Rizing Voice
This page is about education and article
Rizing Voice is an emerging platform where youth can raise their voices, thoughts and idea regarding Pakistan at any topic or issue
"میریا شالوم" اسرائیلی فوج میں ایک خاتون سپاہی ہے۔ ایک دن شام کو اپنے گھر لوٹی اور شراب کی بوتل اٹھا کر پہلا گلاس بھر لیا.. پھر سوشل میڈیا پر اپنے جعلی اکاونٹ پر جو "ام المؤمنین" کے نام سے عربی زبان میں بنا رکھا تھا، پوسٹ لگائی؛
"کیا عمر ابن خطاب رضی آللہ تعالیٰ عنہ خلافت کے زیادہ حقدار ہیں یا علی بن ابی طالب رضی آللہ تعالیٰ عنہ....؟"
پھر اپنے گلاس سے چند گھونٹ حلق میں اتارے اور بے صبری سے کمنٹس کا انتظار کرنے لگی۔ پہلا کمنٹ عراق سے خضیر نے لکھا:
"یہ عمر ابن خطاب ہے کہ جس نے خلافت کو غصب کیا ہے اور اسکا مستحق نہیں ہے اور تم ناصبی ہو۔"
جواب میں سعودی عرب سے عبد الرحمن نے لکھا:
"یقینا عمر ہی اس کا حقدار ہے اور اے عراقی! اے رافضی! اے کافر! تم اہل سنت کے یہودیوں سے بھی بدترین دشمن ہو۔"
میریا شالوم مسکرائی اور خوشی سے جھومتے ہوئے شراب کا دوسرا گلاس بھی پی لیا۔
تیسرا کمنٹ عبد السمیع نامی مصری جوان نے پوسٹ کیا:
"میں چاہتا ہوں کہ اسکا جواب میں دوں۔ ہاں یہ عمر فاتح شیعہ اور فاتح مجوس ہیں۔"
یوں ایک دوسرے کو جواب دینے کا سلسلہ شروع ہوا اور شیعہ سنی ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے۔ میریا شالوم نے شراب کی بوتل کا ڈھکنا بند کیا اور فاتحانہ مسکراہٹ کے ساتھ اپنے بستر پر لیٹ گئی اور چند لمحوں بعد نیند کی پرسکون وادیوں میں جا چکی تھی۔۔۔۔!
مگر
اس لاحاصل بحث کے نتیجہ میں عراق، مصر اور شام کی پرامن آبادیاں خون کی ندیوں میں ڈوب چکی تھیں۔
(عربی پوسٹ کا ترجمہ)
یہی اس وقت یہاں پاکستان میں چل رہا ہے. کوئی بندہ اپنے پوسٹ کے اضافی کمنٹس کےلیے ایسا شوشا چھوڑتا ھےآپ لوگ کمنٹس دینا شروع کر دیتے ہیں پلیز ایسے لوگوں کو کمنٹس سے پرہیز کیا کریں اپنے ملک کوپرامن رہنے دیں.
شعیہ, سنی, دیوبندی, بریلوی, وھابی, اور ن لیگی, جیالا, پٹواری, یوتھیا, زیبرا کا کھیل چل رہا ہے..
پاک افواج کو نشانہ بنایا جا رہا ہے..
ہوشیار رہیں.. لاعلمی میں اور ایک لاحاصل بحث۔۔۔
کہیں ہم پاکستان اور تصورِ اُمّہ کو نقصان تو نہیں پہنچا رہے.... ؟؟
ذرا پھر سے سوچیے...!!!
copied
سرگودھا کی تاریخ
سرگودھا شہر کی بنیاد ایک انگریز خاتون لیڈی ٹروپر نے 1903 میں رکھی سرگودھا شہر پاکستان کا پہلا شہر ہے جس کو ماسٹر پلان کے تحت آباد کیا گیا اس کے بعد فیصل آباد اور اسلام آباد دو شہر مزید ماسٹر پلان کے تحت آباد ہوے : 1860 کی بات ہے جہاں آج کل گول مسجد ہے وہاں ایک تالاب ہوتا تھا ، اور تالاب کو فارسی زبان میں سر کہتے ہیں .
اس گول تالاب کا مالک ایک ہندو سادھو تھا جس کا نام گودھا تھا اس وجہ سے اس نوآباد شہر کا نام سرگودھا رکھا گیا.پاکستان بننے کے بعد بھی اس جگہ کو گول کھوہ کہا جاتا رہا . اپنی جغرافیائی اہمیت کے پیش_نظر بہت جلد آبادی بڑھتی گئی. اسی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوۓ انگریز حکومت نے یہاں پر ایک عسکری سطح کا ایئر پورٹ بنایا ایک فوجی چھاؤنی تعمیر کی 1949 میں اسکو تحصیل کا درجہ دیا گیا جو ترقی کرتے کرتے بعد میں ضلع اور پھر ڈویژنل ہیڈ کوارٹر بنا تقسیم پاکستان کے وقت قانون ساز اسمبلی کی ایک نشست تھی جو مسلم لیگ کے امیدوار نواب سر محمد حیات قریشی نے جیتی تقسیم کے وقت یہ علاقہ مسلم لیگ کا گڑھ تصور کیا جاتا تھا 1946 کے انتخابات میں باباۓ قوم نے 2 دفعہ سرگودھا کا دورہ کیا :
اہل_سرگودھا کی آمدنی کا زیادہ انحصار زرعی پیداوار پر ہے کنو . سنگترہ مسمی فروٹر بلڈ مالٹا ریڈ بلڈ مالٹا اور گریپ فروٹ کی پیداوار میں دنیا میں پہلے نمبر پر ہے چاول کی پیداوار میں 11واں جبکہ گنے کی پیداوار میں دنیا میں آٹھویں نمبر پر نے.دیگر زرعی اجناس میں گندم چنا جو باجرہ مکئی سبزیاں امرود جامن آم بھی بکثرت اگاۓ جاتے ہیں۔
مچھلی فارم گاۓ بکریوں اور بھینسوں کے فارم کے علاوہ کبوتر اور موروں کی افزائش نسل کیلئے الگ فارم ہیں دو انڈسٹریل ایریا ہیں سلانوالی میں لکڑی کا بہت عمدہ کام ہوتا ہے جسکو نہ صرف پاکستان بلکہ پوری دنیا میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اپنی زرعی پیداوار کی وجہ سے سرگودھا کو کیلی فورنیا آف پاکستان کہا جاتا نے میڈیا کی دنیا میں سرگودھا سے 9 مقامی اخبار 3 قومی اخبار 2 ریڈیو چینل 93 اور ایف ایم 96 تین ٹی وی چینل انڈس نیوز دھوم ٹی وی اور رائل نیوز 5 ماہنامہ رسالے مزید 10 پرائیویٹ ریڈیو چینل بھی کام کرتے ہیں تعلیمی میدان میں ایک یونیورسٹی 1 میڈیکل کالج 1 لاء کالج 1 ٹیوٹا کالج ایک ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹ اور عمومی تعلیم کے لیے 16 کالج 5 کامرس کالج ایک پی ایف کالج 31 سے زائد پبلک کالج دارارقم سکول اینڈ کالج کا ہیڈ کوارٹر ہے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں شرح خواندگی 30 فیصد جبکہ سرگودھا کا لٹریسی ریٹ 80 فیصد کے قریب پہنچ چکا ہے صحت کے میدان میں بھی اللہ کے فضل سے کسی سے پیچھے نہیں ہیں سینکڑوں سرکاری اور غیر سرکاری ہسپتال 2 ٹراما سنٹر شوکت خانم اور آغا خان کے کولیکشن سنٹر بھی کام کر رہے ہیں.
شہر کی بڑی خوبصورتی یہ ہے کہ بازاروں میں ہر چیز کے بازار الگ الگ ہیں مثلا کپڑے کتابیں جوتے برتن زیورات رنگ روغن لکڑی سبزی فروٹ اور لوہے کے سامان کی مارکیٹیں الگ الگ ہیں . دینی تعلیم کیلئے بےشمار مدارس موجود ہیں پاک فوج کی ایک چھاؤنی ایک ٹریننگ سنٹر ایک ریماؤنٹ ڈپو پی ایف کا عالمی شہرت یافتہ مصحف میر بیس کرکٹ کا ایک انٹر نیشنل سٹیڈیم بھی موجود ہے اہل_سرگودھا کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ 1965 کی جنگ میں دشمن کی فضائیہ کے حملوں میں افواج پاکستان کا ساتھ دینے پر نشان استقلال اور صدارتی ایوارڈ سے نوازا گیا پاکستان میں یہ اعزاز سرگودھا سیالکوٹ اور لاہور کے علاوہ کسی شہر کو حاصل نہیں .
1965 کی پاک بھارت جنگ میں شاندار کردار اور پاک فوج سے محبت کا ایک انداز یہ بھی ہے کہ چوکوں کے اکثر نام عسکری ہیں جیسے شاہین چوک غوری چوک بم چوک ٹینک چوک اور توپ چوک وغیرہ. راشد منہاس نشان حیدر کا آبائی وطن بھی سرگودھا ہے کرنل غلام حسین نشان جرات جو 65 کی جنگ میں نماز پڑھتے ہوۓ شہید ہوے تھے اس کے علاوہ 65 کی جنگ کے ہیرو سرفراز رفیقی ایم ایم عالم کا تعلق بھی سرگودھا سے تھا دنیا کا خوفناک جرنیل جس کی قابلیت کو پوری دنیا کے عسکری ماہرین تسلیم کرتے ہیں یعنی جنرل حمید گل کا تعلق بھی سرگودھا سے ہے 65 کی جنگ میں دنیا کا حیرت انگیز معرکہ جس میں پاکستان کے ایک ہوا باز نے صرف 34 سیکنڈ میں انڈیا کے 5 جہازوں کو ٹکڑوں اور شعلوں میں تبدیل کیا وہ تاریخی معرکہ بھی سرگودھا کی سرزمین پر لڑا گیا روس افغان وار کے اہم کردار جنرل غلام محمد کنڈان کا تعلق بھی سرگودھا سے ضلع سرگودھا میں 6 تحصیلیں 59 ٹاؤن کمیٹی 161 یونین کونسلیں ہیں. ضلع سرگودھا کی آبادی 1998 کی مردم شماری کے مطابق 2665979 جبکہ شہر سرگودھا کی آبادی 458440 افراد پہ مشتمل ہے آبادی کے لحاظ سے پاکستان کا 11واں بڑا شہر ہے جو کہ فیصل آباد سے 94 لاہور سے 172 جبکہ موٹر وے سے 48 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے. کل رقبہ 5884 مربع کلومیٹر ہے . دریاۓ جہلم اور چناب کے درمیان ایک خوبصورت شہر ہے ایک چھوٹا سا پہاڑی سلسلہ کرانہ بار جو اپنے کرش کے معیار کی وجہ سے پنجاب بھر میں مشہور ہے 90% لوگوں کی زبان پنجابی 10% اردو جبکہ ہندکو پشتو پوٹھوہاری کشمیری سرائیکی بولنے والے بھی موجود ہیں یہاں پر ایک زرعی کالج اور بہترین نہری نظام ہے. ضلع میں قومی اسمبلی کی 5 اور صوبائی اسمبلی کی 10 نشستیں ہیں. موٹر وے کی 5 انٹر چینجز ضلع بھر کو لنک کرتی ہیں.
سرگودھا کی چند اہم شخصیات .
ملنگی
اصل نام احمد خان تھا انگریز حکومت میں حریت پسندوں کی قیادت کی اور لگاتار 26 سال تک انگریز حکومت کا امن حرام کیے رکھا آپکا یہ نعرہ بہت مشہور ہوا تھا کہ "دن نوں راج فرنگی دا تے رات نوں راج ملنگی دا"
فتح خان بلوچ
آپ انگریز حکومت کے دوران شاہپور ساہیوال اور خوشاب کے علاقے پر مشتمل ایک آزاد ریاست کے حکمران تھے آپ کی زندگی میں انگریز اس خطے پر قابض نہیں ہو سکا.
مفتی محمد شفیع صاحب سراج العلوم
آپ سرگودھا کی سرزمین پر آزاد وطن اور مسلم لیگ کی پہلی آواز تھے انتہائی نڈر اور بیباک راہنما تھے
خواجہ ضیاءالدین سیالوی
آپ کی انگریز حکومت کی مخالفت اور آزادی کی جدوجہد تاریخ کا ایک سنہرا باب ہے آپ انگریز کے باغی تصور کیے جاتے تھے آپ نے تحریک ترک موالات تحریک خلافت میں بھر پور کردار ادا کیا
خواجہ قمرالدین سیالوی
آپ نے تحریک پاکستان میں بہت اہم کردار ادا کیا آپ مسلم لیگ کے صوبائی راہنما تھے آپ نے آزادی کے بعد تحریک ختم نبوت تحریک نظام مصطفی میں قائدانہ کردار ادا کیا
ملک فیروز خان نون. تھے
آپ اپنے دور کے انتہائی اعلی تعلیم یافتہ تھے انگریز وائسراۓ لارڈ ماؤنٹ بیٹن آپ کے تدبر اور سیاست کا معترف تھا آپ متحدہ ہندوستان کے آخری وزیر دفاع تھے آزادی کے کچھ عرصہ بعد آپ پاکستان کے صدر بھی رہے
ملک خضر حیات ٹوانہ
آپ مشہور کانگریسی لیڈر تھے آپ متحدہ پنجاب کے آخری وزیر اعلی تھے
سر نواب محمد حیات قریشی .
آپ تحریک پاکستان کے اہم رہنما تھے آپ کی انتھک محنت سے شاہپور خوشاب اور سرگودھا میں مسلم لیگ کو پذیرائی ملی.
محمد حسین مرولوی .
آپ سیال شریف کے مرید اور خلیفہ تھے آپ نے گاؤں گاؤں پھر کر مسلم لیگ کیلئے راہ ہموار کی.
مولانا ظہور حسین بگوی.
آپ خواجہ ضیاءالدین سیالوی کے نامور خلیفہ تھے آپ اپنے دور میں انگریز حکومت کے باغی کہلاتے تھے آپ نے آزادی کیلئے پورے ہندوستان کا دورہ کیا.
مولانا نقشبند صاحب.
آپ مولانا اشرف علی تھانوی کے خلیفہ تھے آپ کی محنت سے شاہپور کے علاقے میں قائد اعظم محمد علی جناح کے جلسے کا کامیاب انعقاد ممکن ہوا.
دیگر نامور شخصیات.
پیر امیر محمد بھیروی. مولانا محمد حسین نیلوی . پیر کرم شاہ صاحب ازھری. ڈاکٹر انوار احمد بگوی. سید حامد علی شاہ . مولانا ثناءاللہ امرتسری: علامہ عطاءاللہ بندیالوی. مولانا عبدالشکور ترمذی. مولانا اکرم طوفانی. سید سبطین نقوی.
نامور شعرا :
احمد ندیم قاسمی وسعی ساہ
ڈاکٹر وزیر آغا. ریاض احمد شاد . شاکر کنڈان. محمد حیات بھٹی. غلام محمد درد. قاسم شاہ. افضل عاجز. اور ھارون الرشید تبسم وغیرہ.
کھیل اور کھلاڑی.
کرکٹ مین محمد حفیظ اعزاز چیمہ اور رانا نوید الحسن.
سائنس اینڈ ٹیکنالوجی.
ڈاکٹر لمعات احمد بگوی. ڈاکٹر عطاء الرحمان. ڈاکٹر شاہد اقبال.
15/07/2020
جیتیں 20000 روپے صرف 2 منٹ میں.
لنک پر کلک کریں- ہمارا چینل سبسکرائب کریں اور ویڈیو پر اپنا نام، موبائل نمبر اور ضلع کا نام کمنٹ کریں.
https://youtu.be/ICtDJMFj5I8
16/06/2020
علامہ اقبال کی شاعری ہمیشہ سے باکمال اور لاجواب رہی ہے ۔۔پڑھنے والا امید سے سرشار ہو جاتا ہے بلا شبہ اقبال کے لکھے ہوئے ہر حرف کے پیچھے ایک انتہائی بہترین حکمت پوشیدہ ہے ۔۔۔ ویڈیو ضرور دیکھیں چینل سبسکرائب کریں اور اقبال کا پیغام شیئر بھی ضرور کریں۔۔۔۔۔
واسلام طلحہ زبیر بن ضیاء
Allama IQBAL ne apni kitab ka nam BANG E DARA ku rakha علامہ اقبال کی شاعری ہمیشہ سے باکمال او لاجواب رہی ہے ۔۔پڑھنے والا امید سے سرشار ہو جاتا ہے بلا شبہ اقبال کے لکھے ہوئے ہر حرف کے پیچھے ایک انتہائی بہترین حکم...
04/06/2020
ْبہتر ہے کہ بے چارے ممولوں کی نظر سے
پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقالات
اقبال نے اس نظآم تعلیم کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا ۔۔ ان کے مطابق خودی کا قاتل نظام تعلیم اس قابل نہیں کہ اس کو معاشرے میں پنپنے دیا جائے ویڈیو ضرور دیکھیں اور مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اور پر امید رہیں
نوٹ
چینل ضرور سبسکرائب کریں
Taleemi nizam ki tabah kariya بہتر ہے کہ بے چارے ممولوں کی نظر سے پوشیدہ رہیں باز کے احوال و مقالات اقبال نے اس نظآم تعلیم کو کبھی تسلیم ہی نہیں کیا ۔۔ ان کے مطابق خودی کا قاتل نظام تعلیم...
06/02/2020
ایک روزشام کے وقت سیر کر رہے تھے کہ کہ ایک گاڑی آ کر رکی جس میں سے تین آدمی برآمد ہوئے انہوں نے سامنے والے گھر کے دروازے پر دستک دی اور ایس ایچ او صاحب باہر آئے ۔ کچھ دیر خوشامدی باتیں ہوئیں اور مٹھائی کاڈبہ خوش دلی سے قبول کر لیا گیا ۔ کچھ دیر بات چیت ہوئی اور ان کو اندر آنے کی دعوت دی گئی ۔ تینوں افراد اندر چلے گئے کچھ دیر بعد باہر آئے اور کافی سارے نوٹ نکال کر گننے لگے ۔ گنتی ختم ہوئی تو دوبارہ اندر چلے گئے ۔ اور کچھ دیر بعد چہروں پر مسرت لئے سب باہر آئے اور نامعلوم منزل کی جانب رواں دواں ہو گئے ! یہ منظر ہر کچھ عرصے بعد دہرایا جاتا لیکن پھر ایک دن بڑی خبر سننے کو ملی ! ایک گاڑی سے بھاری مقدار میں اسلحہ بارود برآمد ہوا ہے جس میں بارہ ہنڈ گرنیڈ جس میں دس روسی ساختہ اور دو لوکل بنے ہوئے تھے ۔تین خود کش جیکٹس ، چوالیس کے قریب ڈیٹونیٹرز ، اور دو کلو آرڈی ایکس تھا ۔ اس کے علاوہ کچھ اسلحہ مزید بھی تھا ۔ ہمارے رونگٹے اس وقت کھڑے ہوئے جب ہمیں معلوم ہوا کہ یہ گاڑی تو ہمارے کمرے کے عین نیچے تین ماہ تک کھڑی رہی ! اگر یہ تمام مواد پھٹ جاتا تو ہم سمیت پوری لین میں رہنے والوں کے ٹکڑے بھی شائد نہ مل پاتے !
یہ کہانی اسی سسٹم کی کہانی ہے جس کا حرف حرف سچ ہے ۔ خبر ملنے کے بعد ہم نے متعلقہ محکمہ میں ایک دوست کو فون کیا تو معلوم ہوا کہ گاڑی کچھ عرصہ قبل فیصل آباد میں داخل ہوئی اور تھانہ غلام محمد آباد کے ایریا سے پکڑی گئی جس میں موجود دو افراد کو گرفتار کیا گیا ۔جن کی شناخت ان کے شناختی کارڈ پر موجود نام محمد عثمان اور ظفر اقبال کے نام سے ہوئی ۔ ایس ایچ او صاحب معاملے کی سنگینی سے بالکل لا علم تھے اور انتہائی غفلت کا شکار بھی تھے ۔ ان افراد نے جب ایس ایچ او صاحب سے اپنی "پہنچ "ڈسکس کی تو ان کو لگا کہ بڑی مچھلی ہاتھ آ گئی ہے ۔ انہوں نے "باعزت " طور پر گرفتار یا اور ان کو تھانے لے گئے ۔
کچھ دیر بعد ان کے فون پر گھنٹی بجی دوسری جانب ن لیگ کے ایم پی اے صاحب تھے جو موجودہ الیکشن میں ن لیگ کی جانب سے ٹکٹ نہ ملنے کے سبب آزاد امیدوار کے طور پر کھڑے ہوئے ۔ انہوں نے ایس ایچ او صاحب کو حکم دیا کہ ان کے بندے ہیں ان کو فوری آزاد کر دیا جائے ۔ ایس ایچ او صاحب نے وہی کہانی سنائی کہ دیکھیں جی معاملہ بہت بڑا ہے تو ان کو کہا گیا کہ یا تو بندے چھوڑ دیں یا انکوائری کے لئے تیار ہو جائیں ۔ ایک ڈرپوک ایس ایچ او جو کہ رشوت اور عیاشی میں گم ہواس کے لئے یہ بہت بڑی دھمکی تھی سو انہوں نے خاص لفظوں میں کچھ طلب کیا کی تو ان کو کہا گیا کہ ٹھیک ہے آپ گاڑی رکھ لیں بندے چھوڑ دیں ۔ یوں ن لیگ کے ایم پی اے کے کہنے پر ان کو چھوڑ دیا گیا ۔ اور گاڑی ایس ایچ او صاحب گھر لے آئے جو کہ ہمارے کمرے بلکل نیچے ان کے گیراج میں کھڑی رہی۔ میڈیاکے مطابق صرف ایک ہفتہ کھڑی رہی جبکہ ہم نے یہ گاڑی تقریبا تین ماہ قبل ایک بار دیکھی تھی ۔ معاملہ ٹھنڈا ہونے کے بعد ایس ایچ او صاحب نے اس گاڑی پر شغل فرمانے کاسوچا اور اپنے ایک سنتری کو بھیجا کہ جاو گاڑی سروس اسٹیشن لے آو ۔ وہ سنتری گاڑی لے کر سروس اسٹیشن پہنچا جہاں اس کو لفٹر کے ذریعے جب اوپر اٹھایا گیا تو نیچے لگے بارود نے سروس اسٹیشن والوں کی سیٹی گم کر دی ۔ سب بھاگ کر باہر نکل گئے افراتفری میں سنتری جو گھبرا گیا گاڑی کو فوری نیچے اتارنا ممکن نہ تھا پولیس کو کال کی گئی اور میڈیا کے کانوں میں بھی بھنک پڑ ی تو وہ بھی بھاگے چلے آئے ۔ گاڑی کی جانچ پڑتال ہوئی تو صرف گاڑی کی ڈگی میں ہی نہیں گاڑی کا جو حصہ کھولا جاتا بھاری اسلحہ ڈیٹونیٹر آرڈی ایس برآمد ہوتا ۔ ایس ایچ او صاحب کو فوری گرفتار کر لیا گیا اور ان کو تھانہ گلبرگ میں لے جا یا گیا ۔ ان حضرت کی غفلت کی انتہا یہ تھی کہ انہوں نے گاڑی لے کر ڈگی کھولنا بھی مناسب نہ سمجھا اور اس کو لا کر ایک ہاوسنگ سوسائٹی میں کھڑا کر دیا گیا ۔ اگر وہ گاڑی میں موجود بارود پھٹ جاتا تو کون ذمہ دار ہوتا ؟ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی ! اس کی گرفتاری کے بعد ہم نے ایک دوست سے کیس کی صورت حال دریافت کی تو معلوم ہوا کہ آئندہ ایک میٹنگ ہونےوالی ہے جو کہ ڈی آئی جی صاحب کے زیر صدارت ہوگی ۔ ہم اس کے انتظار میں تھے کہ ک پولیس اس کی تہہ میں پہنچ کر اس ایس ایچ اور کی غلفت اور ایم پی اے کا حساب کر پاتی ہے یا نہیں کیونکہ معاملہ ہائیکورٹ تک ہی نہیں پہنچا بلکہ میڈیا پر بھی ہیجان برپا کر چکا تھا ۔اسی اثنا میں یہ کیس ایک آرمی آفیسر پر ڈالنے کی بھونڈی ترین کوشش کی گئی جو کہ ناکام گزری ۔ اور پھر اس ایس ایچ او کو فرار کروانے کا منصوبہ بنایا گیا ۔ جو کہ ایک ایماندار پولیس آفیسر حافظ عرفان کو معلوم ہو گیا ۔ حافظ عرفان اپنی نفری کے ساتھ اس کے فرار سے قبل ہی اس تھانے کے باہر جا کھڑا ہوا ۔ انہوں نے دھمکی دی کہ اگر تم اس کو چھوڑوکے تو میں گرفتار کروں گا اور میری گرفتاری میں ایک مجرم کبھی عیاشی سے نہیں رہ سکتا ! (حافظ عرفان کچھ عرصہ بعد ڈاکووں سے مقابلے میں شہید ہو گئے) ۔ میٹنگ کے بعد ہم نے دوبارہ دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ بجائے ذمہ داران کو پکڑنے کے اوپر سے آڈر آئے ہیں کہ ایم پی اے پر ہاتھ نہ ڈالا جائے پارٹی کی ساکھ خراب ہو سکتی ہے اور ایس ایچ او کو بھی بچایا جائے ۔ اور کیسے بچایا جائے یہ اس میٹنگ میں طے پایا گیا ۔ ہم سر پیٹنے پر مجبور ہوگئے کہ کیسے ایک انتہائی غافل رشوت خور کو آزاد کروانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ دوست تو ہمیں یہ سب بتا کر چلا گیا ۔ ہم مایوسی کے عالم میں بیٹھے یہ سوچ رہے تھے کہ یہ نظام کبھی بدلے گا ؟ وہ پولیس افسر کچھ عرصہ پولیس کے ریکارڈ میں فرار رہا اور ہم اس کو اکثر و بیشتر کالونی میں ہی دیکھتے ۔ شائد فرار نہیں اس کی چھٹیاں تھیں جو اس نے بہت اچھے سے انجوائے کیں ۔ کیس کی فائل دبا لی گئی اور اس کو کچھ عرصے بعد دوبارہ اپنے عہدے پر بحال کر دیا گیا۔ اور آج بھی وہ فیصل آباد میں ایک تھانے میں موجود ہے ۔
ہر فیصل آباد کا شہری یہ جانتا ہے کہ فیصل آباد میں کس حد تک منشیات فروشی اور ہر قسم کے مافیا میں ن لیگ کے ایم این ایز اور ایم پی ایز ملوث ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ شائد ان کے شدید ظلم اور بدمعاشی سے تنگ آ کر فیصل آباد کے شہریوں نے پی ٹی آئی کو سلیکٹ کیا ۔ جو کہ ان سے زیادہ مختلف نہیں ہیں ۔ رہی بات پولیس کی تو اٹھارہ سو اکسٹھ کا بنایا ہوا پولیس ایکٹ آج بھی نافظ ہے جس میں کا بنیادی مقصد خدمت کبھی تھا ہی نہیں یہ پولیس عوام کو دبانے اور ظلم و ستم کے لئے بنائی گئی تھی اور آج بھی سیاست دان ان سے یہی کام لیتے آ رہے ہیں ۔ جب تک سیاست دان پولیس کو گھر کی لونڈی سمجھتے ہوئے اس کا استعمال بند نہیں کریں گے تب تک پولیس تبدیل نہیں ہوگی ۔ یہ بات شائد بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی کا اغوا شدہ بیٹا فیصل آباد کے علاقےسمن آباد میں ایک ایم این اے کے ڈیرے کے قریب قید رہا ۔ عوام جب تک ان سیاست دانوں کو اپنا مسیحا سمجھتی رہے گی تب تک یہ اس کو یوں ہی نوچ کر کھاتے رہیں گے ۔ یہ نظام ناقبل قبول ہے اور اس کو چلانے والے بھی ۔ جس دن عوام یہ بات سمجھ جائے گی ملک میں حقیقی تبدیلی آجائے گی !
بقلم طلحہ زبیر بن ضیا
26/11/2019
Army Chief Extension Cancelled | سپریم کورٹ نے آرمی چیف کا نوٹیفیکیشن معطل کر دیا Asif Saeed, Chief Justice cancelled the Extension of Gen. Qamar Javed Bajwa.
20/11/2019
CHIEF JUSTICE KA PM IMRAN KHAN KO KRARA JAWAB | آصف سعید کھوسہ نے عمران خان کو دیا کراراجواب؛ What asif saeed khosa tells to PM IMRAN KHAN about unfair justice.
30/11/2018
Rizing Nation -خود کا سوالنامہ زندگی میں کچھ بھی چاہتے ہیں تو اعتدل کا راستہ ہی کامیابی کا راستہ ہے۔ وقت تھا کہ ہم کارل مارکس کی فلاسفی پر تنقید کیا کرتے تھے کہ انسان کی بنیادی ضروریات گھر فیملی اور
16/11/2018
Rizing Nation -انتہا پسندی کی جڑیں ہر مسئلے کی جڑ پکڑنا اور اس جڑ کو اکھاڑنے کی کوشش کرنا ہی دانشمندی ہے ۔ دھرنے کے وقت کی صورتحال پر ایک طبقہ جس کا کہنا تھا کہ یہ جب پی ٹی آئی کر رہی تھی تب آپ نے کیوں نہیں
06/11/2018
۔۔ کسی فٹ پاتھ پر پڑے فقیر کسی محنت کش کسی مزدور کو بھی دیکھو لو ۔۔ تمہاری نسلیں عیاشی میں گزرتی آ رہی ہیں اور سرمایہ دارانہ نظام کے کچلے بے چارے ۔۔۔۔ ان کی نسلیں تمہاری غلامی کرتی آ رہی ہیں
article llnk
http://rizingnation.com/ur/Home/detail/gn43PRHmiJdE92FTo7OxUZZqcmldWKbsltJTpN1AN-Y
Click here to claim your Sponsored Listing.
Telephone
Website
Address
Lahore
54770
10/01/2019