Muhammad Tanveer ghu
Multan (Jalal pur pirwala)
یہ آج ہی کا واقعہ ہے۔ دوپہر کا وقت تھا جب ہم تین دوست سکھر سے نواب شاہ پہنچے تو ایک مسجد میں نماز ادا کرنے کے لیے رکے۔ مسجد کے ایک طرف پیٹرول پمپ اور دوسری جانب ریسٹورنٹ تھا۔ ہم نے سوچا کہ نماز کے بعد اسی فلنگ اسٹیشن سے پیٹرول ڈلوائیں گے۔ ہم نے مسجد میں ظہر اور عصر کی نمازیں قصر ادا کیں۔ مسجد کا ماحول نہایت صاف ستھرا تھا۔ مسجد اور ریسٹورنٹ سے متصل واش رومز پر صفائی کا عملہ انتہائی مستعد اور فعال تھا، اور وہاں واش روم استعمال کرنے کے کوئی چارجز بھی نہیں تھے۔
جب ہم پیٹرول پمپ پر پہنچے تو ایک نوجوان ہمارے پاس جگ اور گلاس لے کر آیا اور بولا: "سائیں! ٹھنڈا پانی پی لیں۔" ہمارے ایک ساتھی نے پوچھا: "ایک گلاس کتنے کا ہے؟" اس نے جواب دیا: "کچھ نہیں سائیں! گرمی بہت ہے، اس لیے سب کو پانی پلا رہے ہیں۔" ہم نے دائیں بائیں نظر دوڑائی تو یہ دیکھ کر حیرت ہوئی کہ پیٹرول پمپ عملے کے کارندے یونیفارم میں ملبوس چار پانچ لڑکے جگ اور گلاس پکڑے وہاں سے گزرنے والے ہر شخص کو ٹھنڈا یخ پانی پلا رہے تھے۔
ہمارے پاس گاڑی میں پانی موجود تھا، اس لیے ہم نے پانی تو نہ پیا لیکن گاڑی سے نیچے اتر کر ان نوجوانوں کے پاس گئے اور انہیں شاباش دے کر ان کی حوصلہ افزائی کی۔ اس موقع پر ایک نوجوان سے اجازت لے کر اس کی تصویر بھی بنائی۔ میں اس فلنگ اسٹیشن کے مالک کو بھی خراجِ تحسین پیش کرنا ضروری سمجھتا ہوں، جس نے 45°C کی جھلسا دینے والی دوپہر میں ان لڑکوں کو عوام کی خدمت پر مامور کیا ہے۔
یہ ہمارے ملک کا روشن چہرہ ہے۔ شدید گرمی میں پانی کی فراہمی جیسا نیک کام کر کے وہ سب یقیناً اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے میں کامیاب ہوں گے۔
مظہر صدیقی 29 اپریل 2026
شمال میں قحط کی واپسی اور خوراک کی کمی کی وجہ سے بچے تکیہ سے کھانا لینے کے لیے گھنٹوں قطار میں کھڑے رہتے ہیں🥺🥺
😭😭
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan