Apna
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Apna, Newspaper, Multan.
04/06/2026
******،رویوں کا اتار چڑھاؤ اور انسانی نفسیات***
صبح کا بھلا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھلا نہیں *کہتے
*انسانی زندگی میں تعلقات اور لوگوں کے رویے مستقل نہیں رہتے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص اچانک ہمیں اپنی بھرپور توجہ، وقت اور محبت دینے لگتا ہے، تو ہم خود کو بہت خاص سمجھنے لگتے ہیں اور ہمارے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے۔ لیکن مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس عارضی توجہ کی بنیاد پر ہواؤں میں اڑنے سے گریز کیا جائے۔ جذباتی وابستگی میں اس قدر آگے بڑھ جانا نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ جو شخص آپ کو چار دن میں آسمان پر بٹھا سکتا ہے، وہ وقت بدلنے یا مفاد ختم ہونے پر اگلے چار دن میں آپ کو زمین پر پٹخنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ تعلقات میں حد سے زیادہ توقعات ہمیشہ مایوسی کا سبب بنتی ہیں، اس لیے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا اور حقیقت پسند ہونا ضروری ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں ایک عام کہاوت ہے کہ "صبح کا بھلا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھلا نہیں کہتے"۔ یہ جملہ عام طور پر ان لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنی غلطی کا احساس ہونے پر سدھر جائیں۔ لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو بعض اوقات یہ ہر جگہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر، اپنے مفاد کے لیے یا آپ کو نقصان پہنچانے کے بعد صرف اس لیے واپس لوٹتا ہے کہ اب اسے آپ کی ضرورت ہے، تو اسے "سدھر جانا" یا "واپسی" نہیں کہا جا سکتا۔سچی توبہ اور واپسی وہ ہوتی ہے جس میں خلوصِ دل شامل ہو، نہ کہ کوئی وقتی ضرورت یا مجبوری۔ رویوں کی اس دنیا میں مخلص اور موقع پرست لوگوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ہی اصل دانشمندی ہے، تاکہ انسان بار بار ایک ہی جگہ سے دھوکا کھانے سے محفوظ رہ سکے
*صبح کا بھلا اگر شام کو گھر آجائے تو اسے بھلا نہیں
*کہتے
*انسانی زندگی میں تعلقات اور لوگوں کے رویے مستقل نہیں رہتے۔ اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ جب کوئی شخص اچانک ہمیں اپنی بھرپور توجہ، وقت اور محبت دینے لگتا ہے، تو ہم خود کو بہت خاص سمجھنے لگتے ہیں اور ہمارے پاؤں زمین پر نہیں ٹکتے۔ لیکن مصلحت کا تقاضا یہ ہے کہ اس عارضی توجہ کی بنیاد پر ہواؤں میں اڑنے سے گریز کیا جائے۔ جذباتی وابستگی میں اس قدر آگے بڑھ جانا نقصان دہ ہو سکتا ہے، کیونکہ جو شخص آپ کو چار دن میں آسمان پر بٹھا سکتا ہے، وہ وقت بدلنے یا مفاد ختم ہونے پر اگلے چار دن میں آپ کو زمین پر پٹخنے کی طاقت بھی رکھتا ہے۔ تعلقات میں حد سے زیادہ توقعات ہمیشہ مایوسی کا سبب بنتی ہیں، اس لیے اپنے جذبات کو قابو میں رکھنا اور حقیقت پسند ہونا ضروری ہے۔اسی طرح ہمارے معاشرے میں ایک عام کہاوت ہے کہ "صبح کا بھلا اگر شام کو گھر آ جائے تو اسے بھلا نہیں کہتے"۔ یہ جملہ عام طور پر ان لوگوں کے لیے بولا جاتا ہے جو اپنی غلطی کا احساس ہونے پر سدھر جائیں۔ لیکن اگر گہرائی میں دیکھا جائے تو بعض اوقات یہ ہر جگہ درست ثابت نہیں ہوتا۔ اگر کوئی شخص جان بوجھ کر، اپنے مفاد کے لیے یا آپ کو نقصان پہنچانے کے بعد صرف اس لیے واپس لوٹتا ہے کہ اب اسے آپ کی ضرورت ہے، تو اسے "سدھر جانا" یا "واپسی" نہیں کہا جا سکتا۔سچی توبہ اور واپسی وہ ہوتی ہے جس میں خلوصِ دل شامل ہو، نہ کہ کوئی وقتی ضرورت یا مجبوری۔ رویوں کی اس دنیا میں مخلص اور موقع پرست لوگوں کے درمیان فرق کو سمجھنا ہی اصل دانشمندی ہے، تاکہ انسان بار بار ایک ہی جگہ سے دھوکا کھانے سے محفوظ رہ سکے
03/06/2026
*****مرجھائے ہوئے پھولوں کا کوئی خریدار نہیں ہوتا: اپنے آپ کو آباد رکھو*
*اپنے آپ کو آباد رکھیے، کیونکہ آپ آباد ہیں تو یہ کائنات آباد ہے!**********
انسان کا وجود قدرت کا ایک انمول شاہکار ہے، لیکن اس شاہکار کی اصل قیمت اور خوبصورتی اس کے اندر کی رونق، خود اعتمادی اور زندگی سے جڑی ہوتی ہے۔ معاشرے کا ایک تلخ مگر سچا اصول ہے کہ "مرجھائے ہوئے پھولوں کا کوئی خریدار نہیں ہوتا۔" جب تک ایک پھول شاخ پر مہکتا ہے، تروتازہ رہتا ہے، ہر کوئی اسے چھونا، اسے چومنا اور اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے۔ لیکن جیسے ہی اس کی پنکھڑیاں مرجھا جاتی ہیں، اس کا رنگ پھیکا پڑ جاتا ہے، تو وہی لوگ جو اس کے دیوانے تھے، اسے پیروں تلے روندتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔یہی مثال انسانی زندگی اور شخصیت کی ہے۔ اگر آپ اندر سے ٹوٹ چکے ہیں، مایوسی کا لبادہ اوڑھ کر بیٹھ گئے ہیں اور خود کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا ہے، تو یہ دنیا آپ کو ہمدردی کی دو چار باتیں تو دے سکتی ہے، مگر آپ کے ساتھ کھڑی نہیں ہو سکتی۔ دنیا ہمیشہ چمکتے ہوئے سورج کو سلام کرتی ہے، ڈوبتے ہوئے سائے سے تو لوگ خود اپنا دامن چھڑا لیتے ہیں۔احساسِ کمتری اور مایوسی: وجود کو مرجھا دینے والی دیمک *زندگی میں اتار چڑھاؤ، تلخیاں اور اپنوں کے بدلتے ہوئے رویے انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتے ہیں۔ منافقت، دھوکے اور خلوص کی کمی بعض اوقات انسان کے دل کو اس طرح مرجھا دیتی ہے کہ وہ جینے کی امنگ ہی کھو بیٹھتا ہے۔ لیکن یاد رکھیے، دوسروں کی بے رخی یا حالات کی سختی کی وجہ سے اپنے آپ کو اجاڑ لینا کہاں کی دانشمندی ہے؟جب آپ خود اپنی قدر کرنا چھوڑ دیتے ہیں، تو دنیا آپ کی قیمت لگانا بند کر دیتی ہے۔ آپ کا چہرہ، آپ کی گفتگو اور آپ کا اندازِ بیاں اگر مایوسی کی تصویر بن جائے، تو لوگ آپ سے دور بھاگنے لگتے ہیں۔ کوئی بھی شخص ایسے رشتے یا محفل کا حصہ نہیں بننا چاہتا جہاں صرف اداسی اور ناامیدی کا ڈیرہ ہو۔اپنے وجود کو آباد رکھنا کسی دوسرے کی ذمہ داری نہیں، بلکہ یہ آپ کا اپنے آپ پر سب سے پہلا حق ہے۔ خود کو آباد رکھنے کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو کبھی دکھ نہیں ہوگا، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دکھوں کے طوفان میں بھی اپنی اندرونی بستی کو اجڑنے نہیں دیں گے۔*اپنی خودی کو پہچانیے:* انسان جب تک اپنی نظر میں معتبر نہیں ہوتا، وہ کسی دوسرے کی نظر میں عزت نہیں پا سکتا۔ اپنے اندر کے انسان کا احترام کیجیے۔ آپ کی خامیاں اور آپ کی خوبیاں، دونوں مل کر آپ کو منفرد بناتی ہیں۔*امید کا دامن مت چھوڑیے: *مخلص اور سچے لوگ مٹی میں ملے نایاب موتیوں کی طرح ہوتے ہیں۔ اگر چند لوگوں نے آپ کے خلوص کی قدر نہیں کی، تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ دنیا ختم ہو گئی۔ اپنے دل میں اچھائی کی شمع کو جلتا رکھیے۔اپنے وجود کو ایک تناور درخت بنائیے: اپنے آپ کو علمی، فکری اور روحانی طور پر اتنا مضبوط کیجیے کہ وقت کی تند و تیز ہوائیں آپ کو ہلا نہ سکیں۔ جب آپ اندر سے آباد ہوں گے، تو آپ کی شخصیت سے ایک ایسی خوشبو پھوٹے گی جو لوگوں کو مقناطیس کی طرح آپ کی طرف کھینچے گی۔دل کی دھڑکن بنے کا راز: خود اعتمادی اور وقار"اپنے کردار کو ایسا خوشبودار بناؤ کہ کسی کو تم سے دور جانے کے لیے بھی سو بار سوچنا پڑے۔"ایک پروقار اور آباد شخصیت ہی لوگوں کے دلوں کی دھڑکن بنتی ہے۔ جب آپ اپنے چہرے پر مسکراہٹ، آنکھوں میں چمک اور گفتگو میں سچائی و خود اعتمادی لے کر نکلتے ہیں، تو دنیا آپ کے استقبال کے لیے کھڑی ہو جاتی ہے۔ لوگ ایسے شخص کے پاس بیٹھنا پسند کرتے ہیں جو انہیں جینے کا حوصلہ دے، جو خود بھی جینا جانتا ہو -*اور دوسروں میں بھی زندگی کی لہر دوڑا دے۔*زندگی ایک بار ملتی ہے، اسے حالات کے ہاتھوں مرجھانے کے لیے مت چھوڑیں۔ اپنے وجود کے باغبان خود بنیے؛ اسے اچھے خیالات، مثبت سوچ اور خود اعتمادی کے پانی سے سینچتے رہیں۔ یاد رکھیے، دنیا صرف انہی کے گلے لگتی ہے جو خود اپنے پیروں پر کھڑے ہونے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔ مرجھا کر مٹی میں ملنے کے بجائے، ایک ایسا پھول بنیے جس کی تازگی اور خوشبو وقت کے تھپیڑوں سے بھی ماند نہ پڑے۔اپنے آپ کو آباد رکھیے، کیونکہ آپ آباد ہیں تو یہ کائنات آباد ہے!
01/06/2026
****وقت کی طاقت: ایک اٹل حقیقت **
"وقت کے آگے کسی کی نہیں چلتی، یہ نشہ اتار دیتا ہے وہم کا بھی اور اہم کا بھی۔"*****----
یہ جملہ محض چند الفاظ کا مجموعہ نہیں، بلکہ کائنات کی سب سے بڑی اور کڑوی سچائی کا نچوڑ ہے۔ انسان جب کامیابی، دولت، شہرت یا طاقت کے نشے میں چور ہوتا ہے، تو وہ اکثر دو بڑی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے: وہم اور اہم۔وہم کا نشہ: انسان کو یہ وہم ہو جاتا ہے کہ جو کچھ اس کے پاس ہے، وہ ہمیشہ رہے گا۔ وہ خود کو لافانی اور ہر عیب سے پاک سمجھنے لگتا ہے۔اہم کا نشہ: انسان خود کو حد سے زیادہ 'اہم' (Important) سمجھنے لگتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ اس کے بغیر نظامِ زندگی رک جائے گا اور دنیا کا چرخہ الٹا گھومنے لگے گا۔لیکن وقت ایک ایسا منصف ہے جو کسی کے ساتھ رعایت نہیں کرتا۔ وقت کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ یہ بدل جاتا ہے۔ جب وقت کا پہیہ گھومتا ہے، تو بڑے بڑے تخت و تاج مٹی میں مل جاتے ہیں اور مغرور ترین چہرے بھی تاریخ کے گمنام صفحات میں کھو جاتے ہیں۔وقت جب اپنے فیصلے سناتا ہے، تو انسان کا یہ وہم لمحوں میں ٹوٹ جاتا ہے کہ وہ ناقابلِ شکست ہے۔ اسے اندازہ ہوتا ہے کہ دنیا میں کوئی بھی چیز مستقل نہیں ہے۔ اسی طرح، وقت انسان کو یہ بھی سکھا دیتا ہے کہ وہ کتنا ہی 'اہم' کیوں نہ ہو، اس کے بغیر بھی دنیا کا ہر کام اتنی ہی روانی سے چلتا رہتا ہے جیسے پہلے چل رہا تھا۔یہ جملہ ہمیں عاجزی اور انکساری کا سبق دیتا ہے۔ وقت کا بدلنا ہمیں یاد دلاتا ہے کہ طاقت اور عہدے عارضی ہیں۔ اس لیے جب وقت اچھا ہو، تو انسان کو وہم اور اپنی اہمیت کے نشے سے دور رہ کر زمین پر رہنا چاہیے، کیونکہ وقت کے وار سے نہ کوئی بچ سکا ہے اور نہ بچ سکے گا۔
30/05/2026
**سانپ، کتا اور بدلتا ہوا انسان**
/**۔ انسان کو دوبارہ "انسان" بننا ہوگا-*
جب کسی معاشرے میں ڈسنے والے (دھوکے باز) اور تلوے چاٹنے والے (خوشامدی) لوگ کامیاب ہونے لگیں، تو وہاں میرٹ، سچائی اور مخلص لوگ پیچھے رہ جاتے ہیں۔ منافقت کو "سمجھداری" اور خوشامد کو "حکمتِ عملی" کا نام دے دیا جاتا ہے، جس سے پورا سماجی ڈھانچہ تباہی کی طرف گامزن ہو جاتا ہے۔یہ صورتحال ہمارے لیے ایک لمحہ فکریہ ہے۔ یہ جملہ محض تفریح یا ہنسنے کے لیے نہیں ہے، بلکہ یہ ایک آئینہ ہے جس میں ہمیں اپنا چہرہ دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اگر ہم ایک صحت مند اور غیرت مند معاشرہ تشکیل دینا چاہتے ہیں، تو ہمیں خوشامد کی لوزات سے نکل کر خودداری کو اپنانا ہوگا اور حسد و منافقت کے زہر کو ترک کر کے محبت اور خلوص کو رواج دینا ہوگا۔ انسان کو دوبارہ "انسان" بننا ہوگا، ورنہ جانوروں کی جبلت تو نہیں بدلے گی، لیکن انسانیت کا زوال ضرور مکمل ہو جائے گا*****-
29/05/2026
محکمہ جیل خانہ جات کی پونے دو سو سالہ تاریخ کے واحد گریڈ 22 کے افسر آئی جی میاں فاروق نذیر کے اعزاز میں عشائیہ: منفی پروپیگنڈے کی حقیقت سامنے آگئی *آئی جی جیل خانہ جات پنجاب میاں فاروق نذیر کے اعزاز میں تقریب: سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا اور قیاس آرائیاں بے بنیاد نکلیں
ملتان (رپورٹ: منور علی رانا، ایڈیٹر انویسٹیگیشن)
سوشل میڈیا پر آئی جی جیل خانہ جات پنجاب، میاں فاروق نذیر صاحب کے اعزاز میں منعقدہ تقریب کے حوالے سے پھیلائے جانے والے بعض غلط تاثرات اور بے بنیاد قیاس آرائیوں کی اصل حقیقت سامنے آ گئی ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق یہ تقریب کوئی سرکاری یا محکمانہ "فیئرول فنکشن" نہیں تھی، بلکہ ملتان کی بزنس کمیونٹی اور ان کے قریبی احباب کی جانب سے ان کی شاندار خدمات اور آئندہ ریٹائرمنٹ کے اعتراف میں دیا گیا ایک پُروقار اعزازی عشائیہ تھا۔اس پُرعزم تقریب میں ایڈیشنل چیف سیکرٹری ساؤتھ پنجاب، کمشنر ملتان اور ضلع بھر کی اعلیٰ انتظامیہ سمیت دیگر تمام اہم افسران نے شرکت کی۔ روایتی اور سماجی آداب کے تحت معزز شخصیات اور دوست احباب کی ایسی تقریب میں شرکت ایک معمول کا امر ہے، جسے چند عناصر کی جانب سے بلاجواز منفی رنگ دینے کی کوشش کی گئی جو کہ حقائق کے سراسر منافی ہے۔بے مثال جیل ریفارمز کا اعتراف *
اپنے طویل اور شاندار کیریئر کے دوران انہوں نے پنجاب بھر کی جیلوں میں تاریخی اور بے مثال اصلاحات (Jail Reforms) متعارف کروائیں۔ قیدیوں کی فلاح و بہبود، جیلوں کی سیکیورٹی کے جدید نظام، اور مینوئل میں انقلابی تبدیلیاں ان کا وہ تاریخی کارنامہ ہیں جنہیں حکومتِ پنجاب اور پورا محکمہ جیل خانہ جات نہ صرف تسلیم کرتا ہے بلکہ دل سے سراہتا ہے
29/05/2026
*اچھی صحبت: شخصیت کا آئینہ اور کامیابی کی ضامن*
زندگی میں ہر شخص کو مخلص دوست نہیں ملتے، اس لیے اپنے اردگرد کے لوگوں کا انتخاب بہت سوچ سمجھ کر کرنا چاہیے۔ ایسے لوگوں کو اپنے قریب رکھیں جو: اگر آپ اپنی زندگی کو خوبصورت، پرسکون اور کامیاب بنانا چاہتے ہیں، تو منفی اور ٹانگ کھینچنے والے لوگوں سے دوری اختیار کریں اور اپنی زندگی میں ایسے مخلص لوگوں کو جگہ دیں جو آپ کو ایک بہتر انسان بننے اور آگے بڑھنے کا حوصلہ دیں
28/05/2026
حاصلِ زہد اور تلاشِ جنت: ایک لمحہ فکریہ
واقعی جنت اتنی دور اور اتنی مہنگی ہے؟
جنت کی چابیاں تو سڑکوں پر پڑی ہیں، اور لوگ پریشان ہیں کہ حج مہنگا ہو گیا!"
آج کا انسان مادی دوڑ اور ظاہری عبادات کی شان و شوکت میں اس قدر گم ہو چکا ہے کہ وہ دین کی اصل روح اور انسانیت کے بنیادی فلسفے کو فراموش کر بیٹھا ہے۔ ہم نے نیکی، ثواب اور عبادات کو بھی روپے پیسے اور نمائش کے ترازو میں تولنا شروع کر دیا ہے۔ جب حج یا عمرے کی قیمتیں بڑھتی ہیں، تو ہمارے معاشرے میں ایک کہرام مچ جاتا ہے، لوگ پریشان ہو جاتے ہیں کہ اب مغفرت اور جنت کا حصول مہنگا ہو گیا ہے۔ لیکن کیا واقعی جنت اتنی دور اور اتنی مہنگی ہے؟سچ تو یہ ہے کہ حاجی بننے کے لیے، ظاہری اسفار کے لیے اور مادی آسائشوں کے ساتھ عبادت گاہوں تک پہنچنے کے لیے تو لاکھوں روپے درکار ہوتے ہیں، لیکن ایک اچھا انسان بننے کےمخلوقِ خدا سے محبت ہی خالقِ کائنات کو پانے کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ اگر لاکھوں روپے خرچ کر کے بھی ہمارے اندر کا انسان بیدار نہ ہوا، اگر ہمارے پڑوس میں بھوک ناچتی رہی اور ہم عبادات کے زعم میں مگن رہے، تو وہ زہد و تقویٰ بے معنی ہے۔*برخوردار! حاجی بننا ایک سعادت ضرور ہے، مگر ایک اچھا انسان بننا اس کائنات کا سب سے بڑا فرض ہے۔ جب تک ہم سڑکوں پر بکھری ان "چابیوں" یعنی حقوق العباد کو نہیں سمیٹیں گے، تب تک ہماری ظاہری عبادات کی روح ادھوری رہے گی۔ جنت دور نہیں، بس نظر بدلنے اور اپنے آس پاس موجود مجبور انسانوں کا درد محسوس کرنے کی ضرورت ہے۔ لیے
26/05/2026
تاریخ گواہ ہے کہ صوفیاء، مفکرین اور عظیم رہنماؤں نےخاموشی کا وقار: جب الفاظ پر سکوت کو ترجیح دی جائے
"عظیم ہیں وہ لوگ جنہوں نے خاموشی کا انتخاب اُس وقت کیا جب وہ بدترین الفاظ کہنے کے قابل تھے۔" شاہ شمس تبریز کے اس قول میں دانائی اور انسانی نفسیات کا ایک گہرا سمندر پوشیدہ ہے۔******************
ہمیشہ کلام سے زیادہ سکوت کو اہمیت دی ہے۔ خاموش
انسان کو اپنے اندر جھانکنے، صورتحال کا ٹھنڈے دماغ سے جائزہ لینے اور کسی کے عیبوں کی پردہ پوشی کرنے کا موقع دیتی ہے۔ آج کے دور میں، جہاں ہر شخص اپنی بات منوانے اور دوسرے کو نیچا دکھانے کی دوڑ میں شامل ہے، اس حکمت کو اپنانے کی سب سے زیادہ ضرورت ہے۔ بدترین الفاظ کہنے کی طاقت رکھنے کے باوجود خاموشی کا انتخاب کر لینا ہی وہ صفت ہے جو عام انسانوں کو عظیم انسانوں کی صف میں لا کھڑا کرتی ہے۔
23/05/2026
زندگی کے فیصلے: خود مختاری اور غیر **سمجھوتہ شدہ اصول
**لوگوں کو ان کی اوقات کے مطابق فاصلے پر رکھنا ہی *,*ذہنی سکون کا اصل راز ہے۔
اپنی زندگی کو ایک ایسی سلطنت یا کارپوریٹ ادارے کی طرح سمجھیں جس کے واحد CEO آپ خود ہیں۔ آپ ہی اس کے مالک، حکمران اور حتمی فیصلہ ساز ہیں۔ جب آپ اپنی زندگی کی باگ ڈور سنبھال لیتے ہیں، تو پھر کسی بھی قسم کا معاشرتی دباؤ، جھوٹی محبت، "لوگ کیا کہیں گے" کا زہریلا بیانیہ، یا رشتہ داری کا کوئی جال آپ کے فیصلوں کو کمزور نہیں کر سکتا۔جو شخص آپ کا وقت ضائع کرے، آپ کے احترام کو پامال کرے یا آپ کی توانائی چوری کرے، اسے زندگی سے فوری طور پر برطرف کرنا ہی دانشوری ہے۔ اس معاملے میں کسی جذباتی وارننگ، دوسرے موقع یا معافی کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔تباہ کن رشتوں سے بے رحمانہ دوری اس اصول کا سب سے اہم اور حساس پہلو وہ شریک حیات یا بیوی ہے جو دوسروں کے مشوروں، ضد اور انا کی وجہ سے ہنستا کھیلتا گھر اجاڑ دے۔ جو بچوں کو باپ سے دور کر کے ان کا بچپن چھین لے، خاوند کی عزت تار تار کرے اور گھر کی بنیادوں میں زہر گھولے۔ ایسی عورت جو ماں اور محافظ بننے کے بجائے گھر کی سب سے بڑی دشمن بن جائے اور خاندان کی تباہی کا سبب بنے، اسے زندگی، دل اور یادوں سے ہمیشہ کے لیے بے رحمی سے نکال پھینکنا ہی واحد حل ہے۔اپنی مردانگی، ذہنی سکون اور بچوں کے مستقبل کی حفاظت کے لیے ایسے فتنوں کو مستقل طور پر برطرف کرنا ظلم نہیں، بلکہ عین انصاف ہے۔: زندگی آپ کی ہے، اس کے فیصلے بھی آپ کے ہونے چاہئیں۔ زہریلے رشتوں کو کاٹ پھینکنا ہی بقا کا راستہ ہے۔
19/05/2026
دل کا بوجھ جب روح کا مرض بن جائے
دل کی چبھن سے ذہنی تناؤ تک کا سفر
انسان بنیادی طور پر ایک سماجی مخلوق ہے، جس کی روح کا سکون دوسروں سے جڑنے، اپنے جذبات کا اظہار کرنے اور دل کا حال سنانے میں پنہاں ہے۔ لیکن زندگی کے سفر میں کئی بار ایسے موڑ آتے ہیں جہاں ہم چاہ کر بھی اپنے دل کی بات کسی سے کہہ نہیں پاتے۔ کبھی رشتوں کا لحاظ، کبھی خوفِ ملامت، کبھی انا کی دیوار اور کبھی یہ احساس کہ "کوئی مجھے سمجھے گا نہیں" ہمیں خاموش رہنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یہی وہ لمحہ ہوتا ہے /جب ہم کسی بات کو دل میں دبا لیتے ہیں، تو وہ ختم نہیں ہوتی۔ وہ ہمارے اندر سانس لیتی ہے، پروان چڑھتی ہے اور دھیرے دھیرے ایک ایسی چبھن بن جاتی ہے جو ہر لمحہ بے چین رکھتی ہے۔
•
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan
60000