Ehsaas Law Firm

Ehsaas Law Firm

Share

Ehsaas law frim is the charity organization.we provide free consultant fee for the poor people.

14/06/2026

پراپرٹی پر ناجائز قبضہ واگزار کرانے کا طریقہ کار:-
کسی شخص کی جائیداد پر ناجائز قبضہ ہونے کی صورت میں متاثرہ فریق متعلقہ ٹریبیونل (ایڈیشنل سیشن جج) کے سامنے درخواست دائر کرتا ہے۔ ٹریبیونل ابتدائی جانچ کے لیے معاملہ سکروٹنی کمیٹی کو بھجواتا ہے تاکہ حقائق اور ریکارڈ کا جائزہ لیا جا سکے۔

سکروٹنی کمیٹی فریقین کو سننے، متعلقہ ریکارڈ کی پڑتال کرنے اور انکوائری مکمل کرنے کے بعد اپنی رپورٹ ٹریبیونل کو پیش کرتی ہے۔ دورانِ کارروائی قبضہ برقرار رکھنے یا مزید نقصان سے بچاؤ کے لیے حفاظتی احکامات اور عبوری ریلیف بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

ٹریبیونل قبضہ اور ملکیت سے متعلق معاملات کا فیصلہ کرتے ہوئے ناجائز قبضہ ثابت ہونے پر قبضہ واگزار کرانے، معاوضہ دلوانے اور قانون کے مطابق سزا و جرمانہ عائد کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ اس قانون کے تحت مقدمات کو ترجیحی بنیادوں پر نمٹانے کی کوشش کی جاتی ہے تاکہ متاثرہ شخص کو جلد انصاف فراہم ہو سکے۔

ٹریبیونل کے فیصلے یا ڈگری سے متاثرہ فریق قانون میں مقررہ مدت کے اندر اپیل بھی دائر کر سکتا ہے۔

14/06/2026
12/06/2026

وصیت لکھنے کا قانونی طریقہ
VALID WILL
Requirements for a Valid Will
Many individuals devote years of hard work to acquiring property, accumulating wealth, and securing the future of their families. Naturally, they may wish for their assets to pass to specific persons after their demise. A will serves as the legal instrument through which such intentions are expressed and protected.
A will is a testamentary document containing the final wishes of a person regarding the distribution of his or her estate after death. It may specify the beneficiaries of land, houses, money, vehicles, and other assets, and may also appoint an executor responsible for carrying out its terms.
Given its significant legal consequences, the law prescribes certain requirements for a will to be recognized as valid. These safeguards are designed to prevent fraud, uncertainty, and disputes among heirs.
First and foremost, the testator—the person making the will—must possess a sound and disposing mind. The testator must fully understand the nature and effect of the document, be aware of the property being disposed of, and appreciate the claims of those who may reasonably expect to benefit from the estate.
Equally important is the requirement that the will be executed voluntarily. Any testamentary document procured through coercion, undue influence, intimidation, or fraud may be rendered invalid by a court of law.
The contents of the will should clearly and unequivocally reflect the intentions of the testator. Ambiguous or contradictory provisions often become a source of litigation and may frustrate the very purpose for which the will was made.
A valid will must also be duly signed by the testator. In most cases, the signing should take place in the presence of at least two attesting witnesses, who may later testify to its authenticity and voluntary ex*****on if any dispute arises. Although not a mandatory legal requirement, a will may be written on stamp paper to enhance its formality and evidentiary value.
As an additional precaution, while the testator signs the will in the presence of the attesting witnesses, a video recording of the ex*****on proceedings may also be made. Such a recording can serve as valuable corroborative evidence regarding the mental capacity of the testator and the voluntary nature of the ex*****on, particularly where the will is subsequently challenged.
Experience shows that disputes frequently arise where legal formalities are overlooked. Missing signatures, defective attestation, unclear language, or allegations of undue influence often lead to protracted litigation and delay the distribution of the deceased's estate.
It must be noted that a valid will is far more than a mere piece of paper. It is a solemn legal declaration of a person's final wishes, intended to ensure the orderly distribution of property and to protect loved ones from unnecessary confusion, uncertainty, and family discord after the testator's death.

12/06/2026

‏پنجاب میں پراپرٹی ترمیمی ایکٹ فعال,575 کیسز میں حکم امتناعی ختم

چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ عالیہ نیلم نے 36اضلاع میں ایڈیشنل ججز کو ٹربیونل مقرر کردیا

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے ٹربیونل کے لیے ایڈیشنل ججز کی نامزدگیاں پنجاب حکومت کو ارسال کردیں

ایڈیشنل سیشن جج بطور ٹربیونل بااختیار ہوں گے

ٹربیونل اراضی پر قبضہ ثابت ہونے پر 3سے10سال تک سزا سنا سکے گا

ساہیوال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد نعیم نامزد

لاہور محمد بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج سیف اللہ سوہل نامزد

قصور میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد اشفاق نامزد

اٹک میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج ندیم احمد سہیل چیمہ نامزد

بہاولنگر میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد صلابت جاوید نامزد

بہالپور میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج ساحر اسلام نامزد

بھکر میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد اعظم جاوید نامزد

چنیوٹ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج نعیم عباس نامزد

چکوال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج قاسم علی بھٹی نامزد

ڈی جی خان میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج سرفراز حسین نامزد

فیصل آباد میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عمران شفیع خان نامزد

گوجرنوالہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد فرحان نبی نامزد

گجرات میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج مظفر نواز ملک نامزد

حافظ آباد میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عمر رشید نامزد

جھنگ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عمر فاروق خان نامزد

جہلم میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج مرزا اورنگ زیب نامزد

خانیوال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عبداللہ عثمان نامزد

خوشاب میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد بشیر نامزد

لودھراں میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج حمد ایاز نامزد

لیہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد پرویز نواز نامزد

منڈی بہاوالدین میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد فخر آفتاب احمد نامزد

میانوالی میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عبدالغفور نامزد

ملتان میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج غزالہ یاسمین نامزد

مظفر گڑھ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد احمد حسنین خان نامزد

ناروال میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عالم شیر نامزد

ننکانہ صاحب میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج مجاہد شیردل چیمہ نامزد

اوکاڑہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج خلیل احمد خان نامزد

پاکپتن میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج اسد حفیظ نامزد

راولپنڈی میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج چوہدری قاسم جاوید نامزد

راجن پور میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد اشرف نامزد

رحیم یار خان میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد بلال نامزد

سیالکوٹ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عابد رضا خان نامزد

شیخوپورہ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج عبدالحمید نامزد

سرگودھا میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج ظفر حیات نامزد

ٹوبہ ٹیک سنگھ میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد کاشف نامزد

وہاڑی میں بطور ٹربیونل ایڈیشنل سیشن جج محمد عمران نامزد

07/06/2026

⚖️ سچائی اور خدمت — ہمارا مشن
قانونی مشاورت و پیروی کے لیے 24/7 سروس دستیاب ہے
السلام علیکم!
اگر آپ کسی بھی آئینی یا قانونی مسئلے کا سامنا کر رہے ہیں تو پریشان نہ ہوں۔ ہم پاکستان بھر میں پیشہ ورانہ قانونی خدمات فراہم کر رہے ہیں۔
📌 ہماری خدمات میں شامل ہیں:
✔ فوجداری مقدمات
✔ Federal Investigation Agency (FIA) معاملات
✔ National Accountability Bureau (نیب) کیسز
✔ منشیات و انسدادِ دہشت گردی مقدمات
✔ فیملی کیسز (آن لائن نکاح اور رجسٹریشن)
✔ گارڈین شپ (بچوں کی کسٹڈی و ملاقات شیڈول)
✔ کرایہ داری، لیبر، ریونیو، بینکنگ، کسٹم
✔ کنزیومر و سروس لاز
✔ کمپنی رجسٹریشن اور دیگر رجسٹریاں
✔ دیوانی مقدمات
📍 آفس ایڈریس:
111-D Commercial Market S.R.A Colony Multan
📞 رابطہ کریں:0322-8583040
📩 ابھی رابطہ کریں اور اپنے قانونی معاملات ماہر وکلاء کے سپرد کریں۔قانونی مشاورت و پیروی کے لیے 24/7 سروس دستیاب ہے

04/06/2026

نشے کی حالت میں جرم کرنا سزا سے بچاؤ کا بہانہ نہیں بن سکتا: سپریم کورٹ آف پاکستان
سپریم کورٹ نے ایک کمسن بچے سے زیادتی اور قتل کے مجرم کو دی گئی سزا برقرار رکھتے ہوئے قرار دیا ہے کہ جو شخص اپنی مرضی سے نشہ کرتا ہے، وہ فوجداری مقدمے میں رعائت کا مستحق نہیں ہو سکتا۔
سپریم کورٹ آف پاکستان کے معزز جج مسٹر جسٹس محمد ہاشم خان کاکڑ صاحب نے اپنے تین صفحات پر مشتمل فیصلے میں واضح کیا کہ:
"اپنی غفلت یا لاپرواہی کے باعث کیا جانے والا نشہ جرم کے ارتکاب کا جواز نہیں بن سکتا اور نہ ہی اس سے مجرم کو بری الذمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔"
عدالتِ عظمیٰ کے اس فیصلے نے اپیل کنندہ کی جانب سے اختیار کیے گئے اس دفاع کو مسترد کر دیا، جس میں اس نے مقدمے کے دوران ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت اپنے بیان میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ اس نے یہ جرم نشے کی حالت میں کیا تھا۔ عدالت نے قرار دیا کہ مجرم کا خود نشہ کرنا کسی بھی سنگین جرم کی قانونی ذمہ داری سے بچنے کا ذریعہ نہیں بن سکتا۔

25/05/2026

پنجاب پولیس کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پولیس ملازمین پر گدا گدی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا پولیس تھانہ شاہدرہ لاہور نے شہریوں سے عیدی مانگنے پر چار پولیس اہلکاروں کے خلاف بھیک مانگنے کا مقدمہ درج

21/05/2026

سپریم کورٹ آف پاکستان
سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ اگرچہ رقم گواہوں کی موجودگی میں ادھار دی گئی ہے مگر ااتنی بڑی رقم کا الگ سے معاہدہ موجود نہیں۔ 60 لاکھ روپے کے چیک ڈس آنر کیس میں ملزم کی ضمانت قبل از گرفتاری منظور۔
Criminal Petition No. 1605 - L /2025
Muhammad Faisal Vs The State and another

Want your practice to be the top-listed Law Practice in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


111-D Commercial Market
Multan
60000