just a fun

just a fun

Share

🌅روشنی کی امید رکھو 💝
مگر❣️
💓امیدو پر زندگی مت گزارو 💖

01/01/2026

Surat No 7 : سورة الأعراف - Ayat No 150

وَ لَمَّا رَجَعَ مُوۡسٰۤی اِلٰی قَوۡمِہٖ غَضۡبَانَ اَسِفًا ۙ قَالَ بِئۡسَمَا خَلَفۡتُمُوۡنِیۡ مِنۡۢ بَعۡدِیۡ ۚ اَعَجِلۡتُمۡ اَمۡرَ رَبِّکُمۡ ۚ وَ اَلۡقَی الۡاَلۡوَاحَ وَ اَخَذَ بِرَاۡسِ اَخِیۡہِ یَجُرُّہٗۤ اِلَیۡہِ ؕ قَالَ ابۡنَ اُمَّ اِنَّ الۡقَوۡمَ اسۡتَضۡعَفُوۡنِیۡ وَ کَادُوۡا یَقۡتُلُوۡنَنِیۡ ۫ ۖفَلَا تُشۡمِتۡ بِیَ الۡاَعۡدَآءَ وَ لَا تَجۡعَلۡنِیۡ مَعَ الۡقَوۡمِ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۵۰﴾

اور جب موسیٰ ( علیہ السلام ) اپنی قوم کی طرف واپس آئے غصہ اور رنج میں بھرے ہوئے تو فرمایا کہ تم نے میرے بعد یہ بڑی بری جانشینی کی؟ کیا اپنے رب کے حکم سے پہلے ہی تم نے جلد بازی کر لی اور جلدی سے تختیاں ایک طرف رکھیں اور اپنے بھائی کا سر پکڑ کر ان کو اپنی طرف گھسیٹنے لگے ۔ ہارون ( علیہ السلام ) نے کہا کہ اے میرے ماں جائے !ان لوگوں نے مجھ کو بے حقیقت سمجھا اور قریب تھا کہ مجھ کو قتل کر ڈالیں تو تم مجھ پر دشمنوں کو مت ہنساؤ اور مجھ کو ان ظالموں کے ذیل میں مت شمار کرو ۔

01/01/2026

Surat No 31 : سورة لقمان - Ayat No 27

وَ لَوۡ اَنَّ مَا فِی الۡاَرۡضِ مِنۡ شَجَرَۃٍ اَقۡلَامٌ وَّ الۡبَحۡرُ یَمُدُّہٗ مِنۡۢ بَعۡدِہٖ سَبۡعَۃُ اَبۡحُرٍ مَّا نَفِدَتۡ کَلِمٰتُ اللّٰہِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ عَزِیۡزٌ حَکِیۡمٌ ﴿۲۷﴾

روئے زمین کے ( تمام ) درختوں کی اگر قلمیں ہوجائیں اور تمام سمندروں کی سیاہی ہو اور ان کے بعد سات سمندر اور ہوں تاہم اللہ کے کلمات ختم نہیں ہو سکتے بیشک اللہ تعالٰی غالب اور باحکمت ہے ۔

12/12/2025

*چار چیزیں کبھی نہ چھوڑیں*
معمول بناوے ۔
*1-* اللّٰہ تعالٰی کا ذکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ اس سے محروم ہو جائیں گے کہ اللّٰہ تعالٰی بھی آپ کو یاد رکھے:
*فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُونِي وَلَا تَكْفُرُونِ*
*(سورۃ البقرۃ، آیت 152)*
"تم میرا ذکر کرو میں تمہیں یاد رکھوں گا".

*2-* شکر نہ چھوڑیں ورنہ آپ نعمتوں میں اضافے سے محروم ہو جائیں گے: *"لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ"* "اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو مزید دوں گا". إبراهيم :آیت 7)

*3-* دعا نہ چھوڑیں ورنہ آپ قبولیت سے محروم ہو جائیں گے: *"ادْعُونِي أَسْتَجِبْ لَكُمْ*
*(سورۃ غافر، آیت 60)*
"تم مجھے پکارو میں تمہاری دعا قبول کروں گا". ( المؤمن :آیت 60)

*4-* استغفار نہ چھوڑیں ورنہ نجات سے محروم ہو جائیں گے: *"وَمَا كَانَ ٱللَّهُ مُعَذِّبَهُمۡ وَهُمۡ یَسۡتَغۡفِرُونَ"*
"الله انھیں عذاب دینے والا نہیں ہے جب کہ وہ استغفار کرتے ہوں". ( الأنفال :آیت 33)

دعا ہے آپ سب کی زندگی کی ہر صبح اور شام ، خیر و برکت والی ہو.

*🤲🏻آمین ثم آمین🌹♥️🌹*

05/12/2025
15/07/2025

وہ شخص عظیم ہے جو اپنی غلطی تسلیم کرتا ہے
اور جو اپنی اصلاح کرلے وہ عظیم تر ہے
لیکن وہ عظیم ترین هےجو لوگوں کی غلطیوں کے باوجود ان سے پیار کرتا ہے

15/07/2025

*آپکے پاس ایک ہی روٹی ہو, اور آپکے بچے بھوکے ہوں۔ تو آپ اس روٹی کو پرندوں کے لئے نہیں ڈالیں گے.*

*اگر آپکے پاس ایک پانی کی بوتل ہو, اور آپ کو صحرا عبور کرنا ہو تو آپ اس پانی سے پاؤں نہیں دھوئیں گے.*

*آپ کے پاس ایک ہی زندگی ہے, اور اسی سے آپ کو آخرت کمانی ہے۔ تو آپ اسے بے کار کاموں پر کیسے صرف کر سکتے ہیں؟؟؟؟؟*
*اٹھیے اپنے دن کا آغاز اچھا کیجئے تلاوت قرآن مجید نمازِ فجر ادا کیجیے*

05/05/2025

60۔ *آج کا قرآنی سبق*
*شہداء کو مردہ مت سمجھو :*
أَعـوذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيطٰنِ الرَّجِيـم۔
بِسمِ اللّٰهِ الرَّحمٰنِ الرَّحِيمِ۔
اور جو لوگ اللّٰہ کے راستے میں شہید ہوئے ہیں ، انہیں ہرگز مردہ نہ سمجھنا ، بلکہ وہ زندہ ہیں ، انہیں اپنے رب کے پاس رزق ملتا ہے ۔ اللّٰہ نے ان کو اپنے فضل سے جو کچھ دیا ہے وہ اس پر مگن ہیں ، اور ان کے پیچھے جو لوگ ابھی ان کے ساتھ ( شہادت میں ) شامل نہیں ہوئے ، ان کے بارے میں اس بات پر بھی خوشی مناتے ہیں کہ ( جب وہ ان سے آکر ملیں گے تو ) نہ ان پر کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ غمگین ہوں گے ۔وہ اللّٰہ کی نعمت اور فضل پر بھی خوشی مناتے ہیں اور اس بات پر بھی کہ اللّٰہ مومنوں کا اجر ضائع نہیں کرتا ۔
سورۃ آل عمران (3)، آیت نمبر 169-171۔
Copied

30/04/2025

تحریر مکمل پڑھیں اور فیصلہ کریں
_*بالآخر پاکستان کو پانی کے لئے بھارت پر ایٹمی حملہ کرنا پڑے گا؟*_
اس آرٹیکل کا عنوان ہے کہ بالآخر پاکستان کو پانی کے لئے بھارت پر ایٹمی حملہ کرنا پڑے گا؟
آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ بھارت پاکستان کے ساتھ کس طرح جنگ چھیڑ چکا ہے اور اس جنگ میں بھارت کو مسلسل کامیابی مل رہی ہے جب کہ پاکستان کی عوام اور اس کے حکمران گھوڑے بیچ کر سو رہے ہیں۔ اور اس غلط فہمی میں چپ سادھ رکھی ہے کہ کونسا بھارت نے پاکستانکے خلاف میدان جنگ اپنی فوج اتار دی ہے۔
توقع کے عین مطابق عالمی بینک نے کشن گنگا ڈیم کی تعمیر پر پاکستان کی شکایات اور شواہد کو ناکافی قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔ یہ پاکستان کی بھارت سے سفارتی محاذ پر ایک بڑی شکست ہے۔ کشن گنگا ڈیم کی تعمیر 2009 میں شروع ہوئی جب ایک پارٹی کی حکومت تھی اور دوسری پارٹی مضبوط اپوزیشن تھی۔2011 کے بعد دو سال تک یہ کیس عالمی عدالت میں چلتا رہا لیکن بالآخر عالمی ثالثی عدالت نے نہ صرف پاکستان کے اعتراضات مسترد کر دیے بلکہ بھارت کو پانی کا رخ موڑنے کی اجازت دے دی۔
یاد رہے کہ یہ وہ دور تھا جب بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دیا جارہا تھا اور خارجہ امور کا قلمدان بھی وزیر اعظم کے پاس تھا۔ بھارت نوازی کی داستان صرف یہیں ختم نہیں ہوئی بلکہ دریائے سندھ پر تحقیق سے پتہ چلا کہ انڈیا نے ڈیم بنا کر دریائے سندھ کا سارا پانی روک لیا، بنائے جانے والے متنازعہ پن بجلی کے منصوبے نیموباز گو کے خلاف بھی وزیر اعظم صاحب کے احکامات کے مطابق عالمی عدالت میں جانے سے روک دیا گیا کہ “خوامخواہ اس کیس پر وقت ضائع ہوگا”۔۔۔بھارت نے یہ منصوبہ مکمل کر لیا ، یہی نہیں اس دوران “چٹک” کا منصوبہ بھی پایہ تکمیل کو پہنچ گیا اور ہم صرف بھارت سے پینگیں بڑھانے کے خواب دیکھتے رہے۔
میں عموماً سیاسی شخصیات پر تنقید سے اجتناب کرتا ہوں لیکن گزشتہ ایک دہائی میں زراعت اور آبی وسائل کی زبوں حالی کو دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے۔ اس وقت کی نالائق حکومت کی ذمہ داریوں کا یہاں سے اندازہ کر لیں کہ اس دور میں بھارت صرف دریائے سندھ پر چودہ چھوٹے ڈیم اور دو بڑے ڈیم مکمل کر چکا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ منگلا ڈیم اکتوبر 2017 سے خالی پڑا ہے جبکہ تربیلا ڈیم بھی اس وقت بارش کا محتاج ہے۔ یہ کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی، پانی کے حوالہ سے ہمارا مستقبل بہت دردناک ہے۔
دو سال قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے بیان دیا کہ وہ پاکستان کو پانی کی بوند بوند کے لیے محتاج کر دے گا اور وہ اس پر عمل کر رہا ہے۔ بھارت دریائے چناب پر سلال ڈیم اور بگلیہار ڈیم سمیت چھوٹے بڑے 11ڈیم مکمل کر چکا ہے ۔ دریائے جہلم پر وولر بیراج اور ربڑ ڈیم سمیت 52ڈیم بنا رہا ہے دریائے چناب پر مزید 24 ڈیموں کی تعمیر جاری ہے اسی طرح آگے چل کر مزید 190 ڈیم فزیبلٹی رپورٹس ، لوک سبھا اور کابینہ کمیٹی کے پراسس میں ہیں۔
یہ سب کچھ ہمارے سیاستدانوں اور حکمرانوں کی آنکھوں کے سامنے ہورہا ہے، لیکن کسی کو اس سے غرض نہیں، کوئی ووٹرز کو عزت دینے کا مطالبہ کر رہا ہے، کوئی مذہب پر سیاست کر رہا ہے تو کوئی مرے ھوئے لیڈروں کے نام پر ملک لوٹ رہا ہے۔
اگر یہ مسئلہ کسی پارٹی کے منشور میں شامل نہیں ہے تو اس کے ذمہ دار ہم ہیں۔ عوام کے ووٹ دینے کے معیار نالیاں پکی کرنا، تندوری روٹیوں یا نام نہاد نمائشی سکیمیں ہیں، دراصل عوام ذہنی غلام بن چکے ہیں جن کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں ان کے سیاسی خداؤں کے تابع ہیں۔ اگر مجھ جیسے کم علم کو یہ حقائق ملکی مستقبل کے لیے فکر مند کرسکتے ہیں تو ہمارے نام نہاد دانشور اور میڈیا ہاؤسز کیوں ان موضوعات پر بات نہیں کرتے؟
کیوں کہ ہم بطورِ عوام ان موضوعات پر بات کرنا ہی نہیں چاہتے۔ مجھے سیاستدانوں سے گلہ نہیں کیوں کہ ان کی جائیدادیں پاکستان سے باہر ہیں، خدانخواستہ پاکستان پر کوئی آنچ آئی تو وہ اسے چھوڑ کر باہر بھاگنے میں دیر نہیں کریں گے۔ مجھے شکوہ عام لوگوں سے ہے جنہوں نے یہاں رہنا ہے، خدا وہ دن نہ دکھائے جب پانی کے گھونٹ کے لیے ایک بھائی دوسرے کا گلا کاٹ رہا ہو۔
بھارت یہ سب اپنے کسانوں کے لیے نہیں کر رہا، بلکہ اس کا مقصد پاکستان کو بنجر کرکے اسکی بائیس کروڑ عوام کو بھوکا اور پیاسا مارنا ہے، بھارت کو علم ہے کے پاکستان کی فوج سے جنگ چھیڑنا اپنی تباہی کے مترادف ہے، کیونکہ پاکستان کی یہ پالیسی ہے کہ اگر بھارت سے جنگ ہونے کی صورت میں اگر پاکستان کی سلامتی کو ذرا سا بھی خطرہ ہوا پاکستان ایٹم بم استعمال کرے گا، لہذا انتہائی چالاکی کے ساتھ بھارت پاکستان کو تباہ کر رہا ہے، اور اس جنگ میں بھارت کو نہ تو پاکستان کی فوج کا سامنا کرنا پڑے گا اور نہ ہی پاکستان کی بائیس کروڑ عوام کا۔
پاکستان کی عوام یہ مت سمجھے کہ کیا ہوا اگر بھارت ہمارا پانی روک بھی لے تو ہمیں پینے کے لیے پانی تو ملتا رہے گا، شاید عوام یہ سمجھ رہی ہے کہ ان کے گھر میں کیا گیا بور پانی پینے کے لئے اور زراعت کے لئے ٹیوب ویل غیرہ ان کے لئے کافی ہیں، مگر میں آپ کو بتا دوں کے اگر آپ کے دریاؤں کا پانی روک لیا گیا، تو آپ کے گھر میں کیا گیا بور اور ٹیوب ویل بھی آپ کو پانی دینا بند کر دے گا، کیونکہ زیر زمین پانی کی سطح انتہائی نیچے چلی جائے گی۔ زمین اناج اگانا بند کر دے گی۔
پاکستان میں جو قحط سالی جنم لے گی وہ انتہائی خوفناک صورت اختیار کرجائے گی، اور اس تباہی کا تصور آپ کر سکتے ہیں۔ بالاآخرپاکستان کو یا تو پیاسا مرنا ہوگا یا پھر ایٹمی جنگ میں مرنا ہوگا، دونوں صورتوں میں پاکستان اور اس کی عوام کو انتہائی دردناک دن دیکھنا پڑیں گے، اور یہ اس صورت میں ہوگا کہ ہم ابھی بھی چپ رہیں اور مجرمانہ لاپرواہی کا مظاہرہ کریں۔
اگر آپ سمجھ رہے ہو کہ اس صورتحال میں پاکستان کی فوج کچھ کرسکتی ہے تو یہ آپ کی بیوقوفی ہے، کیونکہ فوج صرف لڑنے کے لئے ہوتی ہے، زیادہ سے زیادہ فوج بھارت سے لڑسکتی ہے بھارت کے بنائے گئے ڈیموں کو اپنے میزائلوں سے نشانہ بنا سکتی ہے، مگر یہ مستقل حل نہیں، کیونکہ جواب میں ہمیں بھی میزائلوں کا سامنا کرنا پڑے گا، اور یہ رستہ دونوں ملکوں کی تباہی کا ہے ، ہماری حکومتوں کو ہمیں مجبور کرنا ہوگا کہ سفارتی سطح پر بھارت کو یہ ڈیم بنانے اور پاکستان کا پانی روکنے سے باز رکھا جائے۔
پاکستان میں آنے والی نئی حکومت سے سب سے پہلا مطالبہ یہی ہونا چاہیے کہ ہمیں سڑکوں، پلوں، میٹرو بسوں اور اورنج ٹرینوں کی ضرورت نہیں بلکہ ہمیں ڈیموں کی ضرورت ہے، جتنا پیسہ ان کاموں پر خرچ کیا جاتا ہے اس کا ایک چوتھائی حصہ بھی اگر ڈیموں پر خرچ کیا جائے تو پاکستان میں زراعت کو فروغ ملے گا پانی کی کمی دور ہوگی بجلی وافر مقدار میں پیدا ہوگی اور سستی بھی ملے گی، ہماری صنعتیں ترقی کریں گی کیونکہ ہماری آدھی سے زیادہ صنعتیں بند پڑی ہیں جس کی سب سے بڑی وجہ بجلی کی قلت ہے، صنعتیں چلیں گی تو برآمدات میں اضافہ ہوگا پاکستان ترقی کرے گا، صرف ڈیم بنانے کی وجہ سے پاکستان کو کتنا فائدہ ہوگا یہ سب اس آرٹیکل میں بتایا گیا ہے، خدا کے لئے اپنی نسلوں کے لئے آواز اٹھائیں۔
یاد رہے بھارت پاکستان کو اس فائدے سے دور رکھنے کے لئے کچھ لوگوں کو بھاری معاوضہ دیتا آیا ہے، تاکہ حکومتیں ایک تو پاکستان کے لئے ڈیم نہ بنائیں اور دوسرا سفارتی سطح پر بھارت کو غیر قانونی ڈیم بنانے سے نہ روکیں۔ اور تیسرا یہ کہ پاکستانی خزانے کو فضول کاموں میں جھونکا جائے، پاکستان کے خزانے کو تباہ کرنے کے لئے بھی بھارتی حکومت لوگوں کو بھاری معاوضہ دیتی ہے۔
نوٹ: اس آرٹیکل کو جس صورت میں آپ سے شیئر کیا گیا ہے اسی صورت میں دوسروں تک پہنچائیں۔ تا کہ پاکستانیوں کی اکثریت اس بات کو سمجھے،
کہ آپ کے گھر کی نالی اور آپکی گلی پکی نہ بھی ہوئی
تو آپ بھوکے پیاسے نہیں مریں گے۔
مگر ڈیم نا بنے تو
یا تو آپ کو پیاس مار دے گی
یا پھر ایٹمی جنگ۔۔

29/07/2024

46)SURAT-Ul-AHQAFF VERSES 34.35ONLY URDU

29/07/2024

46)SURAT-Ul-AHQAFF VERSES 31.34ONLY URDU TRANSLATION

20/07/2024

🔴 *`واقعہ کربلا`* 🔴

قسط دوم:

*`سیدنا حسینؓ نے اپنے اور ساتھیوں کی شہادت کا ذمہ دار کسے بتایا ؟`*
حضرت مسلم بن عقیلؓ( جنہیں سیدنا حسینؓ نے کوفہ والوں کے خطوط کی روشنی میں اپنے سے پہلے عراق بھیجا تھا اور ان سے تعاون کرنے کا حکم دیا تھا مگر عراقیوں نے ان کو دھوکہ دیا اور پھر دشمنوں کے نرغے میں انہیں اکیلا چھوڑ دیا اور آخر کار وہ شہید کر دیئے گئے) نے وصیت کرتے ہوئے یہ بھی کہا تھا کہ:
"میری طرف سے سیدنا حسینؓ کو لکھ دینا کہ کوفیوں نے مجھ سے بے وفائی کی ہے ان پر اعتماد نہ کرنا۔ ( دیکھئے شیعہ کتاب جلاء العیون )
حضرت مسلم بن عقیلؓ نے سیدنا حسینؓ کے نام یہ پیغام بھیجا کہ کوفہ کے لوگ بے وفا اور غدار ہیں، ان کی باتوں اور خطوط پر اعتبار نہ کریں اور یہاں نہ آئیں ورنہ یہ لوگ آپؓ کے ساتھ بھی وہی سلوک کریں گے جو انہوں نے میرے ساتھ کیا ہے۔
حضرت حر ؒ شہید نے بھی کوفہ کے شیعوں کو اس کا ذمہ دار ٹھہرایا اور ان کو سرِ عام برا بھلا کہا۔
✍️(دیکھئیے شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب: صفحہ 60)
سیدنا حسینؓ کے ایک اور جانثار بریری بن حضیر نے بھی اہلِ کوفہ کو اس کا مجرم بتایا اور کہا کہ تم نے سیدنا حسینؓ کو مدد کے وعدے کر کے بلایا اور پھر ان پر پانی تک بند کر دیا۔
✍️(دیکھئیے شیعہ کتاب جلاءالعیون )
*سیدہ زینبؓ بنت علیؓ نے بھی اہل کوفہ کو غدار، فریبی اور مکار جیسے الفاظ بر سرِ عام کہے اور کہا کہ:*
"اب تم ہم پر ماتم کرتے ہو حالانکہ ہمارے قاتل تم ہو۔ تم نے جگر گوشہ رسولﷺ کو شہید کیا، تم نے اہلِ بیت کی باپردہ عورتوں کو بے پردہ کیا ہے۔
✍️(دیکھئیے جلاء العیون)
سیدنا حسینؓ کی صاحبزادی سیدہ فاطمہؒ کا بیان بھی یہی تھا۔ آپ نے کہا:
"اے اہل مکر و فریب تم نے ہمیں کافر سمجھا اور ہمارے قتل تک کو حلال جانا۔
✍️( احتجاج طبرسی: صفحہ 157)
خود شہیدِ کربلا سیدنا حسینؓ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:
تم لوگوں نے مجھے یہاں بلا کر میرا ساتھ چھوڑ دیا مجھے اس پر کوئی حیرانگی نہیں ہے، کیونکہ تم اس سے پہلے میرے بھائی اور میرے والد اور میرے چچازاد بھائی مسلم سے بھی اسی طرح بے وفائی کر چکے ہو۔ ✍️( دیکھئے طبری: جلد 5، صفحہ 403)
آپؓ نے اہل کوفہ سے کہا کہ:
" تم لوگوں نے خود مجھے بلایا ہے اور خود ہی میرے ساتھ یہ سلوک کر رہے ہو! اللّٰہ تمہیں کبھی سیراب نہ کرے۔
✍️( ناسخ التواریخ: صفحہ 335)
اے بے وفاؤ! غدارو! مجبوری کے وقت تم نے اپنی مدد کے لئے ہمیں بلایا اور جب ہم آ گئے تو کینے کی تلوار ہم پر چلائی۔
(ایضاً: صفحہ391)
اے اللّٰہ! شیعانِ کوفہ نے مجھے اپنی مدد کے لئے بلایا پھر وہ ہمیں قتل کرنے کے درپے ہیں، اے اللّٰہ ان سے میرا انتقام لے اور حاکموں کو کبھی ان سے خوش نہ رکھ۔
✍️(جلاء العیون: صفحہ 405 )
تم پر تباہی ہو حق تعالٰی دونوں جہانوں میں میرا تم سے بدلہ لے گا،تم خود اپنی تلواریں ایک دوسرے کے منہ پر چلاؤ گے، اپنا خون خود بہاؤ گے، اور دنیا سے نفع نہ پاؤ گے، اپنی امیدوں کو نہ پہنچو گے، اور آخرت میں بدترین عذاب تمہارے لئے تیار ہے۔
(ایضاً: صفحہ 409)
حتیٰ کہ جب آپؓ کے تمام ساتھی کربلا میں یکے بعد دیگرے شہید کر دیئے گئے اور آپؓ کے ہاتھ میں اپنا چھوٹا بیٹا تھا، اس کو ایک تیر لگا اور خون اچھلنے لگا تو آپؓ خون صاف کرتے جا رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
*اللهم احكم بيننا وبين قوم دعونا لينصرونا فقتلونا*
✍️(البداية: جلد 8، صفحہ 197۔ مروج الذهب: صفحہ 70 از مسعودی شیعی)
اے اللّٰہ ہمارے اور اس قوم کے درمیان فیصلہ فرما جس نے ہمیں دعوت دے کر یہاں بلایا کہ وہ ہماری مدد کریں گے(مگر انہوں نے بے وفائی کی اور دغا دیا) اور انہوں نے ہمیں قتل کر ڈالا (یعنی ہمیں قتل ہونے کے لئے اکیلا چھوڑ دیا)
سیدنا زین العابدین ؒ نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا کہ:
تم نے میرے والد کو بلایا اور دھوکہ دیا اور قتل کر دیا، تم ہلاک ہو گئے۔
✍️(احتجاج طبرسی: صفحہ 159)
جب آپؒ کربلا سے کوفہ آئے تو دیکھا کہ مرد و عورتیں رو رہی ہیں، آپؒ نے انہیں اس طرح روتے دیکھ کر فرمایا:
*ان هؤلاء يبكون علينا فمن قتلنا غيرهم*
✍️(شیعہ کتاب الاحتجاج: صفحہ 156)
ترجمہ: اب یہ لوگ ہماری شہادت اور ہمارے حال پر ماتم کر رہے ہیں پر یہ تو بتاؤ کہ ان کے علاؤہ ہمیں کن لوگوں نے قتل کیا ہے،
یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے قاتل ہیں، اور اب دنیا کو دکھانے کے لئے ماتم کر رہے ہیں اور منافقانہ آوازوں سے دنیا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں، سیدنا زین العابدینؒ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ تم لوگوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔
*أيها الناس ناشدتكم اللَّه هل تعلمون أنكم كتبتم إلى أبي وخدعتموه وأعطيتموه من أنفسكم العهود والميثاق والبيعة وقاتلتموه، فتبا لكم
✍️(الاحتجاج: صفحہ 157)*
"اے لوگو! تمیں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ تم نے میرے والد محترم کو خط لکھ لکھ کر بلایا پھر تم نے ان کے ساتھ فریب کیا، تم نے میرے والد کے ساتھ مدد کا پکا وعدہ کیا تھا اور بیعت کے عہد کئے تھے لیکن تم نے ان سے قتال کیا تم لوگوں نے اُنہیں رسوا اور ذلیل کیا سو تمارے لئے بربادی ہو"
صاحبِ اعلام الوری شیعہ نے قاتلانِ حسینؓ کی کس طرح نشاندہی کی ہے اسے دیکھئے:
اہل کوفہ نے آپؓ کی بیعت کی، نصرت کے ضامن بنے پھر بیعت توڑ دی اور آپؓ کو بے یار و مددگار دشمن کے حوالے کیا، آپؓ پر خروج کر کے آپؓ کا وہاں محاصرہ کر لیا جہاں سیدنا حسینؓ کا نہ کوئی مددگار تھا اور نہ جائے فرار، ان لوگوں نے آپؓ پر دریائے فرات کا پانی بند کردیا پھر قدرت پا کر آپؓ کو اس طرح شہید کردیا جس طرح آپؓ کے والد اور بھائی شہید ہوئے تھے۔
✍️(اعلام الوری: صفحہ 219 ماخوذ از تحفۃ الاخیار صفحہ 14)
بہرحال عراقی شیعہ کے مسلسل خطوط، ان کی طرف سے تعاون کی یقین دہانیوں کے بناء پر، جیسا کہ ہم بتا آئے ہیں کہ آپؓ نے پہلے اپنے چچا زاد بھائی مسلم بن عقیلؓ کو بھیجا کہ وہ جاکر وہاں کے حالات دیکھیں اور آپؓ کو مطلع کریں۔ مسلم بن عقیلؓ مختلف اور دشوار گزار مراحل سے گزرتے ہوئے وہاں پہنچے اور ان لوگوں نے آپ کے ساتھ ظاہراً جیسے برتاؤ کا مظاہرہ کیا اس سے مسلم بن عقیلؓ متاثر ہو گئے اور سیدنا حسینؓ کو کوفہ آنے کا خط بھیج دیا، ادھر اہلِ کوفہ نے حضرت مسلم بن عقیلؓ کو پھر بے یارو مددگار چھوڑ دیا۔ مسلم بن عقیلؓ نے یہ خبر سیدنا حسینؓ تک پہنچائی تاہم سیدنا حسینؓ رکے نہیں بلکہ کوفہ جانے کے لئے تیار ہو گئے۔ ہم پہلے بتاتے آئے ہیں کہ اہلِ مکہ و مدینہ نے بھی آپؓ کو کوفیوں کی بے وفائی اور غداری سے خبردار کیا تھا۔ حضرت عمرو بن عبد الرحمٰنؓ ، عبداللّٰہ بن عباسؓ، حضرت عبداللّٰہ بن عمرؓ، حضرت عبداللّٰہ بن زبیرؓ وغیرہ نے آپؓ کو روکنے کی کوشش کی مگر وہ سب اس میں ناکام رہے اور آپؓ ذی الحجہ 60 ھجری کو مکہ مکرمہ سے عراق روانہ ہوئے، راستہ میں حضرت مسلم بن عقیلؓ کی شہادت کی اطلاع بھی ملی تو آپؓ نے اپنے رفقاء کو جمع کر کے فرمایا:
*قد خذلنا شيعتنا*
*✍️(شیعہ کتاب خلاصۃ المصائب صفحہ 49) شيعان مادست از يارى ما برداشت اند( جلاء العیون از ملاّ باقر مجلسی وناسخ التواریخ صفحہ 163)*
بیشک میرے شیعوں نے مجھے چھوڑ دیا اور میری مدد کرنے سے اپنا ہاتھ اٹھالیا۔
آپؓ نے انا للّٰہ پڑھا اور لوگوں نے کہا کہ اب اللّٰہ ہی آپؓ کا محافظ ہے آپؓ نے فرمایا کہ ان کے بعد اب زندگی کا مزہ بھی نہیں رہا۔
*حافظ ابن حجر عسقلانی ؒ (852ھ) لکھتے ہیں کہ :*
حر بن یزید نے آپؓ سے کہا کہ خدارا واپس چلیے، میں نے وہاں آپؓ کے لئے کوئی بھلائی نہیں چھوڑی، پھر آپؓ کو سارا واقعہ بتلایا۔ *آپؓ نے پلٹنے کا ارادہ کر لیا تھا لیکن مسلمؓ کے بھائی نے کہا کہ جب تک ہم بدلہ نہیں لے لیتے یا قتل نہیں ہو جاتے واپس نہیں جائیں گے* چنانچہ یہ لوگ چل پڑے اور آپؓ کربلا آئے، آپؓ کے ساتھ 45 لوگ سواری پر تھے جبکہ 100 کے قریب افراد پیدل چل رہے تھے۔
✍️ (الاصابہ: جلد 1، صفحہ 333)
سیدنا حسینؓ نے جب اپنے ہی شیعوں کی بے وفائی کھلی آنکھوں دیکھ لی اور سمجھ لیا کہ یہ لوگ مجھے دھوکہ دے کر یہاں لائے ہیں اور اب مجھے اکیلا چھوڑ گئے ہیں تو آپؓ نے حالات کے پیش نظر فریقِ مقابل کے سربراہ عمرو بن سعد سے کہا کہ میں تین باتیں پیش کر رہا ہوں ان میں سے ایک چیز آپ اختیار کر لیں۔
♦️ *1...میں اسلامی سرحدوں میں سے کسی ایک سرحد پر نکل جاؤں اور وہاں جاکر اسلامی فوج کی حفاظت کروں اور ان کے ساتھ مل کر اعدائے اسلام کا مقابلہ کروں ۔*
♦️ *2...میں واپس مدینہ منورہ چلا جاؤں ۔*
♦️ *3...یا میں اپنا ہاتھ یزید کے ہاتھ میں دے دوں۔*
چنانچہ عمرو بن سعد نے ان کی بات قبول کر لی اور یہ معاملہ عبید اللّٰہ بن زیاد کے پاس بھیج دیا۔ عبید اللّٰہ بن زیاد نے جواب دیا کہ وہ سب سے پہلے اپنے آپ کو میرے حوالے کریں پھر بات آگے چلے گی۔( ایک روایت میں ہے کہ یہ بات شمر نے کہی کہ سب سے پہلے ابن زیاد کی بات مانی جائے گی اور اس کی بیعت کی جائے گی پھر بات آگے بڑھے گی ) سیدنا حسینؓ نے یہ بات قبول نہ فرمائی۔ ظاہر ہے کہ اب جنگ کے سوا کون سا راستہ نکل سکتا تھا۔
*شیخ الاسلام حافظ ابن تیمیہؒ ( 728ھ) لکھتے ہیں:*
أَرَادَ الرُّجُوعَ فَأَدْرَكَتْهُ السَّرِيَّةُ الظَّالِمَةُ، فَطَلَبَ أَنْ يَذْهَبَ إِلَى يَزِيدَ، أَوْ يَذْهَبَ إِلَى الثَّغْرِ، أَوْ يَرْجِعَ إِلَى بَلَدِهِ، فَلَمْ يُمَكِّنُوهُ مِنْ شَيْءٍ مِنْ ذَلِكَ حَتَّى يَسْتَأْسِرَ لَهُمْ، فَامْتَنَعَ، فَقَاتَلُوهُ حَتَّى قُتِلَ شَهِيدًا مَظْلُومًا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ -.
✍️( المنتقی: صفحہ 268/ منہاج السنۃ: جلد 4 صفحہ 472 و جلد 6 صفحہ 340)
سیدنا حسینؓ نے نے کربلا سے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا تو ظالم لشکر نے آپؓ کو روک لیا، آپؓ نے یزید کے پاس جانے کی مہلت طلب کی یا سرحد کی طرف چلے جانے یا پھر اپنے شہر مدینہ منورہ لوٹ جانے کی پیش کش کی مگر انہوں نے آپؓ کی ایک بات قبول نہ کی اور کہا کہ پہلے آپؓ ان کے قیدی بن جائیں مگر آپؓ نے خود کو ان کے حوالہ کرنے اور عبید اللّٰہ بن زیاد کے پاس جانے سے صاف انکار کر دیا اور جنگ کی یہاں تک کہ آپؓ کو قتل کر دیا گیا اور آپ مظلوم شہید ہو گئے۔ رضی اللّٰہ عنه
*شارح صحیح بخاری حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللّٰہ ( 852ھ) لکھتے ہیں :*
قال له الحسين: اختر مني إحدى ثلاث: إما أن ألحق بثغر من الثّغور، وإما أن أرجع إلى المدينة، وإما أن أضع يدي في يد يزيد بن معاوية.
فقبل ذلك عمر منه، وكتب به إلى عبيد اللَّه، فكتب إليه لا أقبل منه حتى يضع يده في يدي، فامتنع الحسين، فقاتلوه فقتل معه أصحابه وفيهم سبعة عشر شابّا من أهل بيته، ۔۔۔۔۔الخ
✍️(الاصابہ: جلد 2، صفحہ 71)*
مؤرخ ابن جریر طبری نے تاریخ طبری میں (دیکھئے جلد 4 صفحہ 207) حافظ ابن عساکر رحمۃ اللہ نے اپنی تاریخ دمشق میں، امام شمس الدین ذہبی (748ھ) نے سیر اعلام النبلاء( دیکھئے جلد 3، صفحہ 210) میں بھی مذکورہ بیان نقل کیا ہے۔
شیعہ علماء کو اہل سنت علماء کے ان بیانات سے اِتفاق نہ ہو تو وہ کم از کم شیعہ مؤرخین اور محدثین کی بات پر تو یقین کر لیں۔
ابو الفرج الاصفہانی ( 356ھ) نے مقاتل الطالبیین (دیکھئے جلد 2) میں، شیخ مفید( 413ھ) نے اپنی معروف کتاب الارشاد (دیکھئیے صفحہ 213) میں، ملا باقر مجلسی نے بحار الانوار ( دیکھئے جلد 10 صفحہ 211) میں اور شیخ عباس قمی( 1359ھ) نے منتہی الاَمال(دیکھئے صفحہ 335) میں بھی اسے اسی طرح بیان کیا ہے۔

(جاری ہے)

ادارہ *`دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ`*

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan