I AM Multan

I AM Multan

Share

I am Multan

07/05/2024

🌲 🌲 درخت لگائیں ثواب کمائیں ۔۔
40 سے 50 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان اگلی گرمی کی لہر کے لیے تیار رہیں۔
کمرے کے درجہ حرارت کا پانی ہمیشہ آہستہ آہستہ پیئے۔
ٹھنڈا یا برف کا پانی پینے سے پرہیز کریں!

اس وقت ملائیشیا، انڈونیشیا، سنگاپور اور دیگر ممالک "گرمی کی لہر" کا سامنا کر رہے ہیں۔

یہ ہیں کرنا اور نہ کرنا:

1. *ڈاکٹر مشورہ دیتے ہیں کہ جب درجہ حرارت 40 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ جائے تو بہت ٹھنڈا پانی نہ پئیں، کیونکہ ہماری چھوٹی خون کی شریانیں پھٹ سکتی ہیں۔*

بتایا گیا کہ ایک ڈاکٹر کا دوست بہت گرم دن سے گھر آیا تھا - اسے بہت پسینہ آ رہا تھا اور وہ خود کو جلدی سے ٹھنڈا کرنا چاہتا تھا - اس نے فوراً ٹھنڈے پانی سے اپنے پاؤں دھوئے... اچانک وہ گر گیا اور اسے ہسپتال لے جایا گیا۔

2. جب باہر کی گرمی 38 ° C تک پہنچ جائے اور جب آپ گھر آئیں تو ٹھنڈا پانی نہ پئیں - صرف گرم پانی ہی آہستہ سے پیئے۔

اپنے ہاتھ یا پیروں کو فوری طور پر نہ دھوئیں، اگر وہ تیز دھوپ کے سامنے آئیں۔ نہانے یا نہانے سے پہلے کم از کم آدھا گھنٹہ انتظار کریں۔

3. کسی نے گرمی سے ٹھنڈا ہونا چاہا اور فوراً نہا لیا۔ شاور کے بعد، شخص کو سخت جبڑے کے ساتھ ہسپتال لے جایا گیا اور اسے فالج کا دورہ پڑا۔

*براہ مہربانی نوٹ کریں:*
گرمی کے مہینوں میں یا اگر آپ بہت تھکے ہوئے ہیں تو فوری طور پر بہت ٹھنڈا پانی پینے سے گریز کریں کیونکہ اس سے رگیں یا خون کی نالیاں تنگ ہو سکتی ہیں جو کہ فالج کا باعث بن سکتی ہیں۔

_*براہ کرم دوسروں تک پھیلائیں!*_

22/04/2024

اعلان
کل فیس بک کا نیا اصول شروع ہوگا جہاں وہ آپ کی تصاویر استعمال کر سکتے ہیں۔ مت بھولنا آج آخری تاریخ ہے!! اسے آپ کے خلاف قانونی کارروائی میں استعمال کیا جا سکتا ہے۔ آپ نے جو کچھ بھی پوسٹ کیا ہے وہ آج سے عوامی ہو جائے گا - حتیٰ کہ وہ پیغامات بھی جو حذف کر دیے گئے ہیں۔ ایک سادہ کاپی اور پیسٹ کے لیے اس کی کوئی قیمت نہیں ہے، بہتر ہے کہ آپ محفوظ رہیں۔
---
میں Facebook یا Facebook سے وابستہ کسی بھی ادارے کو اپنی تصاویر، معلومات، پیغامات یا پوسٹس، ماضی یا مستقبل استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہوں۔ اس بیان کے ساتھ، میں فیس بک کو مطلع کرتا ہوں کہ اس پروفائل اور/یا اس کے مواد کی بنیاد پر میرے خلاف انکشاف، کاپی، تقسیم یا کوئی اور کارروائی کرنا سختی سے ممنوع ہے۔ رازداری کی خلاف ورزی پر قانون کے ذریعے سزا دی جا سکتی ہے۔
نوٹ: فیس بک اب ایک عوامی ادارہ ہے۔ تمام ممبرز ایسی وضاحت ضرور پوسٹ کریں۔
اگر آپ چاہیں تو اس ورژن کو کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ کم از کم ایک بار بیان شائع نہیں کرتے ہیں، تو پروفائل اسٹیٹس اپ ڈیٹس میں آپ کی تصاویر اور معلومات کے استعمال کی اجازت ہوگی۔
شیئر نہ کریں۔ صرف متن کو کاپی کریں اور پیسٹ کریں۔
ان کا نیا الگورتھم انہی چند لوگوں کو منتخب کرتا ہے - تقریباً 25 - جو پوسٹس پڑھیں گے۔
یہ نظام کو نظرانداز کرے گا۔
میں فیس بک کو اپنے بارے میں کچھ شیئر کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔!

04/04/2024
06/01/2024

جنوری کی یخ بستہ رات میں سب رواں دواں اس امید کے ساتھ کہ منزل پر پہنچ جائیں گے______مگر کون جانے کس کی منزل ہے کہاں_____ انسان بھی کیا چیز ہے اچھے دنوں کے انتظار میں عمر گزار دیتا ہے اور پھر جا کے پتہ چلتا ہے جو دن گزر گئے وہی اچھے تھے_____سفر جاری رکھیں یہی زندگی ہے اور رک جانا شاید موت۔
ویسے یہ میرا ملتان شہر ہے اور یہ تصویر بھی میں نے خود بنائی ہے۔ اپ میری فوٹوگرافی کی بھی تعریف کر سکتے ہیں 😃

19/12/2023

میری یہ بچپن سے عادت رہی ہے کہ جب محلے کی دکان سے کچھ بھی لیا
انہوں نے اخباری ٹکڑے میں لپیٹ کر دیا تو شے کے استعمال کے بعد اس ٹکڑے کو ضرور دیکھا اور پڑھا
یہ 2007 کی بات ہے میں اسلام آباد میں اس وقت سی ایس ایس کی تیاری کر رہا تھا۔ مارکیٹ میں تازہ جلیبی بن رہی تھی وہ خریدی تو اخبار کا ساتھ آنے والا ٹکڑا پوری زندگی تبدیل کر گیا
ہوا کچھ یوں کہ اُس ٹکڑے پر ایک کالم چھپا ہوا تھا۔ کالم نگار کا نام اب یاد نہیں ہے لیکن اس نے جو لکھا تھا وہ سب یاد ہے حرف بہ حرف تو نہیں، لیکن یاد ہے۔ آپ بھی پڑھیں۔
اُس نے لکھا کہ
میں کل اپنے ایک کاروباری دوست کے پاس دفتر گیا چائے پی گپ شپ لگاتے ہوئے گھر جانے کا وقت ہو گیا۔ جب دفتر سے باہر نکل رہے تھے تو کلرک نے آ کر ایک شکایت لگائی کی جناب فلاں چپڑاسی سست ہے کام نہیں کرتا، ڈرائیور نے بھی اسکی ہاں میں ہاں ملائی۔
میرے اُس دوست نے کہا اگر کام نہیں کرتا تو کس لیے رکھا ہو ہے، فارغ کرو اسے۔ میں نے فورا مداخلت کی اور کہا، کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ایک دفعہ اس سے بات کر لو، کیا پتہ اسکے کچھ مسائل ہوں۔ پھر میں نے اپنے دوست کو ایک آنکھوں دیکھا واقعہ سنایا
شیخ صاحب لاہور میں ایک معمولی سے دفتر میں ملازم تھے، دن کچھ ایسے پھرے کہ اسی دفتر کے صاحب کو پسند آ گئے اور یوں انکی فیملی میں ہی شیخ صاحب کی شادی ہو گئی
قدرت شیخ صاحب پر مہربان تھی، دن رات اور رات دن میں بدلتے گئے اور شیخ صاحب ایک دکان سے ایک مارکیٹ اور پھر ایک فیکٹری سے دو، چار، اور پھر نہ جانے کتنی فیکٹریوں کے مالک بنتے گئے۔
دھن برستا گیا، دو بچے ہو گئے۔ شیخ صاحب نے کرائے والے کمرے سے ایک اپارٹمنٹ اور پھر لاہور کے انتہائی پوش علاقے میں دو کنال کی ایک کوٹھی خرید لی۔ مالی کی ضرورت پیش آئی تو چکوال سے آئے ہوئے سلطان کو فیکٹری سے نکال کر پندرہ سو روپے ماہوار پر اپنی کوٹھی پر ملازم رکھ لیا۔
سلطان ایک انتہائی شریف اور اپنے کام سے کام رکھنے والا انسان تھا، نہ کسی سے کوئی جھگڑا، نہ کوئی عداوت، نہ کبھی کوئی شکایت۔ ایک بار شیخ صاحب دن کے دس بجے کسی کام سے گھر واپس آئے تو گاڑی دروازے پر ہی کھڑی کر دی
کہ ابھی واپس دفتر جانا تھا۔ دروازے سے گھر کے داخلی دروازے کے درمیان اللّٰہ جانے کیا ہوا کہ پودوں کو پانی دیتے سلطان کے ہاتھ سے پائپ پھسلا اور شیخ صاحب کے کپڑوں پر پوری ایک تیز پھوار جا پڑی،
شیخ صاحب بھیگ گئے۔ سلطان پاؤں میں گر گیا، گڑگڑا کر معافی مانگنے لگا کہ صاحب غلطی ہو گئی۔ لیکن شیخ صاحب کا دماغ آسمان پر تھا۔ غصے میں نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ، وہیں کھڑے کھڑے سلطان کو نوکری سے نکال دیا۔کہا شام سے پہلے اس گھر سے نکل جاؤ۔
سلطان بیچارہ سامان کی پوٹلی باندھ کر گھر سے نکل کر دروازے کے پاس ہی بیٹھ گیا کہ شاید صاحب کا غصہ شام تک ٹھنڈا ہو جائے تو واپس بلا لیں۔ شام کو شیخ صاحب واپس آئے، دیکھا سلطان ابھی تک بیٹھا ہوا تھا، گارڈ کو کہا اسے دھکے دیکر نکال دو، یہ یہاں نظر نہ آئے، صبح ہوئی تو سلطان جا چکا تھا۔ رب جانے کہاں گیا تھا۔
وقت گزرتا گیا، شیخ صاحب کے تیزی سے ترقی پاتے کاروبار اور فیکٹریوں میں ایک ٹھہراؤ سا آنے لگا۔ کاروبار میں ترقی کی رفتار آہستہ آہستہ کم پڑتی گئی۔ لیکن شیخ صاحب زندگی سے بہت مطمئن تھے۔
پھر ایک فیکٹری میں آگ لگ گئی، پوری فیکٹری جل کر راکھ ہو گئی۔ کچھ مزدور بھی جل گئے۔ شیخ صاحب کو بیٹھے بٹھائے کروڑوں کا جھٹکا لگ گیا۔ کاروبار میں نقصان ہونا شروع ہوا تو شیخ صاحب کے ماتھے پر بل پڑنا شروع ہو گئے۔ بڑا بیٹا یونیورسٹی کا سٹوڈنٹ تھا،
دوستوں کے ساتھ سیر پر مری گیا واپسی پر حادثہ ہوا تو وہ جوان جہان دنیا سے رخصت ہو گیا۔ شیخ صاحب کی کمر ٹوٹ گئی۔
نقصان پر نقصان ہوتے گئے۔ دو کنال کی کوٹھی بیچ کر دس مرلے کے عوامی طرز کے محلے میں آ گئے۔ جب عقل سے کچھ پلے نہ پڑا تو پیروں فقیروں کے ہاں چلے گئے کہ شاید کوئی دعا ہاتھ لگ جائے اور بگڑی ہوئی زندگی پھر سے سنور جائے۔ باقی ماندہ کاروبار بیچ کر اور کچھ دیگر پراپرٹی کو رہن رکھ کر بنک سے قرضہ لیا اور چھوٹے بیٹے کو ایک نیا کاروبار کر کے دیا۔
اسکے پارٹنر دوست نے دغا کیا اور سارا پیسہ ڈوب گیا۔ شیخ صاحب ساٹھ سال کی عمر میں چارپائی سے لگ گئے۔
ایک دن ایک پرانا جاننے والا ملنے آیا، حالات دیکھے تو بہت افسوس کیا۔ کہا شیخ صاحب انڈیا سے ایک بزرگ آئے ہوئے ہیں، بہت بڑے اللّٰہ والے ہیں، داتا صاحب کے پاس ہی ایک مکان میں انکا چند دن کا قیام ہے، اگر ان کے پاس سے دعا کروا لیں تو اللّٰہ کرم کرے گا۔
شیخ صاحب فورا تیار ہو گئے۔ اس مکان پر پہنچے، ملاقات کی، مسئلہ بیان کیا۔ انہوں نے آنکھیں بند کیں، کچھ دیر مراقبے کی کیفیت میں رہے، پھر آنکھیں کھولیں، شیخ کو دیکھا اور کہا "تم نے سلطان کو کیوں نکالا تھا؟"
شیخ کے سر کے اوپر گویا ایک قیامت ٹوٹ پڑی، آنکھوں سے آنسوؤں کی ایک نہ تھمنے والی لڑی جاری ہو گئی، شیخ بزرگ کے پاؤں میں گر گیا، معافیاں مانگنے لگا۔ بزرگ نے اسے کہا میری بات سنو۔ پروردگار رازق ہے، وہ رزق ضرور دے گا لیکن اسکا وسیلہ انسانوں کو ہی بنائے گا۔اوپر سے نیچے آتے پانی کی تقسیم جس طرح نہروں نالوں کی طرح ہوتی ہے رزق کی تقسیم اسی طرح ہے۔
پروردگار کے نزدیک ہم میں سے ہر ایک شخص وسیلہ ہے کسی اور کے رزق کا۔ اگر آپ وسیلہ بننے سے انکار کرو گے تو تمہارے حصے کا وہ رزق جو اس وسیلے سے تمہیں بطور معاوضہ مل رہا تھا ختم ہو جائے گا۔
تمہیں لاکھوں کروڑوں سلطان کو پندرہ سو روپے دینے کے لیے ملتے تھے۔ تم نے وہ روک لیے، اوپر والے نے تمہارا معاوضہ ختم کر دیا۔ اب جاؤ اور سلطان کو ڈھونڈو، اگر وہ مان جائے معاف کر دے تو تمہارے دن پھر جائیں گے۔
شیخ کی دنیا لٹ گئی، وہ سر پیٹتا گھر آیا پرانے کاغذات ڈھونڈتا رہا کہ شاید کہیں سلطان کا کوئی پتہ، کوئی شناختی کارڈ، کوئی اور معلومات مل سکیں۔ کچھ بھی نہ ملا تو شیخ دیوانہ وار سلطان کو ڈھونڈنے چکوال جانے والی بس میں بیٹھ کر چکوال چلا گیا۔ مگر سلطان نہ ملا۔
چھوٹا بیٹا ڈھونڈتا ڈھونڈتا چکوال اڈے پر آ پہنچا اور باپ کو واپس لاہور لے آیا۔ لیکن شیخ کا دل کا سکون ختم ہو گیا تھا۔ کچھ دن بعد شیخ پھر گھر سے غائب ہوا تو بیٹے کو معلوم تھا کہ کہاں ملے گا۔
وہ چکوال پہنچا تو دیکھا باپ زمین پر بیٹھا سر میں راکھ ڈال رہا تھا اور کہہ رہا تھا سلطان تم کہاں ہو، سلطان تم کہاں ہو۔ بیٹا خود روتا ہوا باپ کو واپس لے آیا۔ چند دن کے بعد شیخ کا انتقال ہو گیا۔
کالم نگار نے لکھا، میں نے اپنے دوست کو یہ پوری کہانی سنائی اور اسے کہا، چپڑاسی کو نہ نکالو، اسکا رزق تمہارے رزق سے جُڑا ہے، اسے تو رب کہیں اور سے بھی دے دے گا کہ اس کے پاس وسیلہ بنانے کے لیے کسی چیز کی کوئی کمی نہیں لیکن کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اس معاوضے والی نعمت سے محروم ہو جاوؐ۔
مجھے یہ واقعہ پڑھے ہوئے تیرہ سال گزر گئے ہیں۔ آپ یقین کریں اس نے میری زندگی بدل دی۔ میں مالی معاملات میں بہت زیادہ محتاط ہو گیا۔ اگر کسی کے پاس کچھ پیسے رہ گئے تو نہیں مانگے کہ کہیں اوپر والے سے ملنے والا معاوضہ کم نہ ہو جائے۔
میں نے ڈھونڈ ڈھونڈ کر اور نیک نیتی سے وسیلہ بننے کی کوششیں بھی کیں
میں جو بھی مستحق ہیں انکا خیال رکهنے کی کوشش کی۔ میں ان تیرہ سالوں میں کبھی تنگ دست نہیں ہوا۔ ایک سے بڑھ کر ایک وسیلہ ملتا گیا اور میں آگے بڑھتا رہا۔

28/11/2023

فورٹ منرو میں اسٹیل بریج پر قوس قزح کے خوبصورت مناظر😍❤️

Photos from I AM Multan's post 27/11/2023

آغازِ صبحِ
I Am Multan

Photos from I AM Multan's post 25/11/2023

شمس الدین ولی سبزواری 15 شعبان 560 ہجری میں سبزوار میں پیدا ہوئے اور اسی مناسبت سے سبزواری کہلائے۔ والد کا انتقال 644 ہجری میں ہوا۔ جب سبزوار منگولوں کے حملوں کی زد میں آیا تو آپ نے اپنے ایک و عیال کے ساتھ سبزوار چھوڑا اور برصغیر کے شہر ملتان کو اپنا مسکن بنایا۔ آپ کا انتقال 675 ہجری میں ہوا۔ موجودہ مقبرے کی عمارت کو 1102 ہجری میں بنایا گیا۔
یہاں ایک بات کی وضاحت انتہائی ضروری ہے۔ شمس الدین چونکہ سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے، اس لئے انھیں شاہ شمس بھی کہا جانے لگا۔ نہ جانے کب لوگوں نے ان کے نام کے ساتھ تبریز لگانا شروع کر دیا اور اس طرح یہ شمس الدین سبزواری سے شاہ شمس تبریز بن گئے۔ شاہ شمس تبریز کا نام سن کر فوری طور پر مولانا رومی والے شاہ شمس کا نام ہی ذہن میں آتا ہے جو تبریز شہر میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ملتان والے شاہ شمس سبزوار شہر میں پیدا ہوئے تھے۔ حیرت اور عجیب بات یہ ہے کہ شمس الدین سبزواری کے مزار کے والی انھیں مولانا رومی والا شاہ شمس ہی بتاتے ہیں۔ اس مزار کے والیوں کے مطابق یہی وہ شاہ شمس ہیں جنھوں نے مولانا رومی کو درست راستہ دکھایا تھا۔ یہی وہ شاہ شمس ہیں جنھوں نے مولانا رومی کی کتابوں کو پہلے دریا میں ڈبو دیا اور پھر باہر ایسے نکالا جیسے ان کتابوں کو پانی نے کبھی چھوا ہی نہ ہو۔ یہاں تک کہ مزار کے احاطے میں یہی ساری باتیں ایک لوہے کے بورڈ پر لکھی ہوئی ہیں اور انھیں وہی مولانا رومی والا ہی شاہ شمس کہا گیا ہے۔ یہاں ایک دلچسپ بات بھی ہے۔ مزار میں دیوار پر جو بورڈ نصب ہے جس میں شاہ شمس کو مولانا رومی والا شاہ شمس ثابت کرنے کی کوشش کی گئی ہے، وہاں شاہ شمس کا نام بار بار صرف شاہ شمس ہی لکھا گیا ہے۔ کہیں بھی ان کا پورا نام شمس تبریز نہیں لکھا گیا حالانکہ وہ اپنے پورے نام کے ساتھ ہی مشہور ہیں یعنی شمس تبریز یا شمس تبریزی مگر واقعہ وہی لکھا ہوا ہے جو مولانا رومی اور شمس تبریز کا کتابوں کا مشہور ہے۔

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Address


Multan