Apna
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Apna, Newspaper, Multan.
03/05/2026
مئی3: آزادیِ صحافت کا عالمی دن اور سچ کی آواز
ہر سال 3 مئی کا دن دنیا بھر میں آزادیِ صحافت کے عالمی دن (World Press Freedom Day) کے طور پر منایا جاتا ہے۔ یہ دن محض ایک تاریخ نہیں، بلکہ ان تمام قلم کاروں، رپورٹرز اور صحافیوں کے نام ایک خراجِ تحسین ہے جو حالات کی سنگینی اور خطرات کے باوجود سچ کا علم بلند رکھتے ہیں۔صحافت کسی بھی معاشرے کا وہ آئینہ ہوتی ہے جس میں اس کے خدوخال صاف نظر آتے ہیں۔ اسے ریاست کا چوتھا ستون کہا جاتا ہے، اور جب یہ ستون مضبوط ہوتا ہے، تو جمہوریت کی عمارت بھی مستحکم رہتی ہے۔صحافت: حق گوئی کی امانتصحافت صرف خبر پہنچانے کا نام نہیں، بلکہ یہ ایک مقدس امانت ہے۔ ایک صحافی کا قلم جب چلتا ہے، تو وہ مظلوم کی آواز بنتا ہے اور طاقتور کے سامنے سوال بن کر کھڑا ہو جاتا ہے۔ 3 مئی ہمیں یاد دلاتا ہے کہ:سچائی کی تلاش: صحافت کا اصل مقصد حقائق کو عوام تک پہنچانا ہے، چاہے وہ کتنے ہی تلخ کیوں نہ ہوں۔احتساب کا عمل: ایک آزاد میڈیا حکمرانوں اور اداروں کو عوام کے سامنے جوابدہ بناتا ہے۔آگاہی کا ذریعہ: معاشرے میں شعور بیدار کرنا اور لوگوں کو ان کے حقوق سے باخبر رکھنا صحافت ہی کی بدولت ممکن ہے۔آزادیِ اظہار اور درپیش چیلنجزآج کے دور میں، جہاں معلومات کا سیلاب ہے، صحافت کو کئی سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ 3 مئی کا دن ہمیں ان تلخ حقیقتوں کی طرف بھی متوجہ کرتا ہے:جانی و مالی خطرات: دنیا کے کئی حصوں میں صحافیوں کو سچ بولنے کی پاداش میں اپنی جانوں سے ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔سنسرشپ اور پابندیاں: کئی جگہوں پر قلم کی زبان کو تالے لگانے کی کوشش کی جاتی ہے، جو کسی بھی آزاد معاشرے کے لیے زہرِ قاتل ہے۔
1. جعلی خبریں (Fake News): ڈیجیٹل دور میں سچی اور جھوٹی خبر میں فرق کرنا ایک بڑا چیلنج بن چکا ہے، جس سے نمٹنا ایک ذمہ دار صحافی کا اولین فریضہ ہے۔
ہمارا فرض اور ذمہ داری
صحافت کی آزادی کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ اخلاقی حدود کو پامال کیا جائے۔ ایک خوبصورت اور مثبت صحافت وہی ہے جو:• غیر جانبداری کو اپنا شعار بنائے۔
• تعصب اور نفرت انگیزی سے پاک ہو۔
• قومی مفاد اور انسانیت کی فلاح کو مقدم رکھے۔
• "قلم کی حرمت اسی میں ہے کہ وہ کبھی کسی مصلحت کا شکار نہیں ہوتی ہے!
02/05/2026
***غریبی اور امیری: ایک ہی موسم** **
**قیامت خیز طوفان،//
خوبصورت مگر تلخ جملہ "غریبی لڑتی رہی تیز طوفانوں سے، امیروں نے کہا واہ کیا موسم ہے" ہماری سماجی زندگی کی اس بھیانک حقیقت کی عکاسی کرتا ہے جہاں ایک کی زندگی کا تماشا دوسرے کے لیے تفریح کا سامان بن جاتا ہے۔کائنات کا نظام سب کے لیے ایک جیسا ہے؛ بارش، دھوپ اور طوفان سب پر برابری سے آتے ہیں۔ لیکن ان حالات کو جھیلنے کی سکت ہر ایک میں مختلف ہوتی ہے۔غریب کے لیے: تیز بارش کا مطلب چھت کا ٹپکنا، کچے مکان کا گرنا اور بھوکے پیٹ گیلی زمین پر رات گزارنا ہے۔ اس کے لیے طوفان ایک آزمائش اور بقا کی جنگ ہے۔امیر کے لیے: یہی بارش ایئر کنڈیشنڈ کمروں کی کھڑکیوں سے خوبصورت منظر پیش کرتی ہے۔ وہ اسے "رومانوی موسم" قرار دے کر گرم کافی اور پکوڑوں سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ ان کے لیے طوفان محض ایک منظر ہے۔یہ فرق صرف موسم تک محدود نہیں، بلکہ انسانی احساسات تک پھیلا ہوا ہے۔ جب معاشرے کا ایک طبقہ اپنی زندگی بچانے کے لیے جدوجہد (Struggle) کر رہا ہوتا ہے، تو دوسرا طبقہ اس جدوجہد سے بے خبر /**اپنی آسائشوں میں مگن رہتا ہے۔"کسی کے پاؤں کی بیڑیاں دیکھ کر کوئی اسے رقص سمجھ لے، تو یہ بصارت کی نہیں، بصیرت کی کمی ہے۔"یہ جملہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی خوشیوں کے جشن میں دوسروں کے دکھوں کو فراموش نہیں کرنا چاہیے۔ سچی انسانیت وہی ہے جو اپنی محفوظ چھت کے نیچے بیٹھ کر ان لوگوں کا درد محسوس کرے جن کے پاس چھت نہیں ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ جسے ہم "خوشگوار موسم" کہہ کر سراہتے ہیں، وہ کسی غریب کے سر سے چادر چھیننے والا "قیامت خیز طوفان" بھی ہو سکتا ہے۔
29/04/2026
رویوں کے زخم: جو کبھی نہیں بھرتے
***) تحریر منور علی رانا) ***
مخلص انسان اکثر رویوں کی زد میں رہتا ہے۔ جب ایک سچا انسان کسی کے منافقانہ رویے کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اس صدمے سے باہر نہیں آپاتا۔ *کہا جاتا ہے کہ وقت ہر زخم کا مرہم ہے، لیکن یہ مقولہ شاید صرف جسمانی چوٹوں تک محدود ہے۔ جب کوئی انسا ن کسی حادثے کا شکار ہوتا ہے یا اسے کوئی جسمانی تکلیف پہنچتی ہے، تو قدرت کا نظامِ مدافعت اسے مندمل کر دیتا ہے۔ کچھ عرصے بعد وہ تکلیف صرف ایک دھندلی سی یاد بن کر رہ جاتی ہے۔ لیکن جہاں بات انسانی رویوں، تلخ جملوں اور سرد مہری کی ہو، وہاں وقت کا مرہم بھی بے اثر ثابت ہوتا ہے۔چوٹ اور رویے کا فرق جسمانی چوٹ ایک ظاہری عمل ہے جس کا علاج ادویات سے ممکن ہے۔ لیکن رویوں کا وار براہِ راست انسان کی عزتِ نفس اور اس کے مان پر ہوتا ہے۔ جب کوئی اپنا، جس پر ہم حد سے زیادہ بھروسہ کرتے ہیں، اپنے رویے سے ہماری اہمیت کو رد کرتا ہے یا ہماری خلوصِ نیت پر شک کرتا ہے، تو وہ کرچیوں میں بٹا ہوا اعتماد دوبارہ کبھی جڑ نہیں پاتا۔یادداشت کا نفسیاتی پہلوانسانی دماغ "احساسات" کو معلومات سے زیادہ شدت سے محفوظ کرتا ہے۔ ہم یہ بھول سکتے ہیں کہ کسی نے ہم سے کیا بات کی تھی، لیکن ہم یہ کبھی نہیں بھول پاتے کہ اس شخص کی گفتگو یا رویے نے ہمیں کیسا محسوس کروایا تھا۔ناقدری کی چوٹ: جب انسان کسی رشتے میں اپنی تمام تر توانائیاں صرف کر دے اور بدلے میں اسے لاتعلقی ملے، تو یہ رویہ ایک دائمی کسک بن جاتا ہے۔تضحیک کا لہجہ: الفاظ تو ہوا میں تحلیل ہو جاتے ہیں، مگر وہ لہجہ جس میں کسی کی تذلیل کی گئی ہو، ذہن کی دیواروں سے ٹکراتا رہتا ہے۔خلوص اور منافقت کا ٹکراؤ معاشرے میں جہاں ملمع سازی اور دکھاوا بڑھ جائے، وہاں مخلص انسان اکثر رویوں کی زد میں رہتا ہے۔ جب ایک سچا انسان کسی کے منافقانہ رویے کا سامنا کرتا ہے، تو وہ اس صدمے سے باہر نہیں آپاتا۔ وہ چوٹ اس لیے نہیں بھولتا کیونکہ اس کے نزدیک رشتوں کی بنیاد سچائی پر ہوتی ہے، اور جب بنیاد ہی ہل جائے تو عمارت کا نقشہ ذہن سے نہیں مٹتا۔ رویوں کی پائیداریتعلقات میں "درگزر" ایک اعلیٰ صفت ہے، لیکن درگزر کرنے کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہوتا کہ انسان وہ رویہ بھول گیا ہے۔ انسان معاف تو کر دیتا ہے، مگر اس کا لاشعور اسے دوبارہ اسی مقام پر کھڑے ہونے سے روکتا ہے جہاں اسے پہلے چوٹ لگی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ رویے انسانوں کے درمیان وہ غیر مرئی دیواریں کھڑی کر دیتے ہیں جنہیں گرانا ناممکن ہوجاتا ہے۔لوگ واقعی چوٹیں بھول جاتے ہیں، لیکن رویوں کا زہر روح میں سرایت کر جاتا ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ ہمارے الفاظ سے زیادہ ہمارا طرزِ عمل اثر رکھتا ہے۔ کسی کو جسمانی اذیت دینا شاید اتنا بڑا جرم نہ ہو، جتنا کسی کے خلوص کو اپنے رویے سے قتل کرنا ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ ہم اپنے رویوں میں نرمی اور لہجوں میں حلاوت پیدا کریں، کیونکہ رشتوں کی دنیا میں واپسی کا راستہ اکثر تلخ رویے ہی بند کرتے ہیں۔
29/04/2026
25/04/2026
*تعلقات کی فصیل اور تنہائی کا سچ*
،(تحریر: منور علی رانا*زندگی کے سفر میں ہم اکثر سہارے تلاش کرتے ہیں، کندھوں پر بھروسہ کرتے ہیں اور کچھ چہروں کو اپنی کائنات کا مرکز مان لیتے ہیں۔ لیکن تلخ حقیقت یہ ہے کہ انسانی رویے موسموں سے زیادہ تیزی سے بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ آج آپ کسی کی زندگی کا حاصل ہو سکتے ہیں، ان کی ترجیحات میں سب سے اوپر، اور ان کی گفتگو کا محور۔ لیکن کل وہی شخص آپ کو اس طرح فراموش کر سکتا ہے جیسے آپ کبھی ان کی زندگی کا حصہ ہی نہ تھے۔تبدیلی: ایک اٹل حقیقت *لوگوں کا اچانک بدل جانا دراصل کسی حادثے کا نام نہیں بلکہ انسانی فطرت کا ایک پہلو ہے۔ جب تک ضرورت یا مفاد وابستہ رہتا ہے، اہمیت برقرار رہتی ہے۔ جیسے ہی ضرورت ختم ہوتی ہے یا کوئی نیا متبادل مل جاتا ہے، آپ کی حیثیت "سب کچھ" سے گر کر "کچھ بھی نہیں" پر آ جاتی ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتا ہے۔خود انحصاری: اصل طاقت ہمیشہ اکیلے جینے کے لیے تیار رہنا بزدلی نہیں بلکہ ایک عظیم ذہنی طاقت ہے۔ جو شخص اپنی خوشیوں کے لیے دوسروں کا محتاج نہیں ہوتا، اسے کسی کے بدل جانے سے فرق نہیں پڑتا۔ تنہائی سے دوستی کر لینا دراصل خود کو پہچاننے کا عمل ہے۔ جب آپ ذہنی طور پر اس حقیقت کو تسلیم کر لیتے ہیں کہ "آنے والے کو راستہ اور جانے والے کو الوداع" کہنا ہے، تو آپ کی زندگی کا سکون کسی دوسرے کے ہاتھ کا کھلونا نہیں بنتا۔ یہی زندگی کی اصل حقیقت ہے کہ یہاں کوئی بھی مستقل نہیں ہے۔ لوگ مسافر ہیں جو آپ کی زندگی کی بستی میں قیام کرتے ہیں اور پھر کوچ کر جاتے ہیں۔ اپنی اہمیت کو دوسروں کی نظروں میں تلاش کرنا چھوڑ دیں؛ اپنی قدر خود کریں تاکہ جب دنیا آپ کو "کچھ نہیں" سمجھے، تب بھی آپ اپنی نظر میں "سب کچھ" رہیں۔$&$
22/04/2026
-خود شناسی: ایک مشکل سفر*
* *دوسروں کی برائی: ایک سستی تسکین *
کہا جاتا ہے کہ دنیا کا مشکل ترین کام اپنے عیب دیکھنا اور آسان ترین کام دوسروں کی خامیاں گننا ہے۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ دوسروں کے کردار پر جرح کرتے وقت جج بن جاتا ہے، لیکن جب اپنی باری آئے تو بہترین وکیل بن کر اپنی ہر غلطی کا دفاع کرتا ہے۔دوسروں کی برائی کرنا، ان پر تنقید کرنا اور ان کے عیبوں کو اچھالنا ایک ایسا مشغلہ ہے جس میں کوئی محنت نہیں لگتی۔ یہ بزدل لوگوں کا شیوہ ہے جو اپنی محرومیوں کو دوسروں کی تنقیص کے پیچھے چھپاتے ہیں۔ جب ہم دوسروں کی برائی کرتے ہیں، تو لاشعوری طور پر خود کو ان سے بہتر ثابت کرنے کی ناکام کوشش کر رہے ہوتے ہیں۔ یہ عمل معاشرے میں صرف نفرت اور فاصلے پیدا کرتا ہے۔اپنے اندر جھانکنے کا حوصلہاپنے گریبان میں جھانکنا کوئی معمولی کام نہیں؛ اس کے لیے "بڑا جگر" اور فولادی اعصاب چاہیے۔ اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا، اپنی انا کو توڑنا اور اپنے اندر چھپے "خوف" اور "حسد" کا سامنا کرنا ایک روحانی اذیت سے کم نہیں۔ لیکن سچی ترقی اسی وقت شروع ہوتی ہے جب انسان دوسروں کے عیبوں سے نظر ہٹا کر اپنی اصلاح کی فکر کرتا ہے۔ جو شخص اپنے اندر جھانکنے کا فن سیکھ لیتا ہے، اسے پھر دوسروں کی برائی کرنے کی فرصت نہیں ملتی۔ دوسروں کی برائی کرنا ایک اندھیرا ہے، جبکہ خود شناسی ایک روشنی ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ معاشرہ بدلے، تو ہمیں تنقید کا رخ دوسروں سے موڑ کر اپنی ذات کی طرف کرنا ہوگا۔ یاد رکھیں، دوسروں کو بدلنا "کمال" ہو سکتا ہے، لیکن خود کو بدل لینا "بندگی" اور "انسانیت" کی معراج ہے۔
21/04/2026
مروت کی قید اور اچھائی کا زوال: جب انسان اپنی ذات ??
*** تمہید*کاوش منور علی رانا **
اکثر یہ سوال اٹھایا جاتا ہے کہ "اچھے لوگوں کے ساتھ ہی برا کیوں ہوتا ہے؟" بظاہر یہ جملہ ایک شکوہ معلوم ہوتا ہے، لیکن اگر اس کی گہرائی میں جائیں تو معلوم ہوتا ہے کہ دنیا اچھائی کی دشمن نہیں، بلکہ وہ ان لوگوں کا استحصال کرتی ہے جو اچھائی اور 'حد سے بڑھی ہوئی مروت' کے درمیان لکیر کھینچنا بھول جاتے ہیں۔ آج کے دور میں مروت محض ایک صفت نہیں رہی، بلکہ ایک ایسی زنجیر بن چکی ہے جو انسان کو اپنی ہی ذات کا مجرم بنا دیتی ہے۔مروت اور کمزوری کا فرقاچھائی کا مطلب ہے دوسروں کے ساتھ بھلائی کرنا، لیکن مروت کا وہ درجہ جہاں آپ اپنی ضروریات، اپنی عزتِ نفس اور اپنے سکون کو داؤ پر لگا کر دوسروں کی خوشی خریدتے ہیں، وہ اچھائی نہیں بلکہ خود پر ظلم ہے۔ جب ہم دوسروں کو 'نا' کہنے کی طاقت کھو دیتے ہیں، تو معاشرہ اسے ہماری اخلاقی برتری نہیں بلکہ ہماری کمزوری تصور کرنے لگتا ہے۔ یہی وہ مقام ہے جہاں ایک اچھا انسان حالات کی چکی میں پسنا شروع ہو جاتا ہے۔ذات کی نفی اور دوسروں کی خوشنودی ہم اکثر اس خوش فہمی میں رہتے ہیں کہ دوسروں کو خوش رکھ کر ہم ایک اعلیٰ درجے کے انسان بن رہے ہیں۔ حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ دوسروں کی توقعات کا بوجھ اٹھاتے اٹھاتے ہم اپنی شخصیت کی شناخت کھو دیتے ہیں۔ جب آپ اپنی ذات کو بھول جاتے ہیں، تو دنیا بھی آپ کو یاد رکھنا چھوڑ دیتی ہے۔ لوگ صرف ان لوگوں کی قدر کرتے ہیں جن کی اپنی کوئی حد (Boundary) ہوتی ہے۔ جس انسان کے دروازے ہر ایرے غیرے کے لیے ہر وقت کھلے ہوں، وہاں پھر قدر نہیں، صرف استعمال باقی رہ جاتا ہے۔تلخ حقیقت: مروت کا ناجائز فائدہآج کا دور مادیت پرستی کا دور ہے۔ یہاں مروت کو اکثر "موقع پرستی" سے شکست دے دی جاتی ہے۔ ایک اچھا انسان جب مروت میں آکر جھکتا ہے، تو سامنے والا اسے احترام نہیں سمجھتا بلکہ اسے ایک ایسا کندھا سمجھ لیتا ہے جس پر رکھ کر وہ اپنی اغراض کی بندوق چلا سکے۔ یہ تلخی تب زیادہ محسوس ہوتی ہے جب مشکل وقت میں وہی لوگ پیٹھ دکھا دیتے ہیں جن کی خوشی کے لیے آپ نے اپنی زندگی وقف کی ہوتی ہے۔: توازن ہی بقا ہےمسئلہ اچھائی کرنے میں نہیں، بلکہ اپنی ذات کو نظر انداز کرنے میں ہے۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اچھا بنے لیکن اتنا سادہ نہیں کہ کوئی بھی اسے روند کر گزر جائے۔ مروت کا ایک پیمانہ ہونا ضروری ہے؛ ایسی مروت جو آپ کے اپنے وقار کو مجروح کرے، وہ مروت نہیں بلکہ خودکشی ہے۔ اپنی ذات کا احترام کرنا سیکھیں، کیونکہ جو شخص اپنی قدر نہیں کرتا، وہ دنیا سے قدر کی توقع کبھی پوری نہیں کر سکتا۔
18/04/2026
**اپنی تھالی اور اپنی روٹی**
لوگوں کی زندگی کے ڈرامے دیکھنے سے بہتر ہے، اپنی*زندگی کی فلم کو 'ہٹ' بنائیں۔ جو آپ کے پاس ہے، وہ *کتنوں کا خواب ہے، اس لیے شکر کریں اور جئیں!"انسانی فطرت ہے کہ وہ اکثر اپنی حاصل شدہ نعمتوں کو چھوڑ کر دوسروں کی زندگیوں، کامیابیوں اور سہولیات پر نظر رکھتا ہے۔ محاورہ ہے کہ "دوسروں کی تھالی میں جھانکتے رہو گے تو اپنی روٹی ٹھنڈی ہو جائے گی"۔ یہ جملہ محض دسترخوان تک محدود نہیں، بلکہ ہماری پوری زندگی کا احاطہ کرتا ہے۔: خوشیوں کا قاتل جب ہم اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں سے کرنا شروع کر دیتے ہیں، تو ہم لاشعوری طور پر اپنی ان خوشیوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں جو ہمارے پاس موجود ہیں۔ وقت ایک ایسی متاع ہے جو پلک جھپکتے گزر جاتا ہے۔ اگر ہم اپنا قیمتی وقت دوسروں کی کامیابیوں پر کڑھنے یا ان کا حساب لگانے میں ضائع کر دیں گے، تو وہ وقت جو ہمیں اپنی زندگی کو بہتر بنانے اور اپنی "روٹی" (رزق و سکون) کا لطف اٹھانے کے لیے ملا تھا، ہاتھ سے نکل جائے گا۔شکر میں چھپا سکون خوشی کا تعلق زیادہ مال و دولت سے نہیں بلکہ قناعت سے ہے۔ جو انسان اپنے حصے کے رزق پر راضی ہو جاتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے، اسے وہ سکون میسر آتا ہے جو محلوں میں رہنے والوں کو بھی شاید نصیب نہ ہو۔ اپنی ٹھنڈی ہوتی ہوئی روٹی کا مطلب وہ مواقع اور وہ لمحات ہیں جو ہماری توجہ نہ ہونےکی وجہ سے اپنی تاثیر کھو دیتے ہیں زندگی بہت مختصر ہے۔ دوسروں کے پاس کیا ہے، یہ دیکھنے کے بجائے یہ دیکھیں کہ آپ کے پاس کیا ہے اور آپ اسے کیسے بہتر بنا سکتے ہیں۔ یاد رکھیں:جو میسر ہے، وہی مقدر ہے۔ اس میں شکر تلاش کریں گے تو زندگی خوشگوار ہو جائے گی، اور اگر دوسروں کی تھالی پر نظر رکھیں گے تو اپنا موجودہ سکون بھی گنوا بیٹھیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ ہم اپنی محنت پر توجہ دیں اور جو ملا ہے اسے "گرم جوشی" اور "شکر" کے ساتھ قبول کریں، تاکہ ہماری زندگی کی روٹی نہ صرف گرم رہے بلکہ اس کا ذائقہ بھی برقرار رہے۔
16/04/2026
خاموشی: ایک خاموش مشاہدہ
*تحریر منور علی رانا **
زندگی کے سفر میں اکثر ایسا لمحہ آتا ہے جب انسان لفظوں کی نفی کر دیتا ہے۔ جب ہم بولتے ہیں، تو ہم دنیا کو اپنے بارے میں بتاتے ہیں، لیکن جب ہم خاموش ہوتے ہیں، تو دنیا ہمیں اپنے بارے میں بتاتی ہے۔تماشا کرنے سے بہتر ہے خاموش رہ کر لوگوں کی اوقات دیکھ لوں۔یہ کوئی ہار مان لینے کا نام نہیں ہے، بلکہ یہ تجربے کی ایک ایسی معراج ہے جہاں انسان سمجھ جاتا ہے کہ ہر شخص کو جواب دینا، اپنے ہی ظرف کو چھوٹا کرنے کے مترادف ہے۔ لوگ، جو کل تک آپ کے سائے میں چلتے تھے، وقت کی دھوپ پڑتے ہی اپنا رخ بدل لیتے ہیں۔ ان کے لہجوں میں چھپی ہوئی مسکراہٹیں، ان کی آنکھوں میں بسا ہوا مفاد، اور ان کی گفتگو میں موجود کھوکھلا پن—یہ سب تب ہی سمجھ آتا ہے جب آپ خود کو تماشائی بنا لیتے ہیں۔خاموشی، کمزوری نہیں، بلکہ ایک ایسی کھڑکی ہے جس سے آپ بغیر کسی شور و غوغا کے، لوگوں کے اصلی چہروں کو نقاب اتارتے ہوئے دیکھ سکتے ہیں۔ جس دن آپ بولنا بند کر کے دیکھنا شروع کر دیں گے، اس دن آپ کو معلوم ہوگا کہ کتنے لوگ آپ کے "ہمدرد" تھے اور کتنے محض آپ کی موجودگی کا فائدہ اٹھا رہے تھے۔***یاد رکھیے، الفاظ میں اگر کہیں تو:"خاموشی ہی بہتر ہے اس ہجوم میں، کیونکہ لوگ اب سنتے نہیں، صرف سناتے ہیں۔"تلاش کر کے کسی کو برا کہنے سے کہیں بہتر ہے کہ اسے خود پر چھوڑ دیا جائے، کیونکہ وقت ایک ایسا آئینہ ہے جو ہر کسی کی اوقات کو اس کے سامنے لا کھڑا کرتا ہے۔ بس، ذرا سی خاموشی اختیار کر لیجیے، تماشا خود بخود لگ جائے گا۔
10/04/2026
سچائی: جب مفاد جیت جائے اور رشتے ہارجائیں
انسانی زندگی رشتوں کے خوبصورت تانے بانے سے بنی ہوئی ہے، جہاں خون کا تعلق اور دوستی کے ناطے سکونِ قلب کا باعث بنتے ہیں۔ لیکن جب معاشرے میں "لالچ کے بازار" آباد ہو جاتے ہیں، تو خلوص اور وفا کے شہر ویران ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ یہ وہ مقام ہے جہاں مادہ پرستی جذبوں پر حاوی ہو جاتی ہے۔۔ خون کے رشتوں میں دراڑیں خون کے رشتے فطری طور پر مضبوط سمجھے جاتے ہیں، لیکن جب وراثت، پیسہ یا دنیاوی فائدہ درمیان میں آ جائے تو یہی رشتے اجنبی بن جاتے ہیں۔ بھائی بھائی کا دشمن اور عزیز اپنے ہی پیاروں کی جڑیں کاٹنے لگتے ہیں۔ جب انسان کی نظر صرف اس بات پر ہو کہ اسے دوسرے سے کیا "مل" رہا ہے، تو وہاں محبت رخصت ہو جاتی ہے اور صرف لین دین باقی رہ جاتا ہےدوستی ایک ایسا رشتہ ہے جو انتخاب پر مبنی ہوتا ہے، مگر آج کل کے دور میں اکثر دوستیاں بھی ضرورت کی مرہونِ منت رہ گئی ہیں۔ جیسے ہی کسی شخص کا مقصد پورا ہوتا ہے یا اسے کوئی بہتر "سودا" نظر آتا ہے، وہ برسوں کی رفاقت کو ایک لمحے میں فراموش کر دیتا ہے۔ جب لالچ کے بازار میں ضمیر کی بولیاں لگتی ہیں، تو دوستی کا بھرم سب سے پہلے ٹوٹتا ہے۔رشتوں کے شہر تب ویران ہوتے ہیں جب انسان دوسروں کو انسان نہیں بلکہ سیڑھی سمجھنا شروع کر دیتا ہے۔ جہاں ایثار، قربانی اور بے غرضی ختم ہو جائے، وہاں بظاہر ہجوم تو ہوتا ہے مگر جذباتی وابستگی ختم ہو جاتی ہے۔سچائی یہی ہے کہ رشتے خون کے ہوں یا دوستی کے، وہ صرف اعتبار اور بے غرضی کی بنیاد پر زندہ رہتے ہیں۔ اگر ہم اپنے دلوں میں لالچ کے بازار سجاتے رہیں گے، تو ہم مادی طور پر شاید خوشحال ہو جائیں، مگر رشتوں کے معاملے میں ہمیشہ تنہا اور مفلس ہی رہیں گے۔
09/04/2026
**جب احساس مر جائے: اذیت تک کا سفر- **
/،منورعلی رانا+/
انسان کا درد کی انتہا سے گزر کر 'پتھر' ہو جانا درحقیقت اس کی ہمت کی آخری حد نہیں، بلکہ اس کے نفس کا وہ حفاظتی نظام ہے جو اسے مزید ٹوٹنے سے بچاتا ہے۔ زندگی کا سفر خوشنما رستوں سے زیادہ کٹھن پہاڑوں اور خاردار جھاڑیوں پر مشتمل ہے۔ اس سفر میں سب سے گہرا گھاؤ وہ نہیں ہوتا جو دشمن لگائے، بلکہ وہ تلخ لہجے اور اپنوں کی وہ بے رخی ہوتی ہے جو روح کے اندر تک اتر جاتی ہے۔ جب انسان بار بار اعتبار کی دہلیز پر دستک دے کر خالی ہاتھ لوٹتا ہے، تو ایک وقت ایسا آتا ہے کہ اس کے اندر کا جذباتی نظام 'جام' ہو جاتا ہے۔اس مقام کو عام زبان میں "پتھر ہو جانا" کہا جاتا ہے۔درد کی لذت سے محرومیشروع شروع میں جب دل دکھتا ہے، تو آنسوؤں میں ایک تڑپ ہوتی ہے، ایک درد کی لذت ہوتی ہے جو انسان کو محسوس کراتی ہے کہ وہ ابھی زندہ ہے۔ لیکن جب امتحانات کی کڑی دھوپ حد سے بڑھ جائے، تو وہ تپش آنسوؤں کو خشک کر دیتی ہے۔ پھر نہ کسی کے کڑوے بول زہر لگتے ہیں اور نہ ہی کسی کا رویہ اذیت دیتا ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں انسان 'ردِعمل' (Reaction) دینا چھوڑ دیتا ہے۔سکون یا سناٹا؟ پتھر ہو جانے کا مطلب یہ نہیں کہ انسان ظالم ہو گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ اب اس نے اپنی خوشیوں اور غموں کی چابی دوسروں کے ہاتھ سے واپس لے لی ہے۔ جب کوئی دل دکھائے اور برا نہ لگے، تو سمجھ لیں کہ آپ نے زندگی کا سب سے مشکل سبق سیکھ لیا ہے: "توقع کا خاتمہ"۔اب نہ کوئی امید ہے، نہ کوئی گلہ۔ یہ کیفیت بظاہر ایک سرد خاموشی معلوم ہوتی ہے، مگر حقیقت میں یہ ایک ایسی ڈھال ہے جو انسان کو دنیا کے مکارچہروں اور بدلتے موسموں سے بے نیاز کر دیتی ہےمپتھر بننا کوئی شوق نہیں، ایک مجبوری ہے۔ لیکن اس سرد مہری میں ایک عجیب سا سکون بھی چھپا ہے۔ جب اذیت کا احساس ختم ہو جائے، تو انسان صحیح معنوں میں آزاد ہو جاتا ہے۔ وہ پھر اپنوں کے بدلتے لہجوں کا تماشائی تو ہوتا ہے، مگر ان کا شکار نہیں بنتا۔ یہ وہ بلندی ہے جہاں پہنچ کر انسان مسکرا کر کہہ سکتا ہے:"تم نے وہی کیا جو تمہاری فطرت تھی، میں نے وہ پایا جو میرا نصیب تھ"
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
60000