخوں کی نشوونما کے لیے ضروری ہوتا ہے۔ نائٹروجن پودوں میں پروٹین بنانے کے عمل کو تیز کرتا ہے، جس سے پودے زیادہ مضبوط اور صحت مند ہوتے ہیں۔

4. کھاد کی فوری تاثیر: ڈی اے پی کا ایک خاص فائدہ یہ ہے کہ یہ کھاد جلدی مٹی میں حل ہو جاتی ہے اور پودے فوراً اسے جذب کر لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے پودوں کو فوری طور پر غذائیت ملتی ہے، جس سے ان کی ابتدائی نشوونما بہتر ہوتی ہے۔

استعمال کا طریقہ: ڈی اے پی کھاد کو فصل کی کاشت کے دوران مٹی میں ملا دیا جاتا ہے تاکہ پودے جب بڑھنا شروع کریں تو انہیں ضروری غذائی اجزاء فوراً مل سکیں۔ یہ کھاد عموماً مٹی میں گہرائی میں ڈالی جاتی ہے تاکہ جڑیں اسے آسانی سے جذب کر سکیں۔

ڈی اے پی پودوں کو شروع سے ہی بہتر غذائی اجزاء فراہم کرتی ہے، جس سے ان کی بڑھوتری، پھولوں کی تشکیل، اور پیداوار میں نمایاں بہتری آتی ہے۔

Photos from Agripoint's post 18/09/2024

پودوں کو ڈی اے پی کھاد مکمل کیوں نہیں ملتی؟
ڈی اے پی (ڈائی امونیم فاسفیٹ) کھاد پودوں کو 100% نہیں ملتی کیونکہ کچھ عوامل کی وجہ سے مٹی میں موجود غذائی اجزاء ضائع ہو جاتے ہیں یا پودے انہیں مکمل طور پر جذب نہیں کر پاتے۔ یہ عوامل درج ذیل ہیں:

1. مٹی کی قسم اور ساخت: مٹی کی قسم اس بات پر اثر انداز ہوتی ہے کہ ڈی اے پی کھاد کتنی مؤثر طریقے سے پودوں کو ملتی ہے۔ ریتلی یا سخت مٹی میں ڈی اے پی کے غذائی اجزاء کم جذب ہوتے ہیں، کیونکہ مٹی کے ذرات غذائی اجزاء کو صحیح طریقے سے پکڑ نہیں پاتے اور وہ پانی کے ساتھ بہہ سکتے ہیں۔

2. نقصان یا ضائع ہونا (Leaching): اگر زیادہ بارش ہو یا زیادہ پانی دیا جائے تو مٹی میں موجود نائٹروجن یا فاسفورس جیسی غذائی اجزاء پانی کے ساتھ بہہ جاتی ہیں۔ اس عمل کو لیچنگ کہا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں پودے کھاد کا ایک بڑا حصہ حاصل نہیں کر پاتے۔

3. فاسفورس کی محدود حرکت: ڈی اے پی میں موجود فاسفورس مٹی میں زیادہ دور تک حرکت نہیں کرتا، جس کی وجہ سے یہ صرف ان جڑوں کو ملتا ہے جو اس کے قریب ہوتی ہیں۔ پودے کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے فاسفورس کا محدود ہونا اس کی مکمل دستیابی کو کم کر دیتا ہے۔

4. پی ایچ لیول (pH) کا اثر: مٹی کا pH لیول ڈی اے پی کے اجزاء کی دستیابی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ اگر مٹی بہت زیادہ تیزابی یا بہت زیادہ الکلائن ہو تو فاسفورس کا جذب ہونا مشکل ہو جاتا ہے، اور یہ مٹی میں غیر محلول شکل میں تبدیل ہو کر پودوں کی پہنچ سے باہر ہو جاتا ہے۔

5. حیاتیاتی عمل: مٹی میں موجود مائیکروبز (microbes) بھی نائٹروجن اور فاسفورس کو اپنے استعمال میں لیتی ہیں، جس سے پودوں کے لیے دستیاب غذائی اجزاء کی مقدار کم ہو جاتی ہے۔

6. غلط استعمال یا زیادہ مقدار: بعض اوقات کسان کھاد کی زیادہ مقدار استعمال کرتے ہیں، جس سے پودے اسے مکمل طور پر جذب نہیں کر پاتے۔ اضافی کھاد مٹی میں رہ جاتی ہے یا پانی کے ساتھ بہہ جاتی ہے، جس سے نقصان ہوتا ہے۔

نتیجہ: ڈی اے پی کھاد کے 100% اجزاء پودوں کو نہیں ملتے کیونکہ مختلف عوامل جیسے مٹی کی نوعیت، پانی کی مقدار، pH لیول، اور غذائی اجزاء کی حرکت کھاد کی دستیابی کو محدود کرتے ہیں۔ اس کے بہترین استعمال کے لیے کھاد کا صحیح مقدار میں اور صحیح وقت پر استعمال ضروری ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ غذائی اجزاء پودوں تک پہنچ سکیں۔

04/01/2018
04/01/2018
Want your business to be the top-listed Business in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Culinary Team

Attire

Telephone

Address


Multan