Atta Ullah Ati
بیج نفرت کے بو کے پھرتے ہیں
مرے خدایا یہ دور کیسا ہے
عطاء اللہ اتی
میرے والد صاحب مرحوم کے بارے تازہ دو اشعار
ماشاءاللہ ماشاءاللہ کیا خوب صورت کلام کیا خوبصورت آواز
بسنت فیسٹیول لاہور لبرٹی چوک
07/02/2026
بسنت فیسٹیول لاہور لبرٹی چوک
03/02/2026
لاہور سے مرشد میرے والد صاحب کی تعزیت کے لیے تشریف لائے میں ان کا شکر گزار ہوں
03/02/2026
آج مشہور سنگر ظہور احمد لوہار صاحب سے ملاقات ہوئی پچیس سالہ پرانی یادوں کو تازہ کیا بہت شاندار نشست رہی اللہ انہیں اپنے حفظ امان میں رکھے آمین
عطاء اللہ اتی
بڑے بھائی رحمت اللہ ❣️
24/01/2026
بابا جی اشفاق احمد فرماتے ہیں
"اللہ ہمیں آسانیاں عطا فرمائے، اور آسانیاں بانٹنے کا شرف نصیب فرمائے۔"
اس دعا میں دو پہلو ہیں جو ہماری زندگی بدل سکتے ہیں:
پہلا پہلو: اللہ سے اپنی زندگی کے لیے سکون اور سہولت کی دعا کرنا۔
دوسرا پہلو: اس سے بھی بڑا مرتبہ یعنی دوسروں کی زندگیوں میں خوشیاں اور آسانیاں لانے کا ذریعہ بننا۔
بابا جی اکثر فرمایا کرتے تھے کہ جب آپ دوسروں کے لیے راستہ بناتے ہیں، تو اللہ آپ کی منزل کی رکاوٹیں خود بخود دور کر دیتا ہے۔
عطاء اللہ اتی
24/01/2026
بہت دنوں بعد بارش نے لاہور کی دھول کو چھوا،
فضا نے سکھ کا سانس لیا، زمین نے شکر ادا کیا۔
مگر اچانک آسمان نے اپنا لہجہ بدل لیا،
اور نرم بوندوں کے ساتھ اولے برس پڑے۔
یہ محض موسم کی کروٹ نہیں تھی،
یہ فطرت کا ایک ٹھہرا ہوا سوال تھا۔
جیسے آسمان کہہ رہا ہو
کہ توازن بگڑ جائے تو نرمی بھی سختی بن جاتی ہے۔
اولے برف کے نہیں تھے،
یہ یاد دہانیاں تھیں —
کہ ہم نے زمین کو کیا دیا
اور بدلے میں کیا مانگا۔
لاہور کی سڑکوں پر گرتے اولے
ہمیں یہ سکھا گئے
کہ قدرت خاموش رہ کر بھی
بہت کچھ کہہ جاتی ہے۔
یہ تبدیلی معمولی نہیں،
یہ ایک اشارہ ہے…
ان لوگوں کے لیے
جو سننے کا حوصلہ رکھتے ہیں۔
عطاء اللہ اتی
20/01/2026
Razia Sultana — ایک عورت جس نے 800 سال پہلے تاریخ کو للکارا
راضیہ سلطانہ 1205 میں پیدا ہوئیں — یعنی آج سے تقریباً 821 سال پہلے۔
یہ وہ زمانہ تھا جب عورت کا نام صرف گھر کی چار دیواری تک محدود تھا۔
حکمرانی؟
طاقت؟
فیصلہ سازی؟
یہ سب “مردوں کا حق” سمجھا جاتا تھا۔
راضیہ اسی دنیا میں پیدا ہوئیں،
مگر وہ اس دنیا کے لیے بنی ہی نہیں تھیں۔
وہ سلطان التمش کی بیٹی تھیں، جو دہلی سلطنت کے حکمران تھے۔ بچپن سے ہی راضیہ عام شہزادیوں جیسی نہیں تھیں۔ وہ حکمرانی سیکھتی تھیں، دربار کے فیصلے سمجھتی تھیں، ریاست کو دیکھتی تھیں، اور انسانوں کو پڑھتی تھیں۔
ان کے والد نے وہ بات دیکھ لی جو پورے نظام نے نظر انداز کر دی۔
1230 کے آس پاس — یعنی تقریباً 795 سال پہلے — سلطان التمش کو یہ حقیقت ماننی پڑی کہ ان کے بیٹے حکمرانی کے قابل نہیں۔
ایک باپ نے تاریخ توڑنے کا فیصلہ کیا۔
اس نے کہا:
“میری بیٹی راضیہ، میرے بعد حکمران ہو گی”
یہ اعلان 1236 میں ہوا — 790 سال پہلے — اور دہلی کے امیروں پر جیسے بجلی گر گئی۔
ایک عورت؟
سلطان؟
جب سلطان التمش کا انتقال ہوا، تو درباریوں نے ان کی وصیت ماننے سے انکار کر دیا۔ راضیہ کے سوتیلے بھائی کو تخت پر بٹھا دیا گیا۔
مگر چند ہی مہینوں میں ریاست برباد ہونے لگی۔
عوام نے شور مچایا۔
لوگوں نے راضیہ کو یاد کیا۔
اور پھر 1236 میں — 790 سال پہلے — راضیہ سلطانہ تخت پر بیٹھیں۔
31 سال کی عمر میں، 790 سال پہلے، وہ دہلی سلطنت کی پہلی اور آخری خاتون حکمران بنیں۔
وہ پردے کے پیچھے نہیں بیٹھیں۔
وہ دربار میں آئیں۔
وہ گھوڑے پر سوار ہوئیں۔
وہ مردوں کے لباس میں سامنے آئیں۔
انہوں نے خود کو “سلطانہ” نہیں بلکہ “سلطان” کہلوایا۔
یہ سب آج سے تقریباً 800 سال پہلے ہوا۔
انہوں نے کہا:
حکمرانی جنس نہیں، صلاحیت مانگتی ہے۔
انہوں نے عہدے حسبِ قابلیت دیے، حسبِ خاندان نہیں۔
یہ بات عوام کو پسند آئی،
مگر طاقتور امیروں کو نہیں۔
1237 سے 1239 — یعنی 789 سے 787 سال پہلے — سازشیں شروع ہو گئیں۔
بغاوتیں ہوئیں۔
اور راضیہ سلطانہ خود لشکر لے کر میدان میں اتریں۔
سوچیں…
ایک عورت، 800 سال پہلے، جنگ کی قیادت کر رہی تھی۔
1239 (787 سال پہلے) میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔
مگر وہ ٹوٹیں نہیں۔
وہ قید سے نکلی۔
انہوں نے دوبارہ تخت حاصل کرنے کی کوشش کی۔
لیکن تاریخ ہمیشہ بہادروں کے ساتھ انصاف نہیں کرتی۔
1240 میں — 786 سال پہلے — راضیہ سلطانہ شہید کر دی گئیں۔
عمر صرف 35 سال۔
انہوں نے صرف 4 سال حکومت کی —
مگر 800 سال گزرنے کے بعد بھی وہ زندہ ہیں۔
اصل سوال (اور یہی پوسٹ وائرل ہونے کی وجہ ہے):
اگر 800 سال پہلے ایک عورت سلطنت چلا سکتی تھی،
تو آج ہم عورتوں پر شک کیوں کرتے ہیں؟
اگر 1236 میں یہ ممکن تھا،
تو 2026 میں ناممکن کیوں لگتا ہے؟
شاید مسئلہ عورتوں میں نہیں…
مسئلہ ہمارے ذہنوں میں ہے۔
📌 اگر یہ تحریر آپ کے دل کو ہلائے —
📌 اگر آپ کو لگا کہ تاریخ ہمیں کچھ سکھا رہی ہے —
📌 اگر آپ مانتے ہیں کہ صلاحیت کی کوئی جنس نہیں —
تو اسے شیئر کریں۔
کیونکہ کچھ باتیں صرف پڑھی نہیں جاتیں،
آگے پہنچائی جاتی ہیں۔
کاپی ریحان اللہ والا
16/01/2026
موضوع:
صفائی نصف ایمان ہے
ہم اکثر صفائی کو صرف ظاہری صورت تک محدود کر دیتے ہیں۔ صاف کپڑے، چمکتے جوتے، خوشبو دار جسم اور سلیقے سے سنوارا ہوا حلیہ—یہ سب چند سو روپوں میں حاصل ہو سکتا ہے۔ بازار میں جا کر اچھا لباس، ٹوپی اور شوز خرید لینا مشکل نہیں، مگر سوال یہ ہے کہ اندر کی صفائی کون کرے گا؟
دل کے اندر جو دنیا آباد ہے، وہاں نہ کوئی جھاڑو چلتا ہے اور نہ ہی کوئی خوشبو کام آتی ہے۔ وہاں بغض، نفرت، حسد، کینہ اور انا کی ایسی گندگی جمع ہو جاتی ہے جو انسان کے کردار کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہے۔ ظاہری طور پر کتنا ہی باوقار کیوں نہ دکھائی دیں، اگر دل میلا ہو تو وہ میل آنکھوں سے نہیں مگر رویّوں سے ضرور نظر آ جاتا ہے۔
اندر کی صفائی آسان نہیں۔ اس کے لیے سچائی کا پانی چاہیے، معافی کا صابن، صبر کا جھاڑو اور عاجزی کی خوشبو۔ جب تک ہم اپنے دل کو دوسروں کے لیے صاف نہیں کریں گے، اپنی نیتوں کو درست نہیں کریں گے، اور اپنے رویّوں سے نفرت کی گرد نہیں جھاڑیں گے، تب تک ایمان کی خوشبو مکمل نہیں ہو سکتی۔
صفائی نصف ایمان اس لیے نہیں کہ اسلام صرف جسم کو پاک دیکھنا چاہتا ہے، بلکہ اس لیے کہ پاک دل، پاک نیت اور پاک سوچ کے بغیر عبادت بھی ادھوری رہتی ہے۔ وہ شخص زیادہ خوبصورت ہے جو دوسروں کے لیے دل میں خیر رکھتا ہے، جو حسد کے بجائے دعا کرتا ہے، اور نفرت کے بجائے محبت بانٹتا ہے۔
آئیے، آج یہ عہد کریں کہ ہم صرف لباس نہیں، دل بھی صاف کریں گے۔ کیونکہ اصل صفائی وہی ہے جو انسان کو انسان کے قریب کر دے، اور خدا کے قریب بھی۔
از قلم عطاء اللہ اتی
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Website
Address
Multan