Muhammad Sohail Shah

Muhammad Sohail Shah

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Muhammad Sohail Shah, Artist, Qasim bella, Multan.

22/07/2025

’’جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔‘‘

جی ہاں، نبی کریم ﷺ کو شام (موجودہ شام، فلسطین، اردن اور لبنان کا علاقہ) کی سرزمین سے خاص محبت تھی، اور آپ ﷺ نے شام کے بارے میں کئی فضیلتیں بیان فرمائیں۔ ان احادیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ شام صرف جغرافیائی خطہ ہی نہیں بلکہ دین، ہدایت، برکت اور آخری دور کے فتنوں سے حفاظت کا مرکز بھی ہے۔

شام اللہ کی زمینوں میں سے سب سے بہترین زمین ہے

زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا:
’’شام کے لیے خوشخبری ہو! شام کے لیے خوشخبری ہو! شام کے لیے خوشخبری ہو!‘‘
صحابہؓ نے پوچھا: ’’یا رسول اللہ! شام کو یہ فضیلت کیوں؟‘‘
آپ ﷺ نے فرمایا:
’’اللہ کے فرشتے شام پر اپنے پر پھیلائے ہوئے ہیں۔‘‘
[سنن ترمذی: 3954، صحیح]

شام اہلِ ایمان کا مرکز ہو گا

آپ ﷺ نے فرمایا:
عنقریب تم تین لشکروں میں تقسیم ہو جاؤ گے: ایک شام میں، ایک یمن میں، اور ایک عراق میں...
صحابہؓ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! ہمیں کس طرف رہنا بہتر ہے؟
آپ ﷺ نے فرمایا:
تم پر لازم ہے کہ شام کو اختیار کرو، کیونکہ وہ اللہ کی چنی ہوئی زمین ہے، اللہ اپنے چنے ہوئے بندوں کو وہاں سمیٹے گا۔

[سنن ابی داود: 2483، صحیح الاسناد]
[مسند احمد: 21381، صحیح]

ایمان اور ہجرت کا مرکز شام ہو گا

’’جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔‘‘

إِنَّ الإِيمَانَ حِينَ تَقَعُ الفِتَنُ بِالشَّامِ.

تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه البزار: 3332، والطبراني في الشاميين ‘: 449، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21733 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22076

آخر الزمان میں مسلمانوں کا مضبوط قلعہ

’’ایمان کا مضبوط قلعہ شام ہو گا۔‘‘

عُقْرُ دَارِ الْإِيمَانِ بِالشَّامِ

[مسند احمد: 21716، صحیح الاسناد]

دجال کے خلاف جنگ کا مرکز بھی شام

يَنْزِلُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ... عِندَ الْمَنَارَةِ الْبَيْضَاءِ شَرْقِيَّ دِمَشْقَ

حضرت عیسیٰ ابن مریم علیہ السلام دمشق (شام) کے مشرق میں سفید مینار کے قریب نازل ہوں گے۔

[صحیح مسلم: 2937]

شام: نبوت و برکت کی زمین

عبد اللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

’’میں نے دیکھا کہ کتاب (قرآن) کا ستون میرے تکیے کے نیچے سے نکالا گیا، اور میں نے اس کی روشنی دیکھی، تو وہ شام کی طرف بلند کیا گیا۔ یاد رکھو! جب فتنے آئیں گے تو ایمان شام میں ہو گا۔

رأيت عمودَ الكتابِ انتُزع من تحت وسادتي، فأتبعْتُه بصري، فإذا هو نورٌ ساطعٌ عُمِد به إلى الشامِ، ألا وإنَّ الإيمانَ حين تقعُ الفتنُ بالشامِ.

تخریج الحدیث: «صحيح، أخرجه الطبراني في مسند الشاميين: 1357، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17775 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17928

اللہ کے فرشتے شام میں پھیلائے جاتے ہیں

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:

"تم شام کو لازم پکڑو، کیونکہ وہ اللہ کی بہترین زمین ہے، وہاں اس کے چنیدہ بندے رہتے ہیں۔ اگر تم (شام جانا) قبول نہ کرو، تو یمن میں چلے جاؤ اور اپنے چشموں سے پانی پیا کرو، کیونکہ اللہ نے شام اور اس کے لوگوں کی حفاظت کی ضمانت لی ہے۔"

عليك بالشام فإنها صفوة بلاد الله، يسكنها خيرته من خلقه، فإن أبَيْتَ فإلْحَقْ بيمنك واسق من غُدُرك، فإن الله قد تكفّل لي بالشام وأهله.

[مسند احمد: 21665، صحیح]

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
عنقریب اسلام کو اس قدر غلبہ حاصل ہو گا کہ اہل اسلام کے بہت سے لشکر ہوں گے، ایک لشکر شام میں ایک یمن میں اور ایک عراق میں ہوگا۔
تو ابن حوالہ رضی اللہ عنہ نے کہا:
اے اللہ کے رسول! اگرمجھے یہ دور نصیب ہوتو میرے لیے کسی علاقہ کا انتخاب فرما دیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا:
تم ملک شام میں رہنا، تم شام کو لازم پکڑنا، بس تم شام میں رہنا، جو اس علاقے کا انکار کرے تو وہ یمن میں چلا جائے اور وہاں کے جوہڑوں کا پانی پیے، پس بیشک اللہ تعالیٰ نے مجھے شام اور اہل شام کی حفاظت کی ضمانت دی ہے۔
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، اخرجه ابوداود: 2483، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17005 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17130

17/07/2025

مرکزِ روحانیت داتا گنج بخش علی ہجویری رحمۃ اللہ تعالی علیہ کے مزار پُرانوار کی تعمیرِ نَو کا کام جاری ہے، میری گزارش ہے جو اشعار اہلسنت و جماعت کی ترجمانی کرنے والے لکھے ہوئے تھے وہ دوبارہ لکھے جانے چاہیے۔
محکمہ اوقاف میں موجود علماء و مشائخ اہل سنت کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ پیغام آگے پہنچائیں

13/07/2025

(فتح ثمرقند اسلامی تاریخ کا ناقابل فراموش واقعہ جسے پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے…)

حضرت عمر بن عبد العزیز علیہ رحمة

ثمرقند سے طویل سفر طے کر کے آنے والا قاصد ، سلطنت اسلامیہ کے حکمران “عمر بن عبد العزیز” سے ملنا چاہتا تھا۔
اس کے پاس ایک خط تھا جس میں غیر مسلم پادری نے مسلمان سپہ سالار قتیبہ بن مسلم کی شکایت کی تھی۔

پادری نے لکھا !
“ہم نے سنا تھا کہ مسلمان جنگ اور حملے سے پہلے قبول اسلام کی دعوت دیتے ہیں۔ اگر دعوت قبول نہ کی جائے تو جزیہ دینے کا مطالبہ کرتے ہیں اور اگر کوئی ان دونوں شرائط کو قبول کرنے سے انکار کرے تو جنگ کے لئے تیار ہو جاتے ہیں. مگر ہمارے ساتھ ایسا نہیں کیا گیا اور ہم پر راتوں رات اچانک حملہ کر کے ہمیں مفتوح کر لیا گیا ہے۔”
یہ خط ثمر قند کے سب سے بڑے پادری نے سلطنت اسلامیہ کے فرماں روا عمر بن عبد العزیز کے نام لکھا تھا۔

دمشق کے لوگوں سے شہنشاہ وقت کی قیام گاہ کا معلوم کرتے کرتے وہ قاصد ایک ایسے گھر جا پہنچا کہ جو انتہائی معمولی اور خستہ حالت میں تھا۔ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا تھا اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی تھی۔

جس راستے سے آیا تھا واپس اُسی راستے سے اُن لوگوں کے پاس جا پہنچا جنہوں نے اُسے راستہ بتایا تھا۔
اُس نے لوگوں سے کہا میں نے تم سے اسلامی سلطنت کے بادشاہ کا پتہ پوچھا تھا نہ کہ اِس مفلوک الحال شخص کا جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔

لوگوں نے کہا، “ہم نے تجھے پتہ ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم وقت عمر بن عبد العزیز کا گھر ہے۔”

قاصد پر مایوسی چھا گئی اور بے دلی سے دوبارہ اُسی گھرپر جا کر دستک دی،جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا وہی اند ر سے نمودار ہوا۔

قاصد نے اپنا تعارف کرایا اور خط عمر بن عبد العزیز کو دے دیا۔

عمر بن عبدالعزیز نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر لکھا :
عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام: ” ایک قاضی کا تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔” مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دیدیا۔

سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط کا جواب اور ملاقات کا احوال جب پادری کو سنایا ، تو پادری پر بھی مایوسی چھا گئی۔
اس نے سوچا .. کیا یہ وہ خط ہے جو مسلمانوں کے اُس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟ اُنہیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا اُنہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا۔

مگر کوئی اور راستہ بھی نہ تھا چنانچہ خط لیکر ڈرتے ڈرتے امیر لشکر اور حاکم ثمرقند قتیبہ بن مسلم کے پاس پہنچے ۔
قتیبہ نے خط پڑھتے ہی فورا ایک قاضی کا تعین کردیا جو اس کے اپنے خلاف سمرقندیوں کی شکایت سن سکے۔


قاضی نے پادری سے پوچھا، کیا دعویٰ ہے تمہارا ؟

پادری نے کہا : قتیبہ نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ہم پر حملہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔

قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا، کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں ؟

قتیبہ نے کہا : قاضی صاحب، جنگ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکہ ہے۔
سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جنگ کو ترجیح دی تھی۔

سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔

قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا :قتیبہ میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جنگ کی خبر دی تھی ؟

قتیبہ نے کہا : نہیں قاضی صاحب، میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔
قاضی نے کہا : میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔

اللہ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکہ دہی اور موقع پرستی سے۔
میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور انکے عہدہ داران بمع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک اور مال غنیمت چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔
اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو تو بغیر کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے اور تین دن کی سوچ و بچار کی مہلت دیئے بغیر نہ آیا جائے۔

پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا وہ ناقابل یقین تھا۔ چند گھنٹوں کے اندر ہی مسلمانوں کا عظیم لشکر قافلہ در قافلہ شہر کو چھوڑ کے جا چکا تھا۔

ثمر قندیوں نے اپنی تاریخ میں ایسا کبھی نہیں دیکھا تھا کہ جب طاقتور فاتح قوم کمزور مفتوح قوم کو یوں دوبارہ آزادی بخش دے۔

ڈھلتے سورج کی روشنی میں لوگ ایک دوسرے سے سرگوشیاں کرنے لگے کہ یہ کیسا مذہب اور کیسے پیروکار ہیں ۔ عدل کا یہ معیار کہ اپنوں کے خلاف ہی فیصلہ دے دیں۔ اور طاقتور سپہ سالار اس فیصلہ پہ سر جھکا کر عمل بھی کر دے۔
تاریخ گواہ ہے کہ تھوڑی ہی دیر میں پادری کی قیادت میں تمام شہر کے لوگ گھروں سے نکل کر لشکر کے پیچھے سرحدوں کی طرف دوڑے اور لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے ہوئے اُن کو واپس لے آئے کہ یہ آپ کی سلطنت ہے اور ہم آپ کی رعایا بن کر رہنا اپنے لئے ٖفخر سمجھیں گے۔

دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

کبھی رہبر دو عالم حضرت محمد ﷺ کی امت ایسی ہوا کرتی تھی۔ آج غیر مسلم تو دور کی بات ،مسلمان سے مسلمان کو کوئی امان نہیں۔
واللہ العالم

02/06/2025

اُن کا نام حبیبؓ بن مالک تھا ، اور وہ یمن کے بہت بڑے سردار تھے ، ابوجہل نے پیغام بھیجا کہ حبیبؓ ، محمد ﷺ نے فلاں تاریخ کو چاند کے دو ٹکڑے کرنے ہیں تم یہاں آ جاؤ ، اور چاند کو دیکھنا کہ وہ دو ٹوٹے ہوتا ہے یا نہیں.
چنانچہ حبیبؓ بن مالک نے رخت سفر باندھا اور کوہ ابو قیس پر پہنچ گئے ، جہاں کفار نے مطالبہ کر دیا تھا کہ آسمانی معجزہ یہاں دکھاؤ یا چاند کو دو ٹکڑے کرو ...
میرے آقا حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم تشریف لائے ، چاند کو دو ٹکڑے کیا ، اور واپس تشریف لے گئے ، خصاٸص الکبری میں موجود ہے کہ ڈیڑھ گھنٹہ تک چاند دو ٹکڑے رہا ...
حیبیبؓ بن مالک یہ دیکھ کر حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم کے پاس تشریف لے آئے اور بولے :
" یہ سب ٹھیک ہے لیکن بتائیں میرے دل کو کیا دکھ ہے ...؟"
آپ صلَّی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلَّم نے فرمایا :
" تیری ایک ہی بیٹی ہے ، جس کا نام سطیحہ ہے ، وہ اندھی ، لولی ، لنگڑی ، بہری اور گونگی بھی ہے.
تجھے اسکا دکھ اندر سے کھائے جا رہا ہے جاؤ اللہ تعالی نے اس کو شفاء دے دی ہے ... "
حبیبؓ یہ سنتے ہی دوڑ کر اپنے گھر آئے تو انکی بیٹی سطیحہ نے کلمہ پڑھتے دروازہ کھولا ، حبیبؓ نے پوچھا کہ :
" ...؟ "
تو اس نے حضور اکرم حضرت محمّد مصطفٰی صلی اللہ تعالٰی علیہ وآلہ وسلم کا سارا حلیہ بتایا اور بولی :
" اے ابا وہ آئے ، مجھے زیارت بخشی اور دعا فرمائی ، اور مجھے کلمہ طیبہ بھی پڑھا گئے ... "
حبیبؓ واپس گئے اور کلمہ پڑھ کر مسلمان ہو گئے ، اور نہ صرف مسلمان ہوئے ، بلکہ اسلام کی خدمت میں بھی پیش پیش رہے ...
( بحوالہ معجزات مصطفےصلو علی الحبیب صلی اللہ تعالی علی محمد ﷺ )

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Qasim Bella
Multan
MULTAN