MothaFacilitator
Be good, do good, look good
07/11/2025
اللہ پاک تو محبوب کے صدقے رحم فرما
میانیموتھا کا بند ٹوٹ چکا ہے اللہ پاک رحم فرمائے
04/09/2025
اللہ پاک سیلاب کی آفت سے محفوظ فرما 🤲💧🌊
الحمدللہ
)گوگل نے Π کوئین کی ویلیو شو کرنا شروع کر دی ہے حالانکہ ابھی تک مارکیٹ میں ابتدائی قیمت مقرر ہی نہیں کی گئی. اسلام و علیکم دوستو ! 5 منٹ لگا کر تحریر ضرور پڑھیں آپ کو ڈیجیٹل کرنسی میں اپنے قدم جمانے کا ایک شاندار موقع دوبارہ مل رہا ہے۔ پہلا موقع پاکستانیوں کو 2009 میں بٹ کوائن کی صورت میں ملا تھا لیکن پاکستان کی اکثریت نے اِسے دھوکہ اور فراڈ سمجھ کر اسے قبول نہیں کیا تھا اُس وقت بٹ کوائن نے لوگوں کو مفت میں بٹ کوائن بانٹ کر اپنی مائننگ شروع کروائی تھی اور جب جولائی 2010 میں بٹ کوائن نے اپنی پہلی قیمت مارکیٹ میں متعارف کروائی تو ایک بٹ کوائن کی قیمت صرف 0.08 ڈالر تھی لیکن آج اُسی بٹ کوائن کی قیمت100000 ڈالر ہے مطلب کہ پاکستانی 3 کروڑ 4 لاکھ روپے کے برابر یعنی صرف 14 سال کے عرصے میں اس کرنسی کا کوئی مدمقابل نہیں رہا ہے اور اب اس کرنسی کو ٹکر دینے کیلئے Stanford University کے PhD ہولڈرز نے ایک ڈیجیٹل کرنسی متعارف کروائی ہے جسے پائی نیٹ ورک (Pi Network) کا نام دیا گیا ہے اس وقت یہ نیٹ ورک بھی لوگوں کو مفت میں مائننگ کی آفر دے رہا ہے آپ کو کسی بھی قسم کی کوئی انویسٹمنٹ کرنے کیلئے نہیں کہا جاتا ہے نہ ہی آپ نے کوئی اشتھار وغیرہ دیکھنے ہیں اور نہ ہی آپ سے یہ شرط رکھی جاتی کہ اپنے نیچےٹیم بنائیں۔ یہ دنیا کی پہلی ڈیجیٹل کرنسی ہے جس کی مائننگ صرف ایک موبائل اپلیکیشن کے ذریعے کی جاسکتی ہے اس کے کام کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ آپ کو 24 گھنٹے میں ایک بار اپلیکیشن کو کھول کر گرین بٹن کو دبانا ہے اور پھر کچھ نہیں کرنا ہے اور نہ ہی اس ایپ کو مسلسل انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے بس مائننگ سٹارٹ کرتے ہوئے 10 سیکنڈ کیلئے انٹرنیٹ کی ضرورت ہوتی ہے وہ بھی 24 گھنٹے بعد اس نیٹ ورک کو جوائن کرنے کیلئے play store میں جاکر pi network سرچ کریں ایپ کو انسٹال کرنے کے بعد جب اُسے کھولیں گے تو آپ کو دو آپشن نظر آئیں گے ایک Facebook کی مدد سے اکاؤنٹ کھولیں اور دوسرا فون نمبر کی مدد سے اکاؤنٹ کھولیں آپ اکاؤنٹ فون نمبر کی مدد سے کھولیں گے تو زیادہ محفوظ رہے گا۔ اس کے بعد پاسورڈ درج کریں جو آپ رکھنا چاہتے ہیں لیکن پاسورڈ اس طرح کا ہونا چاہیے جس میں سب کچھ شامل ہو جیسے کہ اِس کے بعد آپ کا نام پوچھے جائے گا نام درست درج کریں تاکہ بعد میں پریشانی نہ ہو اِس کے بعد Username درج کریں جو آپ رکھنا چاہتے ہیں اور پھر سب سے آخر پر Referral Code درج کریں اس کے بغیر آپ اکاؤنٹ کھول سکتے ہیں۔ریفرل کوڈ یہ ہے( Pilife007 ) ریفرل کوڈ کا مطلب یہ ہے کہ کس نے آپکو ایپ کے بارے میں بتایا.جب آپ اپنا اکاؤنٹ بنا لیں گے تو اس پہ آپکا ریفرل کوڈ ہوگا.اس ریفرل کوڈ سے آپکیe ارننگ میں 25 فیصد مزید زیادہ ہوگی جوائن کریں اور صبر سے کام لیں یہ نیٹ ورک May 28 میں اپنی پہلی قیمت مارکیٹ میں لانچ کرے گا جو کہ سننے میں آرہا ہے کہ اس کی ابتدائی قیمت 3740 ڈالر کے آس پاس ہوگی اور اُس کے بعد یہ اپنی فری مائننگ بھی بند کردے گا۔ لیکن اُس وقت تک آپ تقریباَ 600 سے 800 پائی حاصل کرسکتے ہیں بغیر ایک روپے کی انویسٹمنٹ کے، بغیر جعلی اشتھارات دیکھے اور بغیر ٹائم ضائع کیے۔ تو اب ذرا سوچیں کہ اگر ایک پائی کی قیمت 3740 ڈالر لگائی گئی اور اگر آپ کے پاس صرف 500 پائی ہوں تو تو آپ کتنا سرمایہ حاصل کرسکتے ہیں صرف صبر کی بنیاد پر 3740x 500=1870000 : یعنی کہ 1870000 ڈالر یہ سب کچھ آپ حاصل کر سکتے ہیں صبر کے ساتھ صرف 4 ماہ میں وہ بھی بغیر کسی فراڈ یا پونزی سکیم کے نہ پیسوں کی انویسٹمنٹ، نہ جعلی اشتہار . don't share your details to anyone and open any url stay safe
Invitation code,
( Pilife007 )
11/02/2025
صبح کا خوبصورت قدرتی نظارہ
الحَمدُ للہ
16/12/2024
مولانا ظفر احمد عثمانی ایسے دور میں ہندوستان سے حج کرنے کے لئے حجاز مقدس گئے تھے،
جب لوگ بحری جہازوں میں سفر کر کے حج کا فریضہ ادا کرنے جاتے تھے۔
واپسی پر انہوں نے یہ واقعہ قلمبند کیا ہے ۔
فرماتے ہیں کہ میں ساری عمر کسی محفل میں (ایسا) لاجواب نہیں ہوا، سوائے ایک موقع پر جب ہم حج کرنے (کے دوران) مدینہ طیبہ گئے تو اس وقت مسجد نبویۖ سے ملحقہ اپنا خیمہ لگایا اور وہاں رہائش رکھی اور ادھر سے ہی مسجد نبویۖ میں آ جاتے، چونکہ شدید گرمیوں کا موسم تھا۔ جب ہم تمام حاجی اکٹھے ہو کر شام کا کھانا کھاتے تو اس وقت وہاں سے گرم موسم کی وجہ سے تربوز خرید لیتے اور کھانے کے بعد اسے کھاتے اور اس کے چھلکے باہر پھینک دیتے۔اس دوران ہم نے کیا دیکھا کہ ایک سات آٹھ سالہ بچہ آتا اور چھلکوں کے ڈھیر میں سے چھلکے اٹھاتا، جو ہلکی سرخی مائل گری رہ جاتی، اسے کرید کرید کر کھا لیتا۔
جب یہ معمول دو روز تک دیکھا تو میں نے پیار سے اس بچے سے پوچھ لیا کہ بیٹے تم ایسا کیوں کرتے ہو ؟ تو بچے نے کہا میں ایک یتیم بچہ ہوں، میرے والد فوت ہو چکے ہیں۔ میری والدہ نے عقدثانی کر لیا ہے۔ گھر میں غربت اور فاقے ہیں، میں مدینے کا بچہ ہوں اور میزبان ہونے کی حیثیت سے مہمانوں سے مانگتے شرم آتی ہے۔ لہذا میں اس بچی کھچی گری سے پیٹ بھر لیتا ہوں ۔ مولانا لکھتے ہیں کہ مدینے کے بچے کی اس فہم و فراست نے ہمارے رونگٹے کھڑے کر دئیے۔ آنکھیں آنسووں سے بھیگ گئیں۔ بچے سے کہا کہ بیٹا اگر آپ مناسب سمجھو تو آپ ہمارے ساتھ آ کر کھانا کھا لیا کرو ۔ بچہ انکاری تھا، مگر ہمارے پیار بھرے بھر پور اصرار پر ہاں کر دی۔ مدینے کا یہ بچہ روز آ جاتا، ہمارے ساتھ کھانا کھاتا۔ آہستہ آہستہ شناسائی بڑھتی گئی۔ بچے سے انس ومحبت پروان چڑھا تو میں نے بچے کو پیشکش کر دی کہ بیٹا آپ میرے ساتھ ہندوستان آ جاؤ ۔ میں وہاں آپ کو درس میں رکھ کر پڑھاؤں گا ۔کالج اور یونیورسٹی کی سطح تک آپ کی تعلیم کا بندوبست کروں گا، تو بچے نے کہا کہ میں اپنی والدہ سے بات کر کے آپ کو آگاہ کروں گا۔ جب ہماری واپسی کا وقت آ گیا تو وہ بچہ اپنی والد ہ سے اجازت لے کر سامان سفر باندھ کر آ گیا۔ ہمیں بڑی خوشی ہوئی۔ بچے کو ساتھ لیا، بچہ قافلے کے ہمراہ چل رہا تھا تو دوران سفر میرے ساتھ محو گفتگو تھا۔
سوال کر رہا تھا کہ چاچاجی وہاں ہندوستان میں سکول اچھے ہیں؟ میں نے کہا کہ بیٹا بہت اچھے ہیں۔ وہاں مجھے اچھے کپڑے پہننے کو ملیں گے؟ میں نے کہا کہ ہاں بیٹا۔ اس نے پوچھا کہ مجھے وہاں فٹ بال کھیلنے کے گراؤنڈ میسر آئیں گے؟ جی ہاں بیٹا ہندوستان میں فٹ بال کھیلا جاتا ہے۔بچے نے کہا کہ مجھے وہاں طرح طرح کے معیاری کھانے اور اچھی رہائش ملے گی؟ میں نے کہا کہ کیوں نہیں بیٹا یہ سب سہولتیں آپ کو ملیں گی ۔اس دوران چلتے چلتے سامنے گنبد خضریٰ نظر آ گیا بچے کی نظر پڑی تو سوال کر دیا کہ چاچا جی یہ سامنے والا گنبد بھی وہاں ملے گا؟ میرے پاؤں سے زمین نکل گئی۔ بچے کے اس سوال نے مجھے لاجواب کر دیا اور میں نے تڑپ کر کہا کہ بیٹا اگر یہ گنبد وہاں مل جاتا تو مجھے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی؟
بچے نے میرا جواب سنا تو اپنا ہاتھ چھڑایا اور کہا:
"چاچا جی مفلسی، بےبسی اور یتیمی قبول ہے۔ مگر سرکارِ مدینہ کا دامن چھوڑ نا کسی صورت گوارا نہیں۔ میں مدینے کو نہیں چھوڑ سکتا۔"
علامہ صاحب لکھتے ہیں کہ بچہ ہمیں روتے ہوئے دم بخود چھوڑ کر بھاگا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔ علامہ صاحب باقی مانندہ زندگی، یہ واقعہ لوگوں کو سنا سنا کر روتے رہے۔
منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Zakrya Town Street 38
Multan
60000