Muhammad Adil

Muhammad Adil

Share

plz follow and like comment and share the post

03/04/2026

کل جب پٹرول مہنگا ہوا تو دل میں شدید تکلیف محسوس ہوئی۔ لگا کہ یہ صرف میرا نہیں، پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ اسی جذبے کے ساتھ میں نے فیس بک، واٹس ایپ اور ٹوئٹر پر آواز اٹھائی اور سب کو جمعہ کی نماز کے بعد احتجاج کے لیے بلایا۔

اور پھر میں خود بھی اپنی مسجد میں نماز کے بعد کھڑا ہوا اور بلند آواز میں کہا:
“ہم اس ظلم کے خلاف احتجاج کریں گے، اور میں آپ سب کو اس احتجاج میں شامل ہونے کی دعوت دیتا ہوں۔”

لیکن جب میں مسجد سے باہر نکلا تو حقیقت کچھ اور تھی۔ ہزاروں کی بات کرنے والی قوم میں صرف 5 لوگ کھڑے تھے… اور جیسے ہی پولیس کی گاڑی آئی، صرف 2 رہ گئے۔

اسی دوران ایک پولیس افسر کی بات دل میں گھر کر گئی:
“یار، آپ کس دور میں رہتے ہو؟ یہاں احتجاج صرف سوشل میڈیا پر ہوتا ہے۔ مسجد میں نمرود اور فرعون کے خلاف بولنا آسان ہے کیونکہ وہ زندہ نہیں ہیں، لیکن جو آج زندہ ہیں ان کے خلاف کوئی نہیں بولتا۔”

یہ الفاظ صرف جملے نہیں، بلکہ ہم سب کے لیے ایک آئینہ ہیں۔

ہم سوشل میڈیا کے شیر بن چکے ہیں، لیکن حقیقت میں خاموش ہیں۔ ہم نے لائکس اور شیئرز کو بہادری سمجھ لیا ہے، جبکہ اصل بہادری میدان میں نظر آتی ہے۔

اگر واقعی تبدیلی چاہتے ہیں تو:
صرف پوسٹس نہیں، اپنی موجودگی دکھائیں۔
صرف باتیں نہیں، عمل کریں۔
صرف غصہ نہیں، ہمت بھی پیدا کریں۔

یہ ملک ہم سب کا ہے۔ اگر ہم ہی نہیں بولیں گے تو کون بولے گا؟

اٹھو، سوچو، اور اپنے اندر کے خوف کو ختم کرو۔
قومیں تب بنتی ہیں جب لوگ کھڑے ہوتے ہیں، صرف لکھنے سے نہیں۔

17/03/2026

صبح ابھی پوری طرح روشن بھی نہیں ہوئی تھی۔ رحیم یار خان کے ایک چھوٹے سے گھر میں ایک عورت نے جلدی جلدی چولہا بجھایا، بچوں کے سروں پر ہاتھ پھیرا اور دروازے سے نکلتے ہوئے بس اتنا کہا:
“آج پیسے مل جائیں تو گھر کا خرچ کچھ دن چل جائے گا۔”
یہ وہی بیس ہزار روپے تھے جو Benazir Income Support Programme کے تحت ملنے تھے۔
بیس ہزار روپے… کسی کے لیے شاید ایک معمولی رقم، مگر کسی ماں کے لیے اس کا مطلب ہوتا ہے بچوں کی فیس، گھر کا آٹا، اور چند دن کی سانس۔
وہ عورت اکیلی نہیں تھی۔ اس جیسی سینکڑوں عورتیں صبح سے قطاروں میں کھڑی تھیں۔ کسی کے ہاتھ میں شناختی کارڈ تھا، کسی کے ساتھ اس کی بیٹی تھی، کسی کی آنکھوں میں امید تھی کہ آج گھر جاتے ہوئے بچوں کے لیے کچھ لے جائے گی۔
لیکن وہاں امید سے زیادہ رش تھا، بدنظمی تھی اور بے حسی تھی۔
لوگ بڑھتے گئے، قطاریں ٹوٹتی گئیں، اور انتظام نام کی چیز کہیں دکھائی نہیں دے رہی تھی۔
رش اتنا بڑھا کہ کچھ عورتیں چھت پر چڑھ گئیں… شاید اس امید میں کہ اوپر سے جلدی باری آ جائے گی، شاید اس مجبوری میں کہ نیچے کھڑے رہنے کی جگہ ہی نہ رہی تھی۔
پھر ایک لمحہ آیا…
ایک خوفناک آواز آئی…
اور وہ چھت زمین پر آ گری۔
چند لمحے پہلے جو عورتیں اپنے گھروں کے لیے بیس ہزار روپے لینے آئی تھیں، وہ ملبے کے نیچے دب چکی تھیں۔
چیخیں تھیں، دھول تھی، بھاگتے لوگ تھے… اور امیدیں ملبے کے ساتھ دبتی جا رہی تھیں۔
کہتے ہیں اس حادثے میں بیس عورتیں جان سے گئیں اور درجنوں زخمی ہوئیں۔
لیکن اصل حقیقت یہ ہے کہ اس دن صرف عورتیں نہیں مریں، کئی گھروں کی امیدیں مر گئیں۔
سوچیے…
وہ عورت جو صبح بچوں کو کہہ کر نکلی تھی کہ “شام تک آ جاؤں گی”،
وہ شام کو واپس آئی… مگر کفن میں لپٹی ہوئی۔
یہ سوال صرف حادثے کا نہیں، نظام کا بھی ہے۔
اگر انتظام ہوتا، اگر لوگوں کے لیے باقاعدہ جگہ اور نظم ہوتا، اگر ریاست ان مجبور عورتوں کو عزت اور تحفظ کے ساتھ چند روپے دینے کا بندوبست کر سکتی… تو شاید آج کئی گھر اجڑنے سے بچ جاتے۔
یہاں ایک سوال اور بھی دل کو چیرتا ہے۔
جب حکومت عوام سے کچھ لیتی ہے تو ہر چیز بڑی منظم اور سخت ہوتی ہے۔
ٹیکس وصول کرنا ہو، بل جمع کرانے ہوں یا کوئی جرمانہ دینا ہو تو قطاریں سیدھی بھی ہوتی ہیں، نظام بھی سخت ہوتا ہے اور قانون بھی پوری طاقت سے کھڑا نظر آتا ہے۔
مگر جب یہی حکومت عوام کو کچھ دینے لگتی ہے — وہ بھی چند ہزار روپے — تو پھر یہی نظم، یہی انتظام اور یہی سنجیدگی اچانک کیوں غائب ہو جاتی ہے؟
مگر سچ یہ بھی ہے کہ قصور صرف حکمرانوں کا نہیں۔
ہماری اپنی بے صبری، دھکم پیل اور بد نظمی بھی اس سانحے کی ایک تلخ حقیقت ہے۔
یہ حادثہ ہمیں ایک آئینہ دکھاتا ہے۔
ایک طرف حکومتی نااہلی ہے جو غریب کو ریلیف دیتے ہوئے بھی اس کی جان محفوظ نہیں رکھ سکتی، اور دوسری طرف ہمارا معاشرہ ہے جہاں ہجوم اکثر عقل کو کچل دیتا ہے۔
رحیم یار خان کی اس چھت کے ملبے تلے صرف اینٹیں نہیں گری تھیں…
وہاں ریاست کی ذمہ داری، معاشرے کا نظم اور کئی معصوم گھروں کے خواب بھی دفن ہو گئے تھے۔
اور آج کئی گھروں میں بچے شاید اب بھی دروازے کی طرف دیکھ رہے ہوں گے…
کہ امی آئیں گی اور کہیں گی:
“لو بیٹا، آج گھر کے لیے بیس ہزار روپے لے آئی ہوں۔”
مگر حقیقت یہ ہے کہ اس بار
بیس ہزار روپے نہیں… بیس جنازے واپس آئے ہیں۔
— Saima Malik MIANWALI



゚viralシalシ

15/03/2026

نن سبا پیسہ تعلق ھم جوڑئ او پیسہ ہر ہر سہ کئ ۔
د دنیا یو تریخ حقیقت دے کہ سوک یی زما سرہ منی او کہ نہ، خو چی پیسہ درسرہ وہ نو خبرہ بہ دی وزن لری ، او کہ ڈیر ھم اوخیار یی خو چی پیسہ نہ لری نو ستا پہ دی دنیا کی د مور او پلار نہ علاؤہ ھیسوک پہ طرف نہ وی ۔
یو خبرہ کیگی وایی پہ پیسہ کی سکون نیشتہ ، یاد ساتئ دہ خبرہ مالدارو ایجاد کڑی دہ د دی خبری باوجود ھم ھغوی لگیا دی خپلو پیسو کی نورہ ھم اضافہ کئ ۔ ،
حالانکہ وئئ چی پیسہ کی سکون نیشتہ ۔
اصل خبرہ دا دہ چی نن سبا ہر سہ پہ پیسہ کی دی ستا رشتہ دار، ستا ملگری او حتیٰ چی ستا اوخیار توب ھم سوک نہ منی کہ ستا سرہ پیسی نہ وی ۔
نو ځوانانو د چا پہ خبرو پسی مہ رازئ کہ پہ وطن کی سہ نیشتہ نو بہر بل وطن تہ لاڑ شئ او پیسہ وگٹئ ۔
سوک لگیا دی وایی دنیا فانی دہ ، دا خبرہ خو مونگ منو پہ دی کی شک نیشتہ ، خو د دی مطلب دا نہ دے چی دنیا فانی دہ جو کور کینہ او ٹک کار مہ کوہ دنیا مطلب دے او اخرت مقصد دے ۔
چی تر سو مونگ پہ دنیا کی یو چی وقت پہ امید تیر کړو او زان تہ سہولیات پیدا کړو، نو ھلہ بہ انسان پہ جوند پوھیگی کنہ غریب سڑے نن سبا د چا پہ سترگو خہ نہ ورزی ۔
کوشش اوکئ پیسہ اوگٹئ پہ کلی وطن کی بہ مو عزت پیدا شی ۔
✍️۔

07/03/2026

یہ شخص آج کل کہا ہے ؟ جب 150 کا پیٹرول ملتا تھا تو یہ بے ضمیر اسلام آباد بند کرنے نکلا تھا. آج 223 کا ہے اور یہ بلکل غائب ہے۔۔۔

02/03/2026

‏بادشاہ نے گدھوں کو قطار میں چلتے دیکھا تو کمہار سے پوچھا، "تم انہیں کس طرح سیدھا رکھتے ہو؟"

کمہار نے جواب دیا کہ "جو بھی گدھا لائن توڑتا ہے، میں اسے سزا دیتا ہوں، بسی اسی خوف سے یہ سب سیدھا چلتے ہیں۔"

بادشاہ نے کہا، "کیا تم ملک میں امن قائم کر سکتے ہو؟"

کمہار نے حامی بھر لی, ‏بادشاہ نے اسے منصب عطا کر دیا۔ پہلے ہی دن کمہار کے سامنے ایک چوری کا مقدمہ لایا گیا۔

کمہار نے فیصلہ سنایا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"جلاد نے وزیر کی طرف دیکھا اور کمہار کے کان میں بولا کہ "جناب یہ وزیر صاحب کا خاص آدمی ہے۔"‏کمہار نے دوبارہ کہا کہ "چور کے ہاتھ کاٹ دو۔"

اس کے بعد خود وزیر نے کمہار کے کان میں سرگوشی کی کہ "جناب تھوڑا خیال کریں۔ یہ اپنا خاص آدمی ہے۔"

کمہار بولا، "چور کے ہاتھ کاٹ دئیے جائیں اور شفارشی کی زبان کاٹ دی جائے۔"

اور کہتے ہیں کمہار کے صرف اس ایک ‏فیصلے کے بعد پورے ملک میں امن قائم ہو گیا۔

ہمارے ہاں بھی امن قائم ہو سکتا ہے مگر اس کے لئے چوروں کے ہاتھ کاٹنا پڑیں گے اور کچھ لوگوں کی زبانیں کاٹنا پڑیں گی.............
#منقول

26/02/2026

تمہیں یہ کہنا چاہیے تھا کہ اگر کوئی پانچ سوٹ لے تو میں ایک سوٹ مفت دوں گا، رمضان میں ہر جگہ اس طرح کی آفرز لگتی ہیں۔ لیکن تم یہ کہہ رہے ہو کہ جو پانچ سوٹ لے گا میں اس کی فیملی سے بات کروں گا۔ تم ہو کیا چیز جو لوگوں کی فیملیوں سے بات کرو گے؟ کیا لوگوں کی فیملیاں تمہاری باتوں کے لیے بیٹھی ہوئی ہیں؟

تم کہہ رہے ہو کہ پٹھان لوگوں کی فیملیوں کے ساتھ ویڈیو کال پر بات کروں گا، تم خود کو کیا سمجھتے ہو؟ جو عزت تمہیں ملی تھی وہ ہم نے دی تھی، اس عوام نے دی تھی، لیکن آج تم نے اپنی عزت خود خراب کر لی۔ جب تمہارا کاروبار نہیں چل رہا تو تم اس طرح کی آفرز دے رہے ہو۔

ایک وقت تھا جب تم کرکٹ میچ میں نہیں ہوتے تھے تو ہم کرکٹ نہیں دیکھتے تھے، لیکن اس طرح کی بات کوئی نہیں کر سکتا جیسی تم نے کی۔ جب تمہارے اپنے علاقے وادی تیراہ میں لوگوں کو مدد کی ضرورت تھی، تم نے ان کا ساتھ نہیں دیا بلکہ ان کے خلاف بات کی۔ اور اب تم توقع رکھتے ہو کہ ہم تمہاری دکان سے پانچ سوٹ خریدیں اور تم ہم سے بات کرو؟

ایک پٹھان بابا جی نے شاہد آفریدی کو اس کی آفر پر کھری کھری سنا دیں۔

16/02/2026

عقلمند چرواہا اور بادشاہ کی بکری
ایک بادشاہ نے اپنی سلطنت میں اعلان کروایا کہ جو کوئی میری بکری کا پیٹ بھر دے گا، اسے منہ مانگا انعام دیا جائے گا۔ لیکن ایک شرط تھی: اگر پیٹ بھرنے کے دعوے کے بعد بکری نے دوبارہ گھاس کو منہ مارا، تو اس شخص کو سو کوڑے مارے جائیں گے۔
پورے ملک میں اس عجیب و غریب شرط کا چرچا ہو گیا۔ سب سے پہلے ایک بڑے عالم صاحب آئے۔ انہوں نے بکری کو بہت سا اناج اور عمدہ چارہ کھلایا۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ اب بکری مزید کچھ نہیں کھا سکتی، تو وہ اسے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ بادشاہ نے پرکھنے کے لیے تھوڑی سی ہری گھاس بکری کے سامنے ڈالی۔ بکری، جو اپنی فطرت سے مجبور تھی، فوراً گھاس پر جھپٹ پڑی۔ بادشاہ نے غصے میں کہا کہ عالم صاحب اپنے دعوے میں جھوٹے ہیں، لہٰذا انہیں سو کوڑے لگائے جائیں۔
اگلے دن ایک وزیر صاحب نے ہمت دکھائی۔ انہوں نے بکری کو طرح طرح کے اناج اور قیمتی میوے کھلائے۔ بکری کا پیٹ پھول کر کپا ہو گیا، مگر جیسے ہی بادشاہ نے چارہ سامنے رکھا، بکری نے پھر سے منہ مارنا شروع کر دیا۔ وزیر صاحب کو بھی سو کوڑوں کی سزا بھگتنا پڑی۔ اس کے بعد کئی اور لوگ بھی آئے اور کوڑے کھا کر چلے گئے، کیونکہ بکری کا پیٹ تو بھر جاتا تھا مگر اس کی نیت نہیں بھرتی تھی۔
آخر میں ایک ہوشیار چرواہا دربار میں حاضر ہوا۔ اس نے کہا، "بادشاہ سلامت! مجھے ایک موقع دیں، میں آپ کی بکری کا پیٹ بھر دوں گا۔"
چرواہا بکری کو اپنے گھر لے گیا۔ اس نے ایک ہاتھ میں ہری گھاس پکڑی اور دوسرے ہاتھ میں ایک مضبوط لکڑی۔ جیسے ہی بکری نے گھاس کھانے کے لیے منہ بڑھایا، چرواہے نے اسے ایک زوردار لکڑی رسید کر دی۔ بکری سہم کر پیچھے ہٹ گئی۔ تھوڑی دیر بعد اس نے پھر کوشش کی اور پھر اسے مار پڑی۔ سارا دن یہی ہوتا رہا؛ چرواہا گھاس قریب لاتا اور جیسے ہی بکری منہ مارتی، وہ اسے مارنا شروع کر دیتا۔ شام تک بکری کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی کہ گھاس کو منہ لگانے کا مطلب ہے "مار کھانا"۔
اگلے دن چرواہا بکری کو لے کر دربار پہنچا اور کہا، "بادشاہ سلامت! میں نے اس کا پیٹ بھر دیا ہے، اب یہ کچھ نہیں کھائے گی۔"
بادشاہ نے پرکھنے کے لیے ہری گھاس کا ایک گٹھا منگوایا اور بکری کے سامنے رکھا۔ جیسے ہی بکری کی نظر گھاس پر پڑی، وہ خوف کے مارے پیچھے بھاگنے لگی اور زور زور سے چلانے لگی۔ اسے لگ رہا تھا کہ اب پھر اس کی پٹائی ہوگی۔
بادشاہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا اور بہت خوش ہوا۔ اس نے کہا، "تم واقعی کمال کے آدمی ہو، تم نے میری بکری کا پیٹ ایسا بھرا ہے کہ یہ کھانے سے توبہ کر رہی ہے۔" بادشاہ نے اسے ڈھیروں انعامات دے کر رخصت کیا۔

بادشاہ کو کیا معلوم تھا کہ بکری کا پیٹ نہیں بھرا تھا، بلکہ اسے کھانے کے نام سے ہی ڈر لگنے لگا تھا۔

حاصل کلام:
خوف ایک ایسی طاقت ہے جو انسان یا جانور کی فطری ضرورت (بھوک) پر بھی غالب آ سکتی ہے۔
جب کسی پر بہت زیادہ دباؤ یا خوف طاری کر دیا جائے، تو وہ اپنی بنیادی ضرورتوں سے بھی ہاتھ کھینچ لیتا ہے۔

01/02/2026

رات کو آگ لگی، گاڑیاں جل گئیں، نقصان ہو گیا…
لیکن سب سے افسوسناک بات یہ تھی کہ جن کو ریسکیو کہنا چاہیے تھا، وہ آئے ہی نہیں۔
ہم نے فوراً کال کی، امید کے ساتھ انتظار کیا،
مگر ریسکیو نہ وقت پر پہنچی، نہ بعد میں کوئی پوچھنے والا آیا۔
سوال یہ نہیں کہ نقصان ہو گیا،
سوال یہ ہے کہ اگر یہی آگ کسی گھر میں لگ جاتی؟
اگر کوئی جان چلی جاتی تو ذمہ دار کون ہوتا؟
ریسکیو اداروں سے گزارش ہے:
ہمیں صرف نام کی سروس نہیں، عملی سروس چاہیے۔
گاڑیاں، وردی اور اشتہارات کافی نہیں ہوتے،
اصل پہچان تو مشکل وقت میں ہوتی ہے۔
تنقید اس لیے نہیں کہ بدنام کیا جائے،
بلکہ اس لیے کہ نظام بہتر ہو،
تاکہ کل کسی اور کا نقصان ہم سب کے ضمیر پر نہ ہو۔
آگ نے گاڑیاں جلائیں،
لیکن ریسکیو کی غیر موجودگی نے اعتماد جلا دیا۔

31/01/2026

ایک شخص کا ایک بیٹا تھا،
روز رات کو دیر سے آتا اور جب بھی اس سے باپ پوچھتا کہ بیٹا کہاں تھے.؟
تو جھٹ سے کہتا کہ دوست کے ساتھ تھا. ایک دن بیٹا جب بہت زیادہ دیر سے آیا تو باپ نے کہا کہ بیٹا آج ہم آپ کے دوست سے ملنا چاہتے ہیں.
بیٹے نے فوراً کہا اباجی اس وقت؟
ابھی رات کے دوبجے ہیں کل چلتے ہیں.
نہیں ابھی چلتے ہیں.
آپ کے دوست کا تو پتہ چلے.
باپ نے ابھی پہ زور دیتے ہوئے کہا.
جب اس کے گھر پہنچے اور دروازہ کھٹکھٹایا تو کافی دیر تک کوئی جواب نہ آیا.
بالآخر بالکونی سے سر نکال کہ ایک بزرگ نے جو اس کے دوست کا باپ تھا آنے کی وجہ دریافت کی تو لڑکے نے کہا کہ اپنے دوست سے ملنے آیا ہے.
اس وقت، مگروہ تو سو رہا ہے بزرگ نے جواب دیا.
چاچا آپ اس کو جگاؤ مجھے اس سے ضروری کام ہے،
مگر بہت دیر گزرنے کے بعد بھی یہی جواب آیا کہ صبح کو آجانا.
ابھی سونے دو،

اب تو عزت کا معاملہ تھا تو اس نے ایمرجنسی اور اہم کام کا حوالہ دیا مگر آنا تو درکنار دیکھنا اور جھانکنا بھی گوارا نہ کیا.
باپ نے بیٹے سے کہا کہ چلو اب میرے ایک دوست کے پاس چلتے ہیں.
جس کا نام خیر دین ہے.
دور سفر کرتے اذانوں سے ذرا پہلے وہ اس گاؤں پہنچے اور خیردین کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا،
مگر جواب ندارد، بالآخر اس نے زور سے اپنا نام بتایا کہ میں الله ڈنو، مگر پھر بھی دروازہ ساکت اور کوئی حرکت نہیں.
اب تو بیٹے کے چہرے پہ بھی فاتحانہ مسکراہٹ آگئی.
لیکن اسی لمحے لاٹھی کی ٹھک ٹھک سنائی دی، اور دروازے کی زنجیر اور کنڈی کھولنے کی آواز آئی،
ایک بوڑھا شخص برآمد ہوا جس نے لپٹ کر اپنے دوست کو گلے لگایا اور بولا کہ میرے دوست، بہت معذرت، مجھے دیر اس لیے ہوئی کہ جب تم نے 27 سال بعد میرا دروازہ رات گئے کھٹکھٹایا تو مجھے لگا کہ کسی مصیبت میں ہو،
اس لیے جمع پیسے نکالے کہ شاید پیسوں کی ضرورت ہے،
پھر بیٹےکو اٹھایا کہ شاید بندے کی ضرورت ہے،
پھر سوچا شاید فیصلے کےلیے پگ کی ضرورت ہو تو اسے بھی لایا ہوں.
اب سب کچھ سامنے ہے،
پہلے بتاؤ کہ کس چیز کی ضرورت ہے؟
یہ سن کر بیٹے کی آنکھوں سے آنسو آگئے کہ ابا جی کتنا سمجھاتے تھے کہ بیٹا دوست وہ نہیں ہوتا جو رت جگوں میں ساتھ ہو بلکہ وہ ہوتا ہے جو ایک آواز پر حق دوستی نبھانے آجائے.
آج بھی کئی نوجوان ایسی دوستیوں پہ اپنے والدین کو ناراض کرتے ہیں، باپ کے سامنے اکڑجاتے ہیں.
خدا ہدایت دے ہم سب کو
#منقول

18/01/2026

کوئی بھی جرم یکدم نہیں ہوتا۔۔
کوئی انتھائی حد تک ویسے نہیں پہنچتا ۔۔
اگر آج پشاور یونیورسٹی میں تربیت کے بجائے ، لعن طعن مخلوط ڈانس پارٹیاں اور پختون عورت سر سے دوپٹہ اتار کر نیم برہنہ غیر محرم لوگوں کے سامنے واک کرتی نظر آرہی ہے ۔۔
اور پھر سوشل میڈیا کی زینت بن رہی ہے تو یہ ڈائریکٹ نہیں ہوا ۔۔
ایک مخصوص طبقہ عرصہ دراز سے ڈانس پارٹیاں میوزک و قوالی نائٹس وغیرہ کررہی تھی انہیں منع کیا جاتا تو کہتے کہ منع کرنے والے انتھاپسند ہیں۔۔
حالانکہ اندازہ تھا کہ
یہی سب کچھ آگے بڑھ کر
ایک ایسی فحاشی کا روپ اختیار کریں گی
جو بے عزتی ورسوائی کے سوا کچھ نہیں ہوگا ۔۔۔
ملاکنڈ یونیورسٹی میں ناچنے والے پروفیسر
کو ہیرو کہنے والے
ہمیں بتائے نا
کہ نیم برہنہ ہوکر بال کھول کر
غیر لڑکوں کے سامنے واک کرتی
یہ لڑکی بھی انکے روایات کا حصہ ہے ۔۔

یہی تو مسئلہ ہے کہ جڑ سے صفائی نہیں کروگے تو گندگی ختم ہی نہیں ہوگی۔۔
اس فحاشی کی جڑ یہی موسیقی نائٹ یہی ڈانس پارٹیاں یہ رباب ہاتھ میں لیکر فخر سے اسکو روایات کہنے والے ہیں ۔۔

اسلئے آج جس پر قوم کو افسوس ہے
اسکی جڑ کو کاٹنا پڑے گا۔۔
ان ٹنگ ٹکور کے پروگرامات کرنے والوں کو روکنا ہوگا تب ہی آئندہ ہم ایسے واقعات نہیں دیکھ سکیں گے ۔۔۔

اور یقین کریں آج اگر اسکو برا نہیں کہا گیا تو کل اس سے بھی برا ہوگا یہی سلسلہ آگے بڑھ کر مزید بڑی فحاشی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے ۔۔۔۔؟
ہم اسلیے بند کرتے ہیں اور مخالفت کرتے ہیں کہ پورے قوم کو ایسے دن نہ دیکھنے پڑیں اور بعد میں پچھتاوا نہ ہو۔

17/01/2026

دین ہمارا محتاج نہیں ہم سب دین کے محتاج ہیں
آج کل سوشل میڈیا پر شاسوار خان نامی نوجوان کے اوپر تبصرے ہو رہے ہیں شاسوار شروع میں پشتو گلوکار تھا گانے گاتا تھا
پھر 12اپریل 2107 کو زنا اور اغواء کے کیس گرفتار ہوا اور 14 اپریل عدالت پیش پر 14 روزی ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کیا گیا ۔ دوران تفتیش 2017 میں ہی شہسوار کی جیل سے رونے دھونے کی ویڈیوز آنا شروع ہوگئی تھی ۔ کسی خدا ترس تبلیغی نے اس کی ضمانت کروائی اور اسکو تبلیغ میں چار ماہ لگوائے پھر کافی عرصہ ٹھیک رہا لیکن پھر دنیاوی لالچ اور دنیاوی مفاد کی خاطر دینی لوگوں سے تعلق بنایا دینی حلیہ اور لباس اپنایا لیکن جیسے ہی لوگوں کی توجہ اور میلان کم ہوا تو یہ دوبارا اپنی فیلڈ کی طرف واپس آیا اس کی سوچ یہ ہے
کہ میں اگر دین سے جڑا رہوں تو لوگ مجھے عزت پیسے دیں گے تو ٹھیک ہے ورنہ مجھے یہ دینی حلیہ اور دینی ماحول قبول نہیں اور یہ بار بار اس طرح کرتا ہے
کیا ہمارے دین کو شاسوار کی ضرورت ہے بلکل بھی نہیں
یہ غلطی ان لوگوں کی ہے جنہوں اس کو دنیاوی لالچ کی بنیاد پر دین کی طرف لائے لیکن اس کی اصلاح کی کوشش نہیں کی اس کی سوچ کو نہیں بدلا یہ سمجھتا ہے کہ دین کے ماحول میں رہتے ہوئے میرے پاس پیسوں کی پراوانی ہو بینگ بیلنس ہو لوگ میری خدمت کریں گے اور پیسے دیں گے
ایک آدمی نے کہا ہم آپ کو ہوٹل میں کام دے رہے ہیں
جس سے آپ کے پورے گھر کا خرچہ چلے گا
یہ آگے سے کہتا ہے مُجھے ہوٹل میں کام نہیں ہوٹل چاہئیے
واہ بھائی عجیب سوچ ہے کیا آپ لوگوں پر احسان کر رہے ہو یا لوگ پیسہ آپ کے لئے کماتے ہیں
اس کو نظر انداز کریں بلکل بھی تعاون نہ کریں
یہ ایک غیر سنجیدہ شخص ہے
اس کو دین کی کوئی پروا نہیں
نہ دین کے ساتھ محبت ہے
ہمارا دین، حق حلال مزدوری کا حکم دیتا ہے
انبیاء صحابہ اولیاء سب نے حق حلال کی مزدوری کی ہے
لیکن کسی سے بھیک نہیں مانگا
ہمارا دین مزوں کا نہیں بلکہ قربانیوں کا نام ہے

کافی

cat plying with dog #funnycats #funnydogs #fuunyanimals #viral #viralvideo 28/12/2025

Subscribe my YouTube channel dear friend's

cat plying with dog #funnycats #funnydogs #fuunyanimals #viral #viralvideo Enjoy the videos and music you love, upload original content, and share it all with friends, family, and the world on YouTube.

Want your public figure to be the top-listed Public Figure in Malakand?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Telephone

Address


Fatehkhel
Malakand