Knowledge World
This page provides you Islamic information, Educational news, poetical,Facts, criticism, Quotes, and political stuffs
دولت نے کِتنی عورتوں کی غلط جگہ شادیاں کروا دیں اور حُسن نے کئ مردوں کی غلط جگہ شادیاں کروا کے ذہنی سُکون ہی چِھین لیا۔
بہت سی جان لیوا بیماریوں کا ہمیں پتہ تب چلتا ہے جب وہ ہمارے جسم میں اندر ہی اندر پھیل چکی ہوتی ہیں کیا کوئی ایسے ٹیسٹ ہوتے ہیں جن کو وقتاً فوقتاً کرواتے رہیں تاکہ کسی بھی بیماری کو اس کی ابتدا میں ہی پکڑا جا سکے
اپنی صحت کی جانچ کے لیے سالانہ کون کون سے ٹیسٹ کروانے چاہئیں؟
( Routine / Basic Lab test )
1۔ CBC. (کمپلیٹ بلڈ کاونٹ)۔ یہ ٹیسٹ بہت ہی اہم ہوتا ہے یہ خون میں موجود مختلف خلیات یعنی ریڈ بلڈ سیلز، وائٹ بلڈ سیلز اور وائٹ بلڈ سیلز کی تمام اقسام اور پلیٹ لیٹس کی تعداد اور خون میں موجود ہیموگلوبن کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر خون میں ہیموگلوبن کی کمی مطلب اینمیا کا شکار ہیں (جسے عرف عام میں خون کی کمی کہا جاتا ہے،ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں ہر دوسری عورت اور چھوٹے بچوں کو خون کی کمی کا امکان ہوتا ہے ، خون کی کمی زیادہ تر عورتوں، بچوں اور بوڑھوں کو ہوتی ہے۔) یا جسم میں کوئی انفیکشنز چاہیے بیکٹیریئل ہو یا وائرل یا الرجک پروسیس چل رہا ہے تو اس ٹیسٹ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔
2۔ LFTs (لیور فنکشن ٹیسٹ)۔
یہ جگر کا ٹیسٹ ہے۔ جس میں جگر کے نارمل کام کرنے کی صلاحیت کو چیک کرنے کے لیے خون میں بلی ریوبن اور کچھ اینزائمز کو جانچا جاتا ہے۔ بلی ریوبن ایک مادہ ہے جو کہ ہمارے خون کے سرخ خلیات کی توڑ پھوڑ سے بنتا ہے اور جگر اس کو جسم سے صاف کرنے کے لیے دیگر کچھ مادوں کے ساتھ جوڑتا ہے اور پھر یہ جسم سے خارج ہو جاتا ہے۔ اگر جگر کے نارمل فنکشن میں کوئی خرابی ہو تو بلی ریوبن کی مقدار خون میں ایک مخصوص ویلیو سے بڑھ جاتی ہے۔
مزید LFT کے ساتھ Hepatitis B and C کے سکریننگ ٹیسٹ بھی کروا لینے چاہئیں، کیونکہ یہ دونوں انفیکشنز پاکستان میں بہت عام ہیں ، جو جگر کو ناکارہ بنانے کی سب سے عام وجہ ہے ، اور ان انفیکشنز سے 2 سے 4 پرسنٹ لوگوں کو تو جگر کے کینسر کا امکان ہوتا ہے۔
3۔ RFT's and Uric Acid (رینل فنکشن ٹیسٹ)۔
یہ گردوں کی جانچ کا ٹیسٹ ہے۔ اس میں خون میں موجود یوریا اور کریٹینن کو جانچا جاتا ہےاور اگر انکی مقدار ایک مخصوص حد سے زیادہ ہو تو یہ گردوں کی خرابی کو ظاہر کرتا ہے, اور مزید اجکل Uric acid کا مسلئہ بھی بہت عام ہے، جس کے زیادہ ہونے سے گھنٹیا، جوڑوں میں درد میں خصوصاً پائوں کے انگوٹھے میں اسکا مسلئہ زیادہ ہوتا ہے۔
4۔ Lipid profile Test.
یہ جسم میں موجود مختلف طرح کے لپڈز کی جانچ کرتا ہے یعنی کولیسٹرول ، ہائی ڈینسٹی لائیپو پروٹینز اور لو ڈینسٹی لائیپو پروٹینز۔ جن افراد کی فیملی ہسٹری میں دل کے امراض ہوں ان کو (خاص طور پر مرد حضرات کو) یہ ٹیسٹ سال میں ایک بار ضرور کروانا چاہیے۔ لپڈز لیول میں اگر تھوڑی بہت گڑ بڑ ہو تو آپ ابتدائی لیول پر اس کی جانچ کر کے اپنی خوراک میں تبدیلی اور ورزش کو روٹین کا حصہ بنا کر دل کے خطرناک امراض سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔ مردوں میں دل کے امراض کا تناسب زیادہ ہے۔ لہذا سب مرد حضرات کو بیس سال کی عمر کے بعد یہ ٹیسٹ ضرور کروانا چاہیے اور جن کے ماں باپ میں سے کسی کو دل کا مرض ہے تو وہ سالانہ یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں۔
5۔ R.BSL ( بلڈ شوگر لیول )۔
یہ ٹیسٹ خون میں موجود گلوکوز کی مقدار بتاتا ہے۔ اگر آپ کی فیملی ہسٹری میں ڈایا بٹیز (شوگر) کی بیماری ہے تو سالانہ اپنا یہ ٹیسٹ ضرور کروائیں,
۔RBSL کے ساتھ ساتھ Hba1c بھی ٹیسٹ کروا لینا چاہیے، خصوصاً جس کی فیملی میں کسی کو شوگر کا مسلئہ ہو، یا جس کو شوگر کی علامتیں یوں ، یہ ٹیسٹ 3 سے 4 مہینے کی ایوریج شوگر کا لیول بتاتا ہے۔ اور شوگر کی تشخیص کے لیے سب سے اچھا ٹیسٹ بھی یہی مانا جاتا ہے۔
6۔ Stool test .
ترقی یافتہ ممالک میں ہر چھ ماہ بعد سکریننگ ٹیسٹ میں یہ بھی کیا جاتا ہے۔ کولون اور ریکٹم کے مختلف امراض خصوصا کینسر کو جلدی پکڑنے کے لیے یہ ٹیسٹ بنیادی اہمیت کا حامل ہے۔ اس ٹیسٹ میں سٹول سیمپل کی مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں خون ، پس یا کوئی اور ایبنارمل مادہ تو موجود نہیں ہے۔
7۔ Urine complete examinatiom۔
اس ٹیسٹ میں یورین کی مکمل مائیکروسکوپک جانچ کی جاتی ہے کہ اس میں بیکٹریا ، خون ، پس یا کرسٹلز وغیرہ تو موجود نہیں۔۔یہ ٹیسٹ پیشاب کی نالی اور مسانے کی بیماریوں کی جانچ کے لیے ضروری ہوتا ہے۔
نوٹ:اس پوسٹ کا مقصد لوگوں کا آگاہ کرنا ہے کہ لیب ٹیسٹ ضروری ہوتے ہیں،بیماریوں کی تشخیص کےلئے، اگر آپکا ڈاکٹر کچھ لیب ٹیسٹ تجویز کرتا ہے تو پھر ضرور لیب ٹیسٹ کروانے چاہیے۔ شکل یا نبض دیکھ کر ہر بیماری کی تشخیص نہیں کی جا سکتی، شکریہ
باقی یہ 7 ٹیسٹ آپ اپنی مرضی سے سال میں ایک یا دو بار کروا سکتے ہیں، لیکن بہتر ہے پہلے کسی ڈاکٹر سے مشورہ کر کے اس کے مطابق ٹیسٹ کروانے چاہیے ۔ ان 7 ٹیسٹ کی قیمت تقریباً 4 سے 8 ہزار تک ہو سکتی ہے۔کیونکہ ہر لیب کی قیمت مختلف ہوتی ہے۔
میں ان میں تھا جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کو جوابی دھماکے نہیں کرنا چاہییں
امریکا کے صدر کلنٹن نواز کو کی بار فون کر چکا تھا اسکو پانچ ارب ڈالر کی پیشکش سرکاری طور پر کر چکا تھا میرا خیال تھا کہ یہ پیشکش قبول کی جائے اور ملک کی معیشت کو بہتر بنایا جائے ، دنیا کو پتا ہے کہ ہمارے پاس ہے تو دھماکے کرنے کا فائیدہ۔۔؟
لیکن ٢٨ مئی ۱۹۹۸ کو گھر پر ہی ڈش پر انڈین چینل دیکھ رہا تھا ، لوک سبھا کا اجلاس دکھا رہے تھے اڈوانی جی اور واجپائی جنکی حکومت تھی، بڑھ بڑھ کے تقریریں کر رہے تھے کہ پاکستان کو جب چاہیں گے ملیا میٹ کر دیں گے وغیرہ وغیرہ...بہت سخت ٹینشن شروع ہو گی، غصہ آ رہا تھا کہ اگر تم نے دھماکے کر بھی دیے ہیں تو پاکستان کو تاؤ کیوں دلا رہے ہو..
پرناب مکرجی اسوقت اپوزیشن میں تھے اور کسی حادثے کی وجہ سے بیساکھی پر تھے، وہ اٹھ کے باہر گئے اور دس منٹ میں واپس آے ، سپیکر سے فلور مانگا اور بتایا کہ ابھی بی بی سی سن کے آ رہا ہوں پاکستان نے چھ ایٹمی دھماکے کر دیے ہیں...
ھال میں ایک دم سناٹا چھا گیا -
واجپائی جی اَور اڈونی جی فورا" باہر گئے کچھ دیر میں واپس آے اور اپنی تقریروں میں پاکستان کے ساتھ امن سے رہنے کی پیشکش کر دی،
میری بیوی بھی میرے ساتھ ہنسنے لگی کہ چند منٹوں میں یہ کایا ہی پلٹ ہو گی ..
فرط جذبات میں پاکستان زندہ باد. اور نواز شریف زندہ باد کے نعرے لگا دیے..
Soulat Pasha
17/05/2025
باراک اوباما کی زندگی کی کہانی
ایک سیاہ فام لڑکا جس نے غربت، تنہائی اور نسلی تعصب کا سامنا کیا، آخر کیسے دنیا کی سب سے طاقتور کرسی پر بیٹھا؟ یہ ہے باراک اوباما کی حیرت انگیز اور حوصلہ افزا کہانی۔"
**پورا نام:** باراک حسین اوباما
**پیدائش:** 4 اگست 1961
**جائے پیدائش:** ہونولولو، ہوائی، امریکہ
**قومیت:** امریکی
**مذہب:** عیسائی
**پیشہ:** سیاستدان، وکیل، مصنف
**اہم عہدہ:** امریکہ کے 44ویں صدر
**سیاسی جماعت:** ڈیموکریٹک پارٹی
**بیوی:** مشیل اوباما
**بچے:** دو بیٹیاں (مالیا اور ساشا)
---
# # # **ابتدائی زندگی:**
باراک اوباما کے والد کا تعلق کینیا (افریقہ) سے تھا اور ان کی ماں امریکہ سے تھیں۔ جب وہ چھوٹے تھے تو ان کے والدین میں طلاق ہو گئی۔ اوباما کی پرورش زیادہ تر ان کی ماں اور نانا نانی نے کی۔ انہوں نے کچھ وقت انڈونیشیا میں بھی گزارا۔
---
# # # **تعلیم:**
باراک اوباما نے اچھی یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کی۔ پہلے انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے گریجویشن کیا، پھر ہارورڈ یونیورسٹی سے قانون کی تعلیم لی۔ وہاں وہ ایک بڑے رسالے کے پہلے سیاہ فام صدر بھی بنے۔
---
# # # **سیاست کا آغاز:**
اوباما نے سب سے پہلے 1997 میں الینوائے ریاست میں سیاست شروع کی۔ 2005 میں وہ امریکی سینیٹ کے رکن بنے۔ پھر 2008 میں وہ امریکہ کے صدر منتخب ہوئے۔ وہ امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر تھے۔
---
# # # **صدر کے طور پر کام:**
* صحت کے سستے علاج کا نظام (جسے "اوباماکیئر" کہا جاتا ہے) شروع کیا
* ملک کی معیشت کو سنبھالا
* ایران سے نیوکلیئر معاہدہ کیا
* کیوبا سے تعلقات بہتر بنائے
* 2011 میں القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کو ختم کیا
* ماحولیات کے تحفظ کے لیے کام کیا
---
# # # **اعزازات:**
2009 میں باراک اوباما کو نوبیل امن انعام ملا، کیونکہ انہوں نے دنیا میں امن قائم کرنے کی کوششیں کیں۔
---
# # # **کتابیں:**
اوباما نے اپنی زندگی اور خیالات پر کتابیں لکھی ہیں، جن میں:
* **"میرے والد کے خواب"** (Dreams from My Father)
* **"امید کی جرأت"** (The Audacity of Hope)
* **"ایک وعدوں بھری سرزمین"** (A Promised Land)
---
# # # **صدر بننے کے بعد:**
صدر بننے کے بعد اوباما نے ایک فاؤنڈیشن قائم کی جو نوجوانوں کی تعلیم اور تربیت پر کام کرتی ہے۔ وہ اور ان کی بیوی مشیل اوباما اب کتابیں لکھتے ہیں اور فلمیں بھی بناتے ہیں۔
یقیناً! یہاں باراک اوباما کی کہانی سے متعلق چند مؤثر اور موضوع سے جڑے **اردو و انگریزی ہیش ٹیگز** دیے جا رہے ہیں جو آپ سوشل میڈیا یا بلاگ پوسٹ کے ساتھ استعمال کر سکتی ہیں:
\ #باراک\_اوباما
\ #حوصلہ\_افزا\_کہانی
\ #سبق\_آموز\_زندگی
\ #امریکی\_صدر
\ #کامیابی\_کی\_کہانی
\ #سیاہ\_فام\_صدر
\ #محنت\_کامیابی\_راستہ
\ #تاریخی\_شخصیات
\
\
\
\
\
\
\
\
گرمی کی شدت میں اگر کوئی آپ سے برف مانگے تو انکار نہ کریں
وہ برف اُس کے لیے سکون ہے ، اور تمہارے لیے عمدہ نیکی ہے۔۔۔۔
Assalam o alaikum members....
We're back
17/05/2025
17/05/2025
کینسر کیا ہے؟
کینسر ایک ایسی بیماری ہے جس میں جسم کے خلیے (Cells) غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتے ہیں، اور یہ خلیے ارد گرد کے صحت مند خلیات کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ یہ خلیے اکثر گلٹی یا رسولی (Tumor) کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، اور بعض اوقات جسم کے دوسرے حصوں تک پھیل جاتے ہیں (جسے میٹاسٹاسس کہتے ہیں)۔
کینسر کی اقسام:
کینسر جسم کے کسی بھی حصے میں ہو سکتا ہے، جیسے:
چھاتی کا کینسر
پھیپھڑوں کا کینسر
خون کا کینسر (لیوکیمیا)
آنتوں کا کینسر
جگر، گردے، دماغ، وغیرہ کا کینسر
کینسر کی اسٹیج (Stage) کیا ہوتی ہے؟
کینسر کی اسٹیج یہ بتاتی ہے کہ کینسر کتنا پھیل چکا ہے۔ اس کی بنیاد کئی پیرامیٹرز پر رکھی جاتی ہے:
1. ٹی این ایم سسٹم (TNM System):
T (Tumor):
اصل رسولی کی جسامت اور پھیلاؤ
(مثال: T1 چھوٹا، T4 بڑا اور آس پاس کے ٹشوز میں پھیلا ہوا)
N (Nodes):
کینسر گردن یا جسم کے دوسرے حصوں کے قریبی لمف نوڈز میں پھیلا ہے یا نہیں
(مثال: N0 = نہیں پھیلا، N3 = بہت زیادہ پھیل چکا)
M (Metastasis):
کینسر جسم کے دور دراز حصوں تک پھیلا ہے یا نہیں
(M0 = نہیں، M1 = ہاں)
کینسر کی اسٹیجز:
ان پیرامیٹرز کی مدد سے کینسر کی درج ذیل اسٹیج طے کی جاتی ہے:
اسٹیج 0:
ابتدائی مرحلہ، صرف ایک جگہ موجود ہے۔
اسٹیج 1:
چھوٹا ٹیومر ہے، ابھی زیادہ نہیں پھیلا۔
اسٹیج 2 اور 3:
ٹیومر بڑا ہو گیا ہے، قریبی لمف نوڈز میں پھیل چکا ہے۔
اسٹیج 4:
آخری مرحلہ، کینسر دوسرے جسمانی حصوں میں پھیل چکا ہے۔
موجودہ دور کی 10 بڑی ایجادات
تاریخ کے ہر دور میں نئی ایجادات نے انسانی زندگی کو یکسر تبدیل کیا ہے۔ موجودہ دور میں، ٹیکنالوجی اور سائنسی ترقی کی بدولت کئی انقلابی ایجادات سامنے آئی ہیں جنہوں نے ہماری روزمرہ کی زندگی کو آسان اور مؤثر بنا دیا ہے۔ ذیل میں حالیہ دہائیوں میں دنیا میں ہونے والی دس بڑی ایجادات مندرجہ ڈیل ھے۔
1. مصنوعی ذہانت (Artificial Intelligence - AI)
مصنوعی ذہانت آج کے دور کی سب سے بڑی ایجاد سمجھی جا رہی ہے۔ AI نے مختلف شعبوں جیسے صحت، تعلیم، کاروبار، اور حتیٰ کہ فنون لطیفہ میں بھی انقلاب برپا کر دیا ہے۔ یہ ٹیکنالوجی انسانی ذہانت کی نقل کرتی ہے اور سمارٹ الگورتھمز کے ذریعے فیصلہ سازی میں مدد دیتی ہے۔ چیٹ بوٹس، خودکار گاڑیاں، اور تصویری پہچان کے نظام مصنوعی ذہانت کے نمایاں استعمالات میں شامل ہیں۔ AI کی بدولت کمپیوٹرز بڑے ڈیٹا سیٹس کا تجزیہ کر کے درست پیش گوئیاں کرنے کے قابل ہو چکے ہیں۔
2. کوانٹم کمپیوٹنگ (Quantum Computing)
روایتی کمپیوٹرز کی نسبت ہزاروں گنا زیادہ رفتار پر پیچیدہ مسائل حل کرنے کے لیے کوانٹم کمپیوٹنگ ایک زبردست پیش رفت ہے۔ کوانٹم کمپیوٹرز "کوبٹس" (qubits) پر کام کرتے ہیں جو بیک وقت متعدد حسابی عمل انجام دے سکتے ہیں۔ گوگل اور آئی بی ایم جیسے ادارے کوانٹم کمپیوٹرز کو مزید بہتر بنانے پر کام کر رہے ہیں تاکہ سائبر سیکیورٹی، میڈیکل ریسرچ، اور دیگر سائنسی تحقیق میں انقلاب لایا جا سکے۔
3. خودکار گاڑیاں (Autonomous Vehicles)
خودکار گاڑیاں ایک ایسی ایجاد ہیں جو مستقبل میں انسانی ڈرائیونگ کی ضرورت کو کم کر سکتی ہیں۔ ٹیسلا، گوگل، اور دیگر بڑی کمپنیاں ایسی گاڑیاں بنا رہی ہیں جو AI، سینسرز، اور پیچیدہ الگورتھمز کے ذریعے بغیر ڈرائیور کے چل سکتی ہیں۔ یہ نہ صرف ٹریفک حادثات کو کم کر سکتی ہیں بلکہ سفر کو مزید آرام دہ اور محفوظ بھی بنا سکتی ہیں۔
4. کرِسپر جین ایڈیٹنگ (CRISPR Gene Editing)
بایوٹیکنالوجی میں CRISPR-Cas9 جین ایڈیٹنگ سسٹم ایک انقلابی ایجاد ہے جو جینیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ اس ٹیکنالوجی کی مدد سے سائنسدان ڈی این اے میں ترمیم کر سکتے ہیں اور موروثی بیماریوں جیسے تھیلیسیمیا اور سِکل سیل انیمیا کا علاج ممکن بنا سکتے ہیں۔ مستقبل میں یہ طریقہ سرطان اور دیگر لاعلاج بیماریوں کے لیے بھی امید کی کرن ثابت ہو سکتا ہے۔
5. 5G انٹرنیٹ ٹیکنالوجی
5G نیٹ ورک جدید دنیا کی تیز ترین انٹرنیٹ ٹیکنالوجی ہے جو وائرلیس کنیکٹیویٹی کو پہلے سے کئی گنا زیادہ رفتار دیتی ہے۔ اس کی بدولت خودکار مشینیں، سمارٹ شہروں، اور انٹرنیٹ آف تھنگز (IoT) جیسی ایجادات کو مزید مؤثر بنایا جا رہا ہے۔ اس کی آمد سے ویڈیو سٹریمنگ، آن لائن گیمنگ، اور ریموٹ ورکنگ میں بے پناہ سہولت پیدا ہوئی ہے۔
6. بایو پرنٹنگ (Bioprinting)
تھری ڈی بایو پرنٹنگ ایک حیران کن ایجاد ہے جس کی مدد سے جاندار بافتیں (Tissues) اور حتیٰ کہ انسانی اعضا بھی تخلیق کیے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکنالوجی مستقبل میں اعضاء کی پیوند کاری میں انقلاب لا سکتی ہے اور ان مریضوں کے لیے امید کی کرن بن سکتی ہے جو نئے اعضا کے منتظر ہوتے ہیں۔ اس ایجاد کی مدد سے جلد، جگر اور دل جیسی انسانی بافتیں مصنوعی طور پر بنائی جا سکتی ہیں۔
7. سولر توانائی میں ترقی (Advancements in Solar Energy)
دنیا میں توانائی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے سولر ٹیکنالوجی میں بے حد ترقی ہوئی ہے۔ حالیہ برسوں میں سولر پینلز کی قیمت میں کمی آئی ہے جبکہ ان کی کارکردگی میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ سمارٹ سولر گرڈز اور بیٹری اسٹوریج سسٹمز نے سولر انرجی کو مزید مؤثر اور ماحول دوست بنا دیا ہے۔ شمسی توانائی مستقبل میں توانائی کا سب سے بڑا ذریعہ بننے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
8. میٹاورس (Metaverse)
میٹاورس ایک ورچوئل دنیا ہے جہاں لوگ ڈیجیٹل اوتارز کے ذریعے باہمی روابط قائم کر سکتے ہیں۔ فیس بک (Meta) اور دیگر کمپنیاں اس ٹیکنالوجی پر کام کر رہی ہیں تاکہ ورچوئل رئیلٹی (VR) اور اگمنٹڈ رئیلٹی (AR) کے ذریعے لوگوں کو ایک نئے ڈیجیٹل ماحول میں لے جایا جا سکے۔ میٹاورس کے ذریعے تعلیم، کام، اور تفریح کے نئے مواقع پیدا کیے جا رہے ہیں۔
9. ہائپروپسل اسپیس ٹیکنالوجی (Hypersonic Propulsion Space Technology)
ہائپرسونک پروپلشن ٹیکنالوجی نے اسپیس ایکسپلوریشن میں ایک نئی جہت متعارف کرائی ہے۔ اسپیس ایکس، ناسا اور دیگر خلائی ادارے ایسی راکٹ ٹیکنالوجی پر کام کر رہے ہیں جو خلا میں تیزی سے سفر کر سکے۔ اس ایجاد کے ذریعے مستقبل میں مریخ اور دیگر سیاروں پر پہنچنا آسان ہو سکتا ہے اور انسانوں کے لیے بین السیاراتی سفر ممکن بن سکتا ہے۔
10. روبوٹکس اور انسانی مشین انٹرفیس (Robotics and Human-Machine Interface)
روبوٹکس اور انسانی مشین انٹرفیس (HMI) کی ترقی نے انسانی زندگی کے کئی پہلوؤں کو بدل کر رکھ دیا ہے۔ جدید روبوٹس نہ صرف کارخانوں میں بلکہ گھریلو کاموں میں بھی استعمال ہو رہے ہیں۔ اس کے علاوہ، دماغی سگنلز کے ذریعے روبوٹ کنٹرول کرنے کی ٹیکنالوجی بھی ترقی کر رہی ہے، جس کی مدد سے معذور افراد مصنوعی اعضا کو باآسانی چلا سکتے ہیں۔
Conclusion
یہ تمام ایجادات انسانی ترقی کے نئے افق کھول رہی ہیں اور مستقبل کی دنیا کو زیادہ مؤثر، محفوظ اور سہولت بخش بنا رہی ہیں۔ مصنوعی ذہانت، کوانٹم کمپیوٹنگ، اور خودکار ٹیکنالوجیز جیسے جدید اختراعات دنیا کو ایک ایسے مقام پر لے جا رہی ہیں جہاں زندگی کے ہر پہلو میں جدت اور ترقی کا عنصر شامل ہو گا۔ یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ آنے والے سالوں میں یہ ایجادات دنیا کو ایک بالکل نئی سمت میں لے جائیں گی۔
01/03/2025
28/02/2025
کیا انسانوں کی کلوننگ ممکن ہو چکی ہے؟
سائنس کی دنیا میں کلوننگ ایک دلچسپ اور متنازع موضوع رہا ہے۔ 2018 میں چینی سائنسدانوں نے پہلی بار دو مکاک بندروں، ژونگ ژونگ اور ہوا ہوا، کو کامیابی سے کلون کر کے یہ ثابت کر دیا کہ اب تکنیکی طور پر انسانوں کی کلوننگ بھی ممکن ہو سکتی ہے۔
یہ کامیابی "سومیٹک سیل نیوکلیئر ٹرانسفر" (SCNT) تکنیک کے ذریعے حاصل کی گئی، وہی طریقہ جس سے 1996 میں "ڈولی" نامی بھیڑ کو کلون کیا گیا تھا۔ اس عمل میں ایک انڈے کے خلیے سے اس کا نیوکلیئس نکال کر کسی دوسرے جسمانی خلیے (جیسے جلد کے خلیے) کے نیوکلیئس سے بدل دیا جاتا ہے، اور پھر اس انڈے کو نشوونما کے لیے متحرک کر کے ایک متبادل ماں کے رحم میں منتقل کیا جاتا ہے۔
کیا انسانوں کی کلوننگ واقعی ممکن ہے؟
سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اب کوئی سائنسی رکاوٹ باقی نہیں رہی جو انسانوں کی کلوننگ کو ناممکن بنائے۔ تاہم، یہ معاملہ صرف سائنس تک محدود نہیں بلکہ اس کے سنگین اخلاقی اور سماجی پہلو بھی ہیں۔
اخلاقی اور سماجی چیلنجز
انسانی وقار کا مسئلہ: کیا ایک کلون شدہ فرد کو وہی حقوق حاصل ہوں گے جو باقی انسانوں کو ہیں؟
شناخت کا بحران: کلون شدہ شخص اپنی انفرادیت کیسے محسوس کرے گا؟ کیا اسے صرف ایک "نقل" سمجھا جائے گا؟
خاندانی اور معاشرتی پیچیدگیاں: کیا کلون شدہ افراد کو قانونی اور خاندانی نظام میں وہی حیثیت ملے گی جو عام انسانوں کو حاصل ہوتی ہے؟
کیا انسانوں کی کلوننگ ہونی چاہیے؟
یہ سوال ابھی تک عالمی سطح پر شدید بحث کا باعث بنا ہوا ہے۔ کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر کلوننگ کو میڈیکل مقاصد (جیسے اعضاء کی افزائش) تک محدود رکھا جائے تو یہ فائدہ مند ہو سکتی ہے، لیکن پورے انسان کی کلوننگ اخلاقی طور پر ایک خطرناک قدم ہو سکتا ہے۔
آپ کا اس بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا سائنس کو انسانوں کی کلوننگ کی اجازت ہونی چاہیے یا نہیں؟ اپنی رائے کمنٹس میں شیئر کریں!
فالو جینیئس شاہ رخ
تقریباً 5 ماہ پہلے میرے چچا پیٹ میں ایک معمولی زخم کی وجہ سے ڈاکٹر کے پاس گئے۔ ڈاکٹر کو کچھ شک ہوا اور کوئ خاص ٹسٹ تجویز کیا کچھ دن بعد ٹسٹ کا نتیجہ آیا تو گھر میں سب کے اوسان خطا ہو گئے۔ جی ہاں چچا جان کو کینسر جیسے موذی مرض لاحق ہو گیا تھا وہ بھی تیسرے درجے کا۔ بہرحال علاج کیلئے ہم شوکت خانم پشاور گئے، ٹسٹ کا رزلٹ دیکھ کر وہاں کے ڈاکٹروں نے علاج سے معذرت کر لی۔ وجہ یہ بتائی گئی کہ ہماری پالیسی ہے کہ کینسر کے اس سٹیج میں ہم 40 سال سے کم عمر مریض کو داخلہ دیتے ہیں وگرنہ نہیں۔ ہم بھی کچھ کہے بنا وہاں سے نکل آئے کیونکہ چچا جان کی عمر ساٹھ کی دہائی کراس کر چکی تھی اور خیر سے لائف ٹائم شناختی کارڈ بھی بنا چکے ہیں۔ خیر گھر پر تو نہیں بیٹھ سکتے تھے کچھ نہ کچھ تو کرنا ہی تھا۔پشاور میں کینسر کے سرکاری ہسپتال ارنم سے علاج شروع ہوا۔ اس دن یہ عقدہ بھی کھلا کہ گورنمنٹ واقعی ماں کے مانند ہوتی ہے بچہ کتنا ہی بگڑ جائے ماں قبول ہی کرتی ہے یہاں بھی مریض اور مرض کتنا ہی بگڑ جائے نہ نہیں ہوتی ۔ سو ہمیں بھی داخلہ مل گیا مگر مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی۔
اب سنیں کام کی بات جب علاج کا کچھ اثر نہ ہوا تو کچھ مہربان دوستوں نے دور پہاڑوں میں مقیم ایک حکیم کا بتایا جو کینسر کے مرض میں بے حد مشہور ہے پر جگہ تھی کافی دور۔ مہینہ رمضان کا چل رہا تھا ایک دن سحری کے فورا بعد اللہ کا نام لیکر ایک دوست کو ساتھ بٹھایا اور موٹر سائیکل پر کک ماری اور جب 11 بج رہے تھے تو ہم مردان سے چل کر شانگلہ مارتونگ میں واقع حکیم صاحب کے مطب میں پہنچ گئے۔ وہاں یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ہم کہ کتنے دور دور سے لوگ یہاں آئے ہیں علاج کیلئے اور اکثر نے تو رات بھی یہاں گذاری تھی کیونکہ مریضوں کے لئے دو بہترین قسم کے ہوٹل بھی اہل علاقہ نے بنائے ہیں جن میں انتہائ مناسب ریٹ پر مریضوں کو کمرے دستیاب ہوتے ہیں بہرحال ہم اپنی باری پر حکیم صاحب کے پاس گئے اور انکو مریض کے بارے میں بتایا انہوں نے ایک چھوٹی سی پڑی (الکہ پہ اردو کے ہم ورتہ پوڑے وئ کنہ ھاھا) پکڑائ اور کہا یہ سات دن کی دوائ ہے پرہیز کے ساتھ مریض کو دوائ دینی ہے اور سات دن کے بعد اگر آپ نے یا مریض نے کچھ بہتری محسوس کی تو دوبارہ آکر مزید چالیس دن کی دوا لیتے جائیے بصورت دیگر دوبارہ آنے کی ضرورت نہیں ہم نے دریافت کیا کہ بہتری سے مطلب؟ فرمانے لگے یا تو ٹسٹ سے فرق آیا ہو گا اور یا مریض کی تکلیف وغیرہ میں کمی آئی ہو گی۔ ٹھیک ہے جی کہ کر ہم نے جیب کی طرف ہاتھ بڑھایا تو انہوں نے منع کیا اور فرمایا ہمارا اصول ہے پہلی بار پیسے نہیں لیتے اگر آپ کے مریض کو فائدہ ہو تو آکر پوری دوائی قیمت کے ساتھ لے جاؤ نہیں تو یہ ہماری طرف سے ہدیہ۔۔ قصہ مختصر رات وہاں مقامی ساتھیوں کے ساتھ گذار کر صبح ہم واپس آئے اور چچا جان کو دوا شروع کرائی چوتھے دن ہی چچا جان نے واضح فرق محسوس کیا جسکا مطلب تھا کہ اب ہمیں پھر حکیم صاحب کے پاس پہنچنا پڑے گا یعنی وہ شاعر والی بات ہمیں بھی پیش آئی جس میں وہ بے چارہ ایک دریا عبور کرنے کے بعد دوسرے دریا میں پھر گر جاتا ہے بہرحال ایک بار پھر ہم مارتونگ پہنچ گئے (یہ ہے تو شانگلہ میں لیکن آپ اگر مردان والی سائد سے آرہے ہیں تو پھر بونیر کا راستہ آسان رہے گا ) اور بقایا چالیس دنوں کی دوا لیکر صرف چار ہزار فیس حکیم صاحب کو پکڑائی اور چلتے بنے اب صورتحال یہ ہے کہ تین دن پہلے چچا جان کا ڈاکٹر نے دوبارہ ٹسٹ کرایا اور نتیجہ بالکل صاف۔ جی ہاں کینسر کا نام و نشان نہیں۔ زندگی موت اللہ کے ہاتھ میں ہے موت کا وقت اٹل ہے آگے پیچھے نہیں ہو سکتا لیکن میری آپ سے درخواست ہے کہ اگر آپ کے جاننے والوں میں سے خدا ناخواستہ کوئی اس موذی مرض میں مبتلا ہو تو اسے ضرور اس حکیم کا مشورہ دے دیں۔ کیا پتہ آپ کی وجہ سے کسی کے چند دن آرام سے گذر جائیں۔ --
-------Address ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
03463722885 یہ نمبر حکیم صاحب کے بھائ کے پاس ہوتا ہے۔ ایڈریس تو انتہائی آسان ہے ضلع شانگلہ میں مارتونگ نام کا علاقہ ہے بس آپ کسی سے بھی پوچھ لیں کہ مارتونگ والے حکیم کے پاس جانا ہے بس آپ پہنچ جائیں گے وہ انتھائ مشہور ہیں۔
دو راستے جاتے ہیں مارتونگ کی طرف ایک سوات کی طرف سے اور دوسرا مردان کی طرف سے آسان راستہ مردان والا ہے۔ آپ مردان سے بونیر براستہ رستم چلے جائیں اور بونیر پہنچ کر کسی سے بھی مارتونگ کے راستے کا پوچھ لینا پہنچ ہی جائیں گے بغیر کسی دشواری کے۔ مردان سے پانچ یا ساڑھے پانچ گھنٹے لگ جاتے ہیں اور ہاں مریض کو ساتھ لے جانے کی ضرورت نہیں ہے۔۔۔
صدقہ جاریہ سمجھ کر زیادہ سے زیادہ شیئر کریں
شکریہ
Copied....
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Multan, Punjab
Multan
59300