Multan Real Estate

Multan Real Estate

Share

it's best time to invest in DHA multan. we deal in DHA Multan. 5 Marla, 8 Marla, 10 Marla. 1 Kanal, 2 Kanal, plots available.

10/03/2024

آپ لوگوں کے علم میں ہو گا کہ برصغیر جسے ہندوستان بھی کہا جاتا تھا، میں بسنے والے اکثریت ہندو دھرم کے ماننے والے ماس (گوشت) نہیں کھاتے۔ اگر ہم ہندو دھرم کی کتابوں کا مطالعہ کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ ہندو دھرم کی کتابوں میں کہیں بھی ماس کھانے کی ممانعت نہیں ہے۔ اب سوچنے کی بات یہ تھی ممانعت نہ ہونے کے باوجود ہندو ماس کیوں نہیں کھاتے۔ تھوڑی سی کوشش اور تحقیق کے بعد میں جس نتیجے پر پہنچا ہوں، وہ میں آپ کے ساتھ شیئر کرنے جا رہا ہوں۔
مسلمانوں نے جب ہندوستان میں بسنا شروع کیا تو انہوں نے دیکھا کہ ہندو دھرم کے لوگ گوشت تو کھاتے ہیں مگر جھٹکا کر کے کھاتے ہیں۔ مطلب یہ کہ جانور تو حلال ہے مگر اس کو زبح کرنے کا طریقہ حرام ہے، نہ صرف حرام بلکہ ظلم پر مبنی ہے۔ جیسا کہ آج بھی بھارت اور چین میں جانورں کو کھانے کے لیے بڑے ظالمانہ طریقے سے مارا جاتا ہے، بلکہ اکژ تو زندہ ہی کھاتے ہیں جو کہ اسلام میں تو کسی بھی طریقے سے جائز نہیں ہے۔ یہی وجہ تھی کہ جب اسلام کے ماننے والوں نے دیکھا ، ہندو دھرم کے ماننے والے لوگ جانورں کے ساتھ ظلم کرتے ہیں تو مسلمانوں نے دور اندیشی سے کام لینے کا سوچا۔
مسلمانوں نے سوچا ، اگر ہندوں کو جحٹکا کرنے سے روکا جائے، تو اُن کو لگے گا ہم پر مسلمانوں نے ظلم کیا ہے، کہ ہمیں ماس نہیں کھانے دیا جا رہا، اس کے علاوہ بغاوت کا خطرہ بھی بہرحال موجود تھا جو کہ اس وقت مسلمان یہ خطرہ مول نہیں لے سکتے تھے، جو بھی تھا مگرمسلم حکمران ، ہندوں کو مذہبی بنیادوں پر نارض نہیں کر سکتے تھے۔ اسی بات کو مدنظر رکھتے ہوئے اُس وقت کے ذہین مسلم دماغ اکھٹے ہوئے اور ایک پلان تیار کیا گیا جو کہ سالوں پر محیط تھا۔
سب سے پہلے تو ہندوں کو یہ سوچنے پر مجبور کیا گیا ، کہ مسلمان اگر ماس کھاتا ہے تو ہم ماس نہیں کھائیں گے، اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ رکھنے کے لیے ، مسلمان ماس کھاتا ہے، تو کیسے ممکن ہے کہ ہم ہندو بھی مسلمانوں کی طرح ماس کھائیں۔
ہندو دھرم میں ہر چیز کو بھگوان مان لیا جاتا تھا، تو دوسرا پلان یہ کیا گیا کہ کسی طرح ہندو گوشت پیدا کرنے والے جانورں کو بھی بھگوان مان لیں۔ ایسا کرنے کی وجہ سادہ سی تھی ، کہ اگر ہندو ایسے کسی جانور کو بھگوان مان لیتے ہیں تو پھر اُس کا گوشت بھی نہیں کھائیں گے، اور اپنے آپ کو مسلمانوں سے الگ بھی سمجھیں گے۔ یہ پلان بھی کام کر گیا اور ہندوں نے اپنی کم علمی کی وجہ سے یا پھر مسلمانوں سے اپنے آپ کو الگ رکھنے کی وجہ سے گائے کو اپنی ماں کا درجہ دے دیا۔ ( انتہا تو یہ ہے کہ آج کے ترقی یافتہ دور میں بھی ہندو گائے کو اپنی ماتا ، اور بیل کو اپنا باپ کہتے ہیں)
اس سارے پلان پر کس طرح عمل کیا گیا یہ تو معلوم نہیں ، کیونکہ یہ ایک سیکرٹ پلان تھا، لیکن میرے اپنے خیال کے مطابق ، اُس وقت کی ہندوں پنڈتوں کو اپنے ساتھ شامل کیا گیا ہوگا، کیونکہ پنڈتوں کے بغیر یہ کام لینا مسلمانوں کے کیے ناممکن تھا۔
اب آپ شائد یہ سوچ رہے ہوں کہ اس میں مسلمانوں کا کیا فائدہ تھا۔ تو میں آپ کو بتاتا چلوں ہندوں کے ماس نہ کھانے میں مسلمانوں کے دو فائدے تھے۔
پہلا فائدہ تو میں اُوپر تحریر کر چکا ہوں، کہ، ہندو جانورں کو جھٹکا دے کر قتل کرنے کے بعد کھاتے تھے، جو کہ ایک سراسر ظلم تھا۔ پہلا فائدہ یہ ہوا کہ ہندو جس کو بے دردی سے قتل کر دیتے تھے، اب وہ اُن کی ماتا تھی۔ اور ساتھ میں دوسرے جاندار بھی ہندو کے اس ظلم کا شکار ہونے سے محفظ ہوگے۔ ایک مسلمان ہونے کی حثیت سے آپ جانتے ہیں کہ اسلام میں جانورں کے بھی حقوق ہیں، اور اسلام بےزبان جانورں پر ظلم کرنے سے روکتا ہے۔
دوسرا فائدہ جو مسلمانوں کو ہوا وہ یہ تھا کہ اب مسلمان ہی وہ قوم تھی جو ماس کھاتی تھی۔ اسلام میں جانور کے حلال ہونے کےساتھ ساتھ ، حلال طریقے سے ذبح بھی ضروری ہے ، اب زیادہ تر ہندو تو ماس کھانا چھوڑ چکے تھے، اس لیے مسلمان جب دور دراز کے علاقوں میں جاتے تو یہ ڈر نہیں تھا کہ وہ جو ماس کھا رہے ہیں وہ حرام طریقے سے زبح کیا گیا ہو۔
زورعین ساحل

09/03/2024

کیا واقعی مکیش امبانی ایک امیر آدمی ہے۔۔۔؟
جب میری شادی ہوئی تو اُس وقت میں سٹوڈنٹ تھا، مطلب یہ کہ میں نے اُس وقت کمانا شروع نہیں کیا تھا۔ یہ بات بتانے کا مقصد یہ تھا کہ آج اُ ن دنوں کو یاد کر کے میں بڑا حیران ہو رہا ہوں ، خاص کر جب سے امبانی کے بیٹے کی شادی کے چرچے ہر طرف ہو رہے ہیں۔ سنا ہے امبانی نے اپنے دوستوں کو کرڑوں ڈالر دے کر شادی ہر بلایا ہے۔
جیسے کہ میں نےآپ کو بتایا شادی کے وقت میرے پاس کچھ نہیں تھا، حیرانی کی بات تو یہ تھی کہ جب میں نے اپنے دوستوں کو اپنی شادی پر دعوت دی تو کسی ایک نے بھی مجھ سے شادی پر آنے کے لیے پیسے نہیں مانگے، خیر اُس وقت تو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ حیران ہونے کا وقت ہے۔ مگر اب 13 سالوں بعد مجھے سخت حیرانی ہورہی ہے۔
سمجھ دار کے لیے اشارہ کافی ہے۔۔۔ زورعین ساحل

26/08/2021

*New balloting 2021Installment plot DHA Multan*

*_4 MARLA COMMERCIAL_*

*X----@20 own LAC* Direct from Owner

*_4 Marla Commercial Pair_*

*G---,----@60 own Lac*

*5 Marla new balloting*

*_T-----@ , direct to owner_*

*4 Maral Commercial on Cash*
Sector *_Q, M, R, N_* available

*1 kanal Corner available Sector*
*_U, D, E, R, S_*
*_Park facing Sector M, U_*

*10 Marla Corner in Sector B1*

*5 Marla corner available sector T*
*5 Marla Park facing sector T*
*5 Marla plot also available*
Sector #

Shahzad Ashraf
03005628478
Sarwar Enterprises Multan

11/08/2021

DHA MULTAN
4 MARLA COMMERCIAL PLOT AVAILABLE... SARWAR ENTERPRISES

05/08/2021

DHA MULTAN
5 MARLA PLOT AVAILABLE IN REASONABLE PRICE
Sarwar Enterprises
+923005628478

01/08/2021

DHA MULTAN

T-3522 @ FOR SALE

01/08/2021

DHA MULTAN
T-3522@35
Shahzad Ashraf
03005628478

31/07/2021

DHA MULTAN
W1 986 @ 86
SHAHZAD ASHRAF
03005628478

31/07/2021

DHA MULTAN

ARMY PLOT
5 MARLA
T Sector

Near to park
4 week time

Just 33 Lac

SHAHZAD ASHRAF

Want your business to be the top-listed Realtor/realty Service in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Multan
60000