Deep Words

Deep Words

Share

Our goal is to convey good words and deep words to your people. So please like and share our page Thx

13/01/2026

ھم کتنے ڈیڑھ ہوشیار ہیں!!

شیدا اور میدا آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ایک محلے میں ہم شیدے کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کرے رہے ہیں اور
دوسرے محلے میں ہم میدے کو اسلحہ بیچ رہے ہیں۔

جبکہ شیدا اور میدا چاچے چالباز کی مرضی کے بنا کچھ بھی نہیں کرتے

ہمارے ڈرامے ڈالر کی تلاش کی پچھلی دو قسطیں بہت مزیدار تھیں۔ ایک قسط میں ہم لیبیا میں جنرل حفتر کی ملیشیا کے ساتھ ہتھیاروں کی سپلائی کے مذکرات اور معاہدے کرتے پائے گے۔ جنرل حفتر کی پشت پناہی ہمارا دیرینہ دوست یو اے کر رہا ہے۔ شاید جو اس کے ساتھ جو چار ارب ڈالر کا معاہدہ ہوا اس کے پیسے بھی یو اے ای ہی ادا کرتا۔ جب کہ جنرل حفتر جس حکومت کے ساتھ لڑ رہا ہے اس کی سپورٹ اور پشت پناہی ہمارا سرپرست اعلیٰ سعودی عرب کر رہا ہے۔
مگر ڈرامے کی اگلی قسط میں ایک نیا ٹوئسٹ سامنے آیا۔ اس ٹوئسٹ میں ہم نے سوڈان کی فوج کے ساتھ اسلحے کی سپلائی کا معاہدہ کر لیا۔ اب سوڈان کی فوج کو سپورٹ سعودی عرب کر رہا ہے اور وہ یہ اسلحہ جس گروپ کے خلاف استعمال کرے گی اس کا نام آر ایس ایف ہے اور اس کی فنڈنگ ہمارا وہی پیارا دوست یو اے ای کر رہا ہے۔
گویا شیدا اور میدا آپس میں لڑ رہے ہیں ۔ ایک محلے میں ہم شیدے کو اسلحہ فراہم کرنے کے معاہدے کرے رہے ہیں اور دوسرے محلے میں ہم میدے کو اسلحہ بیچ رہے ہیں۔ معلوم نہیں اب تک یہ بات ہمارے بیلنسنگ ایکٹ والے دانشور بھائیوں کے ہتھے نہیں چڑھی یا ان کی سمجھ میں نہیں آئی ورنہ اب تک اس متوازن خارجہ حکمت علمی یا کامیاب بیلنسنگ ایکٹ کی مدح میں دو چار پوسٹیں تو دھانس ہی چکے ہوتے۔
جبکہ دوسری طرف ہماری عام سی سمجھ بوجھ میں یہ بات آتی ہے کہ جب میدے یعنی سعودی عرب کو معلوم ہوا کہ ہم نے تو لیبیا میں ان کی مخالف پراکسی جنرل حفتر کے ساتھ چار ارب ڈالر اسلحے کا معاہدہ کھڑکا دیا ہے تو انہوں نے ہماری گجی مروڑی کہ یہ کیا ہو رہا ہے بھائی یہ کیا ہو رہا ہے۔ اب ہم یو اے ای کے بہت احسان مند ہیں مگر سعودی عرب کی تو بات اور ہے اور ان کا کہا ٹالنا مشکل ہے تو اب ہم شاید جنرل حفتر والے معاہدے سے پیچھے ہٹیں اور اس نقصان کو پورا کرنے کے لیئے سعودی عرب نے ہمیں شاید سوڈان کی فوج کے ساتھ ڈیڑھ دو ارب ڈالر کے معاہدے کے ذریعے کمپینسیٹ کیا ہے۔ کیونکہ سوڈان جیسے ملک کی فوج کے پاس ان حالات میں اربوں ڈالر کا اسلحہ خریدنے کے وسائل کہاں سے آئے؟
اور ایک وائلڈ گیس یہ بھی ہو سکتا ہے کہ جو ایک ارب ڈالر کے یو اے ای کو فوجی فاؤنڈیشن کے شیئر دیئے گئے ہیں ان کا تعلق بھی کہیں نہ کہیں اسی لیبیا والے معاہدے کی منسوخی سے ہے۔ کیونکہ شیخ محمد کا دو گھنٹے کا ائیر پورٹی دورہ بھی کچھ سمجھ میں آنے والا نہیں تھا ۔
ہو سکتا ہے ہمارے کچھ دوست اسے حفاظان ملت کی عظیم سفارتی کامیابی کی دلیل قرار دیں مگر میرے خیال میں تو ان دونوں معاہدوں کا ایک ساتھ چلنا نا ممکن ہے۔ کیوں کہ یہ دو انتہائی متصادم اور متحارب مفاداتی گروہوں کے ساتھ کیئے گئے ہیں اور یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ شیدے اور میدے دونوں، جو کہ ایک دوسرے کی جان لینے پر تلے ہوئے ہیں، کو ایک ساتھ خوش رکھ سکیں۔
یہ چمکتار پرانی فلموں میں ویمپ دکھاتی تھی جب وہ دو تین لوگوں کو ایک ساتھ چکر دے رہی ہوتی تھی مگر اسں کا بھی بھانڈا بیچ چوراہے میں پھوٹتا تھا اور وہ دونوں پارٹیوں کے ہاتھوں ذلیل ہوتی تھی ۔ مجھے لگتا ہے ہماری ویمپ کو بھی ایک عاشق منتخب کرنے کا سخت آپشن دے دیا گیا ہے۔

13/01/2026

اگر آپ ابھی بھی اس غلط فہمی میں ہیں کہ دنیا ذکراذکار، نمازوں کی تعداد، چلوں کی کثرت،
خانقاہوں کے اضافوں اور مدارس کی بہتات کے نتیجے میں آپ کے اختیار اور اقتدار میں آجائے گی تو آپ احمقوں کی جنت میں رہتے ہیں اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ دنیا کی جدید ٹیکنالوجی کے حصول، معاشی بےفکری اور محض جدید لائف اسٹائل حاصل کرنے کے نتیجے میں یہ دنیا آپ کے لیے مسخر ہوجائے گی تو آپ تب بھی کسی خام خیالی میں مبتلا ہیں۔
آج یورپ جیسا پورا کانٹینٹ جو ٹیکنالوجی اور لائف اسٹائل میں سب سے آگے ہے اس کی ہوا امریکا سے خراب ہے، مسلمانوں کے دین و ایمان کی واحد وحدت مکہ و مدینہ کی حکومت پر موت کا سا سکتہ طاری ہے کیونکہ یہ دنیا نہ ٹیکنالوجی سےچلتی ہے اور نہ ہی مذہبی شدت پسندی سے یہ سب بائی پروڈکٹس تو ہوسکتے ہیں مگر آپ کو دنیا کا اختیار اور اقتدار ان بنیادوں پر نہیں ملتا ہے۔
اگر آپ کا مائنڈ سیٹ دنیا پر حکومت کرنے کا ہے، اقتدار کو بڑھ کر چھین لینے کا ہے اور دنیا میں واقعتا اقتدار قائم کرنے کا ہے تو پھر آپ خود بخود یہ سب حاصل کرنے کی فکر میں لگ جائیں گے ، مسلمانوں کو اور اسلام کے چاہنے والوں کو ایک بڑی غلط فہمی یہ ہے کہ ابلیس ہمارا مذہبی دشمن ہے جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے ابلیس ہمارا مذہبی نہیں بلکہ سیاسی دشمن ہے وہ اس دنیا کا اقتدار حاصل کرنا چاہتا تھا مگر خدا نے آدم کو خلیفہ بنا کر اس کے اس خواب کو چکنا چور کردیا۔
اگر اس نے خدا سے مہلت مانگی ہے تو محض اس بات کے لیے نہیں کہ وہ انسانوں کو نماز، روزے اور حج، زکوۃ سے روکے گا بلکہ اس لیے مانگی ہے کہ وہ دنیا کے وسائل کو مخلوقِ خدا کے لیے مسخر کردینے کے بجائے اپنے ہی چیلوں کو اس پر قابض رکھے گا تاکہ دنیا ظلم و جور سے اٹ جائے، انسانیت سسک سسک کر مرجائے اور عدل و انصاف کے بجائے دنیا کے طاغوت اس پر براجمان رہیں، وہ ایڑی چوٹی کا زور لگائے گا کہ کسی طرح دنیا کے یہ وسائل اور اقتدار خدا کے حقیقی خلیفہ کے پاس نہ چلا جائے جبکہ بطورِ مسلمان ہمارا کام یہ سوچنا تھا کہ کس طرح خدا کے اقتدار کو اس کی زمین پر غالب کیا جائے تاکہ انسانیت سکھ کا سانس لے، عدل و انصاف کا بول بالا ہو اور بندوں کو بندوں کی غلامی سے نکال کر اللہ کی حاکمیت میں دیا جائے۔
مگر آپ اس امت کی بدقسمتی ملاحظہ کیجیے یہ اس خدا کا اقتدار قائم کرنے کے بجائے جس کو یہ صبح شام کم از کم 5 بار بڑا مانتے ہوئے اس کے آگے جسمانی طور پر جھکتےہیں مگر دل اور دماغ تو دنیا کے طاغوتوں کے آگے ہر وقت جھکا رہتا ہے اور اگر آج امریکا جیسا طاغوت غالب ہے تو پوری امت کا قبلہ حقیقی معنوں میں وہی ہے اور آپ یقین جانیے کل اگر روس یا چین دنیا پر غالب آجائیں گے تو یہ ان کو خدا مان کر وہاں سجدہ ریز ہوجائیں گے مگر خدا کی حاکمیت کو غالب کرنے اور اس کے اقتدار کو بڑا بنانے کے لیے یہ کبھی اپنی صلاحیتیں اور وسائل کام میں نہیں لائیں گے۔
پھر ہم چاہے ٹیکنالوجی میں آگے ہوں یا معاش میں ہم ہر حال میں ذلیل و رسوا ہی رہیں گے کیونکہ ہم جس کام کے لیے امتِ وسط بنا کر بھیجے گئے تھے وہ دنیا کے طاغوتوں کی لڑائی میں کس کو بڑا تسلیم کرنا نہیں تھا بلکہ ان کے مقابلے میں ایک نیا نظام دنیا کو دینا تھا لیکن حد تو یہ ہے کہ جس وقت مسلمان ٹیکنالوجی اور معاش میں سب سے آگے تھے وہی ان کے زوال کا زمانہ تھا کیونکہ مائنڈ سیٹ خدا کے اقتدار کو غالب کرنے کے بجائے خود کمفرٹ زون میں رہنا بن چکا تھا۔
اسی لیے اقبال نے ابلیس کی مجلسِ شوری میں سب کچھ بیان کردیا ہے کہ جن کو اس بساط کو ہی پلٹنا تھا وہ طاغوت کی بچھائی ہوئی بساط پر اسی کا مہرہ بن کر اس تماشے کا حصہ ہیں تو یہ بھلا دنیا میں کیا تبدیلی لا پائیں گے ؟

Photos from Deep Words's post 08/01/2026

‏قیامت کی ٹیکنالوجی

سائنس نے 1400 سال بعد قرآن کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے.

کیا ہم غلط عضو (Organ) سے سوچ رہے ہیں؟

بات صرف دماغ (Brain) تک محدود نہیں ہے، کہانی اس سے کہیں زیادہ گہری ہے۔

جدید سائنس نے ابھی حال ہی میں نیورو کارڈیالوجی دریافت کی ہے۔

ڈاکٹرز حیران ہیں کہ انسانی دل میں بھی 40,000 سے زائد نیورونز (Neurons) ہیں

یعنی دماغ کے سیلز

سائنسدان اب کہہ رہے ہیں کہ دل صرف خون پمپ کرنے والی موٹر نہیں، بلکہ یہ سوچتا ہے، محسوس کرتا ہے اور فیصلے لیتا ہے۔

اب ذرا 1400 سال پیچھے مڑ کر دیکھو

قرآن نے دماغ کا ذکر نہیں کیا، بلکہ بار بار "دل" کو سمجھنے کا مرکز کہا

"لَهُمْ قُلُوبٌ لَّا يَفْقَهُونَ بِهَا"

(ان کے پاس دل ہیں لیکن وہ ان سے سمجھتے نہیں ہیں۔)

(القرآن، الاعراف: 179)

ہمارے لبرل دوست مذاق اڑاتے تھے کہ دل تو صرف پمپ ہے، سوچتا تو دماغ ہے

آج وہی گورے سائنسدان بتا رہے ہیں کہ دل کی "الیکٹرومیگنیٹک فیلڈ" دماغ کے مقابلے میں 5000 گنا زیادہ طاقتور ہے

جب آپ کا دل ذکر کرتا ہے یا کسی کے لیے نفرت پالتا ہے، تو یہ ایک ایسی مقناطیسی لہر (Magnetic Wave) چھوڑتا ہے جو کئی فٹ دور کھڑے انسان کو بھی متاثر کرتی ہے۔

یہی وہ روحانی وائی فائی ہے جسے مومن کی فراست کہا جاتا ہے۔

اگر آپ سمجھتے ہیں کہ آپ کی سوچ صرف ہوا میں غائب ہو جاتی ہے، تو جاپانی سائنسدان ڈاکٹر مسارو ایموٹو کی تحقیق پڑھ لیں

اس نے ثابت کیا کہ پانی کی یادداشت ہوتی ہے۔

اگر پانی پر اچھی بات (Good Intentions) بولی جائے، تو مائیکروسکوپ کے نیچے اس کے کرسٹلز ہیرے جیسے خوبصورت بن جاتے ہیں۔

اور اگر پانی کو گالیاں دی جائیں یا بری نیت سے دیکھا جائے، تو اس کی شکل بگڑ کر بدصورت ہو جاتی ہے۔

اب سمجھ آیا کہ ہم بیمار پر پانی دم کیوں کرتے ہیں؟

یا زمزم میں شفاء کیوں ہے؟

انسانی جسم 70 فیصد پانی ہے۔ جب آپ اپنے بارے میں یا دوسروں کے بارے میں منفی سوچ رکھتے ہیں، تو دراصل آپ اپنے جسم کے پانی کا مالیکیولر سٹرکچر تباہ کر رہے ہوتے ہیں۔

حسد اور کینہ صرف گناہ نہیں، یہ سیلف ڈسٹرکشن کا بٹن ہے جو آپ خود دباتے ہیں۔

اب میں آپ کے سامنے وہ حقیقت رکھنے جا رہی ہوں جسے سن کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ہماری سوچ ہماری ذاتی ملکیت ہے اور ہمارے دماغ کے اندر محفوظ ہے۔

نا جی

غلط! سراسر غلط!

سائنٹسٹ نکولا ٹیسلا نے 1933ء میں کہا تھا کہ انسان کے خیالات دراصل انرجی ہیں اور انہیں تصویر میں بدلا جا سکتا ہے۔ سائنس اس بات کو تسلیم کر رہی ہے کہ دماغ کے الیکٹریکل سگنلز کو ڈی کوڈ کیا جا سکتا ہے۔

لیکن ہم ابھی تک اسکولوں میں نیوٹن کے سیب گرنے کی کہانی پڑھ رہے ہیں، جبکہ مغرب ایسی مشین بنا رہا ہے جو آپ کے دماغ کو اسکین کر کے آپ کے خیالات کو اسکرین پر دکھا دے گا

آئیے دیکھتے ہیں کہ قرآن اور حدیث نے 1400 سال پہلے اس تھوٹ ٹیکنالوجی کے بارے میں کیا کہا تھا

رسول اللہ ﷺ کی مشہور ترین حدیث ہے

"إِنَّمَا الْأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ"

(اعمال کا دارومدار نیتوں پر ہے۔)

(صحیح بخاری: 1)

ہم نے اسے صرف ایک اخلاقی جملہ سمجھا

لیکن ٹیسلا کی تھیوری کی روشنی میں دیکھیں تو یہ کوانٹم فزکس ہے۔

عمل مادی دنیا (Physical World) ہے۔

نیت (Intention/Thought) یہ فریکوئنسی (Frequency/Energy) ہے۔

ٹیسلا کہتا ہے کہ خیال ایک انرجی ہے۔

جب آپ کوئی نیت کرتے ہیں، تو آپ کے دماغ سے ایک خاص ویو لینتھ (Wavelength) نکلتی ہے۔

اگر آپ کا عمل بہت بڑا ہو لیکن اس کے پیچھے نیت کمزور یا گندی ہو، تو کائنات میں اس کا وزن نہیں ہوتا۔

یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے دلوں (خیالات کے مرکز) کو دیکھتا ہے۔ ہماری سوچیں خلا میں ضائع نہیں ہو رہیں، وہ ایک الیکٹریکل دستخط چھوڑ رہی ہیں۔

ہم بچپن سے سنتے آئے ہیں کہ دو فرشتے (کراماً کاتبین) ہمارے کندھوں پر بیٹھے لکھ رہے ہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ شاید ان کے پاس کوئی رجسٹر اور پینسل ہے۔

خدا کے لیے! فرشتوں کی ٹیکنالوجی کو ہماری پرانی عقل سے مت تولیں

قرآن کہتا ہے:

"مَّا يَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ"

(وہ کوئی لفظ منہ سے نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک نگہبان تیار ہوتا ہے۔)

(القرآن، ق: 50:18)

اور سورۃ الجاثیہ میں فرمایا:

"هَذَا كِتَابُنَا يَنطِقُ عَلَيْكُم بِالْحَقِّ ۚ إِنَّا كُنَّا نَسْتَنسِخُ مَا كُنتُمْ تَعْمَلُونَ"

(یہ ہماری کتاب ہے جو تمہارے بارے میں سچ سچ بول رہی ہے (Data بیشک ہم لکھواتے جاتے تھے جو تم کرتے تھے۔)

(القرآن، الجاثیہ: 45:29)

یہ نستنسخ کا لفظ بہت اہم ہے۔

اگر انسان (ٹیسلا اور آج کی AI) ایسی مشین بنا سکتا ہے جو دماغ کی لہروں کو تصویر میں بدل دے، تو کیا اللہ کا نظام آپ کی پوری زندگی کی آڈیو ویڈیو ریکارڈنگ نہیں کر رہا۔

‏قیامت کے دن جب اعمال نامہ پیش ہوگا، تو وہ 4K Video کی طرح آپ کے سامنے چلے گا

"فَمَن يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ"

(پس جس نے ذرہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اسے دیکھ لے گا۔)

(القرآن، الزلزال)

یہاں پڑھنے کا نہیں، دیکھنے (Visualizing) کا ذکر ہے۔ ٹیسلا کی تھوٹ فوٹوگرافی دراصل قیامت کے دن کی ٹیکنالوجی کا ایک ادنیٰ سا ٹریلر ہے۔

کیوں سسٹم چاہتا ہے کہ یہ طاقت صرف ان کے پاس ہو۔

آج ایلون مسک کا Neuralink کیا کر رہا ہے؟

وہ آپ کے دماغ میں چپ لگا کر آپ کی سوچ کو پڑھنا چاہتا ہے۔

یہ دجال کا سب سے بڑا ہتھیار ہوگا

اگر وہ آپ کی سوچ پڑھ سکتے ہیں، تو وہ آپ کی سوچ بدل بھی سکتے ہیں

وہ آپ کو مجرم قرار دے دیں گے اس سے پہلے کہ آپ کوئی جرم کریں جیسا کہ مغرب کی فلموں میں دکھایا جاتا ہے۔

یہ ہے وہ فتنہ جس کے لیے ہمیں تیار ہونا تھا۔ لیکن ہمارا نوجوان کیا کر رہا ہے؟

وہ ٹک ٹاک پر ناچ رہا ہے

یہاں میں پھر اپنے گلے سڑے تعلیمی نظام پر لعنت بھیجتی ہوں

ہمیں اسکولوں میں کیا پڑھایا جا رہا ہے؟

رٹہ سسٹم

ڈارون کا بندر

انگریز کی تاریخ

ہمیں یہ کیوں نہیں پڑھایا جاتا کہ انسان ایک ٹرانسمیٹر ہے؟

ہمیں تزکیہ نفس کی سائنس کیوں نہیں پڑھائی جاتی؟

کیونکہ اگر مسلمان کو پتہ چل گیا کہ اس کی پاکیزہ سوچ لیزر بیم کی طرح طاقتور ہے، تو وہ ایٹم بم سے زیادہ خطرناک ہو جائے گا

صحابہ کرامؓ کی سوچ میں اتنی طاقت تھی کہ حضرت عمرؓ مدینہ میں ممبر پر کھڑے ہو کر میلوں دور ساریہؓ کو فرماتے ہیں

"یا ساریہ الجبل"

(اے ساریہ پہاڑ کی طرف ہو جاؤ!)

اور ان کی آواز وہاں سنی جاتی ہے۔

یہ ٹیلی پیتھی یا تھوٹ ٹرانسفر تھا جو ایمان کی طاقت سے پیدا ہوتا تھا۔ ہم نے وہ سائنس کھو دی اور آج ہم سمارٹ فون کے غلام بن گئے

میرے مسلمان ساتھیو

آپ کا دماغ کوڑے دان نہیں ہے۔ اس میں جو خیال آتا ہے، وہ ریکارڈ ہو رہا ہے اور اس کا اثر کائنات پر پڑ رہا ہے۔

ٹیسلا کی تھیوری ہمیں یہ پیغام دیتی ہے کہ غیب کی دنیا حق ہے۔

اپنی سوچوں کی حفاظت کرو۔

اپنے خیالات کو دجالی میڈیا کے حوالے مت کرو۔

قرآن کو سائنس کی کتاب سمجھ کر پڑھو، تاکہ تم اس آنے والے ذہنی غلامی کے دور میں آزاد رہ سکو۔

اُٹھو! اور اپنی روحانی فریکوئنسی کو اتنا مضبوط کرو کہ کوئی دجالی مشین اسے ہیک نہ کر سکے۔

04/01/2026

کاپی پیسٹ

‏یہ آرٹیکل آج ایکسپریس ٹربیون سے ڈیلیٹ کروا دیا ہے میں اس اردو ترجمہ جاری کر رہا ہوں اسے خود بھی پڑھیں اور آگے بھی پھیلائیں تا کہ دوبارہ ڈیلیٹ کروانے سے پہلے دس بار سوچیں

Title: It is over
Author: ZORAIN NIZAMANI
طاقتور بوڑھے مرد اور عورتیں جو اقتدار میں ہیں، ان کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ نوجوان نسل آپ جو کچھ بیچنے کی کوشش کر رہے ہیں، وہ کچھ بھی نہیں خرید رہی۔ آپ سکولوں اور کالجوں میں جتنے بھی لیکچر اور سیمینارز کا اہتمام کر لیں، patriotism کو فروغ دینے کی کوشش کر لیں، یہ کام نہیں کر رہا۔ patriotism فطری طور پر آتا ہے جب برابر مواقع ہوں، مضبوط انفراسٹرکچر ہو اور موثر نظام موجود ہو۔ جب آپ اپنے لوگوں کو بنیادی ضروریات فراہم کریں اور ان کے حقوق یقینی بنائیں تو آپ کو سکولوں کالجوں میں جا کر طلبہ کو یہ نہیں بتانا پڑے گا کہ وہ اپنے ملک سے محبت کریں، وہ ویسے بھی کریں گے۔
نوجوان ذہن، جنریشن زیڈ، الفا، وہ بالکل جانتے ہیں کہ کیا ہو رہا ہے اور آپ کی مسلسل کوششوں کے باوجود کہ آپ انہیں اپنا patriotism کا نقطہ نظر بیچیں، وہ اسے دیکھ رہے ہیں۔ انٹرنیٹ کی بدولت، جو تھوڑی بہت تعلیم ہمارے پاس باقی ہے اس کی بدولت، آپ کی بہترین کوششوں کے باوجود کہ عوام کو جتنا ہو سکے ان پڑھ رکھا جائے، آپ ناکام ہو گئے۔ آپ ناکام ہو گئے کہ لوگوں کو بتائیں کہ وہ کیا سوچیں، وہ خود سوچ رہے ہیں۔ شاید وہ اپنے خیالات بلند آواز سے کہنے سے ڈرتے ہوں کیونکہ وہ سانس لینا پسند کرتے ہیں۔ لیکن وہ آپ کے خود ساختہ نیکی اور فضیلت کے نقاب کو دیکھ رہے ہیں۔ آپ طاقت سے اقتدار میں رہ سکتے ہیں لیکن لوگوں کو آپ کی کوئی پرواہ نہیں۔ آپ سیکیورٹی کے بغیر گھر سے باہر بھی نہیں نکل سکتے، اگر یہ آپ کی عوام میں مقبولیت کے بارے میں نہیں بتاتا تو آپ کو چیزوں کا جائزہ لینا چاہیے۔
نوجوانوں نے کافی ہو گیا ہے اور کیونکہ انہوں نے سیکھ لیا ہے کہ وہ طاقتوروں کو چیلنج نہیں کر سکتے، وہ ملک چھوڑ رہے ہیں۔ یہ بہت مثالی ہو گا اگر سوچیں کہ وہ کرپشن کے خلاف تحریک چلائیں گے۔ وہ خاموشی سے نکل جائیں گے اور مڑ کر نہیں دیکھیں گے کیونکہ ان کے دوست جو بولے تھے، خاموش کر دیے گئے۔
لیکن بومرز کے لیے یہ ختم ہو چکا ہے۔ ان کا کوئی مستقبل نہیں۔ نوجوان آبادی اور موجودہ حکومت کے درمیان بہت بڑا خلیج ہے۔ کوئی مشترکہ بنیاد نہیں۔ جنریشن زیڈ تیز انٹرنیٹ چاہتی ہے، اقتدار والے مضبوط فائر وال چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ سستے سمارٹ فونز چاہتی ہے، بومرز ان پر ٹیکس لگانا چاہتے ہیں۔ جنریشن زیڈ فری لانسنگ پر پابندیاں نرم چاہتی ہے، بومرز ریگولیشن بڑھانا چاہتے ہیں۔ ان کے درمیان کوئی مشترکہ نکتہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بومرز ہار گئے ہیں۔
آپ جتنی جنگیں چاہیں کروا لیں، جنریشن زیڈ ان پر میمز بنا لے گی۔ مین سٹریم میڈیا کو سینسر کر لیں، جنریشن زیڈ Rumble، YouTube اور Discord جیسے پلیٹ فارمز پر چھلانگ لگا کر اپنی رائے دے گی۔ بومرز، اب آپ خیالات کو سینسر نہیں کر سکتے۔ وہ دن گئے جب آپ لوگوں کو بے وقوف بنا سکتے تھے۔ اب کوئی بے وقوف نہیں بن رہا۔ ہاں، ہمارے پاس لائبریریاں نہیں۔ ہاں، اپارٹمنٹ کرائے پر لینا افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہاں، کار خریدنا افورڈ نہیں کر سکتے۔ آپ کی محنتوں کی بدولت، جو معیشت ہمیں سونپی گئی ہے وہ آپ کے اخلاق سے بھی بدتر ہے۔
لیکن اس سب کے باوجود ہم چلتے رہتے ہیں، کتابوں، سوشل میڈیا، کافی شاپس (جتنا میں ان سے نفرت کرتا ہوں) اور ڈبل پیٹی بیف برگرز میں تسلی ڈھونڈتے ہوئے۔ ہم گندے پانیوں میں تیرتے رہتے ہیں۔ ہم آپ کی ٹی وی پر تقریریں نہیں دیکھتے کیونکہ اکثر جو آپ کہتے ہیں وہ ہنسی کا سامان ہوتا ہے۔ اس کے لیے ہمارے پاس سٹینڈ اپ کامیڈی ہے، مین سٹریم میڈیا کیوں دیکھیں؟
وقت بدل رہا ہے اور جتنی جلدی آپ سمجھیں اتنا بہتر۔ لیکن آپ کو پرواہ بھی نہیں۔ آپ کے بچے باہر ہیں، آپ روزانہ لاکھوں کما رہے ہیں، آپ کے پاس لامحدود طاقت ہے، آپ بہترین کھانے کھاتے اور صاف پانی پیتے ہیں، آپ کو پرواہ کیوں ہو گی؟
تب ہو گی جب آپ کو پتہ چلے گا کہ کوئی آپ کی سن نہیں رہا۔
جانتے ہیں کیوں؟
جنریشن زیڈ نے ہیڈ فون لگا رکھے ہیں اور Spotify پیڈ ہے، اگر صورتحال ناقابل برداشت ہو گئی تو آدھے کے پاس جانے کے وسائل ہوں گے، باقی آدھے آپ کو اپنا میوزک سنوائیں گے اور اچھے انداز میں نہیں۔
بومرز، ہم تنگ آ چکے ہیں۔ ہم آپ کا بیانیہ اب نہیں خرید رہے۔
یہ پرانا ہو چکا ہے۔

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Website

Address


Multan
60000