Aibiz.Academy
Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Aibiz.Academy, Arts and entertainment, multan bosan Road, Multan.
well come from Tari muhbat
We say hello to the wonderful section of the Page: Poetry section:
Many thanks for joining the group ...
Well-respected Members See Our Page Visit Kur ... We hope you will enjoy the Page very much….
21/04/2025
ccdcdscsdcsd
اے جذبۂ دل گر میں چاہوں ہر چیز مقابل آ جائے
منزل کے لیے دو گام چلوں اور سامنے منزل آ جائے
اے دل کی لگی چل یوں ہی سہی چلتا تو ہوں ان کی محفل میں
اس وقت مجھے چونکا دینا جب رنگ پہ محفل آ جائے
اے رہبر کامل چلنے کو تیار تو ہوں پر یاد رہے
اس وقت مجھے بھٹکا دینا جب سامنے منزل آ جائے
ہاں یاد مجھے تم کر لینا آواز مجھے تم دے لینا
اس راہ محبت میں کوئی درپیش جو مشکل آ جائے
اب کیوں ڈھونڈوں وہ چشم کرم ہونے دے ستم بالائے ستم
میں چاہتا ہوں اے جذبۂ غم مشکل پس مشکل آ جائے
اس جذبۂ دل کے بارے میں اک مشورہ تم سے لیتا ہوں
اس وقت مجھے کیا لازم ہے جب تجھ پہ مرا دل آ جائے
اے برق تجلی کوندھ ذرا کیا مجھ کو بھی موسیٰ سمجھا ہے
میں طور نہیں جو جل جاؤں جو چاہے مقابل آ جائے
کشتی کو خدا پر چھوڑ بھی دے کشتی کا خدا خود حافظ ہے
مشکل تو نہیں ان موجوں میں بہتا ہوا ساحل آ جائے
محبت کی باتوں میں محبت کا دھوکہ ہے
وہ نادان سمجھنے پر دن رات روتا ہے
یہ تو کہنے کی باتیں ہیں ذرا محسوس کر کے دیکھو
سودا ایسا نہیں جو کہیں بازار میں بکتا ہے
مالی کو پھولوں پر پھولوں کو شبنم پر ناز ہوتا ہے
بس ننھے سے پودے کو گملے میں لگانا ہوتا ہے
محبت کی تلاش میں باہر نکلو ذرا دیکھو
کوئی بوتوں کو پوجتا ہے کوئی سجدوں میں گرتا ہے
محبت کر کے دیکھو پیغمبروں کی نسبت ہے
محبت میں فنا ہو کر وہی امر ہوتا ہے
کچھ نہ ایسا سوچنا تم کچھ نہ ایسا کہنا تم
جومنظور خدا ہو وہ ضرور ہوتا ہے
محبت کے وعدے محبت کی قسمیں بزم شام
کوئی پورا کرتا ہے کوئی مجبور ہوتا ہے
تیرا خیال تیری تمنا تک آ گیا
میں دل کو ڈھونڈھتا ہوا دنیا تک آ گیا
کیا اتنا بڑھ گیا مری تشنہ لبی کا شور
سیلاب دیکھنے مجھے صحرا تک آ گیا
لیکن خزاں کی نذر کیا آخری گلاب
ہر چند اس میں مجھ کو پسینہ تک آ گیا
آگے رہ فراق میں آنا ہے اور کیا
آنکھوں کے آگے آج اندھیرا تک آ گیا
کیا ارتقا پذیر ہے انسان کا ضمیر
رشتوں کو چھوڑ چھاڑ کے اشیاء تک آ گیا
لیکن کسی دریچے سے جھانکا نہ کوئی رات
سن کر مری پکار ستارہ تک آ گیا
یاد وہ عمر بھر رہے گا کیا...
دل اسی کام پر رہے گا کیا...
کیا بکھر کے رہیں گے خواب مرے...
آئنہ ٹوٹ کر رہے گا کیا...
کیا ہوا اب ادھر نہ آئے گی....
حبس یہ عمر بھر رہے گا کیا....
وہ جو اک شخص میرے اندر ہے...
میرے اندر ہی مر رہے گا کیا....
میں ہوا کی طرح ہوں آوارہ...
تو مرا ہم سفر رہے گا کیا..
نیند اڑتی رہے گی آنکھوں سے..
جشن یہ رات بھر رہے گا کیا....
جو عشق چاہتا ہے وہ ہونا نہیں ہے آج...
خود کو بحال کرنا ہے کھونا نہیں ہے آج
آنکھوں نے دیکھتے ہی اسے غل مچا دیا
طے تو یہی ہوا تھا کہ رونا نہیں ہے آج
یہ رات اہل ہجر کے خوابوں کی رات ہے
قصہ تمام کرنا ہے سونا نہیں ہے آج
جو اپنے گھر میں ہے وہ ہے بازار میں نہیں
ہونا کسی کا شہر میں ہونا نہیں ہے آج
پھر طفل دل ہے دولت دنیا پہ گریہ بار
اور میرے پاس کوئی کھلونا نہیں ہے آج
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Telephone
Website
Address
Multan Bosan Road
Multan
60000