Wasaib Explorer

Wasaib Explorer

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Wasaib Explorer, Tour guide, Al Masoom Manzil, Multan.

Wasaib Explorer has been promoting tourism, culture, and brotherhood in South Punjab and Koh e Sulaiman since 2016 through motorbike tours, storytelling, photography, vlogs and social activities, inspiring people to explore Pakistan's Beauty and Heritage.

10/06/2026

ملتان کے نواح میں تاریخ، ثقافت اور قدیم فنِ تعمیر کے چند خوبصورت مقامات

تاریخ، ورثہ، ثقافت اور سیاحت سے لگاؤ رکھنے والے احباب کے لیے ملتان کے گردونواح میں موجود چند ایسے تاریخی و روحانی مقامات، جو ہماری تہذیبی شناخت اور ماضی کی شاندار جھلک پیش کرتے ہیں:

1. مقبرہ سادن شہید، ہیڈ محمد والا

2. مسجد و دربار حضرت مخدوم عبد الرشید حقانی، مخدوم رشید (وہاڑی روڈ)

3. حویلی غوث پور تھہیم، تحصیل کبیروالا

4. پون چکی، پکھے والا کھو، دنیاپور روڈ

5. مسجد و دربار حضرت شیر شاہ، شیر شاہ ملتان

6. دربار حضرت سخی زین العابدین، کوٹ سرور، بہاولپور روڈ (والدِ گرامی حضرت سخی سرور، ڈیرہ غازی خان)

7. حویلی بستی کھوکھراں، شجاع آباد روڈ

8. مقبرہ خالد ولید، خطی پور، متی تل، سردار پور روڈ، تحصیل کبیروالا

یہ تمام مقامات نہ صرف ہماری تاریخی و ثقافتی وراثت کا حصہ ہیں بلکہ علاقے کی روحانی و تہذیبی پہچان بھی ہیں۔ ان کی حفاظت اور تشہیر ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

طالب دعا:
ڈاکٹر سید مزمل حسین
وسیب ایکسپلورر
#ملتان #وسیب

Photos from Wasaib Explorer's post 10/06/2026

فورٹ منرو کا تاریخی پولیٹیکل اسسٹنٹ ہاؤس

کیا آپ جانتے ہیں کہ کوہِ سلیمان کے دامن میں واقع خوبصورت ہل اسٹیشن "فورٹ منرو" میں برطانوی دور کی ایک ایسی تاریخی عمارت موجود ہے جو آج بھی ماضی کی یاد دلاتی ہے؟
اسے ڈیرہ غازی خان کے برطانوی افسر سر رابرٹ گرووز سینڈیمین نے انیسویں صدی کے اواخر میں تعمیر کروایا تھا۔
فورٹ منرو ہل سٹیشن کا نام برطانوی افسر میجر جنرل اینڈریو الڈکورن منرو کے نام پر رکھا گیا۔
برطانوی دور میں یہ عمارت پولیٹیکل اسسٹنٹ، کمشنر اور سرکاری افسران کی گرمیوں کی رہائش گاہ اور ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔
آج بھی یہ عمارت فورٹ منرو میں بارڈر ملٹری پولیس کے پولیٹیکل اسسٹنٹ ہاؤس کے طور پر موجود ہے۔ جدید دور کے تقاضوں کے تحت عمارت کی مرمت، تزئین و آرائش کی گئ ہے۔ جبکہ بنیادی ڈھانچہ پرانا ہی ہے۔
ڈاکٹر سید مزمل حسین
وسیب ایکسپلورر

Photos from Shahnama's post 09/06/2026

National Archives of Pakistan
Islamabad.

نیشنل آرکائیوز آف پاکستان ریاست پاکستان کا وہ قومی ادارہ ہے جو ملک کی تاریخی، سرکاری اور نجی دستاویزات، مخطوطات، تصاویر، اخباری ریکارڈ، آڈیو ویژول مواد اور دیگر اہم تاریخی ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کا کام کرتا ہے۔
اس ادارے کا بنیادی مقصد قومی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کرنا اور محققین، طلبہ اور عام شہریوں کو تاریخی معلومات تک رسائی فراہم کرنا ہے۔


نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کا قیام 8 دسمبر 1973ء کو عمل میں آیا۔ یہ ادارہ وفاقی حکومت کے تحت کام کرتا ہے اور اس کا مرکزی دفتر اسلام آباد میں واقع ہے۔ بعد ازاں 1993ء میں "نیشنل آرکائیوز ایکٹ" نافذ کیا گیا جس کے ذریعے تاریخی ریکارڈ کے تحفظ اور عوامی رسائی کے اصول وضع کیے گئے۔

ادارے کے مقاصد میں قومی تاریخ اور ثقافتی ورثے سے متعلق دستاویزات کا تحفظ، سرکاری ریکارڈ کی حفاظت، نایاب مخطوطات اور تاریخی کتب کی نگہداشت، محققین اور طلبہ کو تحقیقی سہولیات کی فراہمی شامل ہیں۔

#سیکشنز
اس ادارے میں مختف سیکشنز ہیں جن میں کتب خانہ، دفاتر، فوٹو آرکائیوز سیکشن، اخباروں کا سیکشن، ویڈیو آرکائیوز ڈیٹا سیکشن، اہم تاریخی دستاویزات کا سیکشن، قائداعظم پیپرز، کانفرنس روم، علامہ اقبال تصاویر گیلری اور آرکائیوز کو محفوظ رکھنے کے لیئے سائنسی لیبارٹری شامل ہیں۔

یہاں آپ اردو، و انگریزی کی پرانی اخباریں ، قیام پاکستان کی تصاویر و دستاویزات، عہد اکبری کا شاہی حکم نامہ، کشمیر کی فروخت کی دستاویزات، قائد و اقبال کی بہت سی تصاویر، اہم مواقع اور تقریروں کی ویڈیوز، مختلف موضوعات پر کئی بہترین کتب و رسائل دیکھ سکتے ہیں۔

مختصراً، نیشنل آرکائیوز آف پاکستان ملک کی اجتماعی یادداشت کا محافظ ہے۔ یہاں محفوظ دستاویزات پاکستان کی سیاسی سماجی، ثقافتی اور تاریخی داستان کو زندہ رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

اگر آپ اسلام آباد میں ہیں تو ایک باراس ادارے کا دورہ ضرور کریں۔۔۔۔۔۔۔

محمد عظیم شاہ بخاری







#𝙛𝙤𝙧𝙮𝙤𝙪シ𝙥𝙖𝙜𝙚

Photos from Wasaib Explorer's post 09/06/2026

قادر پور راں میں مخدوم شیخ کبیر رحمتہ اللہ علیہ کا تاریخی مزار

ملتان کے نواحی قصبے قادر پور راں میں واقع حضرت مخدوم شیخ کبیر رحمتہ اللہ علیہ کا مزار روحانیت، تاریخ اور فنِ تعمیر کا ایک خوبصورت امتزاج ہے۔

مزار کی موجودہ عمارت جمادی الثانی 1308 ہجری (1890ء) میں تعمیر کی گئی۔ ایک صدی سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ عمارت اپنے تاریخی تشخص کو برقرار رکھے ہوئے ہے اور زائرین کو ماضی کے ایک روشن باب سے جوڑتی ہے۔

اس مزار کی فضا میں ایک خاص سکون محسوس ہوتا ہے۔ قدیم طرزِ تعمیر، خاموش ماحول اور عقیدت مندوں کی آمد اس مقام کو وسیب کے اہم روحانی مراکز میں شامل کرتی ہے۔

یہ یادگار صرف ایک مزار نہیں بلکہ ہماری مذہبی، ثقافتی اور تاریخی وراثت کا حصہ ہے، جسے محفوظ رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

📍 مزار حضرت شیخ کبیرؒ، قادر پور راں، ملتان

Photos from Wasaib Explorer's post 09/06/2026

صادق گڑھ محل کے فرش پر بکھری تاریخ:
بہاولپور کی تاریخی ریاست کے شاہکار صادق گڑھ محل (Sadiq Garh Palace) کے فرش پر کراچی کی مشہور نصروان جی کمپنی لمیٹڈ (Nusserwanji & Co.) کی تیار کردہ نفیس اور نقش و نگار والی ٹائلز کا نصب ہونا، برصغیر پاک و ہند کی فنِ تعمیر، مقامی صنعت اور شاہی ذوق کا ایک بے نظیر امتزاج ہے۔ یہ تاریخی و ثقافتی ربط درج ذیل اہم پہلوؤں کو اجاگر کرتا ہے:
درآمدی اجارہ داری کا خاتمہ اور مقامی مہارت
انیسویں صدی کے اواخر اور بیسویں صدی کے آغاز میں برصغیر کے محلات اور اشرافیہ کے گھروں میں برطانوی کمپنی "منٹن اینڈ کمپنی" (Minton & Co.) کی ٹائلز درآمد کی جاتی تھیں۔ کراچی کے نامور تاجر اور سماجی رہنما جمشید نصروان جی مہتا نے اس درآمدی اجارہ داری کو توڑنے اور مقامی معیشت کو مستحکم کرنے کے لیے کراچی میں نصروان جی ٹائلز کی بنیاد رکھی۔ نواب آف بہاولپور کی جانب سے اپنے سب سے پرتعیش محل کے لیے ان مقامی ٹائلز کا انتخاب اس بات کا ثبوت تھا کہ نصروان جی کی کوالٹی اور ڈیزائن یورپی درآمدات کے ہم پلہ تھے۔
منفرد طرزِ تعمیر اور پائیداری
نصروان جی کمپنی کی تیار کردہ یہ ٹائلز محض عام ٹائلز نہیں تھیں، بلکہ یہ مٹی اور سیمنٹ کی مختلف رنگین تہوں کو یکجا کر کے بنائی جاتی تھیں (جسے پیٹرنڈ سیمنٹ ٹائلز کہا جاتا ہے)۔ ان کی خاصیت یہ تھی کہ:

پائیدار رنگ: ان کے ڈیزائن صرف اوپری سطح پر پینٹ نہیں ہوتے تھے، بلکہ رنگ مٹی کے اندر تک رچے ہوتے تھے، جس کی وجہ سے سو سال گزرنے کے بعد بھی ان کے نقش و نگار ماند نہیں پڑتے。
وکٹورین اور گوتھک اثرات: ان ٹائلز میں یورپی گوتھک (Gothic) اور وکٹورین دور کے دلکش ہندسی (Geometric) اور پھولوں کے ڈیزائن شامل تھے، جو صادق گڑھ محل کے اطالوی اور اسلامی طرزِ تعمیر کے ملاپ کو مزید خوبصورت بناتے ہیں۔

بہاولپور اور کراچی کا تاریخی تجارتی ربط
ریاست بہاولپور کے حکمران، بالخصوص نواب صادق محمد خان چہارم، اپنے بلند پایہ ذوق اور تعمیراتی سرپرستی کے لیے مشہور تھے۔ جب 1882 سے 1892 کے درمیان صادق گڑھ محل تعمیر ہو رہا تھا، تو اس کی سجاوٹ کے لیے دنیا بھر سے بہترین اشیاء منگوائی گئیں۔ فرش کے لیے کراچی کی اس ابھرتی ہوئی مقامی کمپنی پر اعتماد کرنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس دور میں کراچی اور بہاولپور کے درمیان تجارتی اور ثقافتی روابط کتنے گہرے تھے۔

موجودہ صورتحال اور ورثے کا تحفظ
آج کراچی میں جمشید نصروان جی کی یادگار "نصروان جی بلڈنگ" کو محفوظ کر کے انڈس ویلی اسکول آف آرٹ اینڈ آرکیٹیکچر منتقل کیا جا چکا ہے، صادق گڑھ محل کے فرش پر بکھری یہ ٹائلز اب بھی اپنی اصل حالت میں موجود ہیں۔ اگرچہ محل کا ایک بڑا حصہ وقت کی دھول اور عدم توجہی کا شکار ہے، لیکن نصروان جی کمپنی کی یہ دیدہ زیب ٹائلز آج بھی اپنے شاندار ماضی، نوابینِ بہاولپور کی سخاوت اور کراچی کے پارسی خاندانوں کی صنعتی مہارت کی خاموش گواہ ہیں۔
ڈاکٹر سید مزمل حیسن
وسیب ایکسپلورر

09/06/2026

کبھی صادق گڑھ محل کی سڑکوں پر رولز رائس جیسی شاہانہ گاڑیوں کا راج تھا۔ نوابوں، مہاراجوں اور معزز مہمانوں کی آمد و رفت انہی شاہی سواریوں میں ہوا کرتی تھی۔

وقت نے کروٹ بدلی، محل ویران ہو گیا، شاہی قافلے بکھر گئے اور رولز رائس کی گونج خاموش ہو گئی۔

مگر تاریخ سے محبت رکھنے والوں کے قدم آج بھی یہاں پہنچتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ اس بار ہم نوابی رولز رائس میں نہیں بلکہ عدنان بھٹی صاحب کی آلٹو میں صادق گڑھ محل پہنچے تھے۔ 😊

سواری بدل گئی، مگر تاریخ سے عشق آج بھی ویسا ہی ہے۔
📍 صادق گڑھ محل
📸 Wasaib Explorer

09/06/2026

صادق گڑھ محل کی مسجد کا تاریخی کتبہ

صادق گڑھ محل کی خوبصورت مسجد میں نصب یہ کتبہ محض چند الفاظ نہیں بلکہ ریاستِ بہاولپور کے ایک عہد کی یادگار ہے۔ رنگین نقاشی، پھولوں کے دلکش نمونے اور خطاطی سے مزین یہ کتبہ اس دور کے فنِ تعمیر اور جمالیاتی ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔

اس پر "تاریخِ اختتام" کے عنوان سے نواب صادق محمد خان عباسی چہارم کا ذکر موجود ہے، جو ریاستِ بہاولپور کے حکمران تھے۔ ایک صدی سئ زائد عرصہ گزرنے کے باوجود یہ تحریر آج بھی مسجد کی دیوار پر موجود ہے اور ماضی کی داستان سنا رہی ہے۔ مسجد کی تکمیل 1307 ہجری، 1890 عیسوی میں ہوئی۔

وقت نے محل کو خاموش کر دیا، راہداریوں کو سنسان کر دیا، مگر یہ کتبہ آج بھی اس عہد کی گواہی دے رہا ہے جب صادق گڑھ محل اپنی شان و شوکت کے عروج پر تھا۔

تاریخ صرف کتابوں میں نہیں ملتی، کبھی کبھی وہ کسی دیوار پر لکھی ہوئی خاموشی میں بھی محفوظ ہوتی ہے۔

📍 مسجد، صادق گڑھ محل
📸 Wasaib Explorer

09/06/2026

صادق گڑھ محل کے تہہ خانے کا راز!

صادق گڑھ محل کے زیرِ زمین تہہ خانے میں قائم اس قدیم بینک لاکر پر آج بھی لندن کی مشہور کمپنی Chubb & Son's Lock & Safe Co. Ltd کا نام واضح طور پر پڑھا جا سکتا ہے۔

سوچنے کی بات ہے کہ ایک صدی قبل اس لاکر میں کیا کچھ محفوظ کیا جاتا ہوگا؟ ریاستی خزانے کے قیمتی سکے، سونے چاندی کے زیورات، اہم سرکاری دستاویزات، وقت گزر گیا، محل ویران ہو گیا، راہداریوں میں خاموشی چھا گئی، مگر یہ فولادی لاکر آج بھی اپنے اندر ماضی کے ان گنت راز سموئے کھڑا ہے۔ اس کے زنگ آلود دروازے اور ماند پڑتے ہوئے حروف ایک ایسے عہد کی یاد دلاتے ہیں جب صادق گڑھ محل ریاست بہاولپور کی شان و شوکت کی علامت تھا۔

تاریخ کی خوبصورتی یہی ہے کہ بعض اوقات ایک پرانا دروازہ، ایک لاکر یا ایک مٹتا ہوا نام بھی ہمیں ماضی کی ایک پوری داستان سنا جاتا ہے۔

📍 تہہ خانہ، صادق گڑھ محل
📸 Wasaib Explorer

09/06/2026

صادق گڑھ محل کی خاموش کھڑکی سے جھانکتے ہوئے یوں محسوس ہوتا ہے جیسے وقت صدیوں پیچھے لوٹ گیا ہو۔

کبھی انہی دریچوں سے ریاست بہاولپور کے شاہی مہمانوں کی آمد و رفت دیکھی جاتی ہوگی، باغ میں سجی محفلوں کی رونقیں دکھائی دیتی ہوں گی، اور ہشت پہلو پویلین کے گرد زندگی اپنے پورے جوبن پر ہوگی۔ آج وہی محل خاموش کھڑا ہے، دیواروں پر سکوت طاری ہے، اور کھڑکیوں سے صرف ہوا کی سرگوشیاں سنائی دیتی ہیں۔

کھڑکی کے پار موجود یہ نشست گاہ اب بھی اپنی جگہ قائم ہے، مگر اس کے گرد پھیلی ویرانی گزرے ہوئے وقت کی گواہی دیتی ہے۔ محل کے ٹوٹتے شیشے، خالی کمرے اور سنسان راہداریاں جیسے اپنے سنہری ماضی کو یاد کر رہی ہوں۔

تاریخ کی سب سے بڑی سچائی شاید یہی ہے کہ اقتدار، شان و شوکت اور محلات بھی وقت کے سامنے بے بس ہو جاتے ہیں۔ باقی رہ جاتی ہیں صرف یادیں، داستانیں اور وہ خاموش نظارے جو آنے والوں کو ماضی کی عظمت کا احساس دلاتے رہتے ہیں۔

📍 صادق گڑھ محل، احمد پور شرقیہ

09/06/2026

جون 2024 یکبئی ٹاپ کوہ سلیمان

Want your business to be the top-listed Travel Agency in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

http://www.youtube.com/@wasaibexplorerofficial

Address


Al Masoom Manzil
Multan
59030