Ethereal Escape

Ethereal Escape

Share

its all about Sports especially Cricket, Kabaddi, Tennis, Football, Hockey and Major Olympic games

Photos from Ethereal Escape's post 28/04/2025

عام طور پر، چھپکلیاں انسانوں کے لیے خطرناک نہیں ہوتیں۔ وہ شرمیلی مخلوق ہیں جو انسانوں سے دور رہتی ہیں اور صرف خود کو خطرے میں محسوس کرنے پر دفاع کرتی ہیں۔

کچھ اہم نکات:

گھریلو چھپکلیاں (جیسے کہ دیوار پر رینگنے والی چھوٹی چھپکلیاں) انسانوں کے لیے بے ضرر ہوتی ہیں۔ نہ یہ کاٹتی ہیں اور نہ ہی براہ راست بیماری پھیلاتی ہیں۔

بعض بڑی یا جنگلی چھپکلیاں (جیسے مانیٹر لیزرڈ) اگر انہیں خطرہ محسوس ہو تو کاٹ سکتی ہیں، اور ان کے کاٹنے سے زخم میں انفیکشن ہو سکتا ہے۔

زہریلی چھپکلیاں بھی موجود ہیں (جیسے گِلا مونسٹر اور میکسیکن بیڈڈ لیزرڈ)، مگر یہ بہت نایاب ہیں اور مخصوص علاقوں میں پائی جاتی ہیں۔ ان کا زہر خطرناک ہو سکتا ہے، مگر بروقت علاج سے جان لیوا نہیں ہوتا۔

صفائی کا پہلو: چھپکلی کے فضلے میں سالمونیلا جیسے بیکٹیریا ہو سکتے ہیں، جو خوراک یا سطحوں کے آلودہ ہونے پر بیماری کا سبب بن سکتے ہیں۔

خلاصہ:

عام چھپکلیاں: انسانوں کے لیے محفوظ

بڑی یا زہریلی چھپکلیاں: ممکنہ طور پر خطرناک، مگر عام زندگی میں کم دیکھنے کو ملتی ہیں۔

بہت اچھا! یہاں کچھ آسان اور مؤثر طریقے ہیں جن سے آپ اپنے گھر سے چھپکلیوں کو دور رکھ سکتے ہیں:

1. صفائی کا خاص خیال رکھیں:

کچن اور کھانے کی جگہوں کو ہمیشہ صاف رکھیں۔

بچا ہوا کھانا ڈھانپ کر رکھیں۔

دیواروں اور فرش پر کھانے کے ذرات یا گندگی نہ چھوڑیں۔

2. لائٹنگ کم کریں:

چھپکلیاں مچھروں اور کیڑوں کو کھانے آتی ہیں، اور مچھر روشنی کی طرف آتے ہیں۔ گھر کے باہر کم روشنی رکھنا چھپکلیوں کو کم کرے گا۔

3. انڈے اور دراڑیں بند کریں:

دیواروں میں موجود چھوٹے سوراخ، دروازوں کے کنارے، اور کھڑکیوں کی دراڑیں سیل کر دیں تاکہ چھپکلیاں اندر داخل نہ ہو سکیں۔

4. نیچرل ریپلینٹس استعمال کریں:

لہسن کے ٹکڑے یا پیاز کو جگہ جگہ رکھیں، چھپکلیاں ان کی بدبو سے دور بھاگتی ہیں۔

لال مرچ کا اسپرے پانی میں ملا کر چھڑکاؤ کریں۔

کافی پاؤڈر اور تمباکو کو ملا کر چھوٹے چھوٹے گیند بنا کر کونے میں رکھیں۔

5. انڈوں کے خالی چھلکے:

انڈوں کے خالی چھلکوں کو دیوار یا کچن کے کونوں میں رکھیں۔ چھپکلیاں سمجھتی ہیں کہ یہاں کوئی بڑا جانور موجود ہے اور دور رہتی ہیں۔

6. پالتو بلی (کیٹ) رکھیں:

اگر ممکن ہو تو بلی پالیں؛ بلیاں چھپکلیوں کو شکار کر لیتی ہیں۔

Photos from Ethereal Escape's post 25/04/2025

"امریکا میں موت کی وادی — ایک خاموش عذاب"
کیلیفورنیا کی سرزمین پر واقع وہ مقام جہاں زمین انگاروں کی مانند سلگتی ہے، ہوا زہر آلود لگتی ہے اور زندگی کا تصور بھی ایک خواب محسوس ہوتا ہے — یہی ہے "ڈیتھ ویلی"، یعنی موت کی وادی۔

یہ وادی اپنے نام کی طرح، محض ایک جغرافیائی خطہ نہیں بلکہ ایک دل دہلا دینے والی داستان ہے۔ یہاں درجہ حرارت 56 ڈگری سینٹی گریڈ سے بھی تجاوز کر جاتا ہے، جو اسے زمین پر سب سے گرم مقام بناتا ہے۔ یہ مقام یوں لگتا ہے جیسے خود سورج نے یہاں اپنی غضب ناک آنکھوں کا سایہ ڈال رکھا ہو۔

ڈیتھ ویلی کی خاموشی گونجتی ہے۔ رات کے اندھیروں میں جب ہوا کے جھونکے پتھروں سے ٹکراتے ہیں، تو یوں محسوس ہوتا ہے جیسے کوئی ان دیکھے وجود چیخ رہے ہوں۔ یہاں کے ریتلے میدانوں میں قدم رکھنے والا ہر مسافر وقت کے تھپیڑوں میں کہیں گم ہو جاتا ہے۔

یہاں کی سب سے خوفناک حقیقت "متحرک پتھروں" کی کہانی ہے — ایسے پتھر جو اپنی جگہ سے خود بخود حرکت کرتے ہیں، پیچھے گہرے نشان چھوڑتے ہوئے۔ کوئی انہیں دھوکہ سمجھتا ہے، کوئی قدرت کا کرشمہ، مگر مقامی لوگ انہیں وادی کی "روحیں" کہتے ہیں، جو صدیوں سے اپنی قبروں سے بے چین ہو کر نکلتی ہیں۔

ڈیتھ ویلی میں قدم رکھتے ہی ایسا لگتا ہے جیسے قدرت کی خاموش قہرناکی انسان کو للکار رہی ہو۔ یہاں نہ درخت ہیں، نہ سایہ، نہ پانی کی امید۔ صرف تپتی زمین، جلتی ہوئی ہوا اور ایک غیر مرئی دہشت — جو آپ کے وجود کے اندر تک سرایت کر جاتی ہے۔

کہا جاتا ہے کہ یہاں کئی لوگوں نے اپنے پیاروں کو ہمیشہ کے لیے کھو دیا۔ کچھ کی گاڑیاں بند ہو گئیں، کچھ راستہ بھٹک گئے، اور کچھ تو ایسے تھے جن کا سراغ بھی نہ ملا۔ ان کے سائے آج بھی وادی کی ریت میں چھپے ہوئے ہیں، اور کبھی کبھار، جب سورج ڈھلنے لگتا ہے، تو ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے وہ آپ کو پکار رہے ہوں۔

ڈیتھ ویلی، جہاں وقت رک جاتا ہے، سانسیں گھٹتی ہیں، اور انسان اپنی بے بسی کو سب سے زیادہ شدت سے محسوس کرتا ہے۔ یہ جگہ محض ایک صحرا نہیں، بلکہ وہ آئینہ ہے جس میں انسان اپنی ناتوانی کا سچا عکس دیکھتا ہے۔
اگر ہمت ہے، تو ایک بار موت کی اس وادی میں قدم رکھو — شاید تم لوٹ آؤ، شاید نہیں۔

25/04/2025

نام: اسامہ بن محمد بن عواد بن لادن
پیدائش: 10 مارچ 1957 – ریاض، سعودی عرب
وفات: 2 مئی 2011 – ایبٹ آباد، پاکستان

---

ابتدائی زندگی:

اسامہ بن لادن سعودی عرب کے ایک امیر خاندان میں پیدا ہوا۔ اس کے والد محمد بن لادن یمن سے تعلق رکھتے تھے اور سعودی عرب کے تعمیراتی صنعت میں بہت بڑے ٹھیکیدار تھے۔ اسامہ کی تعلیم سعودی عرب میں ہوئی اور بعد میں اس نے جدہ کی کنگ عبدالعزیز یونیورسٹی سے تعلیم حاصل کی۔

---

افغانستان اور مجاہدین:

1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا تو اسامہ بن لادن نے مجاہدین کے ساتھ شامل ہو کر سوویت افواج کے خلاف جہاد میں حصہ لیا۔ اس نے عرب دنیا سے نوجوانوں کو جہاد میں شامل کرنے کے لیے مالی امداد اور تنظیمی سپورٹ فراہم کی۔ یہی وہ دور تھا جب اس کی بنیاد پرستی اور شدت پسندی کی سوچ مضبوط ہوئی۔

---

القاعدہ کی بنیاد:

1988 میں اسامہ بن لادن نے "القاعدہ" کے نام سے ایک شدت پسند تنظیم قائم کی، جس کا مقصد دنیا بھر میں اسلامی خلافت کا قیام اور مغربی دنیا، خاص طور پر امریکہ کے خلاف جہاد تھا۔

---

امریکہ پر حملے:

11 ستمبر 2001 کو امریکہ میں ہونے والے دہشت گرد حملوں (ورلڈ ٹریڈ سینٹر اور پینٹاگون پر حملے) کے پیچھے اسامہ بن لادن اور القاعدہ کا ہاتھ تھا۔ ان حملوں میں تقریباً 3000 لوگ ہلاک ہوئے۔ اس واقعے کے بعد امریکہ نے "وار آن ٹیرر" (دہشت گردی کے خلاف جنگ) کا آغاز کیا اور افغانستان پر حملہ کیا۔

---

ہلاکت:

کئی سال تک چھپنے کے بعد، 2 مئی 2011 کو امریکی نیوی سیل (SEAL) کمانڈوز نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک خفیہ آپریشن کے دوران اسامہ بن لادن کو ہلاک کر دیا۔

---

25/04/2025

1. پس منظر (1979-1989): سویت حملہ اور مزاحمت

1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر حملہ کیا۔ افغان عوام، خاص طور پر مذہبی علماء اور طلباء نے مزاحمت شروع کی۔ امریکہ، پاکستان، سعودی عرب اور دیگر ممالک نے مجاہدین کی مدد کی۔ دس سالہ جنگ کے بعد 1989 میں سوویت افواج کو پسپائی اختیار کرنی پڑی۔

---

2. خانہ جنگی اور طالبان کا ابھار (1992-1996):

سویت انخلاء کے بعد افغانستان میں مختلف مجاہدین گروہوں کے درمیان خانہ جنگی چھڑ گئی۔ ملک میں بدامنی، لاقانونیت، اور جنگی سرداروں کی حکومت قائم ہو گئی۔

اسی دوران، 1994 میں قندھار سے "طالبان" کے نام سے ایک نئی مذہبی و عسکری تحریک نے جنم لیا۔ یہ زیادہ تر دینی مدارس کے طلباء پر مشتمل تھی، جنہوں نے امن قائم کرنے اور شریعت نافذ کرنے کا نعرہ لگایا۔ طالبان نے جلد ہی بڑی کامیابیاں حاصل کیں اور 1996 میں کابل پر قبضہ کر کے حکومت قائم کی۔

---

3. طالبان کا پہلا دورِ حکومت (1996-2001):

طالبان نے افغانستان میں سخت اسلامی قوانین نافذ کیے، عورتوں کی تعلیم اور ملازمت پر پابندیاں لگائیں، اور مخالفین کو سخت سزائیں دیں۔ ان کی حکومت کو صرف تین ممالک نے تسلیم کیا: پاکستان، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات۔

اسی دوران، القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن کو افغانستان میں پناہ دی گئی، جو 2001 کے نائن الیون حملوں کا مرکزی کردار تھا۔

---

4. امریکی حملہ اور طالبان کی پسپائی (2001):

نائن الیون کے بعد، امریکہ نے افغانستان پر حملہ کیا اور طالبان حکومت کا خاتمہ کر دیا۔ طالبان پسپا ہو کر پہاڑوں اور دیہی علاقوں میں چلے گئے اور گوریلا جنگ کا آغاز کیا۔

---

5. مزاحمت اور دوبارہ ابھار (2001-2021):

امریکی اور نیٹو افواج کی موجودگی کے باوجود طالبان نے رفتہ رفتہ اپنا اثر و رسوخ دوبارہ قائم کیا، خاص طور پر دیہی علاقوں میں۔ 2010 کے بعد طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا، اور وہ ایک بار پھر ایک طاقتور قوت بن گئے۔

---

6. دوحہ معاہدہ اور امریکی انخلاء (2020-2021):

2020 میں امریکہ اور طالبان کے درمیان "دوحہ معاہدہ" ہوا، جس کے تحت امریکہ نے انخلاء کی تاریخ مقرر کی۔ 2021 میں امریکی افواج نے انخلاء شروع کیا، اور طالبان نے تیزی سے افغانستان کے بیشتر حصوں پر قبضہ کر لیا۔

---

7. طالبان کی دوبارہ حکومت (2021 تا حال):

15 اگست 2021 کو طالبان نے کابل پر قبضہ کر کے دوبارہ حکومت قائم کر لی۔ انھوں نے "اسلامی امارت افغانستان" کا اعلان کیا۔ بین الاقوامی برادری نے اب تک طالبان حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم نہیں کیا۔

طالبان نے وعدہ کیا کہ وہ ماضی کے مقابلے میں زیادہ اعتدال پسند ہوں گے، لیکن خواتین کے حقوق، میڈیا کی آزادی اور سیاسی مخالفین کے حوالے سے ان پر تنقید جاری ہے۔

25/04/2025

ریحان کئی سالوں سے دبئی میں نوکری کر رہا تھا۔ اُس کی بیوی، سارہ، پاکستان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں رہتی تھی۔ شادی کو تین سال ہو چکے تھے مگر وہ صرف دو بار ہی اپنی بیوی سے ملنے آیا تھا۔

سارہ ہر روز ریحان کی یاد میں دن گزارتی۔ وہ اُسے فون پر بات کرتے ہوئے مسکراہٹ چھپا لیتی، مگر دل میں ایک خلا سا رہتا۔ اُس نے ریحان کی ہر چیز سنبھال کر رکھی تھی: اُس کے دیے ہوئے تحفے، خط اور تصویریں۔

ایک دن اچانک گاؤں میں ایک گاڑی رُکی۔ ریحان بغیر اطلاع دیے واپس آ گیا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ سارہ کو حیرت دے۔ جب وہ گھر کے دروازے پر پہنچا تو اُس کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی۔

سارہ صحن میں پودوں کو پانی دے رہی تھی۔ جیسے ہی اُس کی نظر ریحان پر پڑی، اُس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے۔ وہ کچھ کہہ نہ سکی، صرف ریحان کی طرف دوڑی اور اُسے گلے لگا لیا۔

ریحان بھی جذبات پر قابو نہ رکھ سکا۔ اُس نے سارہ سے کہا، "اب میں ہمیشہ کے لیے آ گیا ہوں۔ تم نے جو صبر کیا، اُس کا حق ادا نہیں ہو سکتا۔"

اُس دن دونوں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔ سارہ نے ریحان کے لیے اُس کا پسندیدہ کھانا بنایا، اور دونوں دیر تک بیٹھ کر ایک دوسرے کی باتیں سنتے رہے۔

یہ ملاقات صرف دو دلوں کی نہیں، دو روحوں کی تھی جو وقت اور فاصلوں سے بالاتر ہو چکی تھیں۔

Photos from Ethereal Escape's post 30/03/2025

A big city has discover under the great Egpyt Pyramid
اطالوی سائنس دانوں کے ایک گروپ نے دعویٰ کیا کہ انہوں نے اہرام کی زمین کے 2,000 فٹ نیچے ”اہرام کے نیچے ایفل ٹاور سے دوگنا بڑا ڈھانچہ“ دریافت کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا جارہا ہے کہ نیچے کے حصے کو انرجی اسٹور کرنے کے لئے بھی استعمال کیا جاتا تھا۔

نتائج کو ایک سائنسی مقالہ کے ذریعے عام کیا گیا تھا اور اسے بڑے پیمانے پر آن لائن شیئر بھی کیا گیا تھا۔ اہرام مصر کے حوالے سے جھوٹے دعوے پوری دنیا میں پھیل چکے ہیں۔

زاہی حواس نے ان افواہوں کو پھیلائی گئی من گھڑت باتیں قرار دیا اور کہا کہ یہ لوگ قدیم مصری تہذیب یا اہرام کی تاریخ میں مہارت نہیں رکھتے تھے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’ایسا کوئی سائنسی ثبوت نہیں ہے‘۔

سائنسدانوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ انہوں نے اہرام میں پانچ چھوٹے، کمرے نما ڈھانچے پائے ہیں۔ جبکہ زاہی حواس نے جواب میں کہا، کہ ’اہرامِ خفری کی بنیاد تقریباً 8 میٹر کی اونچائی تک کھدی ہوئی تھی۔ حالیہ برسوں میں کیے گئے وسیع سائنسی مطالعات اور تحقیق کے مطابق، اس بنیاد کے نیچے کوئی کالم نہیں ہے۔‘

ڈاکٹر زاہی حواس نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس طرح کے دعوے ’محض قدیم مصری تہذیب کی عظمت کو مجروح کرنے کی کوششیں ہیں۔ تاہم یہ کوششیں بے سود ہیں‘۔

25/03/2025

پونے کے یتیم خانے کے مینیجر نے اسے کوڑے دان میں پایا جس نے اس کی دیکھ بھال کی اور اس کا نام لیلیٰ رکھا۔

ایک امریکی جوڑے نے اسے گود لیا اور اس کا نام لِز رکھا۔ وہ آسٹریلیا ہجرت کر گئے۔ لز گلیوں میں لڑکوں کے ساتھ کرکٹ کھیلتی تھیں، آج وہ آسٹریلیا کی خواتین کرکٹ ٹیم کی کپتان ہیں۔ 1000 رنز بنانے اور 100 وکٹیں لینے والی پہلی خاتون کرکٹر۔ آسٹریلیا کے لیے 187 ون ڈے کھیلے، ٹی ٹوئنٹی میں 4093 رنز بنائے، اور 229 وکٹیں لیں۔ خواتین کرکٹ کی بہترین آل راؤنڈر قرار حال ہی میں، آئی سی سی (انٹرنیشنل کرکٹ کونسل) نے انہیں لیجنڈز ہال آف فیم میں شامل کیا، جو کرکٹ میں نایاب ہے۔ تقدیر اور خدا کے ہاتھ سے معجزے زندگی میں ہوتے ہیں۔
ایک لاوارث لڑکی کے لیے ایک متاثر کن کہانی۔ اب وہ خواتین کے لیے ایک مثال ہے❤️❤️

20/03/2025

*شوہر کا اپنی بیوی سے محبت کرنا اور بیوی کا اپنے شوہر سے محبت کرنا بچوں کی صحت کا راز ہے*

ایک فیملی سیمینار میں شرکت کرنے والے نے کہا:
"میں نے ایک تربیتی کورس میں شرکت کی جس میں 30 سے زیادہ شرکاء تھے۔ وہاں مقرر نے ایک سوال کیا:

' *ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر کیا کر سکتی ہے؟'*

جوابات مختلف تھے: 'محبت، دین، اخلاص، تقوی، دوستی، کھلا ذہن، سکون، احسان' اور ان کے مترادفات

مقرر نے خاموش ہو کر کہا: 'آپ کے تمام جوابات تربیت میں بہت اہم ہیں۔
لیکن میری تحقیقات کے مطابق، جو چیز سب سے اہم ہے وہ یہ ہے:

' *ماں اپنے بچوں کے لیے سب سے بہتر یہ کر سکتی ہے کہ وہ ان کے والد سے محبت کرے۔'*

🖤 *ازدواجی جھگڑے بچے کے دماغ کی نشوونما کو متاثر کر سکتے ہیں، اس کے منفی اثرات پہلے چند ماہ سے شروع ہو* *جاتے ہیں اور لمبے عرصے تک رہتے ہیں*

ایک محقق کہتا ہے:
'ایک شخص میرے پاس آیا اور پوچھا کہ *اپنے بچے کی تربیت کیسے کروں تاکہ وہ بڑا ہو کر ہارورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لے سکے؟*

*میں نے جواب دیا: 'اگر آپ اپنے بچے کی ذہنی صلاحیتوں میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں، تو گھر جائیں اور اپنی بیوی سے* *محبت کریں* ۔'

💗 ' *Go home and love* *your wife.'💗*

خلاصہ یہ کہ:
*ایک محبت بھرا اور ہم آہنگ خاندان بچوں کی جسمانی اور ذہنی صحت میں حیرت انگیز بہتری لا سکتا ہے، اور یہ سب شوہر اور بیوی کی ایک دوسرے* *سے محبت کے ذریعے ممکن ہے۔*
*والدین کی محبت اور توجہ میں گھرا بچہ کم بیماریوں، کم ضد، کم تشدد، کم نفسیاتی مسائل کا شکار ہوتا ہے اور تعلیمی میدان میں بہتر کارکردگی دکھاتا ہے*
اگر آپ ذمہ داری اور شعور کے ساتھ والدین نہیں بن سکتے، تو ایسی روحوں کو کیوں جنم دیتے ہیں جو آپ کی سختی سے تکلیف میں ہوں؟

Photos from Ethereal Escape's post 20/03/2025

کیاآپ نے سناہے کہ سہہ / سیغ کو پاکستان کے مختلف حصوں میں شوق سے کھایا جارہا ہے؟

اک سوال ہے جو میں شاید ہر پاکستانی سے پوچھنا چاہتا ہوں
اک جانور ہے جسے پنجابی لوگ کنڈو والی سہ کہہ کے بُلاتے ہیں،
جسے اُردو میں خارپشت بھی کہتے ہیں اور پہاڑی میں سیغ تلو والی سیغ
اور مختلف علاقوں میں اس کے مختلف نام ہیں ، جیسے سیہ، سہہ، سیہی اور قنفذ ،
کچھ لوگوں کو تو یہی تجسس ہو رہا ہو گا کے میں اس جانور کا ذکر کر ہی کیوں رہا ہوں،
لیکن مجھے لگتا ہے کے اب وقت آ گیا ہے کے ہرپاکستانی اس کے بارے میں جان لے،
ورنہ ایسا نا ہو کے آپ گھر آئیں تو آپ کی بیوی نے سیہ بریانی بنائی ہو،
یا آپ کی بیٹی کے سسرال والے اُسے سیہ کورما بنانے کو بولیں
پچھلے کچھ مہینوں سے میں اک گروپ اور ایک اکیلے آدمی سے مل چکا ہوں جو خار پشت کا گوشت کھاتے ہیں
بلکہ مانسہرہ کے لڑکوں کو تو میں نے خود کھاتے دیکھا،
اورفیض آباد بس سٹینڈ (راولپنڈی) پے گوجرانوالا کےایک لڑکے نے بھی مجھے بتایا کے ہم لوگ بہت شوق سے خارپشت کھاتے ہیں
یہ سب جاننے کے بعد انٹرنیٹ سے معلومات حاصل کیں تو پتا چلا کے اس جانور کا تعلق چوہوں کی فیملی سے ہے
حلال تو کیا اس کے مقروع ہونے کے بھی دور دور تک کوئی شواہد نہیں ملے
مطلب بلکل حرام
تو پوچھنا یہ تھا کے کیا آپ میں سے بھی کوئی اِسے کھاتا ہےُ
یا میری طرح کسی ایسے کو جانتے ہیں جو خار پشت کو بطورِ خوراک تناول کرتا ہو
کرپشن کا پیسہ اس سے بھی زیادہ حرام ہے

20/03/2025

مائلو عہدِ قدیم کا طاقتور ترین شخص

مائلو آف کروٹن نہ صرف اپنی غیرمعمولی طاقت کی وجہ سے مشہور تھے بلکہ وہ قدیم دنیا کے سب سے کامیاب اولمپک پہلوانوں میں سے ایک تھے۔ ان کا تعلق کروٹن (موجودہ جنوبی اٹلی) سے تھا، جو اُس زمانے میں یونانی تہذیب کا ایک اہم مرکز تھا۔ وہ چھ مرتبہ اولمپک گیمز کے فاتح بنے اور متعدد دیگر مقابلوں میں بھی کامیابی حاصل کی، جن میں پائیتھین گیمز (7 بار)، نیمین گیمز (10 بار)، اور استھمئین گیمز (9 بار) شامل ہیں۔

مائلو کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ایک بچھڑے کو روزانہ اپنے کندھوں پر اٹھاتے تھے۔ جیسے جیسے بچھڑا بڑا ہوتا گیا، ویسے ویسے مائلو کی طاقت میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔ یہی اصول آج جدید ویٹ لفٹنگ اور باڈی بلڈنگ میں "پروگریسیو اوورلوڈ" (Progressive Overload) کے نام سے جانا جاتا ہے، یعنی وزن کو آہستہ آہستہ بڑھاتے جائیں تاکہ پٹھے مضبوط اور بڑے ہوں۔

اولمپک گیمز میں 6 بار فتح: پہلا ٹائٹل 540 قبل مسیح میں لڑکوں کے کشتی مقابلے میں جیتا، اور اس کے بعد مسلسل پانچ بار مردوں کا ٹائٹل اپنے نام کیا۔

دیگر مشہور یونانی کھیلوں میں بھی ناقابل شکست: پائیتھین، نیمین، اور استھمئین گیمز میں کئی مرتبہ فتح حاصل کی۔

عسکری قیادت: مائلو کو صرف ایک پہلوان نہیں بلکہ ایک جنگجو بھی کہا جاتا ہے، کیونکہ وہ کروٹن کی فوج کی قیادت کرتے ہوئے جنگوں میں شریک رہے۔

مشہور داستانیں: کہا جاتا ہے کہ ایک بار انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ایک درخت کو چیر کر دو ٹکڑے کر دیا تھا، اور ایک اور موقع پر وہ ایک عمارت کے ستون پر کھڑے رہے جب تک کہ وہ گر نہیں گئی۔

مائلو کی موت کے بارے میں کئی روایات مشہور ہیں، لیکن سب سے مشہور کہانی کے مطابق، ایک دن وہ جنگل میں گھوم رہے تھے اور انہیں ایک پرانا درخت نظر آیا جس کا تنا دراڑوں سے بھرا ہوا تھا۔ انہوں نے اپنی طاقت آزمانے کے لیے درخت کو پھاڑنے کی کوشش کی، لیکن جب انہوں نے ہاتھ ڈال کر اسے چیرنے کی کوشش کی، تو درخت بند ہوگیا اور ان کے ہاتھ پھنس گئے۔ بے بس مائلو پر جنگلی بھیڑیوں نے حملہ کر دیا اور انہیں ہلاک کر دیا۔

مائلو آف کروٹن نہ صرف ایک عظیم اولمپک چیمپئن تھے بلکہ ان کی کہانیاں آج بھی طاقت اور استقامت کی علامت سمجھی جاتی ہیں۔ ان کا تربیتی فلسفہ آج بھی جدید ایتھلیٹس اور باڈی بلڈرز کے لیے مشعلِ راہ ہے۔

20/03/2025

تاریخ کا سب سے خوفناک سزائے موت کا آلہ! 🐂🔥

قدیم یونان میں ایک ایسا وحشیانہ آلہ ایجاد کیا گیا تھا جس نے ظلم و بربریت کی انتہا کر دی۔ برازن بل ایک کھوکھلا کانسی کا مجسمہ تھا، جس کے اندر ایک انسان کو قید کر دیا جاتا اور نیچے آگ جلائی جاتی۔ جیسے جیسے دھات گرم ہوتی، اندر موجود شخص زندہ بھننے لگتا!

سب سے خوفناک بات یہ تھی کہ اس آلے کا ڈیزائن ایسا بنایا گیا تھا کہ مرنے والے کی چیخیں بیل کی آواز سے مشابہ لگتی تھیں۔ یہ نہ صرف سزا تھی بلکہ ظالم حکمرانوں کے لیے ایک تفریح بھی تھی!

کہا جاتا ہے کہ جب اس کا موجد پیریلوس آف ایتھنز اسے فیلاریس نامی حکمران کے سامنے پیش کرنے گیا تو فیلاریس نے تجربہ کرنے کے لیے اسی کو اس میں بند کر دیا! 😨

یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ تاریخ میں انسانی ظلم کی ایسی کئی مثالیں موجود ہیں، جو آج بھی ہمیں جھنجھوڑ کر رکھ دیتی ہیں۔

📌 آپ کے خیال میں تاریخ کا سب سے خوفناک سزائے موت کا طریقہ کون سا تھا؟ کمنٹس میں اپنی رائے دیں!

18/03/2025

قوام متحدہ میں ایران کے سفیر عامر سعید ایروانی نے اقوام متحدہ کو امریکی صدر کی دھمکی پر خط لکھ دیا۔ خط میں شکایت کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ امریکی صدر اور دیگر امریکی حکام نے ایران پر بے بنیاد الزامات لگائے، ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دی گئی۔ ایران خطے میں ہتھیاروں کی فراہمی عدم استحکام پھیلانے سے متعلق الزامات مسترد کرتا ہے۔

اقوام متحدہ میں ایران کے سفیرعامر سعید ایروانی نے امریکی صدر کی دھمکی پر اقوام متحدہ کو خط لکھا ہے، جس میں انہوں نے امریکہ کی جانب سے ایران پر لگائے گئے بے بنیاد الزامات کی شدید مذمت کی ہے۔ ایران کے سفیر نے اپنے خط میں کہا کہ امریکی صدر اور دیگر حکام نے ایران پر بے جا الزامات عائد کیے اور ایران کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی دی۔

ایران نے خطے میں ہتھیاروں کی فراہمی اور عدم استحکام پھیلانے سے متعلق تمام الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ دعوے بے بنیاد ہیں۔ ایران نے اپنے مؤقف کو واضح کرتے ہوئے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے پر سنجیدگی سے غور کیا جائے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر نے ایران کو دھمکی میں کہا کہ حوثیوں کے حملوں کی پشت پناہی پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائےگا، پینٹا گون نے ٹرمپ کے مقاصد کے حصول تک حوثیوں پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کر دیا، حوثیوں نے بحیرہ احمر میں امریکی طیارہ بردار جہاں ہیری ٹرومین کو نشانہ بنانے کا دعوی کردیا۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا حوثیوں کے حملوں کی پشت پناہی پر ایران کو ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کیرولائن لیوٹ نے کہا ایران صدر ٹرمپ کے پیغام کو سنجیدگی سے لے۔

پینٹاگون کے جوائنٹ اسٹاف ڈائریکٹر فار آپریشنز لیفٹینٹ جنرل ایلکس گرینکوچ کا کہنا ہے کہ یمن میں حوثیوں کے 30 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جس میں ان کا کمانڈ اینڈ کنڑول سینٹر تربیتی مراکز اور اسلحہ کے گودام شامل ہیں۔

دوسری جانب حوثیوں کے ترجمان یحیی ساریہ کہتے ہیں کہ امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ہیری ٹرومین کو بحیرہ احمر میں دو کروز میزائلوں اور دو ڈرون سے کامیابی سے نشانہ بنایا ہے، امریکا اور اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan
60000