Muhammad Tayyab Raza
جو شخص نیکی کا حکم دے،تو اسے چاہیے کہ نرمی و شفقت سے نیکی کا حکم دے(حدیثِ نبوی)
09/06/2026
حقدار جو سمندر کا ہو
اُسے اگر کنارہ بھی نہ ملے، تو ملال تو رہے گا
06/06/2026
ھم بھی کپڑوں کو اگر ترجیح دیں
پھر ہماری شخصیت کس کام کی
جملہ "اگر ہم بھی کپڑوں کو ترجیح دیں تو ہماری شخصیت کس کام کی" انسان کے اخلاق، کردار اور نظریات کی اہمیت پر زور دیتا ہے۔ اس کا مقصد یہ باور کرانا ہے کہ شخصیت کا اصل حسن لباس یا ظاہری نمود و نمائش نہیں، بلکہ انسان کی سیرت، اخلاقیات اور سوچ ہوتی ہے۔
شخصیت کے اصل کام:
مثبت اثر: اگر شخصیت اخلاق و کردار سے خالی ہو تو وہ معاشرے پر اچھا اثر نہیں ڈال سکتی۔
سیرت کی اہمیت: کپڑوں کی بجائے کردار کو ترجیح دینا ہی اصل شخصیت کی پہچان ہے۔
سوچ کی عکاسی: شخصیت انسان کی سوچ اور نظریات کی عکاسی کرتی ہے، نہ کہ صرف ظاہری لباس کی۔
مختصراً، شخصیت کا کام انسان کے اخلاق و کردار کو نمایاں کرنا ہے، نہ کہ صرف ظاہری خوبصورتی دکھانا۔
04/06/2026
ہر صحابی نبی ، جنتی جنتی
04/06/2026
*مسلمانوں کے تیسرے خلیفہ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کی شہادت*
*18 ذوالحج شریف*
02/06/2026
سب مدینے کو گئے
ہم رہ گئے ❤️🩹
ذرے ذرے میں تیرا عکس نظر آتا ہے
راستہ دیکھتے رہنا بھی ، آساں نہ رہا❤️🩹
10/05/2026
اَلْمَالُ وَ الْبَنُوْنَ زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ الْبٰقِیٰتُ الصّٰلِحٰتُ خَیْرٌ عِنْدَ رَبِّكَ ثَوَابًا وَّ خَیْرٌ اَمَلًا(46)
کنزالعرفان
مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں اور باقی رہنے والی اچھی باتیں تیرے رب کے نزدیک ثواب کے اعتبار سے زیادہ بہتر اور امید کے اعتبار سے زیادہ اچھی ہیں۔
تفسیر : صراط الجنان
{زِیْنَةُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا: دنیا کی زندگی کی زینت۔} دنیا کے مال و اَسباب کے بارے میں مزید فرمایا کہ مال اور بیٹے دنیا کی زندگی کی رونق ہیں کہ ان کے ذریعے دنیا میں آدمی فخر کرتا ہے اور انہیں دنیا کی سہولیات و لذّات حاصل کرنے کا ذریعہ بناتا ہے حالانکہ انہی چیزوں کو آخرت کا زاد ِ راہ تیار کرنے کا ذریعہ بھی بنایا جاسکتا ہے۔ حضرت علی المرتضیٰ کَرَّمَ اللّٰہ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا کہ مال و اولاد دنیا کی کھیتی ہیں اور اعمالِ صالحہ آخرت کی اور اللّٰہ تعالیٰ اپنے بہت سے بندوں کو یہ سب عطا فرماتا ہے۔( خازن، الکھف، تحت الآیۃ: ۴۶، ۳ / ۲۱۲-۲۱۳)دوسری چیز باقیاتِ صالحات ہیں ، ان سے نیک اعمال مراد ہیں جن کے ثمرے انسان کے لئے باقی رہتے ہیں ، جیسا کہ پنج گانہ نمازیں اور تسبیح و تحمید اور جملہ عبادات ۔حدیث شریف میں ہے، سرکارِ دوعالَم صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے باقیاتِ صالحات کی کثرت کا حکم فرمایا۔ عرض کی گئی:وہ کیا ہیں ؟ فرمایا : اَللّٰہُ اَکْبَرُ لَااِلٰہَ اِلَّااللّٰہُ سُبْحَانَ اللّٰہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہ پڑھنا۔(مسند امام احمد، مسند ابی سعید الخدری رضی اللّٰہ عنہ، ۴ / ۱۵۰، الحدیث: ۱۱۷۱۳) البتہ یہ یاد رہے کہ مال اور اولاد فی نَفْسِہٖ تو اگرچہ دنیا ہیں لیکن یہی دو چیزیں آخرت کیلئے عظیم زاد ِ راہ بھی بن سکتی ہیں کیونکہ اگر مال کو راہِ خدا میں خرچ کیا اور خصوصاً کوئی صدقہ جاریہ کا کام کیا تو یہی مال نجات کا ذریعہ بنے گا اور یونہی اگر اولاد کی اچھی تربیت کی اور نیکی کے راستے پر لگایاتو ان کی نیکیوں کا ثواب بھی ملے گا اور اس کے ساتھ اولاد کی دعائیں بھی ملتی رہیں گی۔
08/05/2026
سفید بال قِیامت میں نور ہو ں گے
آج کل عمومًا بڑی عمر کےلوگ سفید بالوں سے کتراتے ہیں حالانکہ مسلمان ہونے کی حالت میں بُڑھاپے کی وجہ سے سفید بال آنا بڑی سعادت کی بات ہے ۔فرمانِ آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ہے: سفید بالوں کو نہ اُکھاڑوکیونکہ یہ قیامت کے دن نورہوں گے۔جس کا ایک بال سفید ہوا اللہ پاک اس کے لئے ایک نیکی لکھے گا اور اس کا ایک گناہ مُعاف فرمائے گا اور اُس کا ایک دَرَجہ بلند فرمائے گا۔
( الترغیب والترہیب ،3/86، حدیث :6)
ایک اور حدیث پاک میں ہے: مَنْ شَابَ شَیْبَۃً فِی الْاِسْلَامِ کَانَتْ لَہٗ نُوْرًا یَّوْمَ الْقِیٰمَۃِ
ترجمہ: جو اسلام میں بوڑھا ہوا تو اس کے لیے قیامت کے دن نور ہوگا۔
( مشکوٰۃ المصابیح ،2/37، حدیث :3873)
یعنی جوانی ،بڑھاپا اسلام میں گزرے تو یہ نور حاصل ہونے کا ذریعہ ہے۔معلوم ہُوا کہ پُرانا مسلمان نئے مسلمان سے اس جِہَت (یعنی اس لحاظ)سے افضل ہے۔اِس حدیث کی بنا پر بعض عُلَما نے فرمایا کہ سر ،داڑھی سے سفید بال نہ اُکھیڑے کہ یہ نور ہے۔
( مراٰۃ المناجیح ، 5/473 بتغیرٍ )
سفید بال اُکھاڑنے کا عذاب
نبیِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت بُنیادہے : ’’جو شخص جان بوجھ کر سفید بال اُکھاڑے گا قِیامت کے دن وہ نیزہ ہوجائے گا جس سے اس کو بھونکا (گھونپا)جائے گا۔‘‘
( کنزالعمال ،3/281،جز:2، رقم :17276)
سب سے پہلے سفید بال کس کے آئے؟
اللہ پاک کے پیارے نبی حضرتِ ابراہیم خلیلُ اللہ علیہ السّلام نے سب سے پہلے سفید بال دیکھا،عرض کی: اے رب! یہ کیا ہے؟ اللہ پاک نے فرمایا: ’’اے ابراہیم! یہ وَقار ہے۔‘‘ عرض کی: اے میرے رب! میرا وقار زیادہ کر۔
( مؤطا امام مالک ،2/415، حدیث :1756 )
سفید بال دیکھ کر موت کو یاد کرنے والا بادشاہ
پُرانے زمانے میں اىک بادشاہ نے اپنے گھر مىں اىک تابوت رکھا ہوا تھا جسے دىکھ کر وہ اپنی موت کو ىاد کیا کرتا تھا۔ اىک بار صبح جب اُس نے آئىنے میں اپنا چہرہ دىکھا تو اسے اپنی داڑھى مىں اىک سفىد بال نظر آىا، اُس نے کہا کہ اب ىہ موت کی یاد دلانے والا تابوت اُٹھا لیا جائے کیونکہ مىرى داڑھى مىں سفىد بال آ گىا ہے جو موت کا قا ص د (یعنی پیغام دینے والا) ہےلہٰذا اَب مىں اِسی کو دىکھ کر موت کو ىاد کرلىا کروں گا۔
کالے بالوں کے بعد سفید بالوں کا آنا
مسلمانوں کے دوسرے خلیفہ حضرت ِعمر فاروق ِاعظم رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے سے ارشاد فرمایا:کالے بالوں میں سفید بالوں کا آجاناتجھے اللہ پاک کی نافرمانی سے منع کرتا ہے ۔
( موسوعۃ ابن ابی الدنیا ، 7/562، حدیث : 26)
بُڑھاپا آگیا مگر بُرائیاں نہ گئیں
ایک دفعہ بایزید بِسطامی رحمۃُ اللہ علیہ نے آئینہ دیکھاتو اپنے سر اور داڑھی میں سفید بال دیکھ کر (بطورِ عاجزی اپنے آپ سے)فرمایا: ظَھَرَ الشَّیْبُ وَلَمْ یُذْھِبْ الْعَیْبُ یعنی شَیب (بڑھاپا) تو آگیا مگر عیب نہیں گئے۔
( مرقاة المفاتيح ،7/433، تحت الحدیث : 3873)
جعفر بن محمد خُراسانی کہتے ہیں: ایک بوڑھے شخ ص سے کہا گیا :آپ اپنی اس بقیہ زندگی میں کس چیز کو پسند کرتے ہیں؟جواب دیا: (اپنے) گناہوں پر رونا۔
( موسوعۃ ابن ابی الدنیا ، 7/562، حدیث : 28)
ہے بڑھاپا بھی غنیمت جب جَوانی ہو چکی یہ بڑھاپا بھی نہ ہو گا ، موت جس دم آ گئی
بیس سال بعد توبہ
کہاگیا ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک نوجوان نے بیس سال تک اللہ ربُّ العِزَّت کی عبادت کی پھر اتناہی عر ص ہ نافرمانیوں میں مبتلا رہا ۔ایک دن آئینے میں داڑھی کے سفید بال دیکھ کر اپنی نافرمانیوں پر نادِم ہو کر بارگاہِ خُداوَندی میں عرض گُزار ہوا :” یا اللہ پاک میں نے 20سال تک تیر ی عبادت کی پھر 20سال تیری نافرمانی کی اگر میں تیری طرف واپس آؤں توکیا تُو میری توبہ قُبول کرلے گا ؟“تو اس نے یہ غیبی آواز سنی :” تُو نے ہم سے دوستی کی تو ہم نے بھی تجھ سے مَحبَّت کی، تو نے ہمیں چھوڑا تَو ہم نے بھی تجھے چھوڑ دیا، تونے ہماری نافرمانی کی توہم نے تجھے مُہْلَت دی اب اگر تُو ہماری طرف آئے گا تو ہم تجھے قُبول کریں گے ۔ “
( احیاء العلوم ،4/19)
سونے کے قلم سےلکھی جانے والی نصیحتیں
امام عبدُ الرّحمٰن ابنِ جَوزی رحمۃُ اللہ علیہ زندگی کی قدر و قیمت بیان کرتے ہوئے، بڑھاپے کی منزل پر موجود ،سفرِ آخرت کےمسافروں کونیکیوں کی سوغات ساتھ لینے کی ترغیب دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
اے زادِ راہ کے بغیر سفر اختیار کر نے والے! مَنزِل بہت دُور ہے جبکہ تیری آنکھ خشک اور دل لوہے سے زیادہ سخت ہے ،جبکہ تُو ہر آنے والے دن میں گناہوں کے سمندر میں غرق رہتا ہے تو مصیبت کاتجھ سے زیادہ حقدار کون ہو گا؟افسوس !جوانی تجھے بیدار نہ کرسکی اورنہ ہی بڑھاپا تجھےڈرا سکا ،حد تو یہ ہے کہ تیرے بالوں کی سفیدی بھی تجھے گناہوں سے باز نہ رکھ سکی،مجھے تیری کامیابی بہت مشکل نظر آرہی ہے،فکرِ آخرت کرنے والوں کو دیکھ! کہ وہ کہاں پہنچ گئے! وہ آرام دہ بستر کو لپیٹ کر اللہ پاک کی بارگاہ میں رونے اور آخرت کی تیا ری کرنے میں لگ گئے ، ان کے رخسارو ں پر بہنے والے آنسوؤں نے نشانات ڈال دئیے ہیں۔ ( بحرالدموع ، ص 147)
اے میرے بھائی! تُو نے اپنی زندگی کھیل کو د میں گَنْوادی جبکہ دوسرے لوگ مقصود کو پاگئے اور توان سے پیچھے رہ گیا،کیا تُو نے کبھی سنا ہے کہ (مرنے کے بعد)فُلاں لوٹ آیا اور اس نے توبہ کر لی۔
اے وہ شخص جس کے پاس خوش بَختی کا وقت موجود ہے! تونفسانی خواہشات کے جال سے کب چھُٹکارا پائے گا اور کب اپنے عزت والے،خوبیوں والے مولا کی طرف رُجوع کرے گا؟ اے مِسکین ! کاش تو تو بہ کرنے والوں کے غم کو دیکھ لیتا اور خوف رکھنے والوں کی وعید کی ہولنا کی سے ہونے والی بے قراری کو دیکھ لیتاجنہوں نے اپنی آنکھوں کی ٹھنڈک کونماز ،زکوٰۃ اور دنیا سے بے رغبتی میں رکھا، جبکہ بدبختوں نے اپنی جوانیاں غفلت میں اور بڑھاپے حِرص اور لمبی اُمّیدوں میں برباد کردئیے، تو نے نہ تو اپنی جوانی سے نفع اٹھایا اورنہ اپنے بڑھاپے ہی میں رجوع کیا ، اے اپنی جوانی اور بڑھاپا بر باد کردینے والے۔۔۔۔
بڑھاپے نے تجھے موت کی واضح خبردے دی ہے ۔ اے زندگی کے مسافر ! تُوحد سے گزر چکا ہے،اپنی آزمائش پر آنسو بہا، کہیں ایسا نہ ہوکہ تجھے دُھتکاردیا جائے ، اے وہ شخ ص ! جس کی اکثر عمر گزرگئی اور گُزرا ہُوا وقت لوٹ نہیں سکتا، ن ص یحتوں نے تیری رہنما ئی کی اور بڑھاپے نے تجھے خبر دار کردیا کہ موت قریب ہے اور زبانِ حال سے پکار پکار کرکہہ رہی ہے :
یٰۤاَیُّهَا الْاِنْسَانُ اِنَّكَ كَادِحٌ اِلٰى رَبِّكَ كَدْحًا فَمُلٰقِیْهِۚ(۶)
(پ 30 ، الانشقاق ،آیت: 6)
آسان ترجمہ ٔ قرآن کنزُالعِرفان : اے انسان!بیشک تو اپنے رب کی طرف دوڑنے والا ہے پھر اس سے ملنے والا ہے۔
( بحرالدموع ، ص 48 ،152 ملتقطاً )
میرے پیارے پیارے اسلامی بھائیو! یہ بڑھاپا بِالخُصوص تو بہ واِستِغفار کرنے اور گناہوں سے باز آجانے کا وقت ہے، ایک روایت میں ہے کہ”جس کی زندگی کے چالیس سال گزر گئے اور اُس کی بھلائی اُس کی برائی پر غالب نہیں آئی تو اُسے چاہیے وہ جہنم کے لئے تیار ہوجائے۔“
( تنزیہ الشریعۃ المرفوعۃ ، 1/205، رقم :68)
اگر مُجاہَدہ کی مَشَقَّت نہ ہوتی تو لوگوں کو ”باکمال مرد“ کانام نہ دیا جاتا ۔اے مُردہ دل ! اگر تُوجو انی میں نیکیوں کی طر ف مائل نہ ہوسکا تو اَدھیڑپَن ہی میں مائل ہوجا ،کیونکہ سر سفید ہوجانے کے بعد کھیل کُود بے سُود ہے اور بڑھاپے میں نافرمانی زیادہ بُری ہے ، جب تجھ سے کہا جائے گا کہ تُونے جوانی کو غفلت میں ضائع کردیا اور اب بڑھاپے میں (نیک)اعمال کی کمی پر روتاہے‘‘،اگر تُو جان لیتا کہ تیرے لئے کونسا عذاب تیار ہوچکاہے تو تُو ساری رات رونے میں گزار دیتا۔
بڑھاپے کی گھنٹی دنیا سےکُوچ کا اعلان کررہی ہے،اے شخ ص ! آخر ت کی تیاری کر لے ،کب تک عُذْر کرتا رہے گا ؟ کب تک سستی کرےگا ؟ کتنی غفلت کرےگا ؟ میں قیامت کے دن تجھے معذور نہیں پاتا، تیرے ملنے کا گھر ویران ہے جبکہ جدا ئی کا گھر آباد ہے ،قد م بڑھا شاید توبہ سے کوتا ہیوں کا اِزالہ ہوجائےاورگناہوں سے معافی مل جائے او ر سحری کے وقت ایک سجدہ ایساکرلے جو تجھے قیامت کی ہولنا کیوں سے نجات دلائے۔
اے تو بہ کرنے والو ! آؤہم اپنے گناہو ں پر رو لیں ،یہ رونے کا مَقام ہے۔اے توبہ میں ٹال مٹول کرتے ہوئے بڑھا پے کی دہلیز میں داخل ہونے والے ! اے اپنی جو انی کو غفلت میں گنوانے والے !اے اپنی بَدعَملی کی وجہ سے بارگاہ ِخدا وندی سے دُھتکاردئیے جانے والے! تُوجوانی میں غافل رہا ،اگربڑھاپے میں بھی یونہی توبہ سے محروم رہا تو کب بارگاہ ِخدا وندی میں حاضر ہوگا؟ یہ دوستوں کاطریقہ تو نہیں ،تیرا ظاہر تو آباد ہے مگر افسوس تیراباطن برباد و ویران ہے، کتنی نافرمانیاں تُو کرچکا جن کے سبب تیرے اور اللہ پاک کے درمیان پردے رُکاوٹ بن چکے ہیں ۔
تُو نے اپنی زندگی کے بہترین ایام گناہوں میں گزار دئیے۔ آخر ا ص لاح کی طرف کب آئے گا ؟ اگر تو اپنی گزشۃ عمر میں نیکیوں کو آگے بھیجتا تو تیرا حساب ہلکا ہوجاتا۔ اب یہ کیسے ہلکا ہوگا جبکہ تو نے اپنی زندگی غفلت اور دنیاکا مال جمع کرنے میں گزار دی۔ جب بڑھاپے نے موت سے ڈرایا اور تونے زادِراہ آگے نہ بھیجا توتُو کیا جواب دے گا ؟ کاش کوئی مجھے سمجھا دیتا کہ گنہگاروں کو اپنی زندگی آخر اچھی کیوں لگتی ہے ۔
چندعربی اشعار کا ترجمہ
جب ملنے اور راضی ہونے کا زمانہ گزر گیا تو تُو گزرے ہوئے معاملے کولوٹانے کامطالبہ کرنے لگا،تُوکیوں نہ آیا حالانکہ تجھ سے ملاقات کا وقت موجود تھا اور تیرے بڑھاپے کی سفیدی ،دانتوں(کی سفیدی )سے زیادہ چمکدارتھی ۔
(بحرالدموع، ص 49)
ہوئی جاتی ہے ہائے عمر ضائع جانتا ہوں میں
نہیں آئے گا ہرگز وقت گزرا یارسولَ اللہ
نکلنے والی ہے اب روحِ مُضطَرجسم سے جاناں
کرم! ایماں کو ہے شیطاں سے خطرہ یارسولَ اللہ
(وسائلِ بخشش، ص 346)
صلُّوا عَلَی الْحَبِیب صلَّی اللهُ علٰی مُحَمَّد
04/08/2025
اس شیر کی آنکھوں میں ایک پوری کہانی چھپی ہے۔
ایسی کہانی جو زندگی کے گرم سرد، زخم، اور مقابلہ بازی سے بنی ہے۔
یہ ہمیں یاد دلاتی ہے کہ زندگی میں آسان کچھ نہیں، لیکن ناممکن بھی کچھ نہیں۔
بس ایک بات ہمیشہ یاد رکھیں؛
"جو چیزیں آپ کو توڑ نہیں پاتیں، وہ آپ کو اندر سے مضبوط ضرور کرتی ہیں۔"
لہٰذا ہر چیلنج کو گلے لگائیں، ہر درد کو حوصلے میں ڈھالیں،
اور کبھی شکست کو دل میں جگہ نہ دیں۔ ❤️
28/07/2025
اپنے بچوں کے ساتھ سویا کریں.. اپنے بچوں کو گلے سے لگا کر لیٹا کریں...بستر میں ان کو hug کیا کریں (گلے لگایا کریں)...اس عادت کی لت نہ لگ جائے...اس بات سے خوفزدہ مت ہوا کریں۔
بچے تو کچھ وقت کیلئے بچے ہیں...ابھی آپ کے پاس ہیں۔ پھر بڑے ہو جائیں گے...اپنے مشغلے اور مصروفیات ڈھونڈ لیں گے۔ پھر یہ وقت نہیں ملے گا۔
بچوں کو گلے لگا کر ان کے ساتھ لیٹا کریں...تاکہ آپ کے دل کی دھڑکن ان کو محسوس ہو اور ان کی سانسیں آپ محسوس کر پائیں۔ یقین جانیں اس سے بڑھ کر خوبصورت احساس کہیں نہیں ملے گا۔
بچوں کو پیار کرنے، ان سے لاڈ کرنے، ان کو ہم کرنے (گلے لگانے)، ان کا بچپن انجوائے کرنے کیلئے وقت کھینچ کھینچ کر نکالا کریں۔ کیونکہ وقت گزر گیا تو آپ کو دکھ ہوگا کہ "وقت گزر گیا" دنیا داری تو باقی رہے گی... گھر کے کام کاج مصروفیات بھی ویسے ہی رہ جائیں گے مگر ہمارے ننھے منے...بڑے ہو جائیں گے۔
Click here to claim your Sponsored Listing.
Category
Website
Address
Punjab University Employees Housing Society Town 2
Lahore
54000