True
WE DON'T HAVE TO MAKE IT PERFECT, BUT WE CAN MAKE IT GREAT.
26/04/2026
اسلام آباد کے ترنول پھاٹک کو ’آبنائے ہرمز‘ سے تشبیہ دینے پر مقدمہ درج، شہری گرفتار
حکومت شکایت کے ازالے کے بجائے عوام کو ڈرا رھی ھے تاکہ عوام کسی بھی سرکاری غلطی اور بے چا تنگ کرنے والے اہلکاروں کی نشاندھی نہ کر سکیں ۔
25/04/2026
کروشیا کی منتخب صدر انتہائی بے وقوف خاتون جس نے ملک کی صدر کا حلف اٹھانے کے بعد اپنا jet جہاز اور وزراء کے استعمال میں 39 لگثری گاڑیاں فروخت کرکے وزراء کو حکم جاری کیا کہ اپنے علاقوں میں جاکر عوام کے مسائل معلوم کرو اور اپنے گھروں کو دفاتر بنا لو حالانکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ کیمرج یونیورسٹی کی فارغ التحصیل خاتون جو شکل و صورت سے بھی جاذب نظر ھے Tk کا ڈرامہ بھی رچا سکتی تھی اسکے گھر سے دفتر کا فیصلہ 1.2 کلومیٹر ھے جو وہ پیدل طے کرتی ھے گھر سے اپنے دفتر اپنا کھانا ساتھ لے کر آتی ھے اس نے غیر ملکی قرضہ لینے سے انکار کردیا اپنی تنخواہ ملک کے عام مزدور کے برابر کر دی۔۔
(امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ)
اٹلی کی خاتون وزیرآعظم نے اسرائیل کے ساتھ کئے گئے تمام تجارتی معاہدے منسوخ کر دیئے ۔ یہ بات تمام مسلم ممالک کے سربراہان کے لئے کھلا چیلنج ھے ۔
24/04/2026
*A Muslim scholar when he was asked about and Islam. He said. "Who started the first world war? Not Muslims!! Who started the ? Not Muslims!! Who killed 6 million Jews in the Holocaust ? Not Muslims. Who killed about 20 millions of in Australia ? Not Muslims!! Who sent the nuclear bombs of and ? Not Muslims!! Who killed thousands of people in and ? ? Not Muslims!! Who killed more than 100 millions of Indians in North America? Not Muslims!! Who killed more than 50 million of Indians in south America? Not Muslims!! Who took about 180 millions of African people as slaves and 88% of them died and were thrown overboard into ? Not Muslims!! No, NOT Muslims!! First of all, You will have to define terrorism properly. If a non-Muslim does something bad. It is crime. But if a Muslim commits the same. He is a . So first remove this double standards. Then come to the point. I am proud to be a
23/04/2026
علماء کو گستاخی نہیں کرنی چاہیئے البتہ سوال تو حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی ھوئے تھے لہذاعلماء فتوے لگانے کے بجائے جواب دیا کریں۔
آخرایسی کیا مجبوری ھے کہ خود کوانبیاء علیہ سلام کے وارث بھی کہتے ہیں لیکن ستترسال سے شرعی نظام کے بجائے لارڈمیکالے کے برٹش پارلیمانی نظام میں ایم این اے اور سنیٹرز کی نوکری بھی کر رھے ہیں۔کیوں؟
گزشتہ ستتر سال سے حکمران یہودی آئی ایم ایف سے سود پر قرضے لے رھے ہیں اور یہ علماء اسی سودی قرضوں میں سے تنخوالیں لے رھے ہیں کیوں؟
جن حکمرانوں نے سود پر سٹے آرڈر لیا ھے انہی کیساتھ اتحادی ھیں کیوں؟
جس حکمران نے سود کو بائیس فیصد سے کم کیا اور پانچ فیصد پر لے آیا اس کے خلاف آمریکی حکم پر ھنگامے کئے کیوں؟
جس حکمران نے یہودیوں کے خلاف او آئی سی کانفرنس بلائی اورقادیانیون کیخلاف قانون سازی کی اسی کے خلاف نو ستارہ تحریک چلا کر امریکہ اور قادیانیوں سے ملکر سزائے موت دی کیوں؟
امریکہ کے حکم پر جہاد کیا لیکن جب فلسطین اور کشمیر کو ضرورت پڑی تو تقریر کر دی اب بندوق اور تلوار سے نہیں لارڈمیکالےکے ووٹ کی پرچی سے جہاد ھو گا کیوں؟
دراصل اب جب علماء سے سوال کیا جا رہا ھے تو وہ صرف پانچ ہزار ارب کرپشن میں چندے ہضم نہ کرے بلکہ ھمت کرے اورعوام کے سوالوں کا جواب بھی دے۔
آخری بات ستتر سال میں سینکڑوں علمائے حق شہید کئے گئے جبکہ اس دوران ایک طبقہ ہمیشہ اقتدار میں رہا لیکن ان علماء کے قاتل نہ ڈھونڈ سکے کیوں؟
کیا صرف وھی علماء ہیں جولارڈمیکالے کے دلال ہیں اور جو شرعی نظام کے مطالبے پر شہید کئے گئے وہ علماء نہیں تھے؟ کیوں
دیکھیئے سنیئے اور پٹواریوں کی ماں کے حربے ملاحظہ فرمایئے ۔
پاکستانی اسٹبلشمنٹ کی توپوں کا رخ ایران کی طرف ھونے کا وقت ھوا چاھتا ھے ۔
19/04/2026
ریڈ الرٹ
19/04/2026
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی بحثیت معیشت دان آپ ان کی کارکردگی سے کتنے فیصد مطمئین ہیں ؟ کمنٹ کریں
17/04/2026
13/04/2026
پاکستان کی تاریخ گواہ ھے کہ جب بھی عالمی طاقتوں کو اپنے مفادات کے لئے اس خطے میں ایندھن کی ضرورت پڑی، ہمارے ہاں مقتدر حلقوں نے قوم کو ایک نیا بیانیہ، ایک نیا "چورن" بیچ کر پرایا کھیل کھیلا۔ ضیاء الحق کے دور سے لے کر جنرل مشرف اور پھر موجودہ حالات تک—کہانی کے کردار بدلتے رھے مگر کہانی کا سکرپٹ اور اس کا بھیانک انجام ہمیشہ ایک جیسا ہی رہا۔ سوال یہ ھے کہ کیا ہم واقعی ایک آزاد اور خود مختار قوم کے طور پر اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، یا ہر بار ڈالروں اور بیرونی آشیرباد کے بدلے قوم کی نسلوں کا سودا کر دیا جاتا ھے؟
۱۹۸۰ء کی دہائی میں جب سوویت یونین نے افغانستان پر چڑھائی کی، تو یہ دراصل دو عالمی سپر پاورز کی اپنی بقاء اور بالادستی کی جنگ تھی۔ مگر پاکستان کے اس وقت کے مقتدر حلقوں اور آرمی چیف ضیاء الحق نے اس جنگ کو پاکستان کے گلی کوچوں میں "افضل جہاد" بنا کر پیش کیا۔ اس جنگ کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے ہمارے جید علماء کرام، مشائخ اور ریاستی اداروں نے مل کر ایک ایسا مذہبی اور جذباتی بیانیہ تیار کیا جس نے نوجوانوں کو اس پرائی جنگ کی بھٹی میں جھونک دیا۔ سوویت یونین تو ٹوٹ گیا اور امریکہ جیت گیا، لیکن پاکستان کو اس سودے کے بدلے کلاشنکوف کلچر، ہیروئن کی وباء، مذھبی انتہا پسندی اور لاکھوں افغان مہاجرین کا بوجھ ملا، جس کے زخم آج بھی رس رہے ہیں۔ ہماری نسلوں کا مستقبل محض بیرونی مفادات کے لیے داؤ پر لگا دیا گیا۔
وقت بدلا اور پھر جنرل پرویز مشرف کے دور میں امریکہ کو ایک بار پھر اس خطے میں اپنے فوجی مقاصد پورے کرنے تھے۔ نائن الیون کے بعد ایک ٹیلی فون کال پر پاکستان کی خود مختاری کا سودا کر دیا گیا۔ جو کل تک "مجاہدین" تھے، وہ اچانک "دہشت گرد" قرار پائے۔ وہی ادارے اور وہی مقتدر حلقے جو پہلے جہاد کے فضائل بیان کرتے تھے، اب "سب سے پہلے پاکستان" کے نام پر اپنے ہی لوگوں کے خلاف برسرِ پیکار ہو گئے۔ اس فیصلے نے ملک کے اندر خودکش دھماکوں، دہشت گردی اور عدم استحکام کا وہ طوفان کھڑا کیا جس میں ہزاروں معصوم پاکستانیوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ ایک بار پھر، مقتدر اشرافیہ نے بیرونی طاقتوں کے ایجنڈے کو اپنا بنا کر پیش کیا اور خمیازہ غریب عوام نے بھگتا۔
موجودہ دور میں سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ پاکستان کے کچھ حصوں میں مصنوعی اور ظاہری امن دکھا کر دنیا اور ملک کو یہ باور کرایا جاتا ہے کہ سب ٹھیک ہے۔ اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ پنجاب پرامن ہے یا سندھ کے کچھ علاقوں میں سکون ہے تو یہ صریحاً خود فریبی ہے۔ قوم کو یہ دیکھنا ہوگا کہ ملک کی دوسری پٹی، خصوصاً خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقہ جات میں کتنا ہولناک خون اور دھماکوں کا کھیل جاری ہے۔ خیبر پختونخوا کی مٹی پچھلے ۴۰ سالوں سے مسلسل حالتِ جنگ میں ہے۔ وہاں خودکش حملے، بم دھماکے اور نت نئے فوجی آپریشنز ایک معمول بن چکے ہیں۔ آج بھی ہمارے بچے، بوڑھے، جوان اور ہماری مائیں اس آگ میں جل رہی ہیں۔ اس مسلسل مسلط کردہ جنگ نے ہمارے بچوں سے ان کی تعلیم چھین لی، نوجوانوں کو بے روزگار کر دیا، اور ہمارے علاقے کی معیشت کا جنازہ نکال دیا۔ آج بھی جنازے اٹھانے کا یہ سلسلہ رکا نہیں ہے۔
آج ایک بار پھر ملک نازک موڑ پر کھڑا ہے اور پسِ پردہ مقتدر حلقوں کی جانب سے نئی ڈیلز اور نئی جنگوں کی چہ مگوئیاں جاری ہیں۔ خدشہ یہی ہے کہ تاریخ کے اس تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے، ایک بار پھر عوام کے اصل مسائل کو پسِ پشت ڈال کر کسی اور کا ایجنڈا مسلط کرنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ عوام پوچھتے ہیں کہ کیا اب بھی وہی پرانا کھیل کھیلا جائے گا؟ کسی بھی ملک کی تباہی تب یقینی ہو جاتی ہے جب اس کے فیصلے اپنے عوام کے بجائے غیروں کے اشاروں پر کیے جائیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ بار بار کی جانے والی ان سٹرٹیجک غلطیوں اور ذاتی مفادات پر مبنی فیصلوں کی قیمت ہمیشہ اس ملک کے غریب عوام اور بے گناہ شہریوں نے اپنے خون اور پسماندگی سے چکائی ھے۔
اب وقت آ گیا ھے کہ پورے پاکستان کی عوام، خواہ وہ کسی بھی صوبے سے ہوں، آنکھیں کھولیں۔ اس سنگین کھیل کو نزدیک سے دیکھیں اور سمجھیں کہ جب تک پاکستان کا ایک بھی حصہ جل رہا ہے، پورا ملک کبھی محفوظ نہیں ھو سکتا۔ ملک کی اصل خودمختاری تب ھی ممکن ھے جب فیصلے بند کمروں میں بیرونی ایجنڈوں کے تحت نہیں، بلکہ سڑکوں پر موجود عوام کی فلاح اور حقیقی قومی مفاد کو سامنے رکھ کر کئے جائیں ۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the public figure
Telephone
Website
Address
Mardan
Opening Hours
| Monday | 23:00 - 19:00 |
| Tuesday | 00:00 - 20:00 |
| Wednesday | 00:00 - 20:00 |
| Thursday | 00:00 - 02:00 |
| Friday | 00:00 - 00:00 |
| Saturday | 00:00 - 00:00 |
| Sunday | 00:00 - 00:00 |