Somrow Network

Somrow Network

Share

Somrow Network

25/03/2025

99%فیصد لڑکیوں کو لالچ موت کی گھاٹ اتار دیتی ہیں
اکثر لڑکیاں اس چیز سے بے خبر ھے کہ یہ جانو مانو کی چکر سارا کا سارا ڈراما ھے ۔
اصل چکر جسم کی ھوس ھے
جانو عیدتو قریب ھے اب تو میرے ھاتھوں سے شاپنگ کرلیں ۔
کہی بیٹھ کر کچھ کھا پی لیتے ہیں ۔
آپ سے ملنے کا آج بھت دل کررہاہے ۔
تیرے سر کی قسم تیرے خوبصورت زلفوں کی قسم اج ضرور آجاؤ ۔
ہر وقت انکا ر کرتی ہو آج ہاں کرنا ۔
Ok
شاپنگ کے بعد جانو کسی بند کمرے میں چلتے ہیں یہاں کوئی دیکھ لیگا ۔
Ok

ہوٹل کے کمرے میں محبت کا حق ادا کرنے اور شاپنگ کا کسر نکالنے کے بعد لڑکا اور لڑکی برہنہ حالت میں لیٹے محبت کی باتیں کررہے تھے.... لڑکا جانوں یہ لمحے بہت قیمتی ہیں آپ سے ملنا ویسے ہی بھت مشکل ھے؟
چلواج ایک دو تصویرے اور ایک وڈیو بناکر ان کو یادگار کے لئے قید کرلیتے ہیں.... لڑکی نہیں جان ایسا مت کرو تم وڈیو لیک کردو گے یا کوئی دیکھ لیگا لڑکا تمہیں مجھ پرابھی بہروسہ نہیں مجھ پر شک کرتی ہو ؟
جان تمہیں میری قسم ایک وڈیو بنانے دو تمہارے سر کی قسم ڈلیٹ کردوں گا...
لڑکی جان تم سر کی قسم مت دیا کرو تم میرے زندگی ہو , چلو بنالو.

‏عزت ہوٹل کے کمرے میں نیلام کرکے وہ محبوب کی یادوں میں اُڑتی ہوئی گھر آکر سوگئی... یادرہے وہ گھر سے سہیلی سے ملنے کا بہانہ لگاکر گئی تھی... صبح جب وہ اُٹھی تو اُسکی وہ برہنہ وڈیو انٹرنیٹ پر وائرل ہوچکی تھی..ماں باپ .بھائیوں نے اُسی وقت مارکر دفن کردیا..یا لاش کو کسی روڈ کے کنارے پہینک کر آگئے ..لوگوں کو بتایا کل سے گھر نکلا ہوا ھے ۔یا اُسے دل کا اٹیک ہوگیا درد سا ہوا اور وہ مرگئی...ایسی لڑکیوں کو بغیر جنازے کے راتوں رات لاوارثوں کی طرح دفنا دیا جاتا ہے..یا کسی کچرہ کنڈی میں پہنیک دیتے ہیں ۔
یہ کوئی کہانی نہیں ہے ایک سچ ہے جو ناجانے کتنی لڑکیوں کے ساتھ ہوچکا ہے.....!!!
یا ویڈو بنا کر بلیک ملینگ یا دھمکی یا دوبارہ ملنے کی خواہش یا بھت سارے لڑکےملکر درندگی کا نشانہ بنانے کا بعد گلہ دبا کر کسی ویرانے میں پہینک دیتے ہیں ؟؟؟

اے بنتِ حوا گاڑیوں میں گھومنا مہنگے تحفے لینا آئی فون لینا...ہوٹلوں میں محبوب کے ساتھ کھانے کھانا تمہیں یہ دنیا بہت اچھی لگتی ہوگی....پر یاد رہےاپ کم عقل اور نادان ایک ناسمجھ اور معصوم ہو یہ ایک بھیانک دنیا ہے.سب کے سب جسم کی پوچاری ھے اس کا انجام ذلت اس کے بعد قتل اور بغیر جنازے کے تدفین ہے...!!!!

‏بنتِ حوا آپ کے بابا نے زمانے کی خاک چھان کر آپ کو جوان کیا ہے... آپ کوخون پسینے لگاکر تعلیم دلوائی دنیا کسی قابل بنایا اُس باپ کی عزت کا کچرہ محبت کی آڑ میں مت کرو...اس دنیا میں سب مل کر چلے جاتے ہیں پر عزت کی جو داغ و دھبہ ھے وہ دوبارہ نہیں دھوسکتے عزت واپس کبھی نہیں ملتی.....سنبھل جاؤ اس سے پہلے کہ لاوارث موت تمہارا مقدر بنے.

ایک بات تو سچ ہے سچ پتہ کیا ہے جب کوئی مخلص لڑکا ہو نا وہ لڑکی آپنی اوقات بھول کر اسے روند کر آگے نکل جاتی ہے پھر کوئی امیر لڑکا آپنے جال میں پھانسا کر لڑکی کو روند دیتا ہے دونوں طرف سے نتیجہ یہی نکلتا ھے جو اوپر بیان ہوا ۔
ہمیشہ لڑکیوں کو لالچ مروا دیتی ہے پیسے کے پیچھے بھاگنے والی لڑکیوں کی موت کا سبب صرف یہی ھے ؟؟💀
بات گڑوی ھے مگر سچ ھے برا نہ مانئیے 💀

24/03/2025

تیرے جِسم پہ میں اپنے جِسم کو رکھوں
تیری ہُونٹوں کو اپنے ہُونٹوں سے مسلوں۔

تجھے پیار میں اتنی شدّت سے کروں کہ تیری جان نکل جائے
اُس درد سے تیری آنکھوں سے آنسو جھلک جائے ۔

تو تن سے اور مَن سے صرف میری ہو جائے ۔
بدن سے تیرے لپٹا رہوں اور صبح ہو جائے۔

صبح تجھے سے جب میں پوچھوں تیری رات کا عالم
تُو شرما کر میرے سینے سے لگ جائے 🔥🥀

Photos from Somrow Network's post 09/03/2025

شاہراہ قراقرم کی تعمیر کا آغاز 1966 میں ہوا اور تکمیل 1978 میں ہوئی۔ شاہراہ قراقرم کی کُل لمبائی 1,300 کلومیٹر ہے جسکا 887 کلو میٹر حصہ پاکستان میں ہے اور 413 کلومیٹر چین میں ہے۔ یہ شاہراہ پاکستان میں حسن ابدال سے شروع ہوتی ہے اور ہری پور ہزارہ, ایبٹ آباد, مانسہرہ, بشام, داسو, چلاس, جگلوٹ, گلگت, ہنزہ نگر, سست اور خنجراب پاس سے ہوتی ہوئی چائنہ میں کاشغر کے مقام تک جاتی ہے۔
اس سڑک کی تعمیر نے دنیا کو حیران کر دیا کیونکہ ایک عرصے تک دنیا کی بڑی بڑی کمپنیاں یہ کام کرنے سے عاجز رہیں۔ ایک یورپ کی مشہور کمپنی نے تو فضائی سروے کے بعد اس کی تعمیر کو ناممکن قرار دے دیا تھا۔ موسموں کی شدت, شدید برف باری اور لینڈ سلائڈنگ جیسے خطرات کے باوجود اس سڑک کا بنایا جانا بہرحال ایک عجوبہ ہے جسے پاکستان اور چین نے مل کر ممکن بنایا۔ایک سروے کے مطابق اس کی تعمیر میں 810 پاکستانی اور 82 چینی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ رپورٹ کے مطابق شاہراہ قراقرم کے سخت اور پتھریلے سینے کو چیرنے کے لیے 8 ہزار ٹن ڈائنامائیٹ استعمال کیا گیا اور اسکی تکمیل تک 30 ملین کیوسک میٹر سنگلاخ پہاڑوں کو کاٹا گیا۔یہ شاہراہ کیا ہے؟ بس عجوبہ ہی عجوبہ!کہیں دلکش تو کہیں پُراسرار, کہیں پُرسکون تو کہیں بل کھاتی شور مچاتی, کہیں سوال کرتی تو کہیں جواب دیتی۔ اسی سڑک کنارے صدیوں سے بسنے والے لوگوں کی کہانیاں سننے کا تجسس تو کبھی سڑک کے ساتھ ساتھ پتھروں پر سر پٹختے دریائے سندھ کی تاریخ جاننے کا تجسس !!شاہراہ قراقرم کا نقطہ آغاز ضلع ہزارہ میں ہے جہاں کے ہرے بھرے نظارے اور بارونق وادیاں "تھاکوٹ" تک آپ کا ساتھ دیتی ہیں۔تھاکوٹ سے دریائے سندھ بل کھاتا ہوا شاہراہ قراقرم کے ساتھ ساتھ جگلوٹ تک چلتا ہے پھر سکردو کی طرف مُڑ جاتا ہے۔تھاکوٹ کے بعد کوہستان کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے جہاں جگہ جگہ دور بلندیوں سے اترتی پانی کی ندیاں سفر کو یادگار اور دلچسپ بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔کوہستان کے بعد چلاس کا علاقہ شروع ہوتا ہے جوکہ سنگلاخ پہاڑوں پر مشتمل علاقہ ہے۔ چلاس ضلع دیا میر کا ایک اہم علاقہ ہے اسکو گلگت بلتستان کا دروازہ بھی کہا جاتا ہے۔ ناران سے بذریعہ بابو سر ٹاپ بھی چلاس تک پہنچا جا سکتا ہے۔ چلاس کے بعد شاہراہ قراقرم نانگا پربت کے گرد گھومنے لگ جاتی ہے اور پھر رائے کوٹ کا پُل آجاتا ہے یہ وہی مقام ہے جہاں سے فیری میڈوز اور نانگا پربت بیس کیمپ جانے کے لیے جیپیں کرائے پر ملتی ہیں۔ رائے کوٹ کے بعد نانگا پربت, دریائے سندھ اور شاہراہ قراقرم کا ایک ایسا حسین امتزاج بنتا ہے کہ جو سیاحوں کو کچھ وقت کے لیے خاموش ہونے پر مجبور کر دیتا ہے۔اس کے بعد گلگت ڈویژن کا آغاز ہوجاتا ہے جس کے بعد پہلا اہم مقام جگلوٹ آتا ہے جگلوٹ سے استور, دیوسائی اور سکردو بلتستان کا راستہ جاتا ہے۔ جگلوٹ کے نمایاں ہونے میں ایک اور بات بھی ہے کہ یہاں پر دنیا کے تین عظیم ترین پہاڑی سلسلے کوہ ہمالیہ, کوہ ہندوکش اور قراقرم اکھٹے ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسی کوئی جگہ نہیں جہاں تین بڑے سلسلے اکھٹے ہوتے ہوں۔جگلوٹ کے بعد شمالی علاقہ جات کے صدر مقام گلگت شہر کا آغاز ہوتا ہے جو تجارتی, سیاسی اور معاشرتی خصوصیات کے باعث نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ نلتر, اشکومن, غذر اور شیندور وغیرہ بذریعہ جیپ یہیں سے جایا جاتا ہے۔ گلگت سے آگے نگر کا علاقہ شروع ہوتا ہے جس کی پہچان راکا پوشی چوٹی ہے۔ آپکو اس خوبصورت اور دیوہیکل چوٹی کا نظارہ شاہراہ قراقرم پر جگہ جگہ دیکھنے کو ملے گا۔ نگر اور ہنزہ شاہراہ قراقرم کے دونوں اطراف میں آباد ہیں۔ یہاں پر آکر شاہراہ قراقرم کا حُسن اپنے پورے جوبن پر ہوتا ہے میرا نہیں خیال کہ شاہراہ کے اس مقام پر پہنچ کر کوئی سیاح حیرت سے اپنی انگلیاں دانتوں میں نہ دباتا ہو۔ "پاسو کونز" اس بات کی بہترین مثال ہیں۔ہنزہ اور نگر کا علاقہ نہایت خوبصورتی کا حامل ہے۔ بلند چوٹیاں, گلیشیئرز, آبشاریں اور دریا اس علاقے کا خاصہ ہیں۔ اس علاقے کے راکاپوشی, التر, بتورہ, کنیانگ کش, دستگیل سر اور پسو نمایاں پہاڑ ہیں۔عطاآباد کے نام سے 21 کلومیٹر لمبائی رکھنے والی ایک مصنوعی لیکن انتہائی دلکش جھیل بھی ہے جو کہ پہاڑ کے گرنے سے وجود میں آئی۔سست کے بعد شاہراہ قراقرم کا پاکستان میں آخری مقام خنجراب پاس آتا ہے۔سست سے خنجراب تک کا علاقہ بے آباد, دشوار پہاڑوں اور مسلسل چڑھائی پر مشتمل ہے۔ خنجراب پاس پر شاہراہ قراقرم کی اونچائی 4,693 میٹر ہے اسی بنا پر اسکو دنیا کے بلند ترین شاہراہ کہا جاتا ہے۔ خنجراب میں دنیا کے منفرد جانور پائے جاتے ہیں جس میں مارکوپولو بھیڑیں, برفانی چیتے, مارموٹ, ریچھ, یاک, مارخور اور نیل گائے وغیرہ شامل ہیں۔اسی بنا پر خنجراب کو نیشنل پارک کا درجہ مل گیا ہے۔اس سڑک پر آپکو سرسبز پہاڑوں کے ساتھ ساتھ پتھریلے و بنجر پہاڑی سلسلے اور دیوقامت برفانی چوٹیوں, دریاؤں کی بہتات, آبشاریں, چراگاہیں اور گلیشیئر سمیت ہر طرح کے جغرافیائی نظارے دیکھنے کو ملتے ہیں یہ قدرتی حسن کا بیش قیمت تحفہ خداوندی ہے جو نا صرف آپکا سفر خوبصورت بناتے ہیں بلکہ آپ کے دل و دماغ پر گہرا اثر چھوڑتے ہیں۔ شاہراہِ قراقرم محض ایک سڑک نہیں ہے بلکہ یہ دنیا کا آٹھواں عجوبہ ہے.
پاکستان زندہ باد ❤️

Somrow Network

08/03/2025

یہ جرمنی کے کسی ڈیری فارم کی نہایت صاف ستھری ، پیاری ، ہاٸی جینک اور مہکتی ہوٸی گوالن ھے۔
اور ایک حال ہمارے ہاں کی مال مویشی پالنے والی خواتین کا ھے ، جو گوہال (دیسی مویشی خانہ) سے کام نپٹا کر نکلیں تو بیچاریوں کو عرقِ گلاب سے غسل کرنا پڑتا ھے۔ دراصل فرق جدید مشینی آلات (گیٸرز اینڈ گیجٹس) کا ھے۔ مغرب نے جدت کو ہر کام میں بروۓ کار لا کر اسے آرٹ کا درجہ دے رکھا ھے اور ہم مسلسل رجعتِ قہقری سے ہمکنار ہیں۔ ہمارے ہاں دودھ دینے والے مویشی شکم کے تقاضے کے تحت پالے جاتے ہیں یا پھر معاشی ضرورت مد نظر ہو تو تب بھی وہی صدیوں کے فرسودہ طور طریقے اختیار کیے جا رہے ہیں۔ ہماے ہاں اس شعبے کو انفرادی سطح پر آرٹ کا درجہ حاصل ہونے میں شاید دو تین صدیاں مزید لگ جاٸیں۔
تصویر میں مضمر ایک اہم نکتے کی طرف آپ نے یقیناً ابھی تک دھیان نہیں دیا ؟
ہم بتاتے ہیں ۔۔۔ اس گوالن بی بی کے سامنے خالص دودھ کی سات بالٹیاں پڑی ہیں۔ ہمارے ہاں کا کوٸی گوالا ہوتا تو اتنا ہی دودھ (پانی کی برکت سے) چودہ بالٹیوں میں پڑا ہوتا۔
مغرب کی ترقی کا بنیادی سبب دیانت داری ھے اور یہ دیانت داری ان کے ہاں حکمت عملی کہلاتی ھے جس پر کوٸی سمجھوتہ نہیں کیا جاتا جبکہ ہمارے ہاں یہی دیانت داری شرعی حکم ھے مگر اس کی تعمیل کی عملی صورت ہمارے سماج میں شاید ہی کہیں موجود ہو۔
تضادات مغرب میں بھی موجود ہیں لیکن وہاں کسی اقتصادی ہدف کے حصول میں انسانی صحت اور سماجی زندگی کے ساتھ کھلواڑ نہیں کیا جاتا۔
بحیثیت مسلمان ہم اپنے ہر دنیاوی فعل کے لیے اللہ کو جواب دہ ہیں ، پھر بھی ہمارے اندر خالص پن نہیں۔ مغرب میں یہ جوابدہی کا تصور دنیاوی قوانین تک محدود ھے اس کے باوجود وہاں خیانت کا گراف سو میں سے محض ڈیڑھ فیصد ھے۔
ہمیں اپنی ساری بداعمالیوں کے باوصف ”شفاعت“ اور ”بخشش“ کی امید ھے۔ کتنی مضحک خوش فہمی ھے ۔۔۔ کہ نہیں؟
Somrow Network

08/03/2025

*****
‏پاکستان میں اردو کی ایک کتاب KG میں بچوں کو پڑھائی جاتی ھے، جس میں "ڈ" سے ڈاکٹر بتایا گیا ھے
حیرت ھے کہ نصاب تیار کرنے والوں کو حرف "ڈ" سے اردو کا کوئی لفظ ھی نہ مل سکا اور "ڈ" سے ڈاکٹر (جو کہ اردو زبان کا لفظ ھی نہیں ھے) پر گزارہ کر لیا گیا
اب سوشل میڈیا پر "ڈھول" پیٹ کر‏اس بات کا "ڈھنڈورا" کرنا پڑ رہا ھے کہ "ڈ" کے الفاظ "ڈالنا" کوئی اتنا مشکل امر بھی نہیں ھے
اگر آپ کی ناراضی کا "ڈر" نہ ھوتو "ڈ" کو ذرا "ڈھونڈنا" شروع کریں
*"ڈانٹ ڈپٹ" سے کام نہ چلے تو "ڈنڈا" بھی قدرت کا ایک تحفہ ھے۔ "ڈ" سے "ڈھول" نہ پیٹیں، "ڈگڈگی" نہ بجائیں، الفاظ کا "ڈھیر"
‏اکھٹا نہ کریں تو بھی اردو کے کنویں سے ایک آدھ "ڈول" ھی کافی ھوگا۔
"ڈبہ" سے "ڈبیا" تک، "ڈراؤنے" قوانین سے لے کر تعلیم کے "ڈاکوؤں" تک، امیروں کے "ڈیروں" سے لے کر غریب کی "ڈیوڑھی" تک اور پھولوں کی "ڈالی" سے لے کر سانپ کے "ڈسنے" تک "ڈ" ہر جگہ دستیاب ھے
#
‏سوچا "ڈبڈباتی" آنکھوں سے یہ "ڈاک"، بغیر کسی "ڈاکیہ" اور "ڈاک خانے" کے آپ تک پہنچا دوں کہ لفظوں کی مالا شاید نصاب کی کوتاہیوں کی "ڈھال" ثابت ھو"

Somrow Network

08/07/2024

کن وجوہات کی بنا پر ھوتی ھیں طلاقیں
1ماں باپ کی بیٹی کی زندگی میں دخل اندازی
2)بہنیں اور بہنوئی اور کزن کی بے جا مداخلت
3)بیوی اور شوہر کا گھنٹوں موبائل فون پر مصروف رہنا
4)گھر سے ذیادہ دیر تک گھر سے باہر رہنا ہر وقت میکے میں رہنا فضول سوشل ایکٹوٹیز میں ٹائم ضائع کرنا
5)گھر کے خرچوں میں میاں بیوی کا میناروی نہ رکھنا
6)شوہر کے والدین کو عزت نہ دینا اور شوہر کو اپنے سسرال کو عزت نہ دینا
7)بیوی کی انا پرستی خاوند کو خود سےحقیر سمجھنا
8)سب اہم مسئلہ بیوی کے حقوق کا برابر نہ ھونا
9 عورتوں کا وہ اذاد باہر والا ٹولہ جنکے ناک پر کالا چشمہ وہ بے رونق چہریں اور کھلے ڈرائی کے ھوئے بال یہی عورتیں، شریف عورتوں کے گھر برباد اور طلاقیں کراتے ھیں
10)اعورت کا اذاد خیال ھونا اور خاص کر محرم ناحرم میں تمیز کا خیال نہ ھونا طلاقوں کی وجہ بنتی ھے
11)عورت کے سوئی ھوئی سوچ اور سست ھونا گھر کا کام کاج میں بے ترتیبی ھونا یعنی شوہر کے آتے ھوئے سونا ،جاتے ھوئے سونا گھر اور محبت کی بربادی ھے
12)ہر وقت میلے بد بو دار کپڑے میں سونا اسی کپڑوں میں اٹھنا عورت کی محبت کھا جاتی ھے
13)ننگا سر کھلے بال ،زبان درازی ،بدتمیزی ، بے حیائ عورت کی حیاء عزت اور مقام کھا جاتی ھے
14)عورت کا ہر کسی سے گھل مل کر ہنسنا رشتوں کا تمیز نہ کرنا ہی مرد کے دل میں شک کا بیج پیدا کرنے کے برابر ھے
15) بیوی کا کہانیوں والا کتاب بغل میں اٹھا کے دوسروں کے گھر میں ھمدردیاں پیدا کرنا ہی طلاق کی وجہ بنتی ھے

ایک کامیاب بیویاں ھمیشہ شوہروں کو اپنا سر کا تاج سمجھتی ھے اور اپنے شوہروں کے دلوں پہ بادشاہہت کرتی ھے
جس دن ماں اور باپ نے اپنی بیٹی کو اپنے داماد کے سامنے یہ کہا کہ بیٹا وہ گھر آپ کا اور اپکے شوہر کا ھے آپ اسے جنت بنائیں دوزخ نہ بنائیں ھم سے آپ،، اپکے شوہر کے گھر میں مداخلت کی توقع نہ رکھے اس دن سے کھبی کسی بیٹی کو کوئی طلاق نہ ھوگی انشاءاللہ.

Somrow Network

08/07/2024

طلاقیں کیوں ہوتی ہیں.

آپ کمال ملاحظہ کریں گجرانوالہ میں ماسٹرز کی طالبہ نے وین ڈرائیور کے ” چکر ” میں اپنے پڑھے لکھے ، محبت کرنے والے شوہر سے طلاق لے لی ۔
یہ میرے نہیں سیشن کورٹ گجرانوالہ کے الفاظ ہیں ۔
آپ حیران ہونگے صرف گجرانوالہ شہر میں 2005 سے 2008 تک طلاق کے 75000 مقدمات درج ہوئے ہیں ۔ ایک نیوز رپورٹ کے مطابق محض 10 مہینوں میں 12913 خلع کے مقدمات تھے ۔ صرف ستمبر کے مہینے میں گجرانوالہ شہر میں 2385 خلع کے مقدمات آئے ۔

آپ ہماری جینے مرنے کی قسمیں کھانے والی نسل کی سچی محبت کا اندازہ اس بات سے کریں کہ 2017 میں 5000 خلع کے کیسسز آئے جن میں سے 3000 ” لو میرجز ” تھیں ۔

پاکستان کے دوسرے بڑے اور پڑھے لکھے شہر میں روزانہ اوسط 150 طلاقیں رجسٹرڈ ہوتی ہیں ۔

یہ تو دیگ کا صرف ایک دانہ ہے ۔
عرب ممالک میں طلاق و خلع کا اوسط تو کئی یورپی ممالک سے بھی گیا گذرا ہے ۔
اس سے انکار نہیں ہے کہ ان میں سے بہت سارے واقعات میں عام طور پر سسرال والوں کا لڑکی سے رویہ اور شوہر کا بیوی کو کوئی حیثیت نہ دینا بھی اصل وجوہات ہیں لیکن آپ کسی بھی دارالافتاء چلے جائیں ہفتے کی بنیاد پر سینکڑوں خطوط ہیں جو خواتین نہیں مرد حضرات لکھتے ہیں اور پوچھتے ہیں کہ ہماری بیوی کو کسی اور کے ساتھ ” محبت ” ہوگئی ہے ۔ وہ مجھ سے طلاق مانگ رہی ہے ۔ میرے چھوٹے چھوٹے بچے یا بچہ بھی ہے ۔ بتائیں کیا کروں

نبی مہربانﷺ نے فرمایا ” اللہ تعالی کو جائز کاموں میں سب سے زیادہ نا پسندیدہ طلاق ہے “۔

ایک عالم دین نے کیا خوب فرمایا تھا ” یہ قوم اسلام پر مرنے کے لئیے تیار ہے لیکن اسلام پر جینے کے لئیے تیار نہیں ہے “۔

آپ قرآن کا مطالعہ کریں سورۃ البقرہ سے لے کر والناس تک چلے جائیں ۔ آپ کو نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ میں سے کسی ایک فرض کی تفصیلات نہیں ملینگی ۔ آپ کو یہ تک نظر نہیں آئیگا کہ نماز کا طریقہ کیا ہے ؟ آپ کو ان عبادات کی تسبیحات تک نہیں پتہ چل پائینگی ۔

لیکن نکاح ، طلاق ، خلع ، شادی ، ازدواجی معاملات ، میاں بیوی کے تعلقات ، گھریلو ناچاقی ، کم یا زیادہ اختلاف کی صورت میں کرنے کے کام ۔آپ کو سارا کچھ اللہ تعالی کی اس مقدس ترین کتاب میں مل جائیگا جس کو ہم اور آپ” چوم چوم ” کر رکھتے ہیں ۔

آپ مان لیں کہ ہمارے معاشرے میں طلاق اور خلع کی سب سے بڑی وجہ عدم برداشت ہے ۔

یاد رکھیں اچھا اور صحت مند گھرانہ کسی اچھے مرد سے نہیں بنتا بلکہ ایک اچھی عورت کی وجہ سے بنتا ہے۔

” جب دین گھر کے مرد میں آتا ہے تو گویا گھر کی دہلیز تک آتا ہے لیکن اگر گھر کی عورت میں دین آتا ہے تو اس کی سات نسلوں تک دین جاتا ہے “۔

قربانی، ایثار ، احسان، درگذر ، معافی، محبت اور عزت یہ اسلام اور قرآن کی ڈکشنری میں آتے ہیں ۔



خواتین کی نہ ختم ہونے والی خواہشات نے بھی معاشرے کو جہنم میں تبدیل کیا ہے ۔
الیکٹرانک میڈیا نے گوٹھ گاؤں اور کچی بستیوں میں رہنے والی لڑکیوں تک کے دل میں ” شاہ رخ خان “جیسا آئیڈیل پیدا کر دیا ہے ۔
محبت کی شادیاں عام طور پر چند ” ڈیٹس ” ، کچھ فلموں اور تھوڑے بہت تحفے تحائف کا نتیجہ ہوتی ہیں ۔ لڑکیاں اور لڑکے سمجھتے ہیں کہ ہماری باقی زندگی بھی ویسے ہی گذرے گی جیسا فلموں میں دکھاتے ہیں ، لیکن فلموں میں کبھی شادی کے بعد کی کہانی دکھائی ہی نہیں جاتی ہے ۔ اس سے فلم فلاپ ہونے کا ڈر ہوتا ہے ۔

گھریلو زندگی کی تباہی میں سب سے بڑا عنصر ناشکری بھی ہے ۔ کم ہو یا زیادہ ، ملے یا نہ ملے یا کبھی کم ملے پھر بھی ہر حال میں اپنے شوہر کی شکر گزار رہیں ۔

سب سے بڑی تباہی اس واٹس ایپ اور فیس بک سوشل میڈیا نے مچائی ہے ۔

پہلے لڑکیاں غصے میں ہوتی تھیں یا ناراض ہوتی تھیں تو ان کے پاس اماں ابا اور دیگر لوگوں تک رسائی کا کوئی ذریعہ نہیں ہوتا تھا ۔شوہر شام میں گھر آتا ،بیوی کا ہاتھ تھام کر محبت کے چار جملے بولتا ، کبھی آئسکریم کھلانے لے جاتا اور کبھی ٹہلنے کے بہانے کچھ دیر کا ساتھ مل جاتا اور اس طرح دن بھر کا غصہ اور شکایات رفع ہوجایا کرتی تھیں ۔
لیکن ابھی ادھر غصہ آیا نہیں اور ادھر واٹس ایپ پر سارے گھر والوں تک پہنچا نہیں ۔
یہاں میڈم صاحبہ کا ” موڈ آف ” ہوا اور ادھر فیس بک پر اسٹیٹس اپ لوڈ ہو گیا ۔ اور اس کے بعد یہ سوشل میڈیا کا جادو وہ وہ گل کھلاتا ہے کہ پورے کا پورا خاندان تباہ و برباد ہوجاتا ہے یا نتیجہ خود کشیوں کی صورت میں نکلتا ہے ۔

مائیں لڑکیوں کو سمجھائیں کہ خدارا ! اپنے شوہر کا مقابلہ اپنے باپوں سے نہ کریں ۔ ہوسکتا ہے آپکا شوہر آپ کو وہ سب نہ دے سکے جو آپ کو باپ کے گھر میں میسر تھا ۔

لیکن یاد رکھیں آپ کے والد کی زندگی کے پچاس ، ساٹھ سال اس دشت کی سیاحی میں گذر چکے ہیں اور آپ کے شوہر نے ابھی اس دشت میں قدم رکھا ہے ۔ آپ کو سب ملے گا اور انشاء اللہ اپنی ماں سے زیادہ بہتر ملے گا اگر نہ بھی ملے تو بھی شکر گذاری کی عادت ڈالیں سکون اور اطمینان ضرور ملے گا ۔
بیویاں شوہروں کی اور شوہر بیویوں کی چھوٹی چھوٹی باتوں پر تعریف کرنا اور درگذر کرنا سیکھیں ۔
زندگی میں معافی کو عادت بنالیں ۔
خدا کے لئیے باہر والوں سے زیادہ اپنے شوہر کے لئیے تیار ہونے اور رہنے کی عادت ڈالیں ۔ساری دنیا کو دکھانے کے لئیے تو خوب ” میک اپ” لیکن شوہر کے لئیے ” سر جھاڑ منہ پھاڑ ” ایسا نہ کریں ۔
خدا کو بھی محبت کے اظہار کے لئیے پانچ دفعہ آپ کی توجہ درکار ہے ۔ ہم تو پھر انسان ہیں جتنی دفعہ ممکن ہو محبت کا اظہار کریں کبھی تحفے تحائف دے کر بھی کیا کریں۔ قیامت کے دن میزان میں پہلی چیز جو تولی جائیگی وہ شوہر سے بیوی کا اور بیوی سے شوہر کا سلوک ہوگا ۔

یاد رکھیں
مرد کی گھر میں وہی حیثیت ہے جو سربراہ حکومت کی ریاست میں ہوتی ہے ۔ اگر آپ ریاست کی بہتری کی بجائے ہر وقت سربراہ سے بغاوت پر آمادہ رہینگی تو ریاست کا قائم رہنا مشکل ہوجائیگا ۔ جس کو اللہ نے جو عزت اور مقام دیا ہے اس کو وہی عزت اور مقام دینا سیکھیں چاہے آپ مرد ہیں یا عورت ۔

ایک مثالی گھر ایک مثالی خاندان تشکیل دیتا ہے اور ایک مثالی خاندان سے ایک صحتمند معاشرہ وجود میں آتا ہے اور یہیں اسلام کی منشاء ہے ۔🌷.

Somrow Network

08/07/2024

شادی کے بعد میاں بیوی کا ایک دوسرے سے دل کیوں اکُتا جاتا ہے۔؟

اگرچ نکاح دنیا کا سب سے انمول تحفہ ہے تو کیوں آج کل لوگ اس رشتے کو نبھا نہیں پا رہے؟
کیوں وہ جیون ساتھی ہونے کے باوجود کسی اور شخص کو اپنی زندگی میں لے آتے ہیں؟
کیوں اپنے جیون ساتھی سے اُکتاہٹ ہو جاتی ہے؟
کیوں آہستہ آہستہ غلط فہمیاں رشتے کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ کیوں اتنا قریب ہو کر انسان اتنا دور ہو جاتا ہے؟
اس پہ بہت سے لوگوں نے رائے دی ہے۔ میں تھوڑا اس پہ روشنی ڈالنا چاہوں گا، کے کس طرح آپ اپنی زندگی کو آسان بنا سکتے ہیں۔

1:-👈 شادی سے پہلے آج کل مرد اور عورت کی زندگی میں پہلے سے ہی کوئی اور شخص ہوتا ہے۔ جو کہ کسی وجہ سے زندگی میں نہیں آتا، جس کی وجہ نکاح کہیں ہو جاتا ہے اور جیون ساتھی کو وہ مقام نہیں ملتا، جو ملنا چاہیئے۔

2:-👈 اپنے جیون ساتھی کو کسی اور سے کمپیئر کرنا اور سوچنا کہ اس میں یہ خامی ہے، یہ برائی ہے اور پھر اس کی خامیوں کے خلاف ہو جانا گھر کی بربادی کا سبب بنتا ہیں۔

3:-👈کسی تیسرے شخص کی انوالمنٹ یعنی اپنی شادی شدہ زندگی میں کسی تیسرے شخص کو لے آنا۔ اس کی باتیں سُننا، اس کو وقت دینا۔ مکمل اگنور کرنا، یہ محسوس کروانا کہ بس تمہاری زندگی میں میری کوئی ویلیو ہی نہیں۔ اس کے بعد مرد اور عورت کو تیسرا بندہ اچھا لگنے لگ جاتا ہے۔

4:-👈چھوٹے چھوٹے مواقع پہ جیون ساتھی کو وش نا کرنا۔ یا اگر ایک شخص بالکل سادہ ہو تو اس کی سادگی کا مزاق اڑانا کہ دنیا یہاں پہنچ چکی ہے اور تمسخر اڑانا۔
اپنے جیون ساتھی کو وقت نا دینا، اس کا حال نا پوچھنا، ایسے رویہ سے بغاوت کا آغاز ہو جاتا ہے۔

5:-👈اگر شوہر خستہ حال ہو تو بات بات پہ اس کو طعنہ دینا کہ میرے گھر یہ تھا، یہ وہ تھا۔ یا میرا نصیب خراب کہ تم سے شادی ہو گئی۔ بے جا خواہشات شوہر کا خیال نا رکھنا، اس کے لئے سجنا سنورنا نہیں۔ اپنے آپ کو بس یہ سمجھنا کہ اب بوڑھے ہو گئے ہیں۔

6:-👈 نکاح کے بعد مرد اور عورت ایک دوسرے کا لباس ہوتے ہیں۔ عورت کو پتا ہونا چاہیئے کہ اس کے شوہر کے کتنے وسائل ہیں۔ اس کی تکلیف پریشانی میں اس کو اس بات کا یقین دلوایا جائے کہ میں آپ کے ساتھ ہوں۔

7:-👈حد سے زیادہ اُمیدیں کبھی اپنے جیون ساتھی سے نہیں لگانی چاہیئے۔ اس کی چھوٹی چھوٹی غلطیوں کو نظر انداز کرنا چاہیئے۔ سب کے سامنے تذلیل کرنے سے دوریاں جنم لیتیں ہیں۔

8:-👈 کبھی کبھی پیار کا اظہار کر لینا چاہیئے۔ اگر ہو سکے تو دن میں ایک دفعہ ضرور اس کا حال پوچھنا چاہیئے۔ اگر غلطی ہو جائے تو اس پہ سب کے چیخنے چلانے کی بجائے اس کو پیار سے سمجھنا چاہیئے۔ نا کہ سب کے سامنے تماشہ بنانا چاہیئے۔

9:-👈جو کچھ ہم اپنے بوائے فرینڈ یا گرل فرینڈ کے ساتھ کرنا چاہیتے ہیں۔ وہ خواب ہم اپنے حلال رشتے کے ساتھ پورا کر سکتے ہیں۔ اگر کہیں گھومنے جانا ہو تو اپنی وائف کے ساتھ جا سکتے ہیں۔ کہیں پہ کھڑے ہو کر آپ کچھ بھی کھا سکتے ہیں، کوئی آپ کو اعتراض نہیں کرے گا۔

10:-👈 زندگی نام کمپرومائز کا ہے، کوئی بھی پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ جو چیز ہمیں نہیں ملتی، ہم اس کی طلب کرتے ہیں اور جو مل جاتی ہے، اس کی قدر نہیں کرتے۔ تعریف کے کچھ کلمات آپ کے جیون ساتھی کو آپ کا غلام بنا سکتے ہیں۔

Somrow Network

27/08/2023
Want your establishment to be the top-listed Arts & Entertainment in Multan?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Telephone

Website

Address


Multan

Opening Hours

Monday 09:00 - 17:00
Tuesday 09:00 - 17:00
Wednesday 09:00 - 17:00
Thursday 09:00 - 17:00
Friday 09:00 - 12:00