Islam al Hadees

Islam al Hadees

Share

Islam Give a Big Lesson in Your life because if we walk the right track than we can't fall in fields☣

19/03/2026

Bismillah⭐🫂🍃

19/03/2026

Beshak 🙂‍↔️🤍🤍✅

19/03/2026

Beshak 💫🙂🫂⭐🍃✅

19/03/2026

Beshak 🤲✅🪐❤️‍🩹💕

19/03/2026

Beshak 💕✅

19/03/2026

🦋✅🫂🥰❤️‍🩹

19/03/2026

جو اللہ کو یاد کرتا ہے، اللہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتا۔

18/03/2026

عاجزی انسان کو بلند مقام دیتی ہے۔

18/03/2026

اللہ پر بھروسہ رکھیں، وہ ہر مشکل کو آسان کرنے والا ہے۔ 🤲

01/03/2026

💫❤️

01/03/2026

صحیح بخاری
کتاب: وحی کا بیان
باب: وحی کی ابتداء
حدیث نمبر: 4

ترجمہ:
ابن شہاب کہتے ہیں مجھ کو ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن نے جابر بن عبداللہ انصاری رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وحی کے رک جانے کے زمانے کے حالات بیان فرماتے ہوئے کہا کہ ایک روز میں چلا جا رہا تھا کہ اچانک میں نے آسمان کی طرف ایک آواز سنی اور میں نے اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس غار حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے بیچ میں ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے۔ میں اس سے ڈر گیا اور گھر آنے پر میں نے پھر کمبل اوڑھنے کی خواہش ظاہر کی۔ اس وقت اللہ پاک کی طرف سے یہ آیات نازل ہوئیں۔ اے لحاف اوڑھ کر لیٹنے والے! اٹھ کھڑا ہو اور لوگوں کو عذاب الٰہی سے ڈرا اور اپنے رب کی بڑائی بیان کر اور اپنے کپڑوں کو پاک صاف رکھ اور گندگی سے دور رہ۔ اس کے بعد وحی تیزی کے ساتھ پے در پے آنے لگی۔ اس حدیث کو یحییٰ بن بکیر کے علاوہ لیث بن سعد سے عبداللہ بن یوسف اور ابوصالح نے بھی روایت کیا ہے۔ اور عقیل کے علاوہ زہری سے ہلال بن رواد نے بھی روایت کیا ہے۔ یونس اور معمر نے اپنی روایت میں لفظ فواده کی جگہ بوادره نقل کیا ہے۔

01/03/2026

صحیح بخاری
کتاب: وحی کا بیان
باب: وحی کی ابتداء
حدیث نمبر: 3

ترجمہ:
ہم کو یحییٰ بن بکیر نے یہ حدیث بیان کی، وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث کی ہم کو لیث نے خبر دی، لیث عقیل سے روایت کرتے ہیں۔ عقیل ابن شہاب سے، وہ عروہ بن زبیر سے، وہ ام المؤمنین عائشہ (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے بتلایا کہ نبی کریم ﷺ پر وحی کا ابتدائی دور اچھے سچے پاکیزہ خوابوں سے شروع ہوا۔ آپ ﷺ خواب میں جو کچھ دیکھتے وہ صبح کی روشنی کی طرح صحیح اور سچا ثابت ہوتا۔ پھر من جانب قدرت آپ ﷺ تنہائی پسند ہوگئے اور آپ ﷺ نے غار حرا میں خلوت نشینی اختیار فرمائی اور کئی کئی دن اور رات وہاں مسلسل عبادت اور یاد الٰہی و ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ جب تک گھر آنے کو دل نہ چاہتا توشہ ہمراہ لیے ہوئے وہاں رہتے۔ توشہ ختم ہونے پر ہی اہلیہ محترمہ خدیجہ (رض) کے پاس تشریف لاتے اور کچھ توشہ ہمراہ لے کر پھر وہاں جا کر خلوت گزیں ہوجاتے، یہی طریقہ جاری رہا یہاں تک کہ آپ ﷺ پر حق منکشف ہوگیا اور آپ ﷺ غار حرا ہی میں قیام پذیر تھے کہ اچانک جبرائیل (علیہ السلام) آپ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے اور کہنے لگے کہ اے محمد ! پڑھو آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے کہا کہ میں پڑھنا نہیں جانتا، آپ ﷺ فرماتے ہیں کہ فرشتے نے مجھے پکڑ کر اتنے زور سے بھینچا کہ میری طاقت جواب دے گئی، پھر مجھے چھوڑ کر کہا کہ پڑھو، میں نے پھر وہی جواب دیا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ اس فرشتے نے مجھ کو نہایت ہی زور سے بھینچا کہ مجھ کو سخت تکلیف محسوس ہوئی، پھر اس نے کہا کہ پڑھ ! میں نے کہا کہ میں پڑھا ہوا نہیں ہوں۔ فرشتے نے تیسری بار مجھ کو پکڑا اور تیسری مرتبہ پھر مجھ کو بھینچا پھر مجھے چھوڑ دیا اور کہنے لگا کہ پڑھو اپنے رب کے نام کی مدد سے جس نے پیدا کیا اور انسان کو خون کی پھٹکی سے بنایا، پڑھو اور آپ کا رب بہت ہی مہربانیاں کرنے والا ہے۔ پس یہی آیتیں آپ ﷺ جبرائیل (علیہ السلام) سے سن کر اس حال میں غار حرا سے واپس ہوئے کہ آپ ﷺ کا دل اس انوکھے واقعہ سے کانپ رہا تھا۔ آپ ﷺ خدیجہ کے ہاں تشریف لائے اور فرمایا کہ مجھے کمبل اڑھا دو ، مجھے کمبل اڑھا دو ۔ لوگوں نے آپ ﷺ کو کمبل اڑھا دیا۔ جب آپ ﷺ کا ڈر جاتا رہا۔ تو آپ ﷺ نے اپنی زوجہ محترمہ خدیجہ (رض) کو تفصیل کے ساتھ یہ واقعہ سنایا اور فرمانے لگے کہ مجھ کو اب اپنی جان کا خوف ہوگیا ہے۔ آپ ﷺ کی اہلیہ محترمہ خدیجہ (رض) نے آپ ﷺ کی ڈھارس بندھائی اور کہا کہ آپ کا خیال صحیح نہیں ہے۔ اللہ کی قسم ! آپ کو اللہ کبھی رسوا نہیں کرے گا، آپ تو اخلاق فاضلہ کے مالک ہیں، آپ تو کنبہ پرور ہیں، بےکسوں کا بوجھ اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، مفلسوں کے لیے آپ کماتے ہیں، مہمان نوازی میں آپ بےمثال ہیں اور مشکل وقت میں آپ امر حق کا ساتھ دیتے ہیں۔ ایسے اوصاف حسنہ والا انسان یوں بےوقت ذلت و خواری کی موت نہیں پاسکتا۔ پھر مزید تسلی کے لیے خدیجہ (رض) آپ ﷺ کو ورقہ بن نوفل کے پاس لے گئیں، جو ان کے چچا زاد بھائی تھے اور زمانہ جاہلیت میں نصرانی مذہب اختیار کرچکے تھے اور عبرانی زبان کے کاتب تھے، چناچہ انجیل کو بھی حسب منشائے خداوندی عبرانی زبان میں لکھا کرتے تھے۔ (انجیل سریانی زبان میں نازل ہوئی تھی پھر اس کا ترجمہ عبرانی زبان میں ہوا۔ ورقہ اسی کو لکھتے تھے) وہ بہت بوڑھے ہوگئے تھے یہاں تک کہ ان کی بینائی بھی رخصت ہوچکی تھی۔ خدیجہ (رض) نے ان کے سامنے آپ ﷺ کے حالات بیان کیے اور کہا کہ اے چچا زاد بھائی ! اپنے بھتیجے (محمد ﷺ ) کی زبانی ذرا ان کی کیفیت سن لیجیئے وہ بولے کہ بھتیجے آپ نے جو کچھ دیکھا ہے، اس کی تفصیل سناؤ۔ چناچہ آپ ﷺ نے از اول تا آخر پورا واقعہ سنایا، جسے سن کر ورقہ بےاختیار ہو کر بول اٹھے کہ یہ تو وہی ناموس (معزز راز دان فرشتہ) ہے جسے اللہ نے موسیٰ (علیہ السلام) پر وحی دے کر بھیجا تھا۔ کاش، میں آپ کے اس عہد نبوت کے شروع ہونے پر جوان عمر ہوتا۔ کاش میں اس وقت تک زندہ رہتا جب کہ آپ کی قوم آپ کو اس شہر سے نکال دے گی۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ سن کر تعجب سے پوچھا کہ کیا وہ لوگ مجھ کو نکال دیں گے ؟ (حالانکہ میں تو ان میں صادق و امین و مقبول ہوں) ورقہ بولا ہاں یہ سب کچھ سچ ہے۔ مگر جو شخص بھی آپ کی طرح امر حق لے کر آیا لوگ اس کے دشمن ہی ہوگئے ہیں۔ اگر مجھے آپ کی نبوت کا وہ زمانہ مل جائے تو میں آپ کی پوری پوری مدد کروں گا۔ مگر ورقہ کچھ دنوں کے بعد انتقال کر گئے۔ پھر کچھ عرصہ تک وحی کی آمد موقوف رہی۔
Islam al Hadees

Want your business to be the top-listed Media Company in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Multan