Imran Raza

Imran Raza

Share

This page is about multiple categories like Motivation, Health, Learning, IT, Islamic etc.

10/09/2024
16/04/2023

I've received 2,100 reactions to my posts in the past 30 days. Thanks for your support. 🙏🤗🎉

29/03/2023

ڈاکٹر عبدالباری - انڈس ھسپتال۔

پاکستانی قوم کے خلوص کی لازوال کہانی
1981میں عبدالباری کا داخلہ ڈاؤ میڈیکل کالج میں ہوگیا. یہ صرف ہونہار ہی نہیں تھے بلکہ اللہ تعالی نے ان کے سینے میں جو دل دیا تھا اس کی نرمی بھی اللّہ کم ہی لوگوں کو نصیب کرتا ہے۔
یہ 1986 تک ڈاؤ میڈیکل کالج کے طالب علم رہے لیکن ان پانچ سالوں میں انہوں نے خدمت کے بے شمار کارنامے انجام دیے۔
1987میں سولجر بازار میں دھماکا ہوا تو عبدالباری اپنے چند دوستوں کے ساتھ لاشوں کے درمیان میں سے زخمیوں کو نکال کر لائے لیکن سول اسپتال کا ایمرجنسی وارڈ اپنے بستروں کی کمی کی شکایت کر رہا تھا۔ اس کے بعد عبدالباری نے اپنے دوستوں کے ساتھ مل کر گھر گھر اور در در جا کر بھیک مانگی اسکول کے بچوں کو گلک دیئے۔ 32 لاکھ 74 ہزار پانچ سو روپے کی خطیر رقم جمع ہوگئی اور اس طرح سول اسپتال کے بہترین ایمرجنسی وارڈ کا افتتا ح ہوگیا۔
انہوں نے دوران طالب علمی اپنے دوستوں کی مدد سے پیشنٹ ویلفیئر ایسوسی ایشن کی بنیاد بھی رکھی جو اپنے پیسے جمع کرکے اندرون سندھ اور کراچی کے مختلف علاقوں سے آئے مفلوک الحال اور مفلس لوگوں کے علاج معالجہ کا بندوبست کیا کرتے تھے۔
اسی دوران ان کو یہ احساس بھی ہوا کہ بلڈ ڈونیشن کا واحد ذریعہ چرسی، ہیرونچی اور موالی ہیں اور ایک دن وہ بھی پیسوں کی کمی کی شکایت پر ہڑتال پر چلے گئے اور ہسپتال میں موجود مریض بے یارومددگار، بے بسی و بے کسی کی تصویر بنے پڑے تھے۔ تب عبد الباری نے پہلے بلڈ بینک کا بھی آغاز کردیا۔
اس وقت عبدالباری نے اپنے مزید تین دوستوں کے ساتھ مل کر عہد کیا کہ “ایک دن آئے گا جب اسی شہر میں ایک ایسا اسپتال بنائیں گے جہاں سب کا علاج بالکل مفت ہوگا”۔ عبدالباری نے اپنی پروفیشنل زندگی کا آغاز کراچی سے کیا اور ساری زندگی کراچی میں ہی گزار دی لیکن باقی تینوں دوست مزید تعلیم کے لئے دنیا کے مختلف ممالک روانہ ہوگئے۔
17 سال بعد 2004 میں باقی تینوں دوست واپس کراچی آئے عبدالباری سے ملاقات کی اور زمانہ طالب علمی کا عہد یاد دلایا اور اس طرح دونوں ٹانگوں سے معذور باپ کی تہجد میں مانگی گئی دعا کہ “یا اللہ! میرے بیٹے عبدالباری کو خدمت خلق کے لیے قبول کرلے” رنگ لے آئی.
2004 میں کورنگی کریک میں بیس ایکڑ کی جگہ پر پاکستان کے “بلکل مفت” ہسپتال کی تعمیر شروع ہوگئی۔ بالآخر 2007 جولائی میں “انڈس ہسپتال” کا آغاز ہوگیا۔
ہسپتال میں ڈیڑھ سو لوگوں کے ایڈمٹ ہونے کا انتظام تھا، ہسپتال کا بجٹ شروع میں 8کروڑ روپے تھا۔ تعمیر کے وقت اور افتتاح کے بعد بھی لوگ عبدالباری کو کہتے یہ ہسپتال نہیں چل سکے گا کچھ ہی عرصے بعد تم فیس رکھنے پر مجبور ہو جاؤ گےلیکن اللہ پر آنکھیں بند کرکے یقین کرنے والوں اور دیوانہ وار اپنے مشن سے محبت کرنے والوں کی ڈکشنری میں “ناممکن” کا لفظ نہیں ہوتا ہے۔
150 بستروں کا اسپتال پہلے 300 کا ہوا، اس سال یہ اسپتال 1,000 بیڈز تک کردیا جائے گا اور 2024 تک 18 سو لوگوں کے لئے اس ہسپتال میں علاج کا بلکل مفت انتظام ہوگا۔
یہ پاکستان کا نہ صرف بہترین سہولیات سے آراستہ اسپتال ہے بلکہ اس لحاظ سے بھی منفرد ہے کہ اس پورے ہسپتال میں کوئی کیش کاونٹر موجود نہیں ہے، یہ پیپر لیس بھی ہے مریض سے لے کر ڈاکٹر تک کسی کو پرچی کی ضرورت نہیں پڑتی آپ کا پیشنٹ نمبر ہر جگہ آن لائن اسکرینز پر آپ کی رپورٹ اور کارکردگی دکھا دیتا ہے۔
پچھلے گیارہ سالوں میں کوئی مریض پیسے نہ ہونے کی وجہ سے واپس نہیں گیا امیر و غریب سب ایک ہی لائن میں کھڑے ہوتے ہیں “پہلے آئیے اور پہلے پائیے” کی بنیاد پر علاج ہوتا ہے، دماغ کے علاوہ انسانی جسم کے تمام ہی اعضاء کا ٹریٹمنٹ کیا جاتا ہے۔
ہسپتال کا بجٹ 15 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے لیکن کمال یہ ہے کہ اس خطیر رقم کا 92 فیصد پاکستان سے اور اسکا بھی 50 فیصد سے زیادہ کراچی پورا کرتا ہے، 70 فیصد لوگ اپنے نام کی جگہ “عبداللہ” بتا کر کروڑوں کی رقم جمع کرواتے ہیں اور جنت میں اپنے لیے پلاٹ پر پلاٹ بک کرواتے ہیں۔
ڈاکٹرعبد الباری کے پاس بھی ہر ڈاکٹر کی طرح دو آپشنز موجود تھے یہ 1987 میں ہاؤس جاب کرنے کے بعد امریکہ یا یورپ چلے جاتے ایک عیاش زندگی گزارتے روز صبح اےسی والے کمرے میں چائے کا “سپ” لیتے ہوئے اور رات کو کسی ریسٹورنٹ یا بوفے کی ٹیبل پر پاکستان، پاکستانی قوم اور یہاں کے حالات پر تبرا بھیجتے رہتے اور ایک “معزز شہری” بن کر دنیا سے رخصت ہو جاتے، دوسرا آپشن وہ تھا جو انہوں نے اپنے لئے منتخب کیا.
اس دنیا میں سب سے آسان گیم “بلیم گیم” ہے۔آپ کو ہمیشہ دو قسم کے لوگ ملیں گے۔ ایک وہ جو ہمیشہ مسائل کا ہی رونا روتے ہیں ان کو ہر جگہ صرف مسائل ہی مسائل نظر آتے ہیں وہ اس مکھی کی طرح ہوتے ہیں جو 86 آنکھیں رکھنے کے باوجود بھی بیٹھتی صرف گندگی پر ہی ہے, اور دوسری قسم ڈاکٹر عبدالباری جیسے لوگوں کی ہوتی ہے ان کی زبان پر کبھی شکوہ اور شکایت نہیں ہوتی ان کی نظر موجود وسائل اور اللہ کی ذات پر ہوتی ہے اور کائنات کا اصول یہ ہے کہ آپ ان دونوں میں سے جس چیز کو جتنا بولیں گے اور جتنا سوچیں گے وہی آپ کے ساتھ ہونے لگے گا۔
مجھے نہیں معلوم کہ ڈاکٹر عبدالباری کے اسکول اور کالج میں کیا گریڈز تھے مجھے یہ بھی نہیں پتہ کہ وہ یونیورسٹی میں پڑھنے میں کیسے تھے لیکن ایک بات میں جانتا ہوں کہ وہ اسکول سے لے کر قبر تک اسکالرشپس لینے والوں سے بہت آگے ہیں.۔۔
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اسی طرح خدمت خلق کے لئے کوششیں کرنے کی توفیق عطا فرمائیں۔

copied post

29/03/2023

سینے میں انفیکشن کے 11 علاج جو آپ کو اس سے نجات دیں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

سینے میں انفیکشن کی علامات کسی بھی موسم میں لاحق ہو سکتی ہیں، تاہم موسمِ سرما میں اس انفیکشن کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔ سینے میں انفیکشن سانس کی نالی کے انفیکشن کی ایک قسم ہے جو سانس کی نالی کے نچلے حصے کو متاثر کرتا ہے۔

چیسٹ انفیکشن ہر عمر کے افراد کو متاثر کر سکتا ہے، تاہم بچوں میں چیسٹ انفیکشن کے خطرات زیادہ ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ سگریٹ نوشی کرنے والے افراد بھی سینے میں انفیکشن کے بڑھے ہوئے خطرات کا سامنا کرتے ہیں۔

سینے میں انفیکشن کی علامات زیادہ خطرناک نہیں ہوتیں، اس لیے ان علامات سے نجات حاصل کرنے کے لیے ادویات استعمال نہیں کی جاتیں، تاہم اگر یہ علامات شدت اختیار کر جائیں تو پھر معالج کے مشورے سے ادویات استعمال کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

چیسٹ انفیکشن کی وجہ سے کئی علامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، یہ علامات مندرجہ ذیل ہو سکتی ہیں۔

مستقل کھانسی –
سر درد –
سانس لینے میں مشکلات –
کھانسی کے ساتھ خون آنا –
تھکاوٹ –
بھوک نہ لگنا –
سینے میں درد –
دل کی دھڑکن تیز ہو جاتا –
جوڑوں یا جسم کے مختلف حصوں میں درد –
بخار –

سینے میں انفیکشن کا سامنا مختلف وجوہات کی وجہ سے کرنا پڑ سکتا ہے۔ زیادہ تر وائرس اور جراثیم کے جسم پر حملہ آور ہونے کی وجہ سے سینے میں انفیکشن لاحق ہوتا ہے۔

سینے میں انفیکشن کا علاج
مندرجہ ذیل علاج سینے میں اانفیکشن کے خلاف مؤثر ثابت ہو سکتے ہیں۔

شہد
صحت کو بہتر بنانے اور مختلف طبی مسائل کو ختم کرنے کے لیے شہد کا استعمال مفید ثابت ہوتا ہے، کیوں کہ اس میں اینٹی بیکٹیریل، اینٹی آکسیڈنٹ، اور اینٹی سیپٹک خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ انہی خصوصیات کی بنا پر شہد کو سینے میں انفیکشن کا قدرتی علاج سمجھا جاتا ہے۔

چیسٹ انفیکشن کے علاج کے لیے شہد کو گرم پانی میں لیموں کے ساتھ مکس کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کچھ طبی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ شہد کھانسی کی ادویات کی نسبت زیادہ مؤثر طریقے سے کام کرتا ہے۔ شہد کا استعمال نہ صرف کھانسی جیسی علامات کو کم کرتا ہے بلکہ نیند میں بہتری لانے میں بھی کردار ادا کرتا ہے۔

🪀 گرم دودھ کا استعمال
سینے میں انفیکشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے گرم دودھ کا استعمال بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ سردی کی وجہ سے لاحق ہونے والے چیسٹ انفیکشن کی علامات کو ختم کرنے کے لیے ایک گلاس گرم دودھ میں شہد، ہلدی، اور کالی مرچ شامل کر کے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

ہلدی میں پائی جانے والی سوزش کو کم اور اینٹی بیکٹیریل خصوصیات جسم میں موجود بیکٹیریا کو ختم کرنے میں مدد فراہم کرتی ہیں جب کہ کالی مرچ زکام وغیرہ کی علامات کو کم کرتی ہے۔ چیسٹ انفیکشن کو کم وقت میں ختم کرنے کے لیے آپ اس مشروب کو دن میں دو مرتبہ استعمال کر سکتے ہیں۔

🪀 بھاپ لینا
انفیکشن کی وجہ سے کئی دفعہ سینے کی جکڑن کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے نجات حاصل کرنے کے لیے بھاپ لی جاتی ہے۔ بھاپ لینے کے لیے کسی برتن میں گرم پانی ڈال لیں اور سر کو تولیے یا کسی کپڑے سے ڈھانپ کر سانس لیں۔

گرم پانی کی بھاپ لینے سے ہوا کی نالیوں کی بندش کھلنے لگتی ہے جس کی وجہ سے بلغم وغیرہ آسانی کے ساتھ خارج ہونے لگتی ہے۔ اس ک علاوہ ہر روز گرم پانی کی بھاپ لینے سے معمول میں لاحق ہونے والے سینے کے تناؤ سے بچاؤ میں بھی مدد ملتی ہے۔

🪀 ہربل چائے
سینے میں ہونے والی انفیکشن کے خلاف ہربل چائے مفید ثابت ہو سکتی ہے۔ کیمو مائل، پودینے، روز میری، اور ادرک جیسے مفید ہربز کے استعمال سے سینے کی انفیکشن اور جکڑن کو ختم کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر ان ہربز کی چائے کا ذائقہ کڑوا محسوس ہو تو اس میں چینی شامل کرنے کے بجائے شہد سامل کر لیں۔

اس کے علاوہ اگر آپ کو قہوہ پسند نہ ہو تو ادرک کو کچا ہی چبا لیں، جب کہ آپ اسے سلاد میں بھی شامل کر کے استعمال کر سکتے ہیں۔

🪀 پانی کا زیادہ استعمال
جسم میں پانی کی متوازن مقدار ہونے سے بلغم کو خارج کرنے میں مدد ملتی ہے اور سینے میں انفیکشن سے نجات حاصل کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ اس لیے یہ انفیکشن لاحق ہونے کی صورت میں پانی کو زیادہ مقدار میں استعمال کرنا چاہیئے۔

🪀 چیسٹ انفیکشن کے خلاف بہترین نتائج حاصل کرنے کے لیے گرم مشروبات استعمال کیے جا سکتے ہیں، جب کہ پانی کو بھی اگر نیم گرم کے استعمال کیا جائے تو چیسٹ انفیکشن کی علامات کی شدت میں کم وقت میں کمی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ چکن سوپ جیسے مشروب استعمال کریں تو اس سے نہ صرف سانس کی نالی کو سکون حاصل ہو گا بلکہ چیسٹ انفیکشن کی وجہ سے لاحق ہونے والی تھکاوٹ اور کمزوری کو بھی ختم کرنے میں مدد ملے گی۔

🪀 سگریٹ نوشی سے پرہیز
سگریٹ نوشی نہ صرف پھیپھڑوں کو متاثر کرتی ہے بلکہ اس سے مجموعی صحت بھی متاثر ہوتی ہے۔ سینے میں اانفیکشن لاحق ہونے کی صورت میں ایسی چیزوں کے استعمال کو ترک کرنا کا مشورہ دیا جاتا ہے جو ان علامات کے بگڑنے کا سبب بن سکتی ہیں۔

اس لیے سگریٹ نوشی کے نقصانات کی وجہ سے چیسٹ انفیکشن لاحق ہونے کی وجہ سے اس کے استعمال کو ترک کرنا بہت ضروری ہوتا ہے۔

🪀 کافی
چیسٹ انفیکشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے کافی کا استعمال بھی مفید ثابت ہو سکتا ہے۔ کافی کے استعمال کی وجہ سے پھیپھڑوں پر بن ہوئی بلغم کو خارج کرنے میں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔ تاہم دن میں دو کپ سے زیادہ کافی استعمال نہ کریں کیوں کہ اس میں موجود کیفین کو زیادہ مقدار میں حاصل کرنے سے مضرِ صحت اثرات کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

🪀 مالش
پودینے وغیرہ کے تیل کی مالش کو سینے میں انفیکشن کا بہترین علاج تصور کیا جاتا ہے۔ اس انفیکشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے پودینے کے تیل کی مدد سے سینے پر آہستگی کے ساتھ مالش کریں اور پھر سینے کو کسی کپڑے سے ڈھانپ دیں، اس سے انفیکشن کی شدت میں کمی آنا شروع ہو جائے گی۔

🪀🧅 پیاز کا رس
ممکن ہے کہ پیاز کا رس کو آپ کو پسند نہ ہو کیوں کہ اس ذائقہ اچھا نہیں ہوتا، تاہم سینے کی انفیکشن اور جکڑن کو ختم کرنے کے لیے پیاز کا رس مفید ثابت کو سکتا ہے۔ پیاز میں اینٹی مائیکروبیل خصوصیات پائی جاتی ہیں جو جسم کو انفیکشن سے لڑنے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔

پیاز کے رس کے ذائقے کو بہتر بنانے کے لیے آپ اس میں لیموں اور شہد شامل کر سکتے ہیں۔ اس مکسچر کو نیم گرم کر کے دن میں تین سے چار مرتبہ استعمال کریں۔

🪀 تکیے کا استعمال
رات کو سونے سے قبل سر کے نیچے تکیے کو لازمی رکھیں، کیوں کہ بالکل سیدھا سونے سے بلغم آپ کے سینے میں جمع ہو سکتی ہے، جس سے انفیکشن کی علامات شدت اختیار کر سکتی ہیں۔ اس لیے نیند کے دوران سر کو اونچا رکھنے کے تکیے کو سر کے نیچے رکھیں۔

🪀 اینٹی بائیوٹکس کے استعمال سے گریز
کچھ افراد سینے میں انفیکشن لاحق ہونے کی وجہ سے خود ساختہ طور پر اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنا شروع کر دیتے ہیں، جو مفید ثابت ہونے بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ بجائے صحت کو متاثر کرتی ہیں۔ اس لیے معالج سے مشورہ کیے بغیر سینے کے انفیکشن سے نجات حاصل کرنے کے لیے اینٹی بائیوٹکس استعمال کرنے سے گریز کریں۔

سینے میں انفیکشن کے یہ علاج اگر آپ کے لیے مؤثر ثابت نہ ہوں تو آپ کو کسی پلمونولوجسٹ سے رابطہ کرنا ہو گا، آسانی کے ساتھ کسی بھی پلمونولوجسٹ سے رابطہ کرنے کے لیے آپ ہیلتھ وائر کا پلیٹ فارم استعمال کر سکتے ہیں، کیوں کہ ہیلتھ وائر نے رابطوں کو بہت آسان بنا دیا ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

29/03/2023

خود اعتمادی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو ان 5 تجاویز پر عمل کریں

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

اگر آپ اپنا مقصد حاصل کرنےمیں کسی بھی وجہ سے ناکام ہیں تو کیا اس کا قصور وار آپ اپنے آپ کو ٹھہرائیں گے؟

ہوسکتا ہے کہ یہاں کچھ لوگ اس بات سے اتفاق کریں کہ زندگی میں ایسا موڑ ضرور آتا ہے جب آپ اپنی قابلیت کو صحیح پہچاننے سے قاصر ہوں یا مشکل کا بہادری سے مقابلہ کرنے میں گھبراہٹ کا شکار ہوں۔

آپ نے ’خود اعتمادی‘ کا لفظ ضرور سنا ہوگا، اعتماد لاطینی لفظ ہے جس کا مطلب ایمان یا یقین ہے، ایسے لوگ جو زندگی میں کچھ حاصل کرنے کی کوشش میں اپنے ا وپر اعتماد کھو دیتے ہیں وہ لوگ خود پر بھروسہ نہیں رکھ پاتے۔

بہت سارے لوگوں کے پاس تعلیم، ڈگری، مہارت، اسکلز اور تجربہ ہوتا ہے لیکن اس کے باوجود صرف چند لوگ ہی اپنی زندگی میں کامیابی کی وہ منازل طے کر پاتے ہیں جن کی خواہش ہر انسان رکھتا ہے۔

ایسے لوگوں میں خود اعتمادی کا فقدان اُن کی زندگی کے عملی میدان میں ترقی کی راہ میں رکاوٹ کا سبب بتنا ہے ۔

تو آئیے جانتے ہیں کہ انسان خود اعتمادی کیسے بحال کرسکتا ہے؟

ناکامی کو سمجھنے کی کوشش
اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ میں بھی خود اعتمادی آجائے تو سب سے پہلے ناکامی کو سمجھنے کی کوشش کیجیے۔ رائٹ برادرز جہاز اڑانے میں کامیاب ہونے سے قبل متعدد بار ناکام ہوئے تھے۔

بجائے اس کے کہ آپ اپنی ناکامی سے مایوس ہوں، آپ کو اس ناکامی کی وجہ تلاش کر کے اسے بہتر کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

رکاوٹوں کا مشاہدہ کریں
اعتماد بحال کرنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ آپ خود کی صلاحیتوں کو جانچیں، ان رکاوٹوں کا مشاہدہ کریں جو آپ کو اعتماد محسوس کرنے سے روکتی ہیں۔

اگر آپ وہ مقصد حاصل کرنےمیں ناکام ہوگئے ہیں تو برا محسوس نہ کریں، بلکہ اس بات پر توجہ دیں کہ آپ ابھی کیا کر سکتے ہیں۔

کچھ نیا سیکھنے کی کوشش میں لگے رہیں
پینٹنگ، موسیقی، غیر ملکی زبان کا مطالعہ کرنا، رقص سیکھنا اور اس جیسی کئی مہارت کی سرگرمیاں حاصل کرنے سے منفی سوچ سے آپ دور رہیں گے۔

روزانہ کسی سرگرمی میں مصروف ہونے سے آپ مہارت کے ساتھ اپنی قابلیت کا اندزه بھی لگا سکتے ہیں۔

اگر آپ خود کو پُراعتماد دیکھنا چاہتے ہیں تو منفی سوچ سے دور رہیں، ہمیشہ یہ سوچیں کے آپ سب کچھ کر سکتے ہیں، آپ میں تمام تر صلاحیتیں موجود ہیں، ایسا کرنے سے آپ خود اعتمادی کو بڑھا سکتے ہیں۔

اپنے آپ کو کسی دوسرے کی جگہ پر رکھ کر نہ سوچیں
کسی دوسرے کی کامیابی سے کبھی بھی اپنا موازنہ نہ کریں بلکہ دوسروں کی کامیابی کو سراہتے ہوئے آپ کے پاس جو کچھ ہے اس سے کامیابی کی رہ تلاش کریں۔

آپ اس دنیا میں کسی سے موازنہ کرنے نہیں آئے، نہ آپ کسی سے کم تر ہیں اور نہ ہی آپ کسی سے برتر ہیں تو اس بات کو ہمیشہ اپنے دماغ میں رکھیں۔

کسی سے مدد لیں
اگر آپ اعتماد حاصل کرنے میں ناکام ہورہے ہیں تو تھراپی کے ذریعے مدد حاصل کریں۔

کسی پیشہ ورانہ ماہرین سے مدد حاصل کرنے اور اس کو اپنے احساسات کے حوالے سے بتانے میں گھبراہٹ محسوس نہ کریں، کیونکہ ان کی مدد سے ہی آپ آگے بڑھ سکتے ہیں۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

29/03/2023

سوشل میڈیا کا بہت زیادہ استعمال ذہنی مسائل بڑھنے کی وجہ، چھٹکارا کیسے؟

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
السَّلامُ عَلَيْكُم ورَحْمَةُ اللهِ وَبَرَكاتُهُ

’آج میں بہت اچھی یا اچھا لگ رہا ہوں، کچھ سیلفی لے کر اب اسے فیس بک، انسٹاگرام اور ٹوئٹر پر بھی اپ لوڈ کردیتی یا کردیتا ہوں، اس سے مجھے ڈھیروں لائکس اور کمنٹس ملیں گے۔‘

’آج میری پوسٹ پر اتنے کم لائکس کیوں ہیں؟ کیا میری تصویر اچھی نہیں؟‘

ایسے خیالات ہر سوشل میڈیا استعمال کرنے والوں کے ذہن میں گردش کرتے ہیں، لیکن کیا آپ نے کبھی اپنی ذہنی صحت کے حوالے سے سوچا ہے؟

کیا آپ ہر وقت اداس، مایوس یا غصے میں رہتے ہیں یا آپ کو مستقل پریشانی یا کوئی خوف ستا رہا ہے؟

آپ اپنی ذہنی کیفیت کے متعلق کیسا محسوس کر رہے ہیں؟

یہ وہ سوالات ہیں جو ہمیں اپنے آپ سے کرنے چاہئیں۔

نوجوانوں میں ڈپریشن کا رجحان
یہ کوئی راز کی بات نہیں کہ نوجوان اور بالخصوص خواتین ڈپریشن کا شکار ہیں۔

یو ایس سینٹرز آف ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کی ایک رپورٹ میں ہائی اسکول جانے والے طلبہ کی ذہنی صحت پر تحقیق کی گئی، اس تحقیق میں یہ بات سامنے آئی کہ ان طلبہ کی ذہنی صحت انتہائی ناقص اور پریشان کن ہے۔

یہ تحقیقاتی رپورٹ فروری کے وسط میں جاری ہوئی اور اس کے اعدادوشمار 2021 پر مبنی ہے۔

سروے سے معلوم ہوا کہ 57 فیصد نوعمر لڑکیوں میں ناامیدی اور مایوسی چھائی ہوئی ہے جبکہ نوعمر لڑکوں کی شرح 29 فیصد تھی۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ تقریباً 3 میں سے ایک نوعمر لڑکی نے خودکشی کی کوشش کرنے پر سنجیدگی سے غور کیا۔

واضح رہے کہ یہ تحقیق امریکا میں ہوئی ہے، پاکستان میں اعداد و شمار مختلف ہوسکتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال ذہنی صحت سے منسلک ہے؟
کیا آپ سوشل میڈیا بہت زیادہ استعمال کررہے ہیں؟ کیا ناقص جسمانی اور ذہنی صحت سوشل میڈیا کے زیادہ استعمال سے منسلک ہے؟ ان سوالات پر ماہرین اور سائنسدان اب بھی تحقیقات میں مصروف ہیں۔

البتہ زیادہ تر ماہرین اس بات پر اتفاق کرتے ہیں کہ سوشل میڈیا کا زیادہ استعمال بالخصوص بچوں کے ذہن پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔

سوشل میڈیا کا روزانہ استعمال، بے جا اسکرولنگ کرنا، فیس بُک استعمال کرنا، دوسروں کے اسٹیٹس پر اپ ڈیٹ رکھنا، یہ عادات آپ کو بے چینی میں مبتلا کرسکتے ہیں۔

اگر آپ نوجوان ہیں تو ہو سکتا ہے کہ آپ ان 36 فیصد نوجوان طبقے کا حصہ ہوں جو ڈپریشن یا کسی اور ذہنی مرض کے ساتھ خاموشی سے لڑ رہا ہے۔

اگر آپ واقعی یہ محسوس کررہے ہیں کہ آپ ڈپریشن کا شکار ہیں، رات بھر نیند نہیں آتی، زندگی کو جینے کی امید کھو رہے ہیں یا خودکشی کرنے کی خواہش ہوتی ہے تو قابلِ بھروسہ، سند یافتہ سائیکاٹرسٹ سے لازمی رابطہ کریں۔

آپ کو زکام ہو جائے یا کوئی اور بیماری ہو تو آپ کیا کرتے ہیں؟ ایک اچھے ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں تو پھر ذہنی بیماری کے ساتھ بھی یہی برتاؤ کریں۔

سوشل میڈیا سے وقفہ
ویلز کی سوانسا یونیورسٹی کی ایک تحقیق میں بتایا گیا کہ دن بھر میں سوشل میڈیا پر گزارے جانے والے وقت میں صرف 15 منٹ کی کمی سے عمومی صحت اور مدافعتی افعال بہتر ہوتے ہیں جبکہ ڈپریشن کی شدت گھٹ جاتی ہے۔

تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ سوشل میڈیا کے دورانیے میں 15 منٹ کی کمی سے لوگوں کے مدافعتی افعال 15 فیصد بہتر ہو گئے جس کے باعث موسمی نزلہ زکام، فلو اور دیگر بیماریوں کے کیسز میں کمی آئی۔

اسی طرح ان افراد کی نیند کا معیار 50 فیصد بہتر ہوگیا جبکہ ڈپریشن کی علامات میں 30 فیصد کمی آئی۔

محققین نے بتایا کہ جب لوگوں کی جانب سے سوشل میڈیا کا استعمال کم کیا جاتا ہے تو ان کی زندگیوں کے متعدد پہلوؤں میں بہتری آتی ہے۔
التماسِ دعا
اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وآلِ مُحَمَّدٍ

Want your school to be the top-listed School/college in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Multan