A.Dansari Studio
اگر آپ کو ہمارے پیج کی پوسٹیں پسند آتی ہیں تو براہ مہربانی لائیک،کمنٹ اور شئیر ضرور کیا کریں۔شکریہ ❤️
میرے نویں جماعت کے پرچے شروع ہوگئے ہیں۔ آج پچیس مارچ دو ہزار پچیس کو پہلا پرچہ انگریزی کا تھا۔
تیاری تو نہیں کی تھی لیکن حاضری تو دینا تھی سو میں بھی سینٹر پہنچ گیا۔
کل رات میں سوچ رہا تھا کہ دسویں جماعت کے طلبہ تو میرے ہم عمر یا مجھ سے بڑے تھے لیکن نویں جماعت کے طلبہ تو ہو سکتا ہے چھوٹے چھوٹے ہوں۔
لیکن سینٹر پہنچتے ہی یہ خیال غلط ثابت ہوا۔ میں ساڑھے آٹھ بجے گھر سے نکلا تھا تاکہ وہاں جا کر کھڑا نہ ہونا پڑے۔ تقریباً آٹھ بجکر کر چالیس منٹ پر سینٹر پہنچ گیا۔ نوٹس بورڈ کے سامنے گنتی کے پانچ سات لڑکے کھڑے تھے باقی سبھی ہال، کمروں اور گیلری میں بیٹھے تھے۔
نویں کے طلبہ بہت زیادہ ہیں تبھی ایک اور کمرہ کھولنا پڑا تھا اور گیلری میں بھی پہلے مشکل سے دس طلبہ ہوتے تھے اور آج دگنا تھے۔
میرے دائیں جانب اور آگے پیچھے سبھی لحیم شحیم لڑکے بیٹھے تھے جن کو دیکھ کر لگتا تھا یونیورسٹی میں پڑھنے والے ہیں لیکن پرچہ نویں جماعت کا دینے آئے ہوئے تھے۔
میں بہت حیران تھا۔ سوچتا تھا کہ میں نے بہت دیر کر دی ہے، پڑھنا مشکل ہے لیکن اب سوچ بدلنے لگی ہے۔ انسان جب تک باہر کی دنیا میں نہیں نکلتا وہ بغیر دیکھے اپنے دماغ میں پتا نہیں کیا کچھ چیزیں بنا لیتا ہے جو اکثر اوقات ہوائی محل ثابت ہوتی ہیں، حقیقت دیکھتے ہی جھٹ سے غائب۔۔۔
دو دن پہلے میری اپنی غلطی سے عینک کا فریم ٹوٹ گیا اور ایک شیشہ باہر نکل آیا۔ اس کو جیسے تیسے ایڈجسٹ کرکے کام چلاتا رہا لیکن اب پرچے دینے ٹوٹی ہوئی عینک کے ساتھ تو نہیں جا سکتا تھا۔ بازار جانے کا وقت نہیں مل رہا ورنہ فریم تبدیل کروا لیتا۔ پھر خیال آیا کہ ایک دن کے لیے لینز لگا لیتا ہوں جو لاہور جانے سے پہلے خریدے تھے۔ وہ ڈارک براؤن رنگ کے ہیں تو مجھے عجیب لگتے ہیں۔ اب مجبوری تھی تو ڈبیا نکال لی مگر جب ایک طرف کا ڈھکن کھولا تو وہ والا لینز چرا مرا سا سخت ہوا پڑا تھا۔ میرا تو اس کو دیکھ کر تراہ ہی نکل گیا۔ ایک نئی مصیبت۔۔۔
میں لاہور سے واپس آ کر لینز تبدیل کروانے گیا تھا لیکن انھوں نے کہا یہ اب بدلے نہیں جا سکتے سو آپ یہی استعمال کریں یا پھر ٹرانس پیرنٹ لے لیجیے وہ ان سے مہنگے ہیں۔ دکان دار نے تب ایک لینز کا ڈھکن کھولا تھا اور جھٹکے کی وجہ سے اس کا پانی نیچے گر گیا تھا۔ مجھے گھر آ کر خیال نہیں رہا کہ اس میں پانی ڈال دوں ورنہ یہ خراب ہو جائے گا۔
ٹرانس پیرنٹ لینز اس وجہ سے نہیں خریدے تھے کہ پچھلی بار کا تجربہ یاد تھا جب ایک لینز ٹوٹ گیا تھا اور ایک کھو گیا تھا۔
نظر تو مشکل سے آتے ہیں تو لینے کا فائدہ۔۔۔؟
مگر اب سوچتا ہوں یہ کلر فل بھی نہیں لینے چاہییں تھے۔ صاف پتا چل جاتا ہے لینز لگے ہوئے ہیں۔ لاہور بھی لوگ فوراً پوچھتے تھے کہ لینز لگائے ہوئے ہیں؟
خیر قصہ مختصر۔۔۔
میں نے خشک لینز پر ساتھ دیا ہوا پانی ڈالا اور ڈبیا بند کرکے رکھ دی اور دعا کرنے لگا کہ اللہ کرے یہ ٹھیک ہو جائے۔
پانچ منٹ بعد دیکھا تو لینز سابقہ حالت میں لوٹ چکا ہوں۔ میں نے دونوں لینز لگا لیے۔ آنکھوں سے پانی بہنے لگا اور چبھن بھی محسوس ہوتی رہی۔ بہت عرصے بعد استعمال کر رہا تھا شاید تبھی۔۔۔
واپس امتحانی سینٹر میں آتے ہیں۔
میں نے لسٹ میں دیکھا، رول نمبر موجود ہے اور گیلری میں بیٹھنا تھا۔ جب وہاں آیا تو کرسیوں پر نمبر ہی نہیں لکھے ہوئے تھے۔ کچھ لڑکے جان بوجھ کر مٹا دیتے تھے تاکہ وہ خود ان پر بیٹھ سکیں اپنے دوستوں کے قریب ہو کر۔(نقل کرنے کے لیے)
مجھے ایک پرانا لڑکا نظر آیا جو اشارہ کر رہا تھا کہ اس کرسی پر بیٹھ جاؤ جو اس سے آگے تھے۔
میں وہاں بیٹھ گیا۔ سپرنٹینڈنٹ اور نائب سپرنٹینڈنٹ کچھ لڑکوں کے ساتھ بحث و مباحثہ کر رہے تھے جن کے رول نمبر لسٹ میں موجود نہیں تھے۔ کچھ لڑکے جو دیر سے آ رہے تھے ان کو بھی سپرنٹینڈنٹ رول نمبر چیک کرکے متعلقہ جگہوں پر بٹھا رہے تھے کیوں کہ پرچے کا وقت ہو گیا تھا۔
ایک نگران نیا تھا باقی سبھی پرانے تھے۔ جوابی کاپی ملی تو میں نے پہلی غلطی کر دی۔ فادر نیم کو رول نمبر والی جگہ لکھ دیا۔
لکھتے ہوئے میرا ہاتھ قابو میں نہیں رہتا۔ بہت تیز اور سوچے سمجھے بغیر لکھتا جاتا ہوں اور بعد میں پتا چلتا ہے کہ میں نے غلط لکھ دیا ہے۔
نگران کو دکھایا تو اس نے کہا کوئی بات نہیں،اس کو کاٹ کر یہاں رول نمبر لکھ دیں۔
دوسری غلطی تب کی جب حاضری والی لسٹ مجھے آگے والے لڑکے نے تھمائی۔ سب کچھ لکھنے کے بعد دیکھا تو اس خانے میں کسی اور کا نام لکھا ہوا تھا۔ میں نے اپنا سر پیٹ لیا کہ اندھے ہو کیا؟ بندہ ایک بار دیکھ ہی لیتا ہے۔
میں اس خیال میں تھا کہ پہلے ہر مرتبہ میرا نام ہی ہوتا تھا لیکن اب میرے پیچھے والے لڑکے کا نام پہلے اور میرا اس کے بعد تھا۔
میں نے پھر نگران کو بلا لیا۔ اس نے بھی یہی کہا کہ ایک بار دیکھ لیا کریں آپ تو ہوا کے گھوڑے پر سوار رہتے ہیں۔
یہ مسئلہ مشکل سے حل ہوا اور میں پرچہ لکھنے لگا۔ جتنا مجھے سمجھ آیا لکھتا رہا۔ پھر میرا بال پوائنٹ ختم ہوگیا اور پین میں بھی سیاہی ختم تھی۔
پھر سے نگران کو اشارہ کیا کیوں کہ اس نے کہا ہوا تھا کوئی بھی کام ہو صرف مجھے بتانا ہے۔
نگران نے مجھے کسی اور لڑکے سے سیاہی لگا دی اور میں نے پین میں بھر کر باقی کا کام مکمل کیا۔
بال پوائنٹ سے لکھنا زیادہ آسان ہے۔ پہلے مجھے لگتا تھا صرف سیاہی والے پین سے پرچہ حل کرنا ہوتا ہے مگر میرے گرد بیٹھے کچھ طلبہ بال پوائنٹ سے لکھتے نظر آئے تو تیسرے چوتھے پرچے سے میں نے بھی بال پوائنٹ استعمال کرنا شروع کر دیا۔ پرچہ تو جلدی لکھا جاتا ہے مگر تیزی سے لکھتے ہوئے غلطیاں بھی ہو جاتی ہیں۔
پرچہ دے کر جب میں پارکنگ میں آیا تو وہاں کھڑے ایک لڑکے نے مجھ سے پرچہ مانگ کر اس کی تصویر بنائی اور سوال جواب کرنے لگا کہ پرچہ کیسا ہوا۔ میں نے کہا بہت اچھا۔۔۔
واپسی پر باربر کے پاس گیا اور سر کا بوجھ ہلکا کیا۔ گھر آ کر دو سوٹ سلائی کیے۔ اگلے پرچے کی تیاری کرنے کا سوچ رہا تھا کہ امی نے کہا پکوڑے اور چپس بنا دوں۔ تو یہ سب چیزیں بناتے ہوئے اندھیرا چھا گیا اور میری کتابیں چھت پر ہی رکھی رہیں۔
اب لیپ ٹاپ پر کچھ کمپوزنگ کا کام کرتے وقت یاد آیا کہ روداد تو لکھی نہیں، اس سے پہلے بھول جاؤں اس کو لکھ لیتا ہوں۔
دو دن کی چھٹی ہے۔ سلائی کا کام کرنا ہے اور پھر ترجمتہ القرآن کے پرچے کی تیاری۔۔۔ مارکیٹ بھی جانا ہے اور ستر مزید کام۔۔۔ افففف!
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
پیارے دوستو!
دسویں جماعت کے پرچوں کی روداد ختم ہوئی۔
آپ نے اس سلسلے کو بہت پسند کیا اس کے لیے سپاس گزار ہوں۔
کل سے ہم نویں جماعت کے پرچوں کی روداد اپنے صفحہ پر شئیر کرنا شروع کریں گے۔
سلامت باشد
#رودادایگزام
13/08/2025
آج 21 مارچ ہے۔ جمعہ المبارک کے دن میرا دسویں جماعت کا آخری پرچہ تھا یعنی مطالعہ پاکستان کا۔
پانچ مارچ سے شروع ہوئی یہ journey آخر کار ختم ہوئی لیکن ہر اختتام کی ایک نئی شروعات بھی تو ہوتی ہے نا؟
دسویں کے بعد اب مجھے نویں جماعت کے پرچے دینے ہیں اور پچیس مارچ کو پہلا پرچہ انگریزی کا ہوگا۔
مطالعہ پاکستان کی کتاب کے اگرچہ چار ابواب تھے لیکن بات وہی کہ کتاب پڑھی ہی نہیں تھی۔ کل چھٹی کا دن تھا لیکن میں صبح سے دوپہر تک مسلسل کپڑے سلائی کرتا رہا۔ ایک سوٹ کی نلکی لانا بھول گیا تھا ورنہ سہ پہر تک وہ بھی سِل جاتا اور یہ والا پرانا کام انجام کو پہنچتا۔
دو ڈھائی بجے ماڈل پیپر اٹھایا اور معروضی یاد کرنے لگا۔ چوں کہ بہت تھک گیا تو لہٰذا آنکھیں بند ہونے لگیں اور پتا ہی نہیں چلا کب سو گیا۔ جب اٹھا تو عصر کی اذانیں ہو رہی تھیں۔ عصر کے بعد چھت پر گیا اور مغرب تک پرچے کی تیاری کرتا رہا۔ افطاری کے بعد بھی کچھ دیر ورق گردانی کی۔
جس صبح پرچہ ہوتا ہے اس رات مجھے ڈھنگ سے نیند ہی نہیں آتی جبکہ جس دن چھٹی ہو تب بہت اچھی نیند آتی ہے۔
میرا دماغ ویسے بھی چوبیس گھنٹے جاگتا ہی رہتا ہے تبھی بے خوابی کا مرض بھی چمٹ گیا۔ نیند ایسی ہوتی ہے جیسے میں جاگ رہا ہوں۔ دماغ میں مختلف خیالات گردش کرتے رہتے ہیں اور یوں نیند کے بعد بھی عجیب کیفیت ہوتی ہے۔
خیر! آج میں آٹھ بجکر پینتیس منٹ پر گھر سے نکلا تھا اور جب سینٹر پہنچا تو لڑکے اپنی اپنی جگہیں سنبھال چکے تھے اور کچھ لسٹ کے سامنے کھڑے تھے۔ آج میرا رول نمبر موجود تھا اور نشست ہال میں تھی۔ جب میں ہال میں پہنچا تو ایک نگران لڑکوں کو جوابی کاپی بانٹ رہا تھا۔
میں فوراً اپنی نشست پر آگیا۔ جوابی کاپی کے قریباً دس پندرہ منٹ بعد معروضی کا پرچہ دیا گیا۔ اس وقت تک میں اطمینان سے جوابی کاپی پر ضروری کوائف درج کر چکا تھا۔
معروضی میں دس سوالات ہی تھے۔ آخری والے کے بارے میں، میں زیادہ sure نہیں تھا لیکن باقی سبھی کے جواب مجھے معلوم تھے سو فٹافٹ ببل شیٹ فِل کر دی۔
میں نے پچھلے پرچوں کے نمبروں پر زیادہ غور نہیں کیا تھا۔ آج مطالعہ پاکستان کا پرچہ دیکھا تو صرف پچاس نمبر کا تھا۔ چالیس نمبر انشائیہ اور دس نمبر معروضی کے۔
اتنے کم نمبر کیوں ہیں یہ نہیں جانتا۔
انشائیہ میں تین پارٹ تھے۔ پہلے دو سے چھ چھ مختصر سوالات حل کرنے تھے۔
آخری تین سوالات تفصیلی تھے جن میں سے دو کے جوابات لازمی تھے۔ میں نے پورا پرچہ حل کر لیا تھا کیوں کہ زیادہ تر سوالات بہت آسان تھے۔
ابھی چالیس منٹ باقی تھے جب میں نے جوابی کاپی پر حتمی نظر ڈالی اور نگران کو سونپ کر ہال سے باہر آگیا۔ گیلری بھری ہوئی تھی اور طلبہ ایک دوسرے کو دیکھنے میں مصروف تھے۔
مالی بھی وہیں بیٹھا تھا۔ مجھے دیکھ کر پوچھا کہ پرچہ کیسا ہوا؟
میں نے کہا بہت اچھا۔
بولا کہ ہاں حلوہ سمجھ کر کھا گئے ہوگے۔ اب ڈکار لے لو۔
طلبہ کھی کھی کرنے لگے اور میں بھی مسکراتا ہوا پارکنگ کی طرف چل دیا۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
12/08/2025
آج بدھ کا دن ہے اور اس وقت رات کے دس بج رہے ہیں۔ مجھے اچانک سے یاد آیا کہ آج کے پرچے کی روداد تو لکھی ہی نہیں۔۔۔
جیسے جیسے رمضان المبارک اختتام کی جانب بڑھ رہا ہے میری مصروفیات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا۔ ایک کام ختم ہوتا نہیں کہ دوسرا کام اپنی طرف بلا لیتا ہے۔
آج 19 مارچ کو میرا اردو کا پرچہ تھا۔ تیاری کے لیے مشکل سے دو تین گھنٹے ہی مل سکے تھے۔ معروضی یاد کی اور مختصر سوالات پر سرسری سی نظر ڈال لی تھی۔ باقی معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا۔
اردو شاید کہنے کو آسان زبان ہے مگر ہے نہیں۔۔۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا تھا کہ مجھے گرامر سے شناسائی نہیں ہے سو تبھی اردو کا پرچہ کچھ پریشان کر رہا تھا۔
آج بھی صبح اٹھ کر ایک گھنٹے تک ماڈل پیپر پڑھتا رہا پھر ساڑھے آٹھ بجے گھر سے نکل آیا۔ جب سینٹر پہنچا تو آٹھ بجکر پینتیس منٹ ہو چکے تھے۔ پانچ منٹ کھڑا رہنا پڑا پھر لسٹ لگ گئی۔ آج میرا رول نمبر لسٹ میں موجود تھا اور حسب معمول مجھے گیلری میں بیٹھنا تھا۔
نقل والا نگران آج پھر دور ایک کمرے کے سامنے کھڑا گیلری والے نگران کی منتیں کر رہا تھا کہ آپ نے میرے لڑکے کا خیال رکھنا ہے۔
اگر بندہ ایک ہفتہ بھی غور سے پڑھ لے تو پرچہ دینا کوئی مشکل کام نہیں۔ اب میں محض ایک دو گھنٹہ پڑھ کر پرچے دے رہا ہوں اور اندازہ ہو جاتا ہے کہ رعایتی نمبروں سے زیادہ نمبرز ہی آئیں گے۔ ان شاءاللہ!
جب انسان پڑھے ہی نہ اور امتحان میں آ کر بیٹھ جائے یا پھر کسی نگران پر بھروسہ کرے تو پھر پاس ہونا بھی مشکل ہو جاتا ہے۔
جوابی کاپی فِل کر ہی رہا تھا جب معروضی کا پرچہ تھما دیا گیا۔ میں نے نظر ڈالی تو دیکھا زیادہ تر جوابات میں ٹھیک لکھ سکتا ہوں۔ البتہ ایک گرامر والے سوال کی سمجھ نہیں آئی۔ خیر پورے پندرہ نہیں تو چودہ نمبر تو مل ہی جائیں گے۔
جیسے ہی معروضی کا پرچہ بیس منٹ بعد واپس لیتے ہیں تو اسی وقت سپرنٹینڈنٹ ببل شیٹ چیک کرتے ہیں اور زبردستی پورے پندرہ نشانات فِل کرواتے ہیں بھلے ٹھیک ہوں یا تکے سے۔۔۔
آج نگران نے سب کی کاپیاں چیک کیں، جب وہ میرے پاس آئے تو میں نے بھی دکھا دی۔ چودہ نشانات لگا چکا تھا اور ایک چھوڑ دیا تھا کہ بعد میں غور و خوض کے بعد اس کو فِل کروں گا۔
نگران نے کہا تم بڑے چالاک ہو۔ جس پر نشان نہیں اس پر انگلی رکھی ہوئی ہے۔ چلو جلدی سے اس کو بھی فل کرو۔
نادانستگی میں ایسا ہو گیا، میرے تو سان گمان میں بھی یہ بات نہیں تھی کہ ایک خانے کو چھپانا ہے۔🙄
خیر میں نے اب انشائیہ کا پرچہ شروع کر لیا۔
ایک حصے میں سے پانچ سوالوں کے جوابات دینے تھے اور میں نے اوپر کی سطر پڑھے بغیر چھ سوالات کو نشان زد کر دیا کہ ان کے جواب لکھوں گا۔ پہلے ہر پرچے میں چھ ہی کا جواب لکھنا ہوتا تھا لیکن اس بار مختلف تھا۔ بعد میں غور کیا اور چھ کے بجائے پانچ سوالوں کے جواب لکھے۔
میرا اردو کا پرچہ تو اچھا ہوا کیوں کہ پورا ہی حل کیا تھا لیکن جلدی میں یا پھر نا سمجھی کی وجہ سے مجھے دو جگہ الفاظ کاٹ کر دوبارہ لکھنے پڑے اور مجھے امید ہے اس کے نمبر کٹ جائیں گے۔
نظم کے اشعار کی تشریح کے بعد غزل کے دو اشعار کی تشریح کرنا تھی اور پھر بقیہ پرچہ حصہ دوم تھا۔ غزلوں کے اشعار کی تشریح کرنا بھول گیا اور میں نے اگلے صفحے پر بڑا بڑا سا”حصہ دوم“ لکھ دیا۔
بعد میں غلطی کا احساس ہوا تو اس کو”حصہ غزل“ بنانے کی کوشش کی اور ”سوال نمبر ۳، جواب(الف)“ یہ سب بھی لکھ چکا تھا ان کو بھی کاٹ دیا۔
ایسا ہی کچھ پیراگراف کی تشریح کے وقت ہوا۔ اوپر والا مضمون سجاد حیدر یلدرم کا تھا اور جلدی میں، میں نے اس کی جگہ نیچے والے پیراگراف کے مصنف شفیع عقیل کا نام لکھ دیا پھر بعد میں اس کو کاٹنا پڑا۔
مجھے غصہ بھی آ رہا تھا کہ آج ایسا کیوں ہو رہا ہے؟
اگر چیکر نے یہ غلطیاں پکڑ لیں تو پھر نمبرز کٹنا پکا ہے۔میرا اچھا خاصا پرچہ ضائع ہوگیا۔ 😕
خیر اب ایک آخری پرچہ مطالعہ پاکستان کا رہ گیا ہے جو پرسوں ہوگا۔ اس کی تیاری ابھی تک نہیں کی۔ کل چھٹی ہے اور میں سوچ رہا ہوں جتنے سوٹ آئے ہوئے ہیں سب کی کٹنگ کروں اور بازار سے ان کا سامان لا کر بکرم بھی چپکا دوں۔ یہ کام ہوا ہو تو بندہ رات کو بھی مشین پر بیٹھ کر کام کر سکتا ہے۔ پچیس مارچ سے نویں کے امتحانات شروع ہو جائیں گے پھر میرے لیے دونوں کاموں کو مینج کرنا مزید مشکل ہو جائے گا۔ حق ہاہ!
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
11/08/2025
آج بروز منگل 18 مارچ کو میرا مبادیات تعلیم( ایجوکیشن) کا پرچہ بھی ہو گیا ہے۔ ابھی سینٹر سے واپس گھر آیا ہوں اور اگلے پرچے کی تیاری شروع کر دی ہے جو اُردو کا ہوگا۔
اردو کا پرچہ آسان تو نہیں ہو سکتا کیوں کہ رائیٹر ہونے کے باوجود مجھے اردو کی گرامر کی سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ اب ماڈل پیپر میں جب گرامر کے سوالات دیکھے تو پریشانی بڑھ گئی۔
ایجوکیشن کے پرچے کی تیاری میں نے کل شام شروع کی تھی۔ چار ابواب تھے جن میں مختلف موضوعات پر مضامین تھے۔ یہ کتاب تو آسان ہے لیکن لکھنے کا کام بہت زیادہ تھا۔ سوکس یعنی شہریت کے پرچے میں بھی ایسا ہی معاملہ تھا۔ سمجھیے آدھی کتاب پرچے میں لکھنا پڑتی ہے۔
جب آس پاس شور شرابا ہو تو میری توجہ اسباق پر مرکوز نہیں ہو پاتی۔ اگر پڑھوں بھی تو لمحوں بعد دماغ سے سب مٹ چکا ہوتا ہے اور میں پھر پیچھے کا صفحہ پلٹتا ہوں کہ پڑھا کیا تھا؟
پرچوں کی تیاری اور مطالعہ کے لیے پُرسکون ماحول ہونا بنیادی شرط ہے۔
جن حالات سے نبرد آزما ہو کر میں دسویں جماعت کے پرچے دے رہا ہوں یہ مجھے ہی پتا ہے۔
لوگ زبردستی سوٹ سلائی کے لیے دے رہے ہیں اور گھر والے یوں سفارشیں کرتے ہیں جیسے کام انھوں نے خود کرنا ہو۔ کٹنگ سے بٹن ٹانکنے تک ایک ایک کام مجھے اکیلے کرنا پڑتا ہے جبکہ لوگ بس زبان ہلا دیتے ہیں کہ کوئی مشکل کام نہیں، مشین پر بیٹھو اور گھنٹے بھر میں سوٹ تیار ۔۔۔ مگر جس تن لاگے وہی جانے۔
آج میں نے سوچا کہ امتحانی مرکز میں پانچ دس منٹ ویسے بھی کھڑے رہنا پڑتا ہے تو گھر سے ہی ساڑھے آٹھ بجے نکلوں تاکہ جب پونے نو بجے لسٹ لگے اس وقت تک سینٹر پہنچ جاؤں۔
صبح سویرے اٹھ کر "ایجوکیشن" کی کتاب پڑھی اور کچھ چیزیں ذہن نشین کر لیں۔
مقررہ وقت پر گھر سے نکل آیا اور آہستہ آہستہ سفر کرتا سینٹر پہنچ گیا۔ مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا تو ماحول ویران سا نظر آیا۔ سکیورٹی گارڈ نے پوچھا آپ کیوں آئے ہیں؟
میں نے کہا میرا دسویں جماعت کا پرچہ ہے مگر یہاں تو کوئی نظر نہیں آ رہا۔
اس نے کہا اچھا ٹھیک ہے آپ آگے چلے جائیں۔
میں نے سوچا کہ آج پھر مجھے اکیلے ہال میں بیٹھنا پڑے گا۔ دوسرا خیال یہ بھی آیا کہ ہو سکتا ہے مجھے دن اور تاریخ بھول گئی ہو؟ جب رول نمبر سلپ دیکھی تو آج ہی کا دن اور تاریخ لکھی ہوئی تھی۔ خیر موٹر سائیکل آگے بڑھائی اور سینٹر کے قریب پہنچ گیا۔
پارکنگ کی جگہ پر مجھے وہی طالب علم نظر آگیا جو میرے پیچھے بیٹھتا ہے۔ اس کا رول نمبر مجھ سے پیچھے والا ہے اور ہم دونوں ہیں بھی آرٹس والے۔
اس نے مجھے دیکھا تو حیران ہوا کہ کیا آپ کا بھی آج پرچہ ہے؟مجھے تو لگا کہ آپ کا نہیں ہوگا۔
میں نے اس کو سلپ دکھائی اور بتایا کہ آج ایجوکیشن کا پرچہ ہے مگر یہاں تو کوئی نہیں آیا ہوا۔
ہم پارکنگ کی جگہ سے ہال کی طرف چل دیے۔ مجھ سے ایک سکول کے ملازم نے پوچھا کہ آپ کا آج پرچہ ہے؟
میں نے سر ہلا دیا۔
اس نے کہا کہ آپ امتحانی ہال کا دروازہ کھول کر اندر بیٹھ جائیں آپ کے سپرنٹینڈنٹ پرچہ لینے گئے ہوئے ہیں ابھی واپس آ جائیں گے۔
ہم دونوں ہال میں بیٹھ گئے اور باتیں کرنے لگے۔ نو بجے وہی سپرنٹینڈنٹ پہنچ گئے جو سوکس کے پرچے کے دوران میرے ساتھ بینک سے سینٹر پرچہ اٹھا کر لائے تھے۔
انھوں نے لکھنے پڑھنے کا سامان ایک کمرے سے نکالا پھر مجھ سے پرچے والے پارسل پر دستخط لیے اور جوابی کاپیز تقسیم کر دیں۔
ہم دونوں نے اس کو اطمینان سے پُر کیا۔ پھر سر نے معروضی کا پرچہ دے دیا اور کہا بیس منٹ کا وقت ہے۔
وہ اپنے کام کرتے رہے اور میں نے جوابی کاپی پر ضروری معلومات درج کرنے کے بعد معروضی کے نشانات بھی بھر دیے۔
پھر انشائیہ کا پرچہ مل گیا اور ہماری حاضری بھی لے لی گئی۔ آج ایک ہی بندہ ہم پر نگرانی کر رہا تھا۔ کچھ دیر بعد مالی بھی آ کر بیٹھ گیا اور بولا کیا کسی کے پاس کتاب بھی ہے؟ اگر ہے تو خوب نقل کرو کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔
میں نے کہا پرچہ اتنا آسان ہے کہ نقل کی ضرورت ہی نہیں اور نہ ہی ہم نقل والے طلبہ ہیں۔
میں نے اوپر والے تین پورشنز سے چھ چھ سوالات پر نشانات لگا لیے جو مجھے کرنے تھے۔ آخری پورشن میں سے صرف تین کے جوابات دینے تھے اور ٹوٹل شاید پانچ سوالات تھے۔
اس کے بعد میں لکھنے میں محو ہوگیا اور جب گردن میں درد ہونے لگا اور وقت دیکھا تو پونے گیارہ ہو چکے تھے۔
سر نے کہا تھا کہ یہ پرچے واپس بینک بھی جمع کروانے ہیں لہٰذا آپ میں سے جس کے پاس بائیک ہے وہ میرے ساتھ چلے گا۔
پیچھے والے لڑکے نے مجھے کہا کہ آپ گھر چلے جانا میں سر کو بینک لے جاؤں گا۔
میں نے کہا ٹھیک ہے۔
جوابی کاپی سر کو دی تو اچانک وہ چونکے اور کہا:"اوہو۔ میں نے اس پر دستخط کیے ہی نہیں، بیٹا یہ بہت ضروری ہیں ورنہ بورڈ والے آپ کی کاپی جمع نہیں کریں گے۔ آئندہ مجھے یاد کروا دینا۔“
انھوں نے دوسرے طالب علم کو بھی بلا لیا کہ پہلے دستخط کروا لو پھر باقی کا لکھ لینا۔
میں نے انھیں خدا حافظ کہا اور ہال سے نکل آیا۔
گھر میں پھیلاوا مزید بڑھ چکا ہے اور اب اس حصے کی باری ہے جہاں میری سلائی مشین رکھی ہوئی۔ مشین کو ڈھانپ کر اب اُردو کے پرچے کی تیاری کر رہا ہوں۔ آج سلائی کا کام نہیں ہو سکے گا۔ جب کہ ایک ہمسائی آنٹی بہت اصرار کے بعد اپنے میاں کا ایک سوٹ دے گئی ہیں اور میں اس تفکر میں ہوں کہ یہ سارا کام کیسے نبٹا سکوں گا؟
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
10/08/2025
آخر کار مجھے آج کی روداد لکھنے کا وقت مل گیا۔
آج 17 مارچ ہے۔ میرا جنرل ریاضی کا پرچہ تھا۔ جنرل ریاضی اور انگریزی کی کتب میں نے نہیں پڑھیں تو ظاہر ہے تیاری بھی بالکل نہیں ہے لیکن سب یہی کہہ رہے تھے کہ آپ کو بیشک کچھ نہ آتا ہو مگر پرچہ ضرور دینے جانا اور جوابی کاپی پر جو سمجھ آئے لکھ آنا، انگریزی کا پرچہ اسی بات کو ذہن میں رکھتے ہوئے دیا تھا اور آج بھی میں نے اتنے اعتماد سے پرچہ حل کیا جیسے مجھے سب کچھ آتا ہے۔
آس پاس بیٹھے طلبہ ایک دوسرے کو کن انکھیوں سے اشارے کرنے اور اپنے پرچے ایک دوسرے کی طرف کرنے میں مشغول تھے اور مابدولت سر جھکائے پوری تند دہی سے کاغذ پر پین گھسیٹ رہے تھے۔ چھ+چھ+چھ+تین سوالات کے جوابات لکھنے میں ڈیڑھ گھنٹہ گزر گیا تھا۔ معروضی کے نشانات بھی جو سمجھ آیا ویسے ہی لگائے تھے۔
صبح ساڑھے آٹھ بجے سینٹر پہنچ جاتا ہوں لیکن سوائے پہلے دن کے باقی سبھی پرچوں میں پندرہ منٹ تک مجھے ہال کے باہر کھڑا ہونا پڑا ہے۔ پونے نو بجے لسٹ لگتی ہے اس کے بعد طلبہ اپنی نشستوں پر بیٹھتے ہیں۔
دو پرچوں سے لسٹ میں میرا نام ہی نہیں آ رہا۔ یہ آرٹس والوں اور پرائیوٹ والوں سے کیسا سوتیلا برتاؤ کرتے ہیں نا؟
کمروں اور ہال کے بجائے زیادہ تر مجھے گیلری میں بیٹھنا پڑا اور لگتا ہے باقی پرچوں میں بھی ایسا ہی ہوگا۔
جیسا کہ کچھ دن پہلے لکھا تھا اب کچھ چہروں سے آشنائی ہونے لگی ہے اور وہ بھی مجھے دیکھ کر حال احوال دریافت کرتے ہیں۔
جو سرائیکی طلبا ہیں ان سے انہی کی زبان میں گفتگو کرتا ہوں اور چند دنوں میں ہی میرا لہجہ رواں ہوگیا ہے۔ جب دکان پر کام کرتا تھا تو زیادہ تر وقت سرائیکی زبان بولنا پڑتی تھی اور اس وقت گھر میں بھی بعض دفعہ منہ سے اردو کے بجائے سرائیکی زبان کے الفاظ نکل آتے تھے۔
آج بھی نقل والے نگران دوسرے نگران کی منتیں کر رہے تھے کہ میرے فلاں بچے کی مدد کر دینا۔ دوسرے بندے نے کہا کہ سختی بہت زیادہ ہے میں اس کو پرچہ نہیں بتا سکتا۔
پہلے والا آہستہ سے بولا کہ چکر لگاتے ہوئے چپکے سے بتا دیا کرنا۔
اب پتا نہیں دوسرے نگران اس لڑکے کی مدد کر پائے یا نہیں۔۔۔
آج سپرنٹینڈنٹ صاحب بھی نئے تھے اور دوسرے ضلع سے آئے ہوئے تھے۔ پہلے والے شاید کسی وجہ سے چھٹی پر تھے۔ اللہ جانے۔۔۔
جوابی کاپی جمع کروا کر میں واپس گھر آ گیا۔
گھر میں عید کے لیے صفائی ستھرائی چل رہی ہے اور پورا گھر بکھرا پڑا۔ سامان ٹھکانے پر نہیں اور مجھے اپنی چیز جگہ پر نہ ملے تو شدید غصہ آتا ہے۔
سلائی کا کام بھی ساتھ ساتھ کر رہا ہوں کیوں کہ اب وقت مختصر ہوتا جا رہا ہے۔ میں نے سوچا تھا کہ آج پرچے کے بعد اگلے پرچے کی تیاری کروں گا جو مبادیات تعلیم( ایجوکیشن)کا ہے لیکن پھر ایک سوٹ مکمل کیا اور ایک قمیص بھی بنا لی۔
درمیان میں جب بجلی جاتی تھی تو کتاب اٹھا کر سبق پڑھنے لگتا تھا۔
شام کو امی نے کہا دہی بھلے بنا دو۔ میں نے کہا اللہ میاں! میری اس نیکی کی بدولت کل کا پرچہ اچھا کروا دیجیے گا۔
اب کل دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
09/08/2025
آج جمعہ المبارک کا دن ہے۔ تاریخ ہے 14 مارچ دو ہزار پچیس۔۔۔
آج میرا پانچواں پرچہ جنرل سائنس کا تھا۔ صبح سویرے اٹھ کر پہلے اپنے کپڑے استری کیے پھر نہا کر ماڈل پیپر پر ایک نظر دوڑائی۔
جنرل سائنس کا مضمون مجھے بہت مشکل لگا تھا۔ کل شام میں نے معروضی اور پہلے باب کے مشقی سوالات و جوابات ایک بار پڑھے تھے پھر میرا دل اکتا گیا کہ یہ تو نا سمجھ میں آنے والے مضامین ہیں۔
نویں جماعت کی کتاب میں بائیو اور کیمسٹری کے مضامین ہیں اور دسویں والی کتاب میں فزکس ہے۔۔۔
میں نے سوچا کہ جو چیز معلوم ہوئی لکھ آؤں گا کم از کم رعایتی نمبر تو مل ہی جائیں گے۔
میری سب سے بڑی پریشانی یہی ہے کہ ایک تو رمضان المبارک کا مہینہ چل رہا ہے اس کی اپنی مصروفیات ہوتی ہیں۔ دوسری وجہ عید کے لیے کپڑے سلائی کرنے کی فکر اور پھر اپنے امتحانات کی ٹینشن۔۔۔
رات کو بیٹھ کر پڑھتا ہوں اور صبح پرچہ دیتا ہوں۔ یہ حال ہے۔۔۔
لیکن۔۔۔ لیکن۔۔۔ لیکن!
میں اس بات پر خوش بھی ہوں کہ ریگولر طلبا کی نسبت میرے پرچے اچھے جا رہے ہیں۔ اگر سنجیدگی سے تیاری کرتا تو یقیناً بہت اچھے نمبر حاصل کر سکتا۔
چوں کہ مجھے آج پانچواں دن تھا تو امتحانی مرکز میں چند طلبہ کے چہرے شناسا ہو گئے تھے اور وہ لڑکے بھی مجھے جاننے لگے۔ کل میرا سوکس کا پرچہ دوپہر کے وقت تھا اور میں نے اکیلے بیٹھ کر حل کیا تھا تبھی آج صبح جب سینٹر پہنچا تو چند لڑکوں نے پوچھا کہ کل آپ کیوں نہیں آئے تھے؟
میں نے کہا میں تو آیا تھا لیکن تم سب نہیں تھے۔ 😃
کئی ایک طلبا سے بات چیت ہوئی۔ انھوں نے جب یہ سنا کہ کل میں اکیلا ہال میں بیٹھا تھا تو وہ میری رول نمبر سلپ باری باری دیکھنے لگے۔ اکثر نے یہی سوال کیا کہ اٹھارہ پرچے کیسے دے سکو گے وہ بھی تیاری کے بغیر؟
میں نے کہا کہ تازہ تازہ یاد کرکے پرچہ دے دیتا ہوں اب آگے کے معاملات میں اللہ خیر کرے گا۔
جب بورڈ پر لسٹ لگی تو میں نے اپنا رول نمبر تلاش کرنا چاہا مگر وہ تو تھا ہی نہیں۔
اب میں کچھ فکر مند ہوا پھر سوچا ہو سکتا ہے آرٹس والا میں واحد ہی ہوں تبھی یہاں میرا رول نمبر نہیں ہے۔
میں مرکزی ہال میں گیا اور سپرنٹینڈنٹ صاحب سے کہا میرا نمبر نہیں لکھا ہوا۔ پہلے سپرنٹینڈنٹ پھر نائب سپرنٹینڈنٹ نے لسٹ میں تلاش کیا مگر ہوتا تو ملتا۔۔۔
سر نے کہا کہ آپ گیلری میں ہی بیٹھ جائیں اور بالکل پریشان نہ ہوں، آپ کا مسئلہ ابھی حل کرتے ہیں۔
میں گیلری میں آگیا۔ وہاں شاید کیمسٹری والے طلبا بیٹھے تھے۔
آج جو نگران تھے انھوں نے کہا آپ کی کرسی پر تو رول نمبر ہی نہیں ہے تو پھر آپ یہاں کیوں بیٹھے ہیں؟
میں نے کہا سپرنٹینڈنٹ صاحب نے بٹھایا ہے۔
وہ سر ہلا کر چلا گیا۔
چند منٹ بعد نائب سپرنٹینڈنٹ صاحب نے مجھے جوابی کاپی دی پھر کچھ دیر بعد دونوں پرچے ایک ساتھ دے دیے۔ کچھ دیر بعد انھوں نے میری حاضری بھی لگوا لی۔
آرٹس والا ایک اور طالب علم بھی آگیا تھا۔ ہم دونوں سب سے آخر میں بیٹھے اپنے اپنے پرچے حل کرنے لگے۔
معروضی کے قریباً سبھی جوابات مجھے آتے تھے سو سب سے پہلے ببل شیٹ بھری۔
انشائیہ میں بھی زیادہ تر سوالات مانوس سے تھے اور جو ابواب میں نے نہیں پڑھے تھے کچھ سوالات ان کے اندر سے آئے تھے۔
میں نے پورے اطمینان سے اپنا پرچہ حل کیا اور جو سوالات مشکل لگے ان کو چھوڑ دیا۔
الحمدللہ مجھے امید ہے چالیس پچاس نمبر مل ہی جائیں گے۔
پرچے اچھے ہونے کی شاید ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میں افطاری کے وقت گھر والوں کو کچھ نہ کچھ بنا کر دیتا ہوں کیوں کہ وہ کہتے ہیں تمھارے پرچے بہت اچھے ہوں گے۔ فکر نہ کرو اور افطاری میں ہمیں کوئی چیز بنا دیا کرو۔ 🫢
آج بھی گھر واپس آتے ہی کپڑوں کی کٹنگ شروع کر دی۔ پھر جمعہ پڑھا اور اب یہ تحریر لکھنے کے بعد دوبارہ دو سوٹ کاٹنے ہیں۔ تھکن بہت ہے مگر کام تو کرنے ہی ہیں۔
اگلے پرچے کے درمیان دو دن کا وقفہ ہے اور پھر جنرل ریاضی کا پرچہ ہوگا۔ میری کوشش ہوگی ان دو دنوں میں سلائی والا کام جتنا ہو سکا کر لوں تاکہ میرے کندھوں سے یہ بوجھ تو کس قدر کم ہو جائے۔
تیرہ روزے ہو چکے ہیں اب عید میں دو ہفتے ہی رہ گئے اور میرے کام بہت زیادہ ہیں۔ دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
08/08/2025
الحمدللہ آج چوتھا پرچہ بھی ہو گیا ہے جو سوکس یعنی شہریت کا تھا۔
آج 13 مارچ ہے۔ دن ہے جمعرات کا اور سال چل رہا ہے دو ہزار پچیس۔۔۔
کل جب میں اسلامیات کا پرچہ حل کر رہا تھا تو نائب سپرنٹینڈنٹ نے مجھے کہا تھا کہ کل آپ نے ایک بجکر کر پینتیس منٹ پر فلاں بینک کے پاس پہنچ جانا ہے۔ وہیں سے آپ کا پرچہ اٹھائیں گے اور پھر ہم واپس سینٹر آ جائیں گے۔
مجھے فکر ہونے لگی کہ پتا نہیں یہ عجیب سچویشن کیونکر بن رہی ہے۔ سوکس کا پرچہ سیکنڈ ٹائم تھا۔ دسویں اور نویں کے یہ دونوں پرچے دوپہر کے وقت ہوئے تھے باقی سبھی صبح کے وقت۔
آج دوپہر میں اپنے چھوٹے بھائی کے ساتھ بینک پہنچ گیا۔ وہاں سپرنٹینڈنٹ صاحب آئے اور انھوں نے مجھے پہچان کر اپنی جانب بلایا پھر بولے کہ میں اندر سے پرچہ لے کر آ رہا ہوں پھر ہم واپس سکول جائیں گے۔
میں نے کہا جی ٹھیک ہے۔
وہ بینک کے اندر چلے گئے اور چند منٹوں بعد ایک لفافے کے ہمراہ باہر نکلے۔ اس کے بعد ہم موٹر سائیکل پر سوار ہو کر امتحانی سینٹر پہنچ گئے۔
ہائی سکول بہت وسیع و عریض ہے۔ ایک طرف کھیل کے میدان ہیں اور دوسری طرف مختلف عمارتیں۔۔۔ یعنی برآمدے اور کمرے الگ الگ اور کہیں اکٹھے۔۔۔ کوئی کسی کونے میں اور کوئی کسی کونے میں۔۔۔ ہمارا جہاں سینٹر ہے وہاں ایک ہال ہے اور پھر ایک برآمدہ اور اطراف میں چند کمرے۔۔۔
آج وہاں ویرانی چھائی ہوئی تھی۔ سر نے کہا کہ آج تو بس آپ اکیلے ہی پرچہ حل کریں گے۔
مجھے توقع تھی کہ شاید سیکنڈ ٹائم بھی طلبا پرچے دینے آئیں گے مگر ایسا کچھ نہیں تھا۔
سر نے پہلے ایک کمرہ کھولا اور وہاں سے کچھ دفتری سامان نکالا۔۔۔
پھر ہم ہال میں آگئے۔ چھوٹے بھائی کو میں نے کہا کہ تم کچھ دیر باہر ہی انتظار کر لو پھر ہم اکٹھے واپس چلے جائیں گے۔
سر نے پہلے مجھ سے ایک پارسل کے لفافے پر دستخط لیے اور رول نمبر لکھوایا۔۔۔ پھر جوابی کاپی مجھے دے دی اور میں اس کو پُر کرنے لگا۔
ذرا دیر بعد نائب سپرنٹینڈنٹ صاحب بھی آگئے اور مجھے دیکھ کر خوش ہوئے اور کہا کہ واہ واہ۔۔۔ آج تو ہم سب ایک بچے کے لیے ہال میں بیٹھیں گے۔😃
ذرا تصور کریں ایک بڑے سے سکول کے ایک بڑے ہال میں صرف ایک طالب علم بیٹھا پرچہ حل کر رہا ہو؟ اور سامنے دو افسران اور چند سکول ملازمین بیٹھے گپیں مار رہے ہوں۔
اب اس بات پر بھی حیران ہو جائیں کہ سوکس کی کتاب میں نے کل شام ہی مکمل پڑھی تھی۔ پہلے پہل تو میں بہت پریشان تھا کہ صبح پرچہ کیسے دے سکوں گا جب کہ پڑھا کچھ بھی نہیں ہے۔
پھر دل پر جبر کرکے سب سے پہلے معروضی یاد کی پھر سارے ابواب پڑھے اور موٹی موٹی چیزوں پر دو تین مرتبہ پھر سے نظر مار لی۔ جب رات سونے لگا تو کچھ حد تک مطمئن تھا کہ پرچہ حل کر سکوں گا۔
آج صبح کچھ دیر سوکس کی کتاب پڑھی پھر جنرل سائنس کی کتاب اٹھا کر پڑھنے لگا کیوں کہ اس کو بھی میں نے ابھی تک نہیں دیکھا تھا اور کل اسی کا پرچہ ہوگا۔
جیسے جیسے پرچے کا وقت قریب آ رہا تھا میری بے چینی بڑھتی جا رہی تھی۔ اللہ کا شکر ہے پرچہ بہت اچھا ہوگیا۔ مجھے امید ہے پچھتر میں سے پچپن یا ساٹھ نمبر تو مل ہی جائیں گے۔ اللہ کرے۔🤗
لکھتے لکھتے وقت گزرنے کا احساس نہیں ہو پایا تھا۔ اچانک دروازے کے سامنے چھوٹا بھائی آیا اور کہا مزید کتنا وقت ہے؟
نائب سپرنٹینڈنٹ صاحب نے کہا کہ بھئی ایسا نہ کرو۔ بچے کو لکھنے دو۔
بھائی پھر گھومنے نکل گیا۔ دور گراؤنڈ میں بچے کوئی کھیل کھیل رہے تھے۔
تفصیلی سوالات میں سے تین کے جوابات لکھنے تھے مگر مجھ سے صرف ایک ہی لکھا گیا۔ پاک بھارت تعلقات پر ۔۔۔
قائد اعظم کے چودہ نکات تو شاید ہر سال آتے ہیں اور مجھے بالکل یاد نہیں تھے سو نہیں لکھ پایا۔ باقی موضوعات بھی زیادہ مشکل تو نہیں تھے مگر مجھے اب یاد ہی نہیں آ رہا تھا۔ سوچا جتنا لکھ چکا ہوں یہ پاس کروانے کے لیے کافی ہے۔ میں نے کون سا ٹاپ کرنا ہے۔
جوابی کاپی سر کو دے کر ہال سے نکل آیا۔ چھوٹا بھائی غائب تھا۔ ادھر ادھر نظر دوڑائی تو چند لمحوں بعد وہ آتا دکھائی دیا۔ ہم موٹر سائیکل پر بیٹھے اور واپس گھر آ گئے۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
07/08/2025
آج بدھ کا دن ہے۔ تاریخ ہے 12 مارچ 2025ء۔۔۔
آج میرا اسلامیات کا پرچہ تھا۔ اسلامیات کی کتاب بھی محض ایک دو مرتبہ ہی اٹھا کر دیکھی تھی۔ ماڈل پیپر سے معروضی یاد کی تھی اور بسسس۔۔۔لیکن مجھے امید تھی کہ یہ پرچہ اچھا ہو جائے گا۔
آج بھی ساڑھے آٹھ بجے سکول پہنچ گیا تھا اور حسب معمول امتحانی ہال کے باہر لڑکوں کا ہجوم تھا۔ کچھ طلبا درسی کتاب ہاتھ میں پکڑے رٹے مارنے میں مشغول تھے۔ یہ منظر دیکھ کر مجھے ہنسی آگئی تھی۔ پورا سال تھا لیکن پڑھنے کے لیے یہی وقت ملا؟
ایک بندہ تو تیس پینتیس برس کا تھا۔ اس کو میں نے کل بھی نوٹس کیا تھا اور مجھے خوشی ہوئی تھی کہ اس عمر میں بھی وہ پڑھائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ آج وہ بھی کتاب تھامے مشقوں پر نظر دوڑا رہا تھا۔
ایک اور لڑکا کتاب اٹھائے کھڑا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا کہ یہ جو اللہ کے صفاتی نام ہیں کیا یہ معروضی میں آئیں گے یا انشائیہ میں؟
اس نے بتایا کہ الگ سے نہیں آتے بلکہ معروضی میں ہی ہوتے ہیں۔( پرچے میں ایک بھی نام نہیں آیا تھا۔ میں نے بھی بیس ناموں کے معنی یاد کیے تھے)
بات سے بات نکلی تو وہ پوچھنے لگے کہ میں کون سے سکول سے آیا ہوں؟
سینٹر میں زیادہ تر طلبہ دوسرے اسکولوں سے آتے تھے اور پرائیویٹ امتحان دینے والے بہت کم تھے، آرٹس کے تو گنتی کے دو چار جن میں سے ایک میں خود تھا۔
میں نے بتایا کہ پرائیویٹ داخلہ بھیجا تھا اور گھر بیٹھ کر خود سے تیاری کی ہے۔ اب مجھے انگریزی اور ریاضی کے مضامین کی فکر ہے جو میں نے نہیں پڑھے لیکن اگر سپلی آگئی تو تیاری کرکے پرچے دے لوں گا۔
وہ لڑکا اور اس کے ساتھ موجود اس کا دوست بہت حیران ہوئے پھر ایک نے کہا کہ سپلی کا مت سوچو ورنہ سچ میں آ جائے گی۔
(لیکن میں تو حقیقت پسند ہوں۔)
جیسے ہی نوٹس بورڈ پر لسٹ لگی تو میں نے فٹافٹ قدم بڑھائے۔ آج پھر سے مجھے گیلری( برآمدے) میں بیٹھنا تھا۔ سبھی وہی لڑکے تھے جو مجھے پہلے پرچے کے وقت نظر آئے تھے۔ آج نگران ایک مولوی صاحب تھے۔ نقل والے نگران کا لڑکا چوں کہ اسی گیلری میں تھا تو وہ نگران بھاگتا ہوا ہال سے نکلا اور برآمدے میں چلا آیا۔ اس نے مولوی صاحب سے کہا کہ مجھے یہاں رہنا ہے آپ ہال میں چلے جائیں۔ وہ چپ چاپ چلے گئے جب کہ مجھے لڑکوں کی سرگوشیاں سن کر یہ معلوم ہوا تھا کہ یہ مولوی صاحب نرم مزاج کے ہیں اور لڑکے ان سے خوش ہیں لیکن اب ان کی جگہ وہی پہلے والا بندہ آگیا تھا۔ شکل و صورت سے تو وہ بھی مولوی ہی لگتا ہے مگر اس کے کام۔۔۔
خیر پہلے والے مولوی صاحب ہال سے واپس گیلری میں آگئے اور بتایا کہ مجھے سپرنٹینڈنٹ صاحب نے گیلری میں ہی نگرانی کرنے کو کہا ہے لہٰذا آپ واپس ہال میں چلے جائیں۔ وہ دونوں نگران میرے قریب ہی کھڑے تھے۔ نقل والے نگران نے سرگوشی کی کہ فلاں رول نمبر والے لڑکے کا خیال رکھنا ہے۔ اس نے کن اکھیوں سے اس لڑکے کی طرف اشارہ بھی کر دیا۔
لیکن الٹی ہوگئیں سب تدبیریں۔۔۔۔
ہوا کچھ یوں کہ ان دونوں کو ہی مختلف جگہوں پر بھیج دیا گیا اور گیلری میں ایک دوسرا نگران آگیا۔
مجھے اس لڑکے پر ترس آیا کہ بے چارہ رل گیا۔ قسمے اگر میں ریگولر سکول جاتا یا پھر کسی ٹیوٹر سے روزانہ پڑھتا تو امتحانات میں ضرور اچھی پوزیشن لے کر پاس ہوتا۔ یہ فکر ہی نہ ہوتی کہ مجھے کسی نگران کا سہارا لینا ہے یا دوسرے طلبہ کی نقل کرنی ہے۔
مگر ہائے ری قسمت۔۔۔پرچے سے ایک دو دن قبل کتابوں پر سرسری سی نظر ڈالنا اور پھر پرچے دینا مشکل بلکہ بہت مشکل کام ہے۔
آج جب دونوں پرچے ملے تو سوالات مجھے بالکل اجنبی لگے۔
کچھ دیر پہلے نائب سپرنٹینڈنٹ کہہ رہے تھے کہ اپنی رول نمبر سلپ پر دیکھیں کہ اسلامیات نیو لکھا ہے یا اولڈ، ہمارے پاس دو قسم کے پرچے ہیں۔
بعد میں جب میں نے اپنا پرچہ دیکھا تو مجھے لگا کہ یہ شاید غلط آگیا ہے۔ نائب سپرنٹینڈنٹ پھر ایک اور پرچہ لے آئے لیکن جب اس پر سورۃ الاحزاب لکھا دیکھا تو میں نے کہا کہ نہیں! یہ تو پرانے نصاب کا پرچہ ہے۔
خیر پھر میں نے اسی پر غور و خوض کیا اور پرچہ حل کرنے لگا۔ معروضی کے مجھے آٹھ جوابات یاد تھے اور دو کے بارے میں کنفیوز تھا کیوں کہ ان کا ذکر کتاب یا ماڈل پیپر میں نہیں آیا تھا۔
انشائیہ تو تھا ہی بالکل اجنبی سا۔۔۔یعنی کہہ سکتا ہوں کہ سوالات سارے غلط تھے، میں جواب کیا دیتا؟
اس پرچے میں نو سوالات میں سے چھ کے جوابات دینے تھے اور میں نے گن گن کر چھ چھ ہی جواب لکھے۔
پھر انشائیہ کا حصہ دوم تھا جس میں تین شخصیت کا ذکر تھا اور کسی دو پر مضامین لکھنے تھے۔ مجھے حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ یاد تھا سو انہی پر آدھے سے زیادہ صفحہ لکھ دیا۔
ایک حدیث کا ترجمہ لکھا۔
سود کے نقصانات کے بارے میں ایک تحریر لکھی اور قریباً ایک سوال کو چھوڑ کر باقی سب لکھ دیا تھا۔ پرچے کا وقت ختم ہونے میں دس منٹ باقی تھے اور نگران عین میرے سامنے بیٹھ گئے تھے۔ چند لڑکے باقی تھے زیادہ تر تو بہت پہلے ہی اپنی نشستیں چھوڑ چکے تھے۔ میں نے بھی دو مرتبہ اچھی طرح اپنی جوابی کاپی کا جائزہ لیا کہ کوئی چیز لکھنے سے رہ نہ گئی ہو پھر اپنی کاپی نگران کو دے کر گھر کی طرف روانہ ہوگیا۔
#محمداحمدرضاانصاری
#رودادایگزام
06/08/2025
آج یعنی بروز منگل 11 مارچ دو ہزار پچیس(2025ء) کو دسویں جماعت کا ترجمتہ القرآن کا پرچہ تھا۔ پرچے سے پہلے مجھے نیند تو آتی نہیں، پتا نہیں اتنی فکر کیوں لاحق ہو جاتی ہے۔۔۔
خیر! صبح جلدی بیدار ہو کر پرچے کی تیاری کی پھر خود تیار ہوا۔ چھوٹے بھائی کو نیند سے جگانے کی کوشش کی کہ مجھے ہائی سکول( امتحانی سینٹر)چھوڑ آؤ لیکن اس کی نیند گہری تھی اور اس نے یہ کہہ کر کروٹ بدل لی کہ آپ بائیک پر خود چلے جائیں۔
آٹھ بجکر کر بیس منٹ پر میں گھر سے نکل آیا اور آہستہ آہستہ موٹر سائیکل چلاتا ہوا سات یا آٹھ منٹ بعد گورنمنٹ بوائز ہائی سکول پہنچ گیا۔ موٹر سائیکل کو پارکنگ میں کھڑا کیا اور ٹوکن لے لیا۔ طلبا کا ہجوم وہاں موجود تھا۔ سپرنٹینڈنٹ اور نگران صاحبان غائب تھے اور ایک مالی لڑکوں کو ہال اور کمروں سے دور جانے کو کہہ رہا تھا کہ ابھی پرچے کا وقت نہیں ہوا لہٰذا ہال اور کمروں سے دور ہی رہو۔
پندرہ منٹ تک میں نے سکول کی عمارتوں کے شکستہ حصے،ٹنڈ منڈ درختوں، کھیل کا میدان، اسمبلی میں کھڑے سکول کے طلبا کو دیکھا۔ کچن گارڈننگ کے لیے قریب ہی زمین کا ایک ٹکڑا مختص تھا جس میں دھنیا پودینہ ٹائپ چند چیزیں نظر آئیں باقی چٹیل میدان سا تھا۔
میں نے ذرا دیر پہلے نوٹس بورڈ پر نظر ڈال لی تھی۔ آج دوسرا پرچہ ہال میں ہونا تھا۔ کچھ دیر بعد نگران آگئے اور ہمیں بھی ہال میں بلا لیا گیا۔ اپنے رول نمبر والی نشست پر بیٹھا تو بالکل سامنے دیوار پر ایک کیمرہ نظر آیا۔( ہماری باری کیمرے لگا دیے گئے، چنگا🙄)
تلاوت قرآن مجید کے بعد طلبہ کو جوابی شیٹ(آنسر شیٹ کو ہم ہر تحریر میں جوابی کاپی لکھیں گے) دی گئی جس کو میں نے اس مرتبہ زیادہ احتیاط سے پُر کیا۔
اس دوران دو نگران لڑکوں کی تلاشی لینے لگے۔ ایک بندہ پرانا ہی تھا جس کا پہلے ذکر کیا کہ وہ انگریزی کے پرچے کے دوران ایک لڑکے کو خصوصی طور پر نقل کروا رہا تھا۔ اس مرتبہ بھی اس نے ایسا ہی کیا تھا جبکہ ہال میں کیمرہ بھی لگا ہوا تھا۔ اس بات کا مجھے کیسے پتا چلا یہ میں آگے چل کر بتاؤں گا۔
خیر! وہ میرے پاس آیا اور تلاشی لینے لگا۔ پھر مجھے کہا کہ بٹوہ نکال کر دکھاؤ۔ میں نے جیب سے نکال دیا۔ مجھے پرانی کرنسی کا شوق ہے تو چند نوٹ میں نے اپنے بٹوے میں بھی رکھے ہوئے ہیں۔ان پیسوں کو دیکھ کر وہ ناٹے سے قد والا نگران زور زور سے بولنے لگا کہ واہ واہ۔۔۔بٹوے میں ڈالر ہی ڈالر رکھے ہوئے ہیں۔(لڑکے مڑ مڑ کر میری طرف دیکھنے لگے جیسے سچ میں میرے پاس ڈالر ہوں)
پھر اس نے مایوس ہو کر کہا کہ کچھ نہ کچھ تو آپ کی جیبوں سے نکلنا چاہیے تھا۔ مجھے اب اس کی بات پر غصہ آیا لیکن اس کی داڑھی اور ٹوپی دیکھ کر خاموش رہا۔ اس کا کام جو ہے وہ وہی کرے، طنز کرنے اور مذاق اڑانے کا اس کو حق کس نے دیا؟
چند منٹ بعد ہمارے ہاتھوں میں معروضی کا پرچہ آگیا۔ اس پر نظر ڈالی تو خوشی ہوئی کہ قریباً نو(9) سوالات کے جوابات مجھے معلوم تھے۔ میں نے ببل شیٹ پر خانے بھر دیے اور فوراً ہی انشائیہ کا پرچہ (بی) دے دیا گیا۔
آٹھ میں سے پانچ سوالوں کے جوابات لکھنے ہوتے ہیں لیکن میں تو ایک سرے سے شروع ہوگیا تھا اور پانچ جوابات لکھنے کے بعد یاد آیا کہ سارے نہیں لکھنے۔ افسوس بھی ہوا کہ مجھے آسان جوابات لکھنے چاہییں تھے لیکن اب تو کام تمام ہو چکا تھا۔
آٹھ عربی الفاظ کا ترجمہ کرنا تھا۔ جو مجھے یاد تھے میں نے پانچ الفاظ کے معنی لکھ دیے۔
پھر نیچے پانچ عربی جملوں میں سے تین کا اردو میں بامحاورہ ترجمہ کرنا تھا۔ اب عربی زبان سے تو کوئی شد بد نہیں اور میں نے پڑھا بھی بس ایک دو دن ہی تھا۔ تھوڑا بہت جو سمجھ آیا اس کا اردو ترجمہ لکھ دیا۔( کمی کوتاہی اللہ معاف کرے)
پھر حصہ دوم تھا جس میں دو سورتوں میں سے کسی ایک پر تفصیلی مضمون لکھنا تھا لیکن وہ مجھ سے نہیں ہو پایا اور میں نے اس حصے کو چھوڑ دیا۔
رول نمبر سلپ میں نے لکھنے کے دوران اپنی جوابی کاپی میں رکھ لی تھی۔ ایک نگران جو کچھ دور کھڑا تھا فٹافٹ میرے پاس آیا اور میری کاپی اٹھا کر دیکھنے لگا کہ اس کے اندر تم نے کیا رکھا ہے؟
میں نے کہا کہ سر! میری سلپ ہے۔
اس نے الٹ پلٹ کر دیکھی پھر مجھے دے دی۔
خیر میں نے پرچہ حل کیا پھر جوابی کاپی نگران کو دے کر ہال سے نکل آیا۔ پارکنگ میں آ کر فیس دی، بائیک لے کر کچھ دیر مارکیٹ میں گھوما اور چند کام کرنے کے بعد گھر آگیا۔
جس وقت اپنی جیب سے بٹوہ نکال کر دراز میں رکھنے لگا تو اچانک یاد آیا کہ میری رول نمبر سلپ تو وہیں ہال میں رہ گئی ہے۔ مجھے یکلخت بہت پریشانی ہوئی۔چھوٹا بھائی ابھی تک سویا ہوا تھا۔ اس کو کہا کہ میرے ساتھ چلو لیکن وہ نہیں اٹھا۔ پھر میں موٹر سائیکل لے کر واپس سکول پہنچا۔ گیارہ بجنے میں چند منٹ باقی تھے۔(پرچے کا وقت ختم ہونے والا تھا) ہال میں چند لڑکے ابھی تک پرچہ لے کر بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے نگران کو اپنا رول نمبر بتایا تو اس نے بنڈل میں سے میری جوابی کاپی مجھے نکال دی۔ تبھی وہی لڑکا وہاں جوابی کاپی دینے آگیا جس کو وہ نگران نقل کروا رہا تھا۔ دونوں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے۔
میں نے اپنی جوابی کاپی کو کھولا تو اندر میری سلپ رکھی ہوئی تھی۔ میں نے جھٹ سے اٹھا لی۔ تب تک وہ بھی باتوں سے فارغ ہوگئے تھے۔ میں نے نگران کو شکریہ کہا پھر واپس آگیا۔۔۔ مجھ سے آگے وہی لڑکا چلا جا رہا تھا۔ میرا دل تو کیا کہ اس سے پوچھوں یہ نگران تمھارا کوئی رشتہ دار ہے یا کسی کی سفارش کی ہوئی ہے جو ہر پرچے میں تمہیں جوابات بتاتا ہے؟
پھر میں نے سوچا ایسا نہ ہو وہ نگران خواہ مخواہ میرا دشمن بن جائے۔ وڑے پراں۔۔۔ سانوں کی۔۔۔
#رودادایگزام
#محمداحمدرضاانصاری
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Multan