Asim Muhammad
#me
08/08/2022
*14 اگست اور پاکستانی پرچم*
13 اگست
ادریس آرہے ہیں ساتھ میں بہت سے بچے بھی ہیں۔ انگلیوں پر کچھ حساب کتاب میں مصروف راستہ پہ قدم رکھ رہے ہیں۔
میں نے دور سے ان کو دیکھا تو حال دریافت کرنے کی غرض سے ان کے قریب جانے لگا ۔
میں: خیر تو ہے یہ اکبر باچا کے لشکر کے ساتھ کہاں پہ حملہ کرنے کا ارادہ ہے؟
ادریس: اپ نے صحیح پہچانا یہ اکبر باچا کے ہی لشکر ہے۔ کہاں اور نہیں ہمارے جیپ پہ ہی حملہ اور ہونے والے ہیں۔ صاحبان فرما رہے ہیں کہ ہمیں 14 اگست کے لئے شاپنگ کرنا ہے۔ بھائی! ہمارے زمانے میں تو عید کے لئے بھی شاپنگ نہیں ہوتا اور اب 14 اگست کے لئے بھی شاپنگ ہو رہے ہیں۔
میں:( ایک بچے کو مخاطب کرکے) ہاں بیٹا! تو آپ 14 اگست کے لئے کیا خریداری کریں گے؟
بچہ: میں ڈھیر سارے جھنڈے، بیجز خریدوں گا۔ پھر ان کو اپنے ساتھ سکول لے کے جاؤں گا۔
میں: میرے لئے کچھ خریدو گے؟
بچہ: آپ تو بڑے ہیں۔ 14 اگست تو بچے مناتے ہیں۔
میں سوچنے لگا کہ واقعی 14 اگست بچے ہی منا سکتے ہیں کیوں کہ ان کو پتہ نہیں ہوتا کہ ہم آج بھی غلام ہیں۔ اے کاش ہم بھی بچے ہوتے۔ اس غلامی اور ازادی کے جھنجھٹ سے ازاد سوچتے اور زندگی بسر کرتے۔
14 اگست
پھر وہی راستہ وہی ادریس اور ان بچوں کے ساتھ میرے طرف آ رہے ہیں۔ لیکن آج بچوں کا شان وشوکت بدل تھا۔
آج بچوں نے سبز اور سفید رنگ والے کپڑے پہنے تھے۔ کئی بچوں نے چہروں پہ پاکستانی پرچم کے سٹیکرز لگائے تھے۔ کئی بچوں نے جیبوں پہ پاکستانی پرچم والے بیجز لگائے تھے اور کئی بچے ہاتھ میں پاکستانی پرچم اٹھا کے لہرا رہے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ سکول جانے لگا تاکہ تقریب سے محظوظ ہو سکوں۔ سکول کے تقریب میں بچوں کو پاکستان کے آزادی میں مختلف مکتبہ فکر کے قربانیوں کا تذکرہ کیا گیا۔ مزاح کے لئے کچھ لطیفے اور خاکے پیش کئے گئے۔ قومی ترانہ پیش کی گئی اور ساتھ میں پاکستانی پرچم کو سلامی بھی پیش کی گئی۔
15 اگست
آج پھر صبح سویرے گھر سے نکلا۔ باہر وہی گلیاں تھیں۔ وہی راستے تھے۔ لیکن سنسان پڑے تھے۔ کیوں کہ آج اتوار کا دن تھا۔ کوئی بچہ نظر نہیں آرہا تھا۔ ہاں وہ جھنڈے،عظیم شخصیات کی تصاویر، وغیرہ اب بھی نظر آ رہے تھے لیکن آج وہ کسی بچے کے ہاتھ یا چہرے کا زینت نہیں بنے ہوئے تھے بلکہ نالیوں اور راستوں میں لوگوں کے قدموں کی زینت بن رہے تھے۔ آج وہ ڈسٹ بِن کے زینت بن رہے تھے۔آج وہ ٹی ایم اے والوں کے لئے درد سر کا سبب بن رہے تھے۔
ان کو دیکھ کر میں سوچ رہا تھا کہ پاکستانی پرچم کی قدر صرف اسمبلیوں اور تقاریب میں فرض ہے؟
#اگست14
06/08/2022
مزاح
*عاصم محمد*
رات کے تقریباً ایک بجہ تھا۔ آنکھیں ملتے ہوئے میں برآمدے میں نکل آیا۔ وہ بھی برآمدے میں کھڑی تھی۔ سارے عالم پر خاموشی طاری تھی۔ میں نے موقع کا فایدہ اٹھاتے ہوئے ان کی طرف قدم بڑھائے۔ قریب پہنچ کر ان کو اچھی طرح دیکھا۔ وہ اس وقت بھی ترو تازہ، صاف ستھری تھی۔ پہلے دھیرے دھیرے ان کے جسم پر ہاتھ پھیرنے لگا۔ پھر اور قریب ہو گیا اور ان کے دونوں ہاتھوں کو مضبوطی سے پکڑ لیا۔ان کے انگلیوں سے چھیڑنے لگا۔ پھر ایک پاؤں ایک طرف کی اور دوسری پاؤں دوسری طرف رکھ دی۔ اپنے بائیں ہاتھ کو اوپر لے کے جانے لگا۔ ان چہرے پر تھوڑا ہاتھ پھیر لیا۔ پھر کانوں تک ہاتھ لے کے جانے لگا۔ ان کے کان نہایت نرم تھے۔ چھیڑنے کی غرض سے ان کے کان کو گمانے لگا۔
کان گمانا کیا تھا کہ ان سے ایک غُرر سا آواز نکل گئی اور رکشہ سٹارٹ ہوگئ۔ رات کے اس پہر رکشے کی اواز سن کر سب اٹھ گئے جب پتہ چلا کہ میں ہوں تو وہ ہوا کہ راوی بیان کرنے سے قاصر ہے۔
#اردو
#نثر
#مزاح
#طنزومزاح
#ادب
*وقت کی پکار پر جو لوگ کان نہیں دھرتے، حیات انہیں دھوکہ دینے میں کبھی پیچھے نہیں رہتی۔*
پیاس کا دریا از رحیم گل
02/06/2022
How to improve your creativity?
"اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو کیسے نکھاریں؟"
یہ تحریر برین ٹریسی کی کتاب "ویکٹری" سے ترجمہ شدہ ہے۔ "برین ٹریسی" اپنے کتابوں سے پوری دنیا میں جانا پہچانا جاتا ہے۔ ان کی کتاب "ایٹ دیٹ فراگ" بیسٹ سیلرز کتب میں شمار کیا جاتا ہے۔
انہوں نے اپنے کتاب میں 4 ایسے تیکنیک سیکھائے ہیں جن پہ عمل کرکے آپ اپنے ذاتی زندگی میں انقلاب لا سکتے ہیں۔ تو چلیے شروع کرتے ہیں۔
1۔ The Kaizan Strategy Of Continuous Betterment:
1 ۔ 1960 اور 1970 کی دہائیوں میں "ڈبلیو ایڈورڈز ڈیمنگ" نے جاپان انڈسٹری کو ایک تیکنیک سے متعارف کرایا۔ ان دونوں دہائیوں میں جاپانی مصنوعات کوالٹی کے لیے ایک استعارہ بن گیا۔ جس سے بھی پوچھو بس منہ پہ "جاپانی پرزے" کا ہی نام ہوتا ہے۔ یہ وہی جاپان تھا جس پہ 1945 میں دھماکے کیے گیے تھے۔ اور جاپانی انڈسٹری مکمل تباہ ہوچکی تھی۔ لیکن انہوں نے اس تیکنیک کو استعمال میں لایا۔ جاپانی انڈسٹری کی اس عمل کو "کائزن" کہا جاتا ہے جس کا معنی ہے "مسلسل بہتری لانا"۔
جاپانیوں نے اس پہ عمل کرتے ہوئے اپنے تمام ملازمین جس میں کلاس فور سے لیکر بڑے بڑے بزنس مین شامل تھے کو ہدایات دی کہ اپنے اپنے فیلڈ میں مسلسل بہتری لانے کی کوشش کریں۔
اس تینیک کو ایک اور شخصیت نے بھی استعمال میں لایا اور وہ آج دنیا کے مالدارترین شخصیات میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے ایک ویب سائٹ بنایا جس پہ وہ کتابیں فروخت کرتا تھا اس ویب سائٹ میں وہ مسلسل تھوڑی تھوڑٰ بہتری لانے لگا۔ اور آج اس ویب سائب پہ تیس ملین سے زیادہ مصنوعات فروخت ہورہے۔ اس ویب سائٹ کا نام ایمازون ہے اور شخصیت کا نام جیف بیزوز ہے۔
مختصرا اس تیکنیک میں بتایا گیا ہے کہ اپنی زندگی میں چھوٹی چھوٹی بہتری لانے کی کوشش کریں۔ کیوں کہ
Little things mean a lot
2. Nominal Group Technique
اس تکنیک میں آپ ایک کلام ناقص لکھتے ہے اور اس کو مکمل کرنے کے لیے آپ مختلف جملے ڈھونڈتے ہیں۔ جیسے "میں اپنے مطالعے کو دگنا کر سکتا ہوں اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
اب اگر کے آگے کا جواب ڈھونڈیں۔
اسی طرح "میں خود کو موبائل کے زیادہ استعمال سے بچا سکتا ہوں اگر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔"
(موبائل سے جان چڑانے کے لیے اپنے تجربات سے یہ ٹپ فری میں دیتا چلوں کہ پیکیچز نہ لگایا کریں یا کم کریں تو بہت آفاقہ ہو سکتا ہے)
جب آپ اس کے لیے جوابات ڈھونڈیں تو تو ان میں سے ایک بہترین جواب کو منتخب کیجیے اور اس پہ فوری عمل کرنا شروع کیجیے۔ دوسروں سے فیڈبیک لینے کی بھی کوشش کیجیے اگر اس میں کچھ تبدیلی کی ضرورت ہو تو خود کو تبدیل بھی کر لیا کریں۔ بعض دفعہ کوئی بھی چھوٹی سی آیڈیا آپ کے زندگی میں انقلاب کا سبب بن سکتا ہے۔
3. Mind Storming:
یہ ایک مشق ہے جو آپ بذات خود کر سکتے ہیں۔ ایک کاغذ لیجیے اور ساتھ میں قلم اوراپنے مقاصد یا مسائل کو صفحے کے اوپری حصہ پر سوال کی شکل میں لکھیں۔ اب اس سوال کے لیے کم از کم 20 جوابات ڈھونڈیں خود کو ثابت قدم رکھیے حتی کہ آپ بیس جوابات ڈھونڈھ سکیں۔ یہ اتنا آسان نہیں جتنا ہم سمجھتے ہیں پہلے دو تین جوابات شاید آپ ڈھونڈھ سکیں لیکن اگلے جوابات ڈھوڈنے میں آپ کو دقت کا سامنا کرنا پڑ سکتاہے۔ لیکن یہ دقت ایک دفعہ یا دو دفعہ سے زیادہ نہیں ہوگا۔ اس کے بعد جب بھی آپ یہ مشق کریں گے تو بلافکر آپ بیس جوابات ڈھونڈھ پائیں گے۔ جب آپ یہ جوابات ڈھونڈھ نکالیں تو ان میں جو سب سے بہترین اور موزوں جواب ہوگا اس پہ فورا عمل کرنا شروع کریں۔
اگر آپ اس مشق پر روزانہ پریکٹس کریں گے۔ یا ایک ہفتے کے پانچ دن آپ اس پہ مشق کرتے ہیں تو آپ ان دنوں میں 100 نیے آیڈیاز ڈھونڈھ پائیں گے۔ اسی طرح اگر آپ گرمیوں کے چھٹیوں کو چھوڑ کر باقی سال اس پہ پریکٹس کرتے ہیں تو آپ 5000 نیے آیڈیاز تخلیق کر سکتے ہیں۔
اگر آپ ایک دن میں صرف ایک آیڈیا پہ عمل کرنا شروع کردیتے ہیں تو سال میں 250 نئے آیڈیاز کو اپنے زندگی کا حصہ بنا کر اپنے مقاصد کو جلدی حاصل کرسکتے ہیں۔ اور بہترین تخلیقی لوگوں میں شمار ہو جائیں گے۔
4. Brainstorming:
یہ تخلیقی صلاحیتوں کو بہتر بنانے کے لیے سب سے بہترین مشق ہے جو 4 سے لیکر 7 لوگوں کے گروہ کے ذریعے کیا جاتاہے۔ اس میں ایک شخص اپنے مقاصد یا مسائل کے مٌطابق کوئی آسان اور سادہ سا سوال بناتا ہے جو کہ قابل فہم ہو۔
جیسے کوئی استاد اپنے شاگردوں سے پوچھے کہ
"ہم پیپر کے بہتریں حل کے لیے کون سا طریقہ استعمال کر سکتے ہیں؟"
یہ سوال آسان، سادہ اور قابل فہم ہے۔ اس قسم کے سوالات کے جوابات بھی زیادہ اور بہترین آ سکتے ہیں۔
مؤثر برین سٹورمنگ کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ اس میں جوابات کی معیار کے بجائے مقدار کو فوقیت دی جاتی ہیں تا کہ کلاس کا ہر طالب علم اس میں حصہ لے سکے۔ دوران برین سٹومنگ آپ کسی کے جواب کو رد نہ کریں اور نہ اس پہ تنقید کریں تاکہ جوابات کا بہاؤ جاری رہے۔ جتنا ہوسکے طلبا کے لیے ہنسی مزاق اور مثبت ماحول بنانے کی کوشش کریں۔ ماحول جتنا مثبت ہوگا جوابات بھی اتنے ہی مثبت اور موزوں آئیں گے جو کہ آگے جاکر اسی مسئلے کے لیے حل یا مقصد کو حاصل کرنے کے بہترین تجویز ثابت ہوسکتاہے۔
کہتے ہیں کہ 1962 میں امریکہ نے ایک راکٹ کو چاند پر اتارنے کا فیصلہ کیا لیکن راکٹ چاند تک لے کے جانے پر بہت زیادہ تیل کا خرچ آسکتا تھا۔ اس کے لیے ایک میٹنگ طلب کی گئی۔ میٹینگ میں یہی برین سٹونگ کی تکنیک استعمال کرنے لگے۔ ایک انجنیئر نے ایڈیا دیا کہ ہم پورے راکٹ کے بجائے راکٹ کا ایک چھوٹآ حصہ بھی چاند پر اتار سکتے ہیں جس پر خرچ کم آئے گا۔اسی طرح یہ مسئلہ حل ہوگیا اور 1969 میں امریکہ نے اپنا راکٹ چاند پر اتار دیا۔ اگر یہ برین سٹومنگ نہ کرتے تو شاید انجنیر کی اس بہترین آیڈیا سے محروم رہتے۔
(وضاحت: پوری تفصیل کے لیے آپ کتاب ملاحظہ فرمائے۔ میں نے اپنے سمجھنے کی حد تک اس کی ترجمہ کرنے کی کوشش کی ہے۔)
طالب دعا: عاصم محمد
بشکریہ: سر اسد علی سیماب صاحب Asad Ali Seemab Official جنہوں نے مجھے یہ قیمتی کتاب بطور انعام دیا تھا۔
Ref: Victory by Brian Tracy (P. #. 83-88)
میں ادریس کے ساتھ سڑک کے کنارے چہل قدمی کر رہا تھا۔
اتنے میں اک کوسٹر کی اواز ہماری کانوں میں پڑی اور تیزی سے ہم پر اوور ٹیک کر گیا۔
میں اپنے موبائل میں سکرول ڈاؤن کر رہا تھا تو ادریس کہنے لگا زرا کوسٹر پہ دیکھو!
میں نے اوپر دیکھا تو کوسٹر کے پیچھے والے شیشے پہ یہ لکھا گیا تھا۔
اور ساتھ میں کپ کے چائے کا تصویر بھی دیا گیا تھا۔
ادریس کہنے لگا کہ واقعی اس کوسٹر میں فری وائی فائی کی سہولت موجود ہوتی ہے؟ یا یوں ہی لکھا ہے۔
میں نے کہا یہ اسی طرح ہے جیسے بسکٹ کے ڈبے پہ "شوگر فری" لکھا ہوتا ہے یا گھی کی ڈبے پہ "کولسٹرول فری" لکھا ہوتا ہے۔🤔
وہ بات سمجھ گیا اس لئے خاموش ہوا۔😁
#عاصیات
#مزاح
#اردو
#نثر
23/04/2022
ALHAMDOLILLAH
GREAT NEWS
Dr Amjad Saqib, a Pakistani philanthropist and founder of the country’s largest interest-free microfinance programme Akhuwat working for poverty alleviation has been nominated for the Nobel Peace Prize for his humanitarian work in poverty alleviation.
SO PROUD OF YOU DEAR Sir Dr. Muhammad Amjad Saqib
عید کے خریداری ہو رہی ہے۔ ہر کوئی اس سوچ میں ہے کہ کہاں پہ زیادہ افر لگا ہوگا۔ یہاں پہ زیادہ سے زیادہ 40 فیصد تک افر لگ جائے گا۔ اور ہم دھڑا دھڑ خریداری کرنے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ اسی مصروفیت میں ہم اک بڑا افر ضایع کر رہے رہیں جو آخری سانس لے رہا۔ اور وہ 70 فی صد کا افر ہے۔
اپ کو پتہ یہ افر کہاں لگا ہوا ہے؟
یہ اوپر آسمانوں پہ لگا ہوا ہے اور ہر سال لگا دیا جاتا ہے تاکہ ان کے بندوں کو زیادہ نیکیاں کمانے کا موقع ملے لیکن بندے تو یہاں پہ جوتوں اور کپڑوں کے افرز میں مصروف ہیں۔
آخری چند آیام ہیں رمضان سے فایدہ اٹھائیں۔
اور 70 فیصد افر حاصل کریں۔
#رمضان2022
#عاصیات
*ریاست اس کیفیت کا نام ہے جہاں دروازے کھلے چھوڑ کر سو سکتے ہوں اور عورتیں زیور پہن کر بغیر مرد کی رکھوالی کے باہر نکل سکتی ہوں*
آگ کا دریا از قرۃ العین حیدر(ص 26)
#اردو
#ناول
میں ایٹا کا ٹسٹ دینے کے بعد کمرے سے باہر نکل رہا تھا اور قلم کے کو اپنے جیب میں رکھ رہا تھا۔ کہ میرے کانوں میں اک آواز آئی۔
"خانہ ٹسٹ دی سنگہ ورکو"
یہ ادریس کا اواز تھا جو چند لمحے قبل ٹسٹ مکمل کر کے باہر میرا انتظار کر رہا تھا۔
میں نے جواباً کہا کہ ٹھیک تھا۔ اپنا بتاؤ کیسا دیا تم نے؟
کہنے لگا
بہت اچھا اک سوال بھی غلط نہیں کیا ہے۔
اچھا!
یہ بتاؤ وہ تیرھویں سوال میں کیا آنا تھا؟(میں نے یوں ہی پوچھا کیوں کہ یہ سوال سب سے اسان تھا اور مجھے بھی اسی وجہ سے یاد تھا)
کہنے لگا وہ کیسا سوال تھا ذرا یاد دھانی کراؤ۔
"مڑہ ہغہ دہ پاکستان دہ حکومت بارہ کی چی وو۔ بیا ھیر دے درنہ"
ہاں ہاں
یاد آیا۔
اس میں مَیں نے "ج" کو نشان لگایا تھا۔
کیا "ج" کو ! اوے تیرا بیڑہ غرق اس میں تو "د" صحیح تھا۔
سوال یاد بھی ہے۔۔۔۔ کہ نہیں؟
میں نے اسے بات کرنے کی باری دیتے ہوئے بغیر بات جاری کر لی۔
سوال یہ تھا کہ
"پاکستان میں کون سا طرز حکومت ہے"
اور اس میں چار اپشن دئے گئے
الف۔ آمریت
ب۔ خلافت
ج۔ مورثی بادشاہت
د۔ جمہوریت
اور ظاہر ہے کہ اس میں جمہوریت ہی ہے۔
یار رمضان میں ٹیلری کی وجہ سے میں نے ٹسٹ کے لئے تیاری نہیں کی تھی بس جو تجربے میں آیا تھا وہی لکھ دیا۔(اس نے اپنی صفائی دیتے ہوئے وضاحت کرلی)۔
ہاں ہاں! یہ تجربے سے لکھ دیا کرو۔ خیر تم تو گئے۔ کیوں کہ باقی بھی تم نے اپنے تجربے سے ہی حل کئے ہوں گے۔ ہے نا اسی طرح
نہیں یار
وہ میں نے اپنے ساتھ والے اک بھائی سے چوری چوری حل کئے تھے۔ بس یہ رہ گیا تھا اور دکھا نہیں رہے تھے خبیس انسان!
وہ غصے میں بولے۔
اچھا یہ بتاؤ یہ کس طرح تجربہ تھا؟ کیوں کہ اگر یہ سوال کوئی بچے سے بھی پوچھے تو یہی جواب دے گا کہ جمہوریت لیکن اپ کی تجربہ سمجھ سے باہر ہے۔
یار وہ بات یہ ہے نا کہ میں نے پاکستانی سیاست اور حکومت کو دیکھا تو سمجھ میں آیا کہ یہ تو سراسر
مورثی بادشاہت ہے۔
وہ کیسے؟
سنو! میں صرف تین چار سیاسی پارٹی کا نام لوں گا اور اس کے قائدین کا بھی۔ مثلاً
مسلم لیگ ن کو لیجئے پہلے باپ قائد پھر نواز شریف ہوگئے اور اب شہباز شریف اور اس کے بعد مریم نواز ہوگی اور حمزہ شہباز نے بھی بحیثیت وزیر اعلیٰ کے امیدوار سے میدان میں قدم رکھا ہے۔ یار ان لوگوں کے علاوہ پارٹی میں کوئی قائد کا اہلیت نہیں رکھتا تھا جو اس پارٹی میں دہائیاں گزار چکے ہیں۔
اچھا پیپل پارٹی کو دیکھو پہلے ذولفقار علی بھٹو تھے پھر بینظیر بھٹو ہوگئی اور اب بلاول زرداری ہوگیا۔ اس میں بھی کوئی ایسا نہیں تھا؟ جو پارٹی کے قائد کی اہلیت رکھتا ہو۔
لیکن یہ دونوں تو پھر بھی سمجھ میں آسکتے ہیں لیکن جمیعت علمائے اسلام کو دیکھو جو کہ اسلامی پارٹی کا لیبل خود پہ لگا کے پھر رہے ہیں۔
پہلے مفتی محمود صاحب تھے اب مولانا فضل الرحمان صاحب ہے اور اس کے بعد قوی امید ہے کہ اس کے بیٹے میں سے کوئی قاید بن جائے۔
عمران خان صاحب کے چند بچے ہیں وہ بھی ان کو باہر تربیت دے رہا ہے۔ اور شاید آنے والے چند سالوں میں وہ بھی یہاں کر یہ دعویٰ کریں کہ یہ ہمارے باپ کی میراث ہیں ہم ہی اس کے چیئرمین بنے گے۔
اگر یہ مورثی بادشاہت نہیں تو اور کیا ہے؟
ہاں بات تو تمھاری ٹھیک ہے (میں نے ان سے اتفاق کرتے ہوئے سر کو مثبت میں ہلایا)
چند دن بعد نتیجے آئے ان کا صرف اک نمبر کم تھا شاید یہ اس سوال کے نمبر ہو۔ کیوں کہ جس استاد نے یا ایگزامنر نے پیپر بنایا تھا وہ بھی اس خوش فہمی میں تھا کہ پاکستان میں جمہوریت ہے۔
*عاصیات*
#پاکستان
#جمہوریت
#عاصیات
15/04/2022
*سورۃ کہف*
لوگ اس سورت کو صرف غار والوں کا واقعہ سمجھتے ہیں مگر اصل مدعا جو ہے اس کی طرف غور کم ہی کرتے ہیں۔ اس سورت کامقصود/ لب لباب یا سینٹرل آئیڈیا کہہ لیں یہ ہے کہ اللہ اس دنیا میں لوگوں کو آٹھ طرح کے حالات سے آزماتے ہیں، عزت، ذلت، صحت، بیماری، نفع، نقصان، خوشی ، غمی۔
ہر بندہ ہر وقت ان میں سے کسی ایک حال میں ہوتا ہے۔ ان آٹھ کو اگر تقسیم کریں تو دو دو حالات میں تقسیم ہو ں گے۔ تو یا تو اچھے حالات ہوں گے یا برے۔ یعنی یا تو بندہ عزت میں ہوگا یا ذلت میں۔ یا صحت ہو گی یا بیماری۔ تو اللہ دو حالات میں آزماتے ہیں یا تو اچھے یا برے۔ کہ یہ بندہ اچھے حالات میں شکر کرتا ہے یا نہیں اور برے حالات میں صبر کرتا ہے یا نہیں۔
تو دو پیپر بنے ایک شکر کا پیپر اور دوسرا صبرکا پیپر۔ اب اگر بندے نے اچھے حالات میں شکر کیا تو اس نے پیپر کو پاس کیا اور اگر ناشکری کی تو اس پیپر کو فیل کیا ۔ اور اگر صبر کے پیپر میں صبر کیا تو پاس ہوا اور بے صبری کی تو فیل ہوگیا۔
یہ زندگی دار الامتحان ہے جہاں ہم نے دو پیپر دینے ہیں ایک صبر کا دوسراشکر کا۔
اللہ نے جب حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا کیا اور ان کو بھی ان دو پیپرز میں آزمایا۔ پہلا شکر کا تھا جو کہ جنت کی نعمتیں تھیں، دوسرا درخت کا پھل تھا جو کھانے سے منع کیا گیا تھا تو یہ صبر کا پیپر تھا جس میں شیطان نے ان کو کامیاب نہ ہونے دیا۔
سورہ کہف میں پانچ واقعات ہیں۔
*حضرت آدم علیہ اسلام کاواقعہ۔
یہ قلب ہے اس سورت کا۔ آیتیں تھوڑی ہیں اس لیے پڑھنے والوں کی توجہ ہی نہیں جاتی۔
آدم علیہ السلام کے واقعہ سے پہلے دو واقعات عام الناس کے ہیں جن میں سے ایک اصحاب کہف تھے یہ عام نوجوان تھے اور انہوں نے صبر کا امتحان دیا اور اس پیپر میں پاس ہو کر مقبول بندوں میں شامل ہو گئے، دوسرا واقعہ دو باغوں والے شخص کا تھا یہ بھی عام شخص تھا جس کو مال و دولت دی گئی تھی اس کا پیپر شکر کا تھا کہ تم نے نعمتوں پر شکر کرنا ہے تو یہ فیل ہو گیا۔ اس کے بعد آدم علیہ السلام کا واقعہ اور پھر دو واقعات ہیں خواص کے۔ ایک موسٰی علیہ السلام کا کہ ان سے بھی صبر کا پیپر لیا گیا اور سکندر ذوالقرنین کا شکر کا پیپر تھا اور انہوں نے غرور و تکبر نہیں کیا اور شکر کا پیپر پاس کیا۔ اسی طرح اللہ اولاد آدم سے بھی صبر اور شکر کےپیپر لیتے ہیں۔
*اهم نکات*
※ اللہ نے اس سورت کی شروعات میں اپنی الوہیت کا ذکر کیا اور ختم اپنی ربویت کے تذکرے پر کیا۔
※ شروع سورت میں اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی عبدیت کا تذکرہ کیا اور اختتام ان کی بشریت پر کیا۔
※ انسان کے لیئے دنیا میں سب سے بڑی بلندی عبدیت ہے۔ اسی لیئے انسان ذکر کرتا ہے تاکہ اللہ کی محبت اس کے دل میں آ جائے۔ اب صرف محبت کا آ جانا مقصود نہیں ہے ، جب محبت آ جائے تو پھر محب ہمیشہ محبوب کو راضی کرنے کی فکر میں رہتا ہے۔ اور رضا کیا ہے اللہ کی تقدیر پر راضی رہنا، اگر اللہ اچھے حالات بھیجے تو شکر کرنا اور برے حالات میں صبر کرنا۔
جب بندے کو یہ مقامِ رضا حاصل ہو جائے تو پھر اس کو مقام عبدیت حاصل ہو جاتا ہے۔
※ عبد کا لفظ اللہ نے اپنے حبیب کے لیئے استعمال کیا۔
مفسرین کی نظر میں عبد وہ ہوتا ہے جس کو اپنے آقا کے سوا کچھ نظر نہ آئے۔ بعض کے نزدیک عبد وہ ہوتا ہے جو اپنے آقا سے کسی بات میں اختلاف نہیں کرتا ، ہر حال میں راضی رہتا ہے، شکوہ نہیں کرتا۔
※ چونکہ اس سورہ کو دجال سے حفاظت کے لیے پڑھنے کا ذکر احادیث میں آتا ہے۔ اس لیےکہ یہ ہمیں اس سے بچاتی ہے۔
※ پہلے دجال کے معنی کو سمجھیں کہ یہ دجل سے نکلا ہے دجل فریب کو کہتے ہیں اور ملمع سازی کرنے کو کہتے ہیں جس طرح تانبے پر سونے کا پانی چڑھا دیا جائے تو وہ اوپر سے کچھ ہو گا اور اندر سے کچھ ،اسی طرح دجال بھی اندر سے کچھ اور ہوگا اور باہر سے کچھ اور۔
آج کے دور میں اسی طرح دجالی تہذیب ہے کہ اوپر سے تو خوش نما نظر آتی ہے مگر اندر سے کچھ اور ہے۔ آج کے دور میں ایمان اور مادیت کی ایک جنگ چل رہی ہے۔ اب اس دور میں اگر اپنا ایمان بچانا ہے تو ہمیں بھی دنیا کی لذتوں اور رنگینیوں سے بچنا اور قرآن اور قرآن والوں کی صحبت میں پناہ لینی ہوگی۔
اس سورت کا ہر واقعہ ہمیں ایک سبق سکھاتا ہے کہ کس طرح ہم نے خود کو دجال سے بچانا ہے۔
※ اصحاب کہف کے قصے سے یہ سبق ملا کہ ہم کو اپنے ایمان کی حفاظت کے لئیے قرآن اور صحبت صالحه میں پناہ لینی ہے تاکہ ہم اپنا ایمان بچا لیں اور دجال سے محفوظ رہیں۔ (واتل ما اوحى من كتاب ربك... واصبر نفسك مع الذين..... آیات 27 تا 29)
※ صاحب جنتین کے قصے سے یہ سبق ملا
کہ اللہ نے جو مال دیا اس کو اپنی طرف منسوب نہ کرے جیسا کہ اس باغ والے نے کیا اور پکڑ میں آ گیا اور اس نعمت سے محروم کر دیا گیا۔
※ حضرت آدم علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملا کہ یہ دنیا ہمارے لیئےدار اقامت ہے ہمارا اصلی وطن جنت ہے دنیا میں رہ کر دنیا کو اپنا اصلی وطن سمجھ لینا اور ساری محنتیں اور ساری امیدیں دنیا پر لگا دینا بےوقوفی کی بات ہے۔ شیطان بدبخت نے ہمیں جھوٹی قسمیں کھا کھا کر اصلی وطن سے نکالا تھا اب یہاں بھی یہ ہمارا دشمن ہے اور ہم سے گناہ کرواتا ہے تاکہ دوبارہ جنت میں جانے کے قابل نہ رہیں۔ اللہ شر سے بچائے اور ہمارے اصلی گھر جنت میں پہنچا دے۔ آمین
※ موسٰی علیہ السلام کے واقعے سے یہ سبق ملتا ہے کہ ہم دنیا میں جتنا بھی علم حاصل کر لیں ،دنیا میں کوئی نا کوئی ہم سے بھی بڑھ کر جاننے والا ہوگا۔
انسان کبھی بھی اشیاء کی حقیقت کا احاطہ نہیں کر سکتا۔
جب ہم یہ سمجھیں گے کہ ہم سب کچھ جانتے ہیں تو پھر ہم دجال فتنے میں پھنس جائیں گے اس لیے اللہ نے موسی علیہ السلام کا واقعہ بیان کر دیا تاکہ ہم لوگ یہ نہ سمجھیں کہ ہمیں سب پتا ہے بلکہ یہ کہیں کہ اللہ ہی حقیقت حال کو جانتے ہیں۔
علم اوربھی اس سے کہیں زیادہ ہے جو ہمارے پاس نہیں ہے، اسی لیئے سورہ کہف انسان کو دجال کے فتنے سے محفوظ رکھتی ہے اور اس کی ذہن سازی کرتی ہے اور ایسا ذہن بناتی ہے کہ بندہ کا ذہن محفوظ ہو جاتا ہے۔
※ حضرت ذوالقرنین کے واقعے سےسبق ملا
حضرت ذوالقرنین جہاں گئے وہ ان کے کوئی دوست رشتے دار نہیں تھے یا کوئی جاننے والے نہیں تھے کیوں کہ وہ تو ان کی زبان تک نہیں جانتے تھے لیکن پھر بھی انہوں نے ان لوگوں کی مدد کی کیوں کہ وہ اللہ کی رضا کے لیئے اللہ کے بندوں کے بندوں کو نفع پہنچاتے تھے۔ ان سے کوئی پیسہ وغیرہ نہیں مانگتے تھے بلکہ جب انہوں نے کہا کہ ہم آپ کو اس کے لیئے پیسے دیں گے تو انہوں نے انکار کر دیا۔ دوسرا یہ کہ وہ اللہ کی زمین پراللہ کا قانون نافذ کرتے تھے۔ جب ان کو اختیار دیا گیا کہ آپ اس قوم کے ساتھ جو سلوک چاہیں کریں مطلب چاہیں تو سزا دیں یا اچھا سلوک کریں تو انہوں نے اس قوم کو اللہ کی طرف بلایا تھا اور اپنے اختیار/ طاقت کو اللہ کے قانون کے نفاذ میں استعمال کیا۔
※ سورہ کہف میں پہلے پانچ واقعات بیان کر کے بندے کے ذہن سازی کی گئی اور اب آخری آیات میں اس ساری سورت کا نچوڑ بیان کی جا رہا ہے جو کہ تین باتیں ہیں :۔
1-جو لوگ دنیا ہی کو بنانے میں لگے رہتے ہیں درحقیقت وہی لوگ خسارہ پانے والے ہیں۔ ہر وقت دنیا اور اس کی لذات کو پانے کی فکر میں رہنا ہے دجالی فتنہ ہےلہذا فقط دنیا ہی کی فکر میں نا رہیں بلکہ آخرت کی بھی سوچیں۔
2-اس کے بعد اللہ نے اپنی صفات کو بیان فرمایا کہ اگر تم اہنے رب کی تعریفوں کو بیان کرو اور سمندر سیاہی بن جائیں اور دوسرا سمندر بھی اس میں ڈال دیا جائے تو تم پھر بھی اپنے رب کی تعریف بیان نہ کرسکو گے۔
3- آخر میں بتایا کہ جو اپنے رب کا دیدار کرنا چاہے، جو کہ سب سے بڑی اور سب سے بڑھ کر نعمت ہے، اس کا کیا طریقہ بتایا کہ وہ شخص دو کام کرے ایک نیک عمل اور دوسرا اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائے اور جو ایسا کرے گا اللہ اس کو اپنا دیدار عطا کریں گے۔
اللہ ہمیں بھی اپنا دیدار عطا فرمائے۔ آمین
10/04/2022
*سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟*
آصف فاروقی
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، اسلام آباد
8 گھنٹے قبل
پی ایم ہاؤس
،تصویر کا ذریعہAPP
وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہوئے، کچھ کیمروں کے سامنے اور بیشتر بند کمروں میں۔
سنیچر کے روز تمام دن گہما گہمی کا مرکز پارلیمنٹ ہاؤس رہا جہاں کبھی تقاریر ہوتیں اور کبھی اجلاس ملتوی کر کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان سپیکر قومی اسمبلی کے درمیان مذاکرات کیے جاتے رہے۔
لیکن شام کے وقت جب قومی اسمبلی کا اجلاس روزہ افطار کرنے کے لیے ملتوی کیا گیا تو سرگرمی کا مرکز اچانک وزیراعظم ہاؤس بن گیا۔
وزیراعظم عمران خان نے وفاقی کابینہ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا اور اس کے ساتھ ہی اپنے قانونی و سیاسی مشیروں، سپیکر و ڈپٹی سپیکر اور بعض بیوروکریٹس کو بھی طلب کر لیا گیا۔
کابینہ کے اجلاس میں اس مبینہ کیبل کو بعض عہدیداروں کو دکھانے کی منظوری دی گئی جس کے بارے میں سابق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ اس مراسلے میں ان کی حکومت کے خاتمے کے لیے امریکی سازش کی تفصیل درج ہے۔
اس دوران قومی اسمبلی سپیکر اور ڈپٹی سپیکر بھی ایوانِ وزیراعظم پہنچے لیکن انہیں وزیراعظم کے دفتر کے برابر والے لاؤنج میں انتظار کرنے کا کہا گیا۔
اس دوران دو بن بلائے مہمان بھی بذریعہ ہیلی کاپٹر، غیر معمولی سکیورٹی اور چاق و چوبند جوانوں کے حصار میں وزیراعظم ہاؤس پہنچے اور وزیراعظم سے تقریباً پونا گھنٹہ تنہائی میں ملاقات کی۔
اس ملاقات میں کیا بات ہوئی ظاہر ہے، اس بارے میں کوئی اطلاعات دستیاب نہیں ہیں تاہم باوثوق اور معتبر سرکاری ذرائع نے جنھیں اس ملاقات کے بارے میں بعد میں معلومات فراہم کی گئیں، انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ ملاقات کچھ زیادہ خوشگوار نہیں رہی۔
ملاقات میں موجود ایک اعلیٰ عہدیدار کو اس وقت کے وزیراعظم عمران خان نے ایک گھنٹہ قبل ہی ان کے عہدے سے برطرف کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔ اس لیے وزیراعظم کے لیے ان مہمانوں کی یوں بن بلائے اچانک آمد غیر متوقع تھی۔ عمران خان ہیلی کاپٹرز کے منتظر تو تھے لیکن اس ہیلی کاپٹر کے مسافروں کے بارے میں ان کا اندازہ اور توقعات بالکل غلط ثابت ہوئیں۔
ان ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق وزیراعظم توقع کر رہے تھے کہ اس ہیلی کاپٹر میں ان کے نو مقرر کردہ عہدیدار وزیراعظم ہاؤس پہنچیں گے اور اس کے بعد وہ شور و غوغا مدھم پڑ جائے گا جو سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد پارلیمنٹ ہاؤس سے شروع ہوا تھا۔
شاید ایسا ہو بھی جاتا لیکن مسئلہ یہ ہوا کہ اس اعلیٰ ترین برطرفی اور ایک نئی تعیناتی کے لیے جو قانونی دستاویز (نوٹیفیکیشن) وزارت دفاع سے جاری ہونی چاہیے تھیں وہ جاری نہ ہو سکیں یوں اس ’انقلابی‘ تبدیلی کی وزیراعظم ہاؤس کی کوشش ناکام ہو گئی۔
ویسے اگر وزیراعظم کے حکم پر برطرفی کا یہ عمل مکمل ہو بھی جاتا تو بھی اسے کالعدم قرار دینے کا بھی بندوبست کیا جا چکا تھا۔
سنیچر کی رات اسلام آباد کی ہائیکورٹ کے تالے کھولے گئے اور چیف جسٹس اطہر من اللہ کا عملہ ہائیکورٹ پہنچا۔
بتایا گیا کہ ہائیکورٹ ہنگامی طور پر ایک پٹیشن سماعت کے لیے مقرر کی جانے والی ہے جس میں ایک عام شہری کی حیثیت سے عدنان اقبال ایڈووکیٹ نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے ’ممکنہ‘ نوٹیفیکشن کو عدالت میں چیلنج کیا تھا۔
اس فوری درخواست میں کہا گیا تھا کہ عمران خان نے سیاسی اور ذاتی مقاصد کے حصول کے لیے اپنے اختیارات کا ناجائز استعمال کرتے ہوئے بری فوج کے سربراہ کو برطرف کرنے کی سفارش کی ہے لہٰذا عدالت اس حکم کو بہترین عوامی مفاد میں کالعدم قرار دے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ یہ درخواست تیار تو کر لی گئی لیکن اس میں بری فوج کے سربراہ کی برطرفی کے نوٹیفیکشن نمبر کی جگہ خالی چھوڑ دی گئی تھی۔ اس کی وجہ یہ رہی کہ وزیراعظم کی خواہش کے باوجود یہ نوٹیفیکشن جاری نہیں ہو سکا اور یوں اس پیٹشن پر سماعت کی نوبت ہی نہیں آئی۔
ذرائع: BBC اردو
سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں آخر ہوا کیا؟ - BBC News اردو وزیراعظم کے خلاف تحریک عدم اعتماد کے ہنگامے کے درمیان سنیچر کی شب وزیراعظم ہاؤس میں غیر معمولی سرگرمی دیکھنے میں آئی اور اس دوران کچھ تاریخی فیصلے اور واقعات رونما ہ....
02/04/2022
تراویح میں حافظ قرآن جن باتوں سے بیک وقت نمٹ رہا ہوتا ہے😢
1:ان میں سے ایک مصلے کا پریشر ہے۔
2:دوسری بیس رکعاتوں کا خیال رکھنا ہے۔
3:تیسری اپنے یومیہ سبق کے کوٹے کو بیس رکعتوں پر تقسیم کرکے پوراکرنا۔ کہ کہیے ایسا نہ ہو کہ سبق پورا ہوجائے اور رکعتیں رہ جائیں ۔یا رکعتیں پورا ہوجائے اور سبق رہ جائے۔
4:چوتھی اپنے پارے کا غم کہ غلطیوں اور متشابہات سے بچا جائے۔
5:پانچویں اس بات کی فکر کہ کہیں وقت زیادہ نہ لگ جائے۔
6:چھٹی اپنے گلے کا فکر کہ کہیں بیٹھ ہی نہ جائے۔
7: ساتویں دن کو سنانے کا تیاری کرنا۔
8:اٹھویں افطاری میں تھوڑا سا کھانا ۔
9: قران مکمل ہونے تک ایک الگ غم سوار رہتا ہے۔
یہ وہ باتیں ہے کہ جو صرف حافظ بھگت رہاہوتا ہے 😥۔ مقتدی ان پریشانیوں سے ناآشنا ہوتے ہے، لکین جب تراویح کے اختتام پر بڑے مزے سے اکر بیٹھتے ہے اور کوئی کہتا ہے حافظ صاحب کیا بات ہے اج دو تین غلطیاں آئیں ہے خیریت تو ہے نا؟🤔🤔
کوئی کہتا ہے حافظ صاحب! اج تو بہت تیز پڑہ رہے تھے۔
اور اگر دوسرے دن آہستہ پڑھاجائے تو کوئی اور اکر کہتا ہے اج تو قاری عبدالباسط بن رہے تھے کوئی کہے گا اج ٹائم زیادہ لگادیا ہے۔
خدا را ایسے باتوں سے اجتناب کرے اور حافظ کو مشین نہیں انسان سمجھیں۔
حفاظ کرام کا احترام کرو حوصلہ افزائی کرو🙏🙏
اللہ تعالی سب کو عقل سلیم نصیب فرمائیں۔ 🤲🤲
آمین۔یا رب العالمین....✍❤️
تحریر"سونیا خان"
#منقول
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Contact the school
Telephone
Website
Address
Giro Shah
Malakand
23020