RomeoSoft

RomeoSoft

Share

We Create Freeware Islamic, Educational And All Type off Java Symbian Android PC Applications.

©Official Page® █║▌│█│║▌║││ █║▌║ ▌║ Verified(facebook private limited)
www.twitter.com/RomeoSoftPK
www.ITSekho.COM

30/09/2017
24/09/2017

پاکستان سے باہر کیا اوقات ہے ان شہزادوں اور شہزادی مریم کی ؟

Photos 23/09/2017

ن لیگ کا جاتے جاتے عوام کو پہلا رگڑا ،‎ ‎
اک واری فیررر شیرررر
لعنت تو بنتی ہے
Karzy Ley Kr Khud Kha Gye Mulak Ka Kahzna Loot kr Khud Kha gye or Awaam ab tex bahr bahr k Karazy Utary ge, khud wo London me Chupy Bathy Hain,Sharm Kro Asy Chorr Logon Pr Andha Dhun Emaan rkhny walo..

Photos 23/09/2017

یہ کیا ڈرامہ بازی چل رہا ھے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں ھم یہ کرپٹ لیڈر اس لیے منتخب کرتے ھے کہ وہ قوم کی بجاۓ اپنے کرپشن چھپانے کے لیے قانون سازی کریں ۔ آج تو ویسے بھی پاکستان میں 2 ادارے ایسے ھے جس پر سب قوم متفق ھے اور وہ نے سپریم کورٹ اور پاک فوج اب اس کے لیے بھی کرپٹ حکمران قانون سازی کررہا ھے اگر ملک کا یہ حال رہا تو پر پاکستان سے اسلامی اور جمہوریت ہٹادیں اللہ سے ڈرو خدا کے بندوں ایک دن ھم سب نے اس فانی دنیا سے خالی ہاتھ جانا ھے کیونکہ آج کل مولویوں نے بھی کرپشن کا ساتھ دیا ھے یقین کریں تو کس پی کریں ۔

Photos 23/09/2017

گپتا خاندان سے شریف خاندان تک - ایک حیرت انگیز کہانی
گپتا خاندان جنوبی افریقہ کا سب سے زیادہ اثرورسوخ رکھنے والا خاندان ہے۔ 1992 میں بھارت کے شہر سہارن پور سے جونسبرک ساؤتھ افریقہ آنے والے تین بھائیوں اتل، اجے اور راجیش نے جنوبی افریقہ میں انویسٹ منٹ کی اور اپنی محنت لگن اور ہنر سے بہت جلد اپنا مقام بنا لیا۔ یہ تین بھائی اتل گپتا، اجے گپتا اور راجیش گپتا جنوبی افریقہ میں "گپتا فیملی" کے نام سے جانے جاتے ہیں۔
گپتا فیملی یوں تو بےشمار قسم کے کاروبار کرتی ہے لیکن اس کے کچھ اہم کاورباروں میں کمپیوٹرز، میڈیا، معدنیات، ائرویز اور انجینرنگ کے بزنس شامل ہیں۔ یہ خاندان جنوبی افریقہ کے امیرترین اور طاقتور ترین خاندانوں میں سے ایک ہے۔ گپتا خاندان سیاسی منظرنامے پر تب پہلی بار ابھر کر سامنے آیا جب اس نے اپنی میڈیا پاور کے ذریعے صدر جیکب زوما کے خلاف اٹھنے والی تحریک کو ناکام بنا دیا۔ اس کے بعد صدر جیکب زوما اور گپتا خاندان کی دوستی اور قربت بڑھنے لگی۔
وقت کے ساتھ ساتھ گپتا خاندان اس قدر طاقتور ہو گیا کہ اس کے متعلق ایک عام خیال یہی تھا کہ جنوبی افریقہ پر اصل حکومت گپتا خاندان ہی کرتا ہے جس کی وجہ سے اپوزیشن کی تنقید بہت زیادہ بڑھ گئی۔ کچھ ایسے معاملات بھی سامنے آئے جس کی وجہ سے گپتا فیملی کو بہت بڑا سیاسی جھٹکا لگا۔ اس میں اہم ترین سیکنڈل 2013 میں سامنے آیا جب گپتا خاندان کی طرف سے ائرفورس کی ائربیس کا غیر قانونی استعمال کیا گیا۔ اتل گپتا نے اپنے بھانجے کی شادی کے لیے بھارت سے مہمانوں کو ایک بوئنگ طیارے پر منگوایا جس کو فضائیہ کی ائربیس پر اتارا اور بغیر کسی امیگریشن پراسیس کے انہیں نکال کر حکومتی بسوں میں ڈیڑھ سو کلومیٹر دور شادی کے مقام پر پہنچایا گیا۔ اس واقعے کے بعد گپتا خاندان شدید ترین تنقید کی زد میں آ گیا .
اس واقعے کے بعد یکے بعد دیگرے سکینڈلز پر سکینڈلز کھلتے چلے گئے کہ گپتا خاندان اور جیکب زوما کی دوستی سے جنوبی افریقہ کی حکومت کیسے کیسے فوائد گپتا خاندان کو دے رہی ہے۔ گپتا خاندان نے اپنی پسند کے منسٹرز لگوائے، رشوتوں کی آفرز کی گئیں۔ اپنی من پسند کمپنیوں کو ٹھیکے دے کر کمیشن کھائے گئے، آئین اور قانون میں ایسی لچک لگائی گئی جس سے براہ راست فائدہ گپتا خاندان کے کاوربار کو ملا۔ الغرض معدنیات، ریلوے، ائرویز، میڈیا، کمپیوٹر کی مشہور کمپنی صحارا کمپیوٹرز کو میلن آف ڈالز کے فائدے پہنچائے گئے۔
حالات اس قدر بگڑ گئے کہ پورے ملک میں گپتا خاندان کے خلاف مظاہرے شروع ہو گئے۔ لیکن کہانی میں اس وقت ایک حیرت انگیز ٹوسِٹ آیا جب گپتا خاندان نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ کو سنبھالنے کے لیے برطانیہ کی مشہور مگر کنٹرورشل لابنگ فرم بیل پوٹنگر کو ہائر کر لیا اور دیکھتے ہی دیکھتے گپتا خاندان کی پوزیشن بحال ہونی شروع ہو گئی۔ انٹرنیٹ، سوشل میڈیا، ویب سائٹس، وکی پیڈیا پر چیزیں ان کے حق میں جانے لگیں۔ دنیا بھر میں گپتا فیملی کی عظمت پر کالمز لکھے جانے لگے، آرٹیکلز چھپنے لگے اور چند ہی دنوں میں جنوبی افریقہ میں نسلی تعصب کی بنیاد پر ہنگامے شروع ہو گئے اور اپوزیشن کی نظریں گپتا فیملی پر سے ہٹ گئیں۔ ابھی گپتا فیملی کے حالات سنبھلنے ہی شروع ہوئے تھے کہ برطانیہ کی کسی لوکل اخبار کے ہاتھ گپتا فیملی اور بیل پوٹنگر کے درمیان کی گئی ای میلز لگ گئیں اور اس کے بعد یہ سارا پول کھل گیا کہ کیسے بیل پوٹنگر ریپوٹیشن مینیجمنٹ نے جعلی اور فیک انٹرنیٹ کیمپئن چلوائی تھی، کیسے دنیا بھر میں اپنے پھیلے ہوئے ملازمین سے گپتا فیملی کے حق میں مہم چلوائی تھی اور کیسے اپنے اثرورسوخ اور سازشوں کے جال سے جنوبی افریقہ میں نسلی فسادات کروانے کی کوشش کی گئی تھی۔
یہ حقائق منظرعام پر آتے ہی پورے جنوبی افریقہ نے گپتا فیملی کا گھیراؤ کر لیا اور اپوزیشن لیڈر جولیس میلیما نے یہاں تک کہہ دیا کہ ہم نے یہ جمہوریت بہت مشکل سے حاصل کی ہے اس لیے اس جمہوریت کی بقاء کے لیے اب گپتا فیملی کو جنوبی افریقہ چھوڑنا ہی ہو گا اور اس کے ساتھ ہی تمام تر کارباروی شخصیات نے گپتا فیملی کا بائیکاٹ کر دیا اور گپتا فیملی کو مظاہرین کے غیض و غضب سے بچنے کے لیے یہ اعلان کرنا پڑا کہ ہم رواں سال کے آخر تک اپنا سارا کاروبار امریکہ منتقل کر دیں گے جبکہ دوسری طرف اس بھیانک سکینڈل کے بعد بیل پوٹنگر ریپوٹیشن مینجمنٹ جو کہ چالیس ملین پاؤند سالانہ کمانے والی کمپنی تھی، وہ چند ہی مہینوں میں دیوالیہ ہو گئی کیونکہ جنوبی افریقہ کی ریاست اور عوام نے ایک ساتھ ہو کر اس خوفناک بیرونی فتنے کا مقابلہ کیا ۔
گپتا خاندان اور شریف خاندان میں فرق
گپتا خاندان اور شریف خاندان میں صرف اتنا فرق تھا کہ گپتا خاندان جو کہ نسلاً افریقی نہیں تھے اس لیے وہ حکومت پر اثرانداز ہو سکتے تھے لیکن حکومت کا حصہ نہیں بن سکتے تھے جب کہ شریف خاندان خود پاکستان پر حکومت کرتا ہے اور وزیراعظم، وزیراعلیٰ اور بےشمار دیگر حکومتی عہدے رکھتا ہے۔
جیسے گپتا خاندان میڈیا پاور کے ذریعے اپوزیشن، عدالتوں، سیکورٹی فورسز اور دیگر مخالف قوتوں پر اثرانداز ہوئے بالکل ویسے ہی نوازشریف نے جیو / جنگ گروپ، نوائے وقت گروپ، ڈان گروپ، ایکسپریس ٹریبیون، دنیا نیوز اور بہت سارے دیگر ٹی وی، اخبارات، کالم نویس، ادیب، صحافی اور اینکر پرسنز جو لفافوں پر رکھے ہوئے ہیں جو ان کے مفادات کی نگرانی کرتے ہیں
اپنوں کو نوازنا اور حکومتی وسائل کو استعمال کر کے اپنے کاروباروں اور خاندان کو فائدہ پہنچانا بھی دونوں خاندانوں میں مشترک تھا۔
نوازشریف نے نوے کی دہائی میں منی لانڈرنگ کرنے کے لیے آئین میں پہلے سے ہی اس کے مطابق ترامیم کر لیں تا کہ ان نئے قوانین کا فائدہ حاصل کرتے ہوئے یہ آرام سے منی لانڈرنگ کر سکیں۔
بالکل ویسے ہی گپتا برادرز نے اپنے کاروبار اور پیسے کی ترسیل کو فائدہ پہنچانے کے لیے صدر جیکب زوما کے ذریعے قانون میں ترامیم کروائیں۔
جس طرح نوازشریف نے پاکستانی سیاست میں ہارس ٹریڈنگ کی بنیاد رکھی اور چھانگا مانگا میں وزیروں کو لے جا کر بند کر دیا گیا تھا بالکل ویسے ہی گپتا خاندان نے کیبنیٹ میں شفلنگ کے دوران اپنی پسند کے لوگ اپنی من چاہی پوزیشنز پر لگوائے اور بہت سارے وزیروں اور عہدے داروں کو رشوت اورمراعات کی پیشکش کی
گپتا خاندان نے بھی اپنی جیب میں میڈیا کی پاور رکھی ہوئی تھی کیونکہ وہ جانتے تھے کہ موجودہ دور میں اگر جھوٹ کو سچ بنانا ہے تو آپ کو میڈیا کی طاقت استعمال کرنی پڑے گی اور وہی کچھ نوازشریف پچھلے تیس سال سے کرتا آ رہا ہے۔ اس نے اپنی ہر الیکشن کیمپئن میڈیا کے ذریعے مخالفین کی کردارکشی کروا کر جیتی۔
سب سے حیرت انگیز چیز جس نے مجھے یہ مضمون لکھنے پر مجبور کیا وہ یہ یہ تھا کہ نوازشریف نے اپنی ریپوٹیشن میجنجمنٹ کے لیے جس امریکی لابنگ فرم "رابرٹی گلوبل" کو ہائر کیا ہے، اس سے پہلے ایک قریبی بھارتی دوست کے کہنے پر نوازشریف نے "بیل پوٹنگر" سے رابطہ کیا تھا جس پر بیل پوٹنگر نے اپنی گرتی ساکھ کی وجہ سے مزید کسی ایڈونچر میں نہ پڑنے کا فیصلہ کیا اور نوازشریف کو "رابرٹی گلوبل" کا مشورہ دیا۔ میں نے مضمون کی پچھلی قسط میں یہ لکھا تھا کہ ایک لابنگ فرم کیسے کام کرتی ہے۔ لابنگ کرنا بنیادی طور پر ایک کرپشن ہے لیکن یہ وہ کرپشن ہے جس کو کارپوریٹ ورلڈ میں قانونی حیثیت حاصل ہے۔ ایک لابنگ فرم اپنے مقاصد کو پانے کے لیے جھوٹ بھی بولتی ہے، قتل و غارت بھی کرتی ہے، افواہیں بھی پھیلاتی ہے، نفرت اور تعصبات کو بھی ابھارتی ہے۔ جو کچھ بیل پوٹنگر نے گپتا فیملی کے لیے کیا اور جیسے اس لابنگ فرم نے سازشوں سے جنوبی افریقہ کے حالات خراب کیے بالکل ویسے ہی بہت جلد آپ نوازشریف کی لابنگ فرم رابرٹی گلوبل کو پاکستان میں "ان ایکشن" دیکھیں گے
میں نے اپنے گزشتہ ایک مضمون میں بتایا تھا کہ لابنگ فرمز ایک مافیا کی طرح کام کرتی ہیں۔ وہ حالات ہی ایسے پیدا کر دیتی ہیں جن سے ان کے کلائینٹ کو براہ راست فائدہ پہنچے۔ ایسے ہی بیل پوٹنگر نے اکنامک فریڈم فائٹرز )جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعت( کی نطریں گپتا خاندان سے ہٹانے کے لیے وہاں پر نسلی فسادات شروع کروا دیے۔ اس واقعہ کے ایکسپوز ہونے کے بعد جنوبی افریقہ کی طرف سے اس قدر دباؤ بڑھا کہ بیل پوٹنگر کے تمام کلائنٹس نے اس کو چھوڑ دیا اور اب بیل پوٹنگر جو کہ اربوں ڈالر منافع کمانے والی کمپنی تھی، محض چند مہینوں کے اندر اندر دیوالیہ پن کے قریب پہنچ گئی۔ بالکل اسی پیٹرن پر نوازشریف نے "رابرٹی گلوبل" کو اپنی لابی کے لیے ہائر کیا ہے۔ بہت جلد بین الاقوامی میڈیا میں پاکستان کو ایک دہشت گرد ریاست کے طور پر پیش کیا جائے گا اور پاکستانی فوج اور ہمارے ایٹمی ہتھیار اس کا بنیادی ٹارگٹس ہوں گے۔ پاکستان میں ایسے حالات پیدا ہو سکتے ہیں فوج اور عدلیہ پر بین الاقوامی دباؤ اتنا بڑھ جائے کہ وہ نوازشریف کے خلاف کوئی بھی قدم اٹھانے سے گریز کریں۔
لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستانی عوام بھی جنوبی افریقہ کی عوام جیسی ہوشیار، ایک نطریے پر کابند اور ملک و ملت سے مخلص ہیں یا یہ لوگ نوازشریف کی باتوں میں آ کر بین الاقوامی سازش کے آلہ کار بن جائیں گے ؟ جنوبی افریقہ کی اپوزیشن جماعتوں، عوام، سول سوسائیٹی، عدلیہ اور سیکورٹی فورسز نے یک جان ہو کر اس بیرونی فتنے کا مقابلہ کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔ لیکن کیا پاکستانیوں میں یہ جذبہ اور طاقت ہے کہ وہ ایک ساتھ مل کر اس نوازشریف نامی فتنے کا مقابلہ کر سکیں یا نہیں ؟؟
میں برسوں کی تحقیق کے بعد اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ نوازشریف، زرداری، الطاف حسین اور فضل الرحمان جیسے بدعنوان اور جرائم پیشہ سیاستدانوں کا سب سے بڑا ہتھیار پاکستانی عوام کی بے شعوری، بے حسی اور جہالت ہے۔
تحریر و تحقیق: عاشور بابا

Photos 23/09/2017

جو کینسر علاج کی سہولیات سابقہ خاتون اول کڑوروں روپے دیکر لندن میں لے رہی ہے وہی علاج کا معیار شوکت خانم پاکستان میں غریبوں کو دے رہا ہے

Photos 23/09/2017

تبديلی آ نہيں رہی تبديلی آ گئی ھے
عمران خان نے سکولوں میں قرآنی تعلیمات لازمی قرار دیا
سود کے خاتمے کیلیے اسمبلی میں بل منظور کرلیا
ختم نبوت مضمون تعلیمی نظام میں شامل کرلیا
جہیز جیسی غیر اسلامی رواج کے خلاف اقدام اٹھایا
حضرت عمر فاروق کے دن پر پر تمام صوبے میں چھٹی کا اعلان کیا.
خیبرپختونخواہ کے سکولوں میں مطالعہ قران حکیم لازمی، سکولوں میں مطالعہ قرآن حکیم کی کتابوں کے تقسیم کا سلسلہ جاری،اب خیبرپختونخوا میں ہر گھر سے حافظ قرآن نکلے گا
خيبر پختونخواہ کی مساجد ميں صرف پڑھے لکھے حضرات کو 14 سکيل اور تنحواہ دينے کے ساتھ امام مسجد مقرر کرنے کا فيصلہ

Photos 23/09/2017

جب کسی قوم پر نواز شریف جیسا خکمران مسلط ہوجائے,تو اس ملک کے عوام اور معاشرہ تباہ وبرباد ہوجاتا ہے,بنی اسرائیل بھی فرعون کے ساتھ خوش تھے,خالانکہ فرعون اس کے بچے ذبح کرتا تھا,اور ان کے بچیوں کے ساتھ زیادتیاں کرتا تھا,لیکن پھر بھی بنی اسرائیل اس کے ساتھ خوش تھے,کیونکہ فرعون نے اس قوم کو تعلیم علم شعور روزگار اور اس کے بنیادی خقوق سے محروم رکھا تھا,اور صرف اس قوم کو اپنے لئے سجدے اور تابعداری سکھایا تھا,اس قوم نے خضرت موسی کو نہیں مانتا تھا,اور نہ ہی اس کی کوئی بات سنتا تھا,اس لئے مئں ن لیگ کے تمام سپورٹروں اور جاہلین سے اتفاق کرتا ہوں,جیسا وہ کہہ رہےہیں,کہ ہمیں پتہ ہے,کہ نواز شریف دنیاں کا سب سے بڑا چور ہیں,لیکن ہم ووٹ اسی کو ہی دینگے,ہم یہ نہیں جانتے کہ برباد ہوتی ہیں وہ قومیں جو کسی تاجر کو ملک کی سربراہ بنایا جائے,ہم یہ بھی نہیں جانتے,کہ ملک چار سالوں میں کتنا عرب ڈالر مقروض ہوا اور ہم یہ بھی نہیں جانتے کہ خارجہ پالیسی کیا ہوتی ہیں,اور ملک کا عزت وقار کیا ہوتا ہیں,اور یہ بھی نہیں پتہ کہ پنامہ اور کرپشن چوری کیا ہوتا ہیں,اور ہمیں سپریم کورٹ اور عدل وانصاف کے بارے میں کچھ پتہ نہیں,ہمیں صرف اتنا پتہ ہیں,کہ اگر میاں صاحب سو میں سے ستر روپے کھاتے ہیں,تو تیس ہم پر لگاتے ہیں,تو میرا نہیں حیال کہ ایسی قوم کی تقدیر بدلیں,

Photos 20/09/2017

یہ وہ منافق ھے جس نے اپنے پانچ سالہ دور میں کے پی کے میں کوئی کام نہیں کیآ اور نہ ھی اسلامی نظام نافذ کیاپر ابھی پی ٹی آئی کے ایک اچھے کام میں بھی منافقت کر رہا ھے ۔اس کے منافقت سے دور رہوں ۔یہ مسلمانوں کے خلاف اور امریکہ کا ایجنڈ ھے ۔اسلام کا کو سیاست کے لیے استعمال کرتا ھے باقی یہ مولوی نہیں ھے۔یہ ہر آنے والی خکومت کی نوکری کرتا ھے ۔
علماء کا اطمینان اور محترم مولانا فضل الرحمان
(پوسٹ پڑھنے سے قبل یہ واضح ہو. کہ راقم کو مولانا اور ان کی جماعت کے طرزِ سیاست سے کوئی دلچسپی نہیں.نہ ہی یہ موضوعِ بحث ہے. اور نہ ہی پی ٹی آئی کے کشتگانِ محبت میں سے ہوں. میرا موضوع معاشرے کے ایک قابلِ قدر جز کے معاشی مسائل سے ہے. اور اسی تناظر میں یہ پوسٹ پڑھا جائے.)
محترم مولانا فضل الرحمان صاحب اوران کے خوش عقیدت پیروکاروں کا فرمان ہے.
‏ "مسجدوں کے ائمہ کو سرکاری فنڈ سے تنخواہ دینا یہودی سازش ہے۔ اور یہ پیسے حرام ہیں۔ جو علماء کرام ہرگز نہیں لیں گے۔" اور یہ کہ "علماء اپنی موجودہ حالت پہ بہت خوش ہیں"۔
سب سے پہلے تو آپ کی توجہ ایک کھلے تضاد کی طرف مبذول کراؤں گا۔۔۔۔۔۔۔۔
آپ کی پارٹی کے کئی ایک ایم پی ایز بشمول آپ کے اپوزیشن لیڈر بھائی کے۔۔اسی "یہود نواز" صوبائی حکومت کی طرف سے عطاء کردہ اس "ناپاک" دولت اور مراعات سے جی کھول کر برکات و انوارات سمیٹ رہے ہیں۔۔۔۔۔
آپ کے گروپ کے بے شمار علماء سرکاری سکولوں، یونیورسٹیوں اور کالجوں میں اے ٹی، ٹی ٹی، قاری، لیکچرر، پروفیسرز کے عہدوں پر براجمان ہیں۔ اور اسی صوبائی حکومت سے تنخواہیں لے رہے ہیں۔
سینکڑوں علماء مساجد میں سرکاری خطیب کے عہدے پہ کام کر رہے ہیں۔
جب بھی مذکورہ بالا پوسٹوں کے لئے کوئی ٹیسٹ یا انٹروویو ہوتا ہے۔ امیدواروں میں آپ کے مدرسوں کے فضلاء کی قطاریں لگی ہوتی ہیں۔ بلکہ (گستاخی معاف) کئی ایک کو آپ اور آپ کی پارٹی کے بااثر افراد نے بغیر استحقاق کے زبردستی سرکاری اداروں میں ٹھونسوایا ہے۔ جو ہر مہینے بلاناغہ بسم اللہ پڑھ کر اسی "گمراہ اور غیر اسلامی" حکومت کی طرف سے عطاء کردہ تنخواہ بڑی عقیدت و احترام سے وصول کرتے ہیں۔
پہلے یوں کیجئے۔ کہ ان تمام افراد سے استعفے دلوائیے۔ ان کو خانوں اور نوابوں کی "پاکیزہ اور حلال" زکوة پہ قانع کروائیں۔ان کے ذلت آمیز رویے اور ان کی جلی کٹی سننے پہ ان کو راضی کریں۔۔روکھی سوکھی کھا کر صبر و شکر کے ساتھ سونےکی مشق خود بھی کریں. اور زیرو میٹر پراڈو میں پھرنے والے اور عالیشان بنگلوں میں رہنے والے اپنے عزیزوں اور مصاحبین کو بھی کروائیں. یہ سب کر گزریں۔ تو یہ ارشاد گرامی پھر سے فرمائیں۔ " ہمارے علماء اپنی حالت پہ بہت خوش ہیں"۔ کیونکہ
بات جو دل سے نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
آپ اسلام آباد کی روشنیوں میں گم ہو کر شاید بھول بیٹھے ہیں۔ کہ مسجد کے مولوی کو جو تنخواہ ملتی ہے۔ اس میں وہ اپنے بچوں کو دو وقت کی روٹی بھی پیٹ بھر کر نہیں کھلا سکتا۔
آپ شاید بے خبر ہیں۔ یا جان بوجھ کر بے خبر بنے بیٹھے ہیں۔ کہ اھلِ محلہ مولوی کے لئے دو ڈھائی ہزار تنخواہ جمع کرکے اسے اپنا جدی پشتی غلام سمجھتے ہیں۔ ان میں سب سے گھٹیا ترین آدمی بھی مولوی سے اپنے ماتحت کا سا سلوک کرتا ہے۔
آپ کو شاید یہ بات بھی معلوم نہیں۔ کہ خان اور نواب کی زکوة اور خیرات کھا کر اس کے سامنے حق کی بات نہیں کی جاسکتی۔ اسے اصل دین نہیں سکھایا جا سکتا۔
آپ شاید یہ بھول بیٹھے ہیں۔ کہ مولوی اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلوانے کے صرف خواب دیکھتا ہے۔ وہ اپنی اہلیہ کے ہاتھوں کو سونے کے کنگن سے آراستہ کرنے کی آرزو میں درگور ہو جاتا ہے۔ وہ موت کے منہ میں سسکتے، تڑپتے اپنے بیمار بچوں کو دیکھ کر صرف موٹے موٹے آنسو بہاتا ہے۔ ان کے علاج کی سکت نہیں رکھتا ہے۔
کیا یہی ہے وہ حالت، جس کےمتعلق آپ اے سی ہوٹلوں میں کھڑے ہو کر فرماتے ہیں۔ "ہمارے علماء اپنی حالت سے خوش ہیں"
یہ آپ کیسے رہنما ہیں علماء کے، جو خود وزیروں مشیروں کے پروٹوکول کے سارے مزے اڑا کر اپنے پیروں کاروں کو صحابہء کرام (رض) کی طرز حیات کا درس دے رہے ہیں؟؟؟؟؟
یہ تحریر لکھتے وقت یہ خیال میرے ذہن میں تھا۔ کہ مولانا کے کئی عقیدتمندوں کے ساتھ میرا محبت کا تعلق ہے۔ ان میں سے چند ایک میرا پوسٹ باقاعدگی سے پڑھتے ہیں۔ مجھے معلوم تھا۔ وہ ناراض ہوں گے۔ انہیں ہرگز اچھا نہیں لگے گا۔ لیکن کیا کروں۔عقل و دانش کے قافلے دن کے اجالے میں لٹتے دیکھتا ہوں۔ تو دل خوں کے آنسو بہاتا ہے۔۔۔
میں ان کی طرح مولانا صاحب کے لئے عقیدتوں کا وہ خ*ل آنکھوں پہ نہیں چڑھا سکتا۔ جس میں انہیں موصوف کا ہر عمل جنتی اور ان کے حریفوں کا جہنمی لگتا ہے۔
آخر میں اس بھی ایک تلخ بات ۔۔...
آپ خود کو علماء کا نمائیندہ سمجھتے ہیں۔ اور علماء نبیء کریم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم ( ان پہ میرا روح اور تن فدا ہوں) کے وارث ہیں۔ وہ نبی۔۔ جو دوسروں کو کھلا کر رات کو بھوکا سو جاتا تھا۔ فداہ امی و ابی۔ ان کا فرمان ہے۔۔وہ میرا امتی نہیں۔ جو رات کو پیٹ بھر کر سو جائے۔ اور اس کے پڑوس والے بھوکے رہ جائیں۔.اور فرمان گرامی کا مفہوم ہے. تم مومن نہیں ہو سکتے. جب تک کہ اپنے بھائی کے لئے وہ پسند نہ کرلو. جو خود اپنے لئے کرتے ہو۔۔
یہ کیسا وارث ہے نبیوں کا۔۔۔ جو قارون کے خزانے پہ بیٹھ کر اپنے عقیدےمندوں کے لئے آبرومندانہ وظیفے کے چند ٹکے حرام کر دے۔۔۔
آپ کے قائد کو ایک دن ضرور میرا رب ذوالجلال اپنے سامنے کھڑا کرے گا۔ اور ان سے پو چھے گا۔ کہ تم اگر اپنے پیروکاروں کے لئے "اِس حالت" پہ راضی تھے۔ تو خوداپنے لئے "اُس حالت" کو کیوں اختیار کیا تھا؟؟

Photos 20/09/2017

بچھو اور درویش !
عمران خان کی مثال اس درویش جیسی ہے جو پانی میں گرتے ہوے ایک بچھو کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو بچھو اسے ڈنگ مارتا ہے ، بچھو پھر گرنے لگتا ہے تو درویش پھر اسے بچاتا ہے. کسی عقلمند نے درویش سے کہا کہ اگر بچھو مرتا ہے تو مرنے دو ، یہ کہاں کی عقل مندی ہے کہ وہ ڈنگ مارتا ہے اور آپ اسے پھر بھی بچاتے ہیں . درویش نے جواب دیا کہ دنگ مارنا بچھو کی فطرت ہے ، نیکی کرنا میری فطرت ہے ، جب بچھو اپنی فطرت سے باز نہیں اتا تو میں کیوں اپنی فطرت بدلوں.
پاکستان کے سارے ادارے تنزلی کے گڑھے میں گرنا چاہتے ہیں ، عمران خان ان کو بچانے کی کوشش کرتا ہے تو الٹا اس کے خلاف محتلف حربے استعمال ہوتے ہیں . پاکستانی ووٹر کا حال بھی یہی ہے، وہ اپنی غلامانہ فطرت سے مجبور اپنے بچوں اپنی نسلوں کے قاتلوں کو منتخب کرنا چاہتے ہیں. علامہ اقبال کے پوتے ولید اقبال کو لاہور میں ستر ہزار ووٹوں سے شکست دے کر ایک چور شیخ روحیل اصغر کو منتخب کرتے ہیں.چھوڑ دیجیے ساری باتیں یہ وہی پنجاب کی عوام ہے جس نے بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کی بہن محترمہ فاطمہ جناح کو الیکشن میں شکست دے کر اُس بد کردار شخص کا جتوایا ووٹ کے ذریعے جو ایک کتیا کے گلے میں لالٹین) محترمہ فاطمہ جناح کا انتخابی نشان( ڈال کر گھمایا کرتا تھا الیکشن کے دنوں میں اور آج اُسی کا بیٹا نون لیگ کا وزیر ہے،
جس نے بھی عوام کی اس غلامانہ فطرت کو بدلنا چاہا ، اس کا مزاق اڑایا گیا، اس کو برا بھلا کہا گیا. علامہ اقبال نے رینگتے هوئے کیڑوں کی زندگی گزارتے ہوں کو شاہین بنانا چاہا تو لوگوں نے انہیں شرابی اور نہ جانے کیا کہا . الیکشن میں بھی قائدا عظم اور علامہ اقبال کی مسلم لیگ کو پنجاب سے صرف دو نشتیں مل سکیں. قائدا عظم جیسا لیڈر ایک موقعہ پر اس قوم سے مایوس ہو کر لندن چلے گیے تھے . سر سید احمد خان کو اس قوم کو تعلیم دینے پر کافر کہا گیا. لیکن پھر بھی یہ تمام لوگ درویش کی طرح اپنی فطرت پر قائم رہے، عمران خان بھی یہی کر رہا ہے. انتہائی جانفشانی سے اس قوم کو غلامی کی ذلت سے نکالنا چاہتا ہے.
کرپشن کے خلاف اللہ نے پانامہ کی صورت میں لوگوں کے سامنے ظالموں کے راز کھول دیے ، عمران خان نے تحریک چلا کر عوام کو پلیٹ فارم مہیا کر دیا . اگے عوام کی مرضی ، پاکستان ان چند خاندانوں کی غلامی میں چلا گیا ہے اور عمران خان کا قصور یہ ہے کہ وہ قوم کو ان لٹیروں کی غلامی سے نجات دلانا چاہتا ہے لیکن تف ہے اس قوم پر جو سب کچھ جانتے ہوئے بھی اندھی ہے بہری ہے گونگی ہے !

Want your business to be the top-listed Autos & Automotive Service in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Address


Multan
60000