Tableegha Islam "
Allah Se Hone ka Yakeen aur Gar se na hone ke Yakeen Hamare Dil Mein Aa Jaye
یہ آنکھیں تیـــــــــریﷺ دید کا کاسہ لیے ہوئے
پھرتی ہیں روز و شب ڪسی فقیر کی طرح❣️
تنم فرسودہ جاں پارہ ز ہجراں یا رسول اللہ
دلم پژمردہ آوارہ ز عصیاں یا رسول اللہ
یا رسول اللہ آپ کی جدائی میں میرا جسم بے کار اور جاں پارہ پارہ ہو گئی ہے، گناہوں کی وجہ سے دل نیم مردہ اور آورہ ہو گیا ہے۔
چوں سوئے من گزر آری من مسکیں ز ناداری
فدائے نقش نعلینت کنم جاں یا رسول اللہ
یا رسول اللہ اگر کبھی آپ میرے جانب قدم رنجہ فرمائیں تو میں غریب و ناتواں، آپ کی جوتیوں کے نشان پر جان قربان کر دوں۔
ز کردہ خویش حیرانم سیاہ شد روز عصیانم
پشیمانم پشیمانم پشیماں یا رسول اللہ
اپنے کیے ہوئے پر میں حیران و پشیمان ہوں، میرے نصیب میرے گناہوں سے سیاہ ہوچکے ہیں اور اس پر یا رسول اللہ میں پشیمان ہوں پشیمان ہوں پشیمان ہوں۔
ز جام حب تو مستم با زنجیر تو دل بستم
نمی گویم کہ من ہستم سخنداں یا رسول اللہ
آپ کی محبت کا جام پی چکا ہوں، آپ کی عشق کی زنجیر میں بندھا ہوں، پھر بھی میں نہیں کہتا کہ عشق کی زبان سے شناسا ہوں یا رسول اللہ
چوں بازوئے شفاعت را کشائی بر گنہ گاراں
مکن محروم جامیؔ را درا آں یا رسول اللہ
روزِ محشر جب آپ شفاعت کا بازو گناہ گاروں کے لئے کھولیں گے، یا رسول اللہ اس وقت جامیؔ کو محروم نہ رکھیے گا۔
ام ربیعہ بڑی نیک خاتون تھی بغداد میں رہتی تھی اللہ تعالی نے بڑی دولت عطافرمائی ان کی شادی بھی ایک دولت مند شخص سے ہوئی فرماتی ہیں کہ میں اوپر چھت پراپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی وہ تھا تو بڑا دولتمند پر متکبر بھی بڑا تھا دروازےپر ایک فقیر مانگنے آیا میرا خاوند بالکنی سے جھانک کر کہنے لگا اسے کچھ نہ دینا یہ دوکاندار ہے یہ دنیا دار بنے ہوئے ہے جان بوجھ کے مانگتے ہیں تو میں نے کہا تیری دولت سے نہیں دوں گی میرے میکے سے جو کچھ آیا ہوا ہے اس میں سے دینے کی اجازت دے دینا اس نے کہا فقیر کے پاس جانا ہی نہیں عورت کہتی ہے اس مانگنے والے کا جو دروازے پر کھڑا تھا اس کا جو انداز تھا اس سے لگتا تھا کہ کئی دنوں کا بھوکا ہے اس جوان کے چہرے پر عجیب بھوک تھی میں شوہر سے نظر بچا کے آئیں اور میں نےچند دینار اس کی ہتھیلی پر رکھے جب میں نے دروازہ بند کیاتو سامنے میرا شوہر کھڑا تھا کہنے لگا میرے بغیر اجازت کے دیتی ہے جا تجھےتین طلاقیں میں عزت مند باپ کی بیٹی طلاق لے کے گھر آگئی جرم میرا یہ تھا کہ میں نے اللہ کے راستے میں خیرات کی تھی کہتی ہے میرا والد پریشان ہو گیا میں شدید پریشان میرے والد اور والدہ بھی پریشان تھے کہ رشتہ کہاں سے آئے گا ایک دو سال شدید کرب میں رہے تو ایک رشتہ آیا بڑے امیر آدمی کا تھا میں طلاق یافتہ تھی پر رشتہ کنوارے کا آیا جب وہ رشتہ ہو گیا میں پہلے دن اپنے خاوند کےپاس گئی تو مجھے کہنے لگا مجھے جانتی ہو میں کون ہوں میں نے کہا نہیں تو کہنے لگا میں وہی ہوں جو تیرے دروازے پہ خیرات لینےآیا تھا تجھے میری وجہ سے طلاق ہوئی تو میں اسی رات جا کے مسلے پر رویا کہ مولا میری وجہ سے بیچاری کا گھر اجڑ گیا پھر میں نے اٹھارہ اٹھارہ گھنٹے محنت کی تجھے عزت دینے کے لئےکہنے لگا اب تجھے بیوی بنا کے نہیں مہارانی بنا کے رکھو نگا تیری نوکری کروں گا تو میری محسنہ ہے ایک سال گزرا مجھے اللہ نےبیٹا بھی دیا میرا شوہر سارے کام خود کرتا تھا ایک دن میں چھت پر اپنے شوہر کے ساتھ بیٹھی تھی دروازے پرمانگنے والا آیا کہنے لگا کہ اگر مانگنے والا آئے تو تم نے خود دینے جانا ہے میں دروازے پہ مانگنےوالے کو دینے گئی تو میری چیخ نکل گئی میں دھڑام سے گری میرا شوہر دوڑ آیا کہنے لگا کیا ہوا میں نے کہا پتہ ہے مانگنے کون آیا ہے یہ وہی ہے جو میرا پرانا شوہر تھا ام ربعیہ کہتی ہے میں رونے لگی۔
دولت کا تکبر کرتے ہیں لوگ
”واللہ! میں نے دیکھا ہے کہ ایک شخص نماز روزے کی کثرت کرنے والا، کم گو، سادہ طبیعت اور سادہ لباس والا ہوتا ہے، مگر دل ہیں کہ اس سے دور بھاگتے ہیں، دلوں میں اس کی خاطر خواہ قدر نہیں ہوتی۔
اور دیکھا ہے کہ ایک شخص سجے دھجے لباس والا، کوئی خاص عبادت اور خشوع بھی نہیں، مگر دل ہیں کہ اس کی محبت میں کھنچتے چلے جاتے ہیں۔
میں نے اس کے سبب پر غور کیا تو دیکھا کہ یہ تنہائی ہے...! جو اپنی تنہائی سنوار لیتا ہے، اس کی خوبیوں کی خوشبو چہار سُو پھیل جاتی ہے، دل اس خوشبو کے اسیر ہو جاتے ہیں۔
اللہ کیلیے تنہائیاں سنوارو ! کہ خلوتیں خراب ہوں تو جلوتوں کی خوبیاں کچھ فائدہ نہیں دیتیں۔“
[ امام ابن الجوزي رحمه الله || صيد الخاطر : ٢٢٠/١ ]
*✍️مختصر اچھے الفاظ📚*
*کھجور کی گھٹلی پر بار یک ساجھلی نما ایک چھلکا ہوتا ہے جسے قطمیر کہتے ہیں اللہ فرماتا ہے "انسان اس کا بھی مالک نہیں " پھر اکڑ کیسی؟*
خدا سب کو سوتیلی ماں والے سکے باپ سے سب کو محفوظ رکھے 🙏
23/12/2023
اگر مولوی صاحب کی ان بیٹیوں نے سائیکلنگ کی ہوتی تو ان پر فلمیں بنتیں۔ بی بی سی کے رپورٹرز ابھی تک گھر پہنچے ہوتے۔ ہر چینل پر کوریج ہوتی۔ کوئی گھر سے بغاوت کرکے شوبز جوائن کیا ہوتا۔ گھر چھوڑ کر کسی کھیل کے میدان میں جوہر دکھائے ہوتے۔ کوئی والدین کی اجازت کو روند کر موٹر سائیکل پر کسی لمبے سفر پر نکلی ہوتی۔ میوزک انڈسٹری میں قدم رکھا ہوتا۔ تو ضرور "قابل تعریف" ہوتا۔ ہر نیشنل و انٹرنیشنل میڈیا کی یہی کہانی ہوتی۔ کوریج ہوتی۔ فلم بنائی جاتی اور میگزین کی کور سٹوریز بنتیں۔ اب یہ کیا ہوا۔ پردے میں رہتے ہوئے پوزیشنز لے لیں۔ لمبی داڑھی والے باپ کو ساتھ کھڑا کر لیا۔ تصویر اتار بھی لی تو کیا ہوا۔
چلیں اب خبر پڑھ لیں۔
گورنمنٹ گریجویٹ کالج بھکر شعبہ علوم اسلامیہ کی دوسگی بہنوں نے سرگودھا یونیورسٹی سے اول اور دوم پوزیشن کے ساتھ گولڈ اور سلور میڈل حاصل کرلیا۔
طاہرہ پروین نے ایم اے اسلامیات یونیورسٹی آف سرگودھا میں 800 نمبر حاصل کر کے سب سے زیادہ نمبرز کا ریکارڈ توڑ کر ایک منفرد اعزاز اپنے نام کیا ہے اس سے پہلے یونیورسٹی میں اتنے نمبر (800) کسی طالب علم نے نہیں لیے۔
آج یونیورسٹی آف سرگودھا کے دسویں کانووکیشن میں گورنر پنجاب بلیغ الرحمان،وائس چانسلر سروگودھا یونیورسٹی پروفیسر ڈاکٹر قیصر عباس اور پروفیسر ڈاکٹر مختار احمد چیرمین ہائیر ایجوکیشن کمیشن پاکستان نے دونوں بہنوں کو گولڈ میڈل، سلور میڈل، کیش پرائز، ڈگری اور میرٹ سرٹیفکیٹ سے نوازا۔
طاہرہ پروین اور عائشہ صدیقہ کے والد حافظ شیر محمد، امام مسجد ہیں جنھوں نے اپنی بیٹیوں کی تعلیم و تربیت میں خصوصی دلچسپی لی اور ہر موڑ پر ان کی رہنمائی اور حوصلہ افزائی کی۔
عاصم حفیظ
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Shahdara
Multan
66000