Muhammad Amjad

Muhammad Amjad

Share

A Professional Short Story Writer, A Critical Thinker & A Social Worker.

01/05/2026

یکم مئی، عالمی یومِ مزدور 🧑‍🔧⛏️🧑‍🏭
آج یومِ مزدور ہے، دنیا بھر میں آج بڑے بڑے سكالر اور موٹیویشنل سپیکرز مختلف قسم کے پُر تکلف سیمینارز مِیں مزدور کے نام پر چند منٹوں کی بڑی بڑی پر جوش تقریریں کر کے لاکھوں روپے کمائیں گے جب کہ سڑک کنارے موجود ایک پچاس، ساٹھ سالہ سفید ریش مزدور جو ہاتھ میں اوزار لئے اس امید پے کھڑا ہے کہ شاید کوئی کام ملے اور شام کو کچھ روپے کی روٹی دال گھر لے جائے تاکہ وه اپنا اور اپنی چھ بیٹیوں کا ایک وقت کا کھانا پورا کرسکے، اور باقی دنیا گھر بیٹھ کر مزدور کے نام کی چھٹی مناسکے

امجد علی

🙏🏼🍁🍂

17/12/2025

مُلتان نامہ دُھند نامہ
قسط 03

مین روڈ سے منسلک سٹریٹ سے گزرتے ہوئے معمول کے مطابق کچھ لوگ وہاں پھر رہے تھے جن میں کچھ وہ لوگ تھے جو کہ اس گلی میں واقع ہسپتال میں آۓ ہوئے تھے اور باقی رکشہ ڈرائیور تھے. رات کے وقت Mall of Multan کے سروس روڈ کے شمال اور جنوب کی جانب لمبی قطاریں ہوتی ہیں۔ اس دن شدید دھند کی وجہ سے رش کافی کم تھا۔ اور وہاں پر دن رات چھوٹے چھوٹے بچے گدا گری کرتے نظر آتے ہیں۔ ننھے پھول ہاتھوں میں پھول لئے ننگے پاؤں دسمبر کی یخ بستہ راتوں میں Mall of Multan اور اس ایریا میں موجود مختلف ہوٹلوں، پان شاپس اور قہوه خانوں کے اردگرد پھر رہے ہوتے ہیں۔ کچھ لوگ ان کو پیسے دے کر پھول لے لیتے ہیں اور کچھ محض پیسے دے دیتے ہیں۔
اس رات چھوٹے بچے وہاں پر نہیں تھے ۔ دو چھوٹی لڑکیاں وہاں موجود تھیں جو کہ کوڑے کے ڈھیر کو آگ لگا کر اس پر ہاتھ سینک رہی تھیں۔ میں نے ان کو سرائیکی زبان میں کہا " اؤ تساں گھر کیو نئی ویندے اِنی ٹھنڈ پوندی ہے" ( تم گھر کیوں نہیں جاتی' اتنی سردی پڑ رہی ہے) تو ان دونوں نے ایک ساتھ جواب دیا " ایہو ساڈہ گھر اے اساں ساری رات اتھاں ہی گز ریسُوں" ( یہی ہمارا گھر ہے، ہم ساری رات یہی گزاریں گے)
روٹی سب سے بڑا مذہب ہے اور بھوک سب سے بڑی بیماری۔ دسمبر کی خون جما دینے والی سردی میں کسی کی بیٹیاں آدھی رات کو اکیلی سڑکوں پر بھیک مانگ رہی تھیں۔
وہ بھی تو کسی کی بیٹیاں تھی، پیٹ کی آگ بجھانے کےلئے وہ دسمبر کی ٹھنڈ میں در بدر گھوم رہی تھیں۔
میں آہستہ آہسته چلتے ہوئے Mall of Multan کو کراس کرتے ہوئے لوگوں کو Mall کے اندر اور بہار آتے جاتے دیکھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ روزانہ سینکڑوں لوگ اپنے بيوی بچوں سمیت یہاں آتے ہیں اور لاکھوں روپوں کی شاپنگ کر کے جاتے ہیں اور وہیں اسی مال کے سامنے بہت سارے بچے اور خواتین اللّه کے نام پر مانگتے نظر آتے ہیں۔ اور وہ لوگ جو بڑی بڑی گاڑیوں میں آتے ہیں اور لاکھوں کی شاپنگ کرتے ہیں لیکن جب اللّه کے نام پر دینے کی بات ہو تو ان چھوٹے بچوں کو ڈانٹ کر دھتکارتے ہیں اور اپنی گاڑی سے دور کردیتے ہیں۔ ایک بات تو صاف ظاہر ہے کہ جنہوں نے بھوک کو صرف کتابوں مں پڑھا ہو اور مفلسی کو صرف کھڑکی سے دیکھا ہو تو وہ کسی غریب کی مشکلات کو کیسے سمجھ سکتے ہیں
میں آہستہ آہستہ آگے بڑھ رہا تھا تھوڑی ہی دیر میں شالیمار کالونی اسٹاپ کا میٹرو سٹیشن آیا جہاں سے کچھ نوجوان لڑکے لڑکیاں میٹرو کی سیڑھیوں سے اتر رہے تھے اور کچھ اگلے اسٹاپ پر جانے کےلئے آٹومیٹک سیڑھیوں سے واپس جارہے تھے اور کچھ نوکری دار دیہاڑی دار طبقہ بھی میٹرو سے اپنے گھروں کو واپس جارہا تھا۔
جاری ہے ۔۔۔
ملتان نامہ، دھند نامہ
قسط 03
محمد امجد

24/11/2025

زندگی کی چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو پانے کی خاطر اپنا آپ گنوا دیا💔،
زندگی کا ایک بہت لمبا سفر طے کیا ہے یار اور اب پتا چلا کہ یہ تو ہماری منزل ہی نہیں ہے 🙂 اور اب اس مقام پر ہوں کہ اب کوئی خواہش باقی نہیں ہے لیکن امید ابھی باقی ہے۔۔۔

محمد امجد
🙏🏻🍁

07/11/2025

ہماری کہانی میں موجود ان کرداروں کا بھی بہت بہت شکریہ جنہوں نے کچھ پل کےلئے ہی سہی لیکن ہمیں یہ احساس دلایا کہ ہم بھی قابل محبت ہیں 🥰
اور ان سب کا بھی جن کے نزدیک ہم سب سے زیادہ قابل نفرت ٹھہرے 🙂
محمد امجد
لا حاصل 🥀❤️‍🩹...

15/08/2025

🙏🏻🙂❤️‍🩹 شب بخیر

23/07/2025

زندگی کی شام
قسط 02

ڈرائیور امین نے جیسے ہی ٹائر کی حالت دیکھی تو بالکل ساکت ہوگیا گویا پتھر کا ہوگیا ہو اور کیوں نا ہوتا اس کی روزی کا واحد سہارا اس کی وہ کار ہی تھی جس کا ایک ٹائر بلکل تباہ ہو چکا تھا اور وہ اس دکھ میں مسلسل اپنا سر پیٹ رہا تھا کیوں کہ اس کو پتا تھا کہ ایک ٹائر کم سے کم 10 ہزار کا تھا اور یہ تو اسکی 1 ہفتے سے بھی زیادہ کی کمائی ہے۔
ادھر دوسری طرف جمیلہ کی ساس اور سسر نے جب دیکھا کہ گاڑی اب مزید آگے نہیں جاسکتی تو وہ مزيد پریشان ہوگئے ، اب یہ لمحہ بہت خوف ناک تھا۔
سردیوں کی اندھیری رات، لہو کو جما دینے والی تیز رفتار سے چلتی ہوئی ٹھنڈی ہوا، خراب گاڑی اور خراب گاڑی کے اندر موجود وہ خاتون جو اپنی اور اپنے بچے کے بقاء کی جنگ لڑ رہی تھی اور سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے بے یارو مدد گار و بے بس ایک خاندان کے 4 لوگ اور اپنی قسمت کو کوستا ہوا ڈرائیور استاد امین۔
یقیناً وہ سب کچھ نہیں ہوتا جو ہماری چاہت ہے اور وہی ہوتا ہے جو خدا کی چاہت ہے اور جو خدا کی چاہت ہے وہی اچھی چاہت ہے، لیکن ہماری نظر میں بعض اوقات ان حادثوں کو اس وقت نہیں ہونا چاہیے جب ان کے ہونے کی بالکل بھی ضرورت نہیں ہوتی خاص طور پر جن حادثوں میں کسی کی زندگی کے بچنے یا ختم ہونے کا امکان ہو۔
اس سے پہلے کہ صورتحال مزيد خراب ہوتی جمیلہ کے سسر نے ڈرائیور سے کہا کہ کیا گاڑی میں کوئی اور ٹائر موجود ہے تو استاد امین نے اثبات میں سر ہلایا۔
اب ہسپتال پہنچنے کی دو ہی صورتیں تھی کہ یا تو وہ لوگ ایک اور گاڑی سے ہسپتال پہنچ جائیں لیکن اس میں بھی ایک دقت یہ تھی کہ اب رات کو ان کو ایک اور گاڑی اتنی جلدی کہاں سے ملتی اور اگر مل بھی جاتی تو اتنی جلدی وہ اس جگہ تک نہیں پہنچ سکتی تھی اور دوسری صورت یہ تھی کہ گاڑی میں موجود دوسرے ٹائر کو لگا کر جلدی سے جلدی ہسپتال پہنچا جائے، تو طے یہ ہوا کہ جلدی سے دوسرا ٹائر لگا کر گاڑی کو ہسپتال لےجایا جائے ، ادھر جمیلہ جو ابھی تک گاڑی میں موجود تھی اور مسلسل درد کی وجہ سے وہ زور زور سے رو رہی تھی اور اسکی چیخیں راہ چلتے مسافروں اور پاس سے گزرتی ہوئی گاڑیوں میں موجود مسافروں کو صاف سنائی دے رہیں تھیں۔
لیکن اس وقت جو سب سے مسلہ درکار تھا وہ یہ تھا کہ اب جمیلہ کو اس حالت میں گاڑی سے باہر نکال کر پھر ٹائر کو تبدیل کیا جانا تھا لیکن اس کو اس حالت میں اس ویرانے میں گاڑی سے باہر کیسے نکالیں اور کہاں بیٹھائیں؟
پریشانی پر پریشانی مصیبت تھی کہ بڑھتی جارہی تھی، اتنے میں عابد نے تھوڑے فاصلے پر موجود چاۓ خانے کو دیکھا اور فوراً اس چھوٹے سے ہوٹل کی طرف چل پڑا، سردی زیادہ ہونے کی وجہ سے اور رات ہوجانے کی وجہ سے رش بالکل بھی نہیں تھا وہاں پر بس ایک 45 سال کے لگ بھگ عمر کا ایک شخص گل خان پٹھان موجود تھا جو کہ اس چھوٹے سے ہوٹل کا واحد مالک تھا۔ اس نے جب عابد کو اپنے ہوٹل کی طرف آتے دیکھا تو اس نے فوراً اٹھ کر ریڈیو کی آواز کم کر دی اور بڑے گرم جوشی سے عابد کو سلام کیا عابد نے سلام کا جواب دینے کے فوراً بعد بغیر کسی توقف کے گل خان کو سارا ماجرا سنایا اور اس سے کہا کہ اگر آپ اپنے ہوٹل میں موجود کرسیاں ہمیں دے دیں تو، ابھی عابد کی بات مکمل نا ہونے پائی تھی کہ گل خان نے جلدی سے دو کرسیاں اٹھائی اور عابد سے بھی کہا کہ تم بھی دو کرسی اٹھا لو، تھوڑی دیر کے اندر عابد اور گل خان کرسیاں لے کر گاڑی کے قريب پہنچ گیا۔
جمیلہ کی ساس اور سسر نے جلدی سے جمیلہ کو گاڑی سے نکال کر ان کرسیوں پر بٹھانے کی کوشش کی لیکن جمیلہ اس پوزیشن میں نہیں تھی کہ وہ اپنی طاقت کی بناء پر اپنے آپ کو گاڑی سے نکال کر ان کرسیوں پر بٹھا سکتی، اب اس کو گاڑی سے نکالنے میں بھی کافی دقت تھی اس موقعے پر اب عابد کو اور جمیلہ کی ساس اور سسر کو ایک ساتھ زور لگا کر جمیلہ کو کار سے اٹھا کر ان کرسیوں پر بٹھانا تھا لہذا ایک جانب سے عابد اور دوسری جانب جمیلہ کا سسر اور پشت کی جانب سے جمیلہ کی ساس نے جمیلہ کو اٹھایا اور پاس پڑی ہوئی کرسی پر بٹھایا، جمیلہ کو کار سے نکال کر کرسیوں پر بٹھاتے ہوئے جمیلہ کی آنکھیں مکمل بند تھیں اس کے کھلے بال پورے چہرے پر بکھرے ہوئے تھے اور وہ ڈوپٹہ جس کو اس نے کبھی بھی اپنے جسم پر سے الگ نہیں کیا تھا اب کی بار وہ اس کے سر پر نہیں تھا اور تیز رفتار ہوا کی وجہ سے اس کے کپڑے اس کے جسم سے ہٹ رہے تھے جس کی وجہ سے نا چاہتے ہوئے بھی اس کی بے پردگی ہورہی تھی لیکن اس لمحے وہ اس سب سے بےخبر تھی کیوں کہ وہ اس وقت محض ایک زندہ لاش تھی۔

جاری ہے ۔۔۔
زندگی کی شام
قسط 02
محمد امجد
🙏🏻🍁🍂

Abiha Zainab Meadow Meaow
اس گروپ میں میری یہ والی قسط اپروو نہیں کی گئی اسلئے آپ کو یہاں مینشن کیا گیا ہے 🥰🙏🏻

18/07/2025

مجھے افسوس ہے اس شخص پر کہ جس نے لفظ ڈپریشن ایجاد کیا ہے،
کیا اتنا ہی آسان ہے کسی کی شدید ذہنی کیفیت اور پریشانی کو ایک لفظ میں بیان کرنا،
آپ ایک انسان کی اذیت کو کیسے دو ٹکے کے لفظ میں بیان کر سکتے ہیں ،
کیا آپ وہ سب کچھ برداشت کرسکتے ہے جو ایک 20 یا 21 سال کی لڑکی برداشت کر رہی ہے اپنی جسمانی صحت اور ذہنی اذیت دونوں سے دو چار، اور سب سے بڑھ کر اسکا کوئی دوست نہیں ہے اس کے پاس سر رکھنے کو كندها نہیں ہے اور دکھ بانٹنے کو سہیلی بھی نہیں،
اور جب وہ اپنوں کی ہمدردی چاہتی ہے تو ان سب کے چہرے بھی انکار اور حقارت کی صورت میں اسکا منہ چڑا رہے ہوتے ہیں،
یا اس لڑکے کا دکھ تم کیسے سمجھ سکو گے جو جوان ہونے کے باوجود اپنے بوڑھے کمزور اور بیمار باپ کا سہارا نا بن سکا،
اسکی بڑی بہن غریبی کی وجہ سے گھر بیٹھی بوڑھی ہوگئی اور گھر کی بڑھتی پریشانیوں کی وجہ سے ذہنی مریضہ بن کر رہ گئی،
اور تم کیسے سمجھ پاؤں گے اس ماں کا دکھ کہ جس کا جوان اکلوتا خوبصورت بیٹا بستر مرگ پر اپنے آخری دن گن رہا ہے اور وہ سوائے تڑپنے کے اور کر بھی کیا سکتی ہے۔۔۔
اتنا آسان نہیں ہوتا کسی دوسرے کے دکھوں کو ترازو میں تولنا، جب تک خود پر نا بیتے تب تک احساس نہیں ہوتا،
جب خود پر بيتتی ہے تو پھر کانٹا بھی تلوار لگتا ہے، پھر واقعی احساس ہوتا ہے جب خود کا ذھن شدت اختیار کرتا ہے۔۔
محمد امجد
🙏🏻🍁🌼

10/03/2025

انشاءﷲ 🥰

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Multan
60000