Mufti Rashid Ali

Mufti Rashid Ali

Share

Contact information, map and directions, contact form, opening hours, services, ratings, photos, videos and announcements from Mufti Rashid Ali, Education, Lahore.

علومِ اسلامیہ کا طالب علم (متخصص فی الحدیث و الفقہ)۔
مستند تحقیق کے ساتھ دین کی باتیں امانت سمجھ کر پہنچانا۔
تفسیر قرآن،حدیث اورفقہ کے ذریعے اصلاحِ معاشرہ کی ایک کوشش۔
دعا ہے اللہ اس ادنیٰ خدمت کو قبول فرمائے۔

24/04/2026
11/03/2026

اعتکاف اور معاشرتی رویے
اعتکاف فنائیت کا وہ سفر ہے جہاں بندہ کائنات کے ہنگاموں سے کٹ کر خالقِ کائنات کی چوکھٹ پر ڈیرہ ڈال لیتا ہے۔ یہ ’’خلوت در انجمن‘‘ کی وہ کیفیت ہے جس کا مقصد قلب و نظر کی پاکیزگی اور تزکیہ نفس ہے، مگر افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ یہ عظیم المرتبت عبادت بھی ہماری دیگر سماجی رسمیات کی طرح نمائش، گروہ بندی اور اخلاقی پستیوں کی نذر ہوتی جا رہی ہے۔ ذیل میں چند ایسے تلخ مشاہدات کا تجزیہ پیش ہے جو ہماری مساجد کے ماحول میں ناسور کی طرح سرایت کر چکے ہیں۔

*1. دسترخوان پر نظر اور ملوکانہ مزاج*
اعتکاف کا اصل مقصد قناعت اور جوع (بھوک) کی لذت سے آشنا ہونا تھا، لیکن آج کل محلے کی مساجد میں معتکفین کے کھانوں پر بحث ایک عام مشغلہ بن چکا ہے۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ مسجد کے ائمہ یا انتظامیہ ان کھانوں پر نہ صرف گہری نظر رکھتی ہے بلکہ طنز و تعریض کے تیر بھی چلائے جاتے ہیں۔ یہ رویہ اس ملوکانہ سوچ کا عکاس ہے جہاں عبادت گزار کو مہمانِ خدا سمجھنے کے بجائے ایک مادی وجود سمجھ کر اس کی ’خدمت‘ یا ’خوراک‘ کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ جب نظر سجدوں کے بجائے دسترخوان کے رنگوں پر ہو، تو وہاں بندگی کی خوشبو نہیں رہتی۔

*2. تربیتی نظام کا فقدان*
دس دن کی خلوت نشینی ایک مکمل تربیتی کورس (Work Shop) ہونی چاہیے تھی، جہاں اخلاقیات، فقہ، اور معرفتِ الٰہی کا درس دیا جاتا۔ مگر عمومی مساجد میں اعتکاف محض سونے، جاگنے اور کھانے پینے کا ایک وقفہ بن کر رہ گیا ہے۔ مسجد کی انتظامیہ اور ائمہ کے پاس کوئی ایسا لائحہ عمل نہیں ہوتا جو معتکف کی شخصیت میں کوئی مثبت تبدیلی لا سکے۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ انسان جس حال میں مسجد داخل ہوتا ہے، اسی حال میں بلکہ کبھی کبھی مزید سماجی برائیاں سیکھ کر باہر آتا ہے۔

*3. ائمہ کا رویہ اور ’بد بختی‘ کا فتویٰ*
کچھ مساجد کے ائمہ کا سخت مزاج اور عوام سے دوری وہ بنیادی وجہ ہے جس کی بنا پر لوگ وہاں اعتکاف بیٹھنے سے کتراتے ہیں۔ المیہ یہ ہے کہ جب کوئی وہاں اعتکاف نہیں بیٹھتا تو امام صاحب اپنی اصلاح کرنے یا اپنے رویے پر غور کرنے کے بجائے پورے محلے کو ’بد بخت‘ اور ’دین سے دور‘ قرار دے دیتے ہیں۔ یہ رویہ نرگسیت (Narcissism) کی علامت ہے، جہاں اپنی کمی کو دوسروں کی محرومی بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔

*4. تنظیم سازی اور شخصیت پرستی کا خمار*
بعض مذہبی تنظیموں نے اعتکاف کو اپنے سیاسی یا گروہی مقاصد کے لیے استعمال کرنا شروع کر دیا ہے۔ وہاں معتکفین کو اللہ کی بڑائی سکھانے کے بجائے کسی خاص شخصیت کا گرویدہ بنایا جاتا ہے۔ یہ ’برین واشنگ‘ کا وہ عمل ہے جو عبادت کے تقدس کو پامال کرتا ہے۔ جب مسجد میں بیٹھ کر بھی انسان کسی بندے کی شخصیت کے حصار سے نہ نکل سکے، تو وہ اعتکاف کی روح سے کوسوں دور ہے۔

*5. مسجد کے تقدس کی پائمالی*
افسوس! کہ جس خلوت کدے کو دنیا سے کٹ کر خالق سے جڑنے کا وسیلہ بننا تھا، وہ اب موبائل فون کے بے جا استعمال، فضول گفتگو اور لایعنی ہنگاموں کی نذر ہو کر دنیا داری کا مرکز بن چکا ہے۔ مسجد کی پاکیزہ فضا، جو ذکرِ الٰہی سے معطر ہونی چاہیے تھی، وہاں اب دنیا جہان کی باتیں اور سیاسی بحثیں عام ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ بعض مساجد میں سگریٹ نوشی جیسے قبیح فعل کی نشان دہی بھی ہوتی ہے، جو نہ صرف آدابِ مسجد کی صریحاً توہین ہے بلکہ فرشتوں اور دیگر نمازیوں کے لیے شدید اذیت کا باعث بھی ہے۔ معتکف کے وجود سے تقویٰ کی مہک آنی چاہیے نہ کہ وہ ناپسندیدہ بو جو بندگی کے آداب کے یکسر منافی ہو۔ ہم نے اصلاحِ نفس کے اس نادر موقع کو محض ایک "سماجی مشغلہ" بنا کر اس کی حقیقی روح پامال کر دی ہے۔

*6. الوداعی تقریب*
اعتکاف سے اٹھنے کا وقت (چاند رات) درحقیقت اللہ سے کیے گئے عہد کی پاسداری کا امتحان ہوتا ہے، لیکن ہم نے اسے ایک سماجی میلے میں بدل دیا ہے۔ اگر کسی معتکف کو لینے کے لیے اس کے لواحقین پھولوں کے ہار یا بڑا مجمع لے کر نہ آئیں، تو اسے مسجد میں مذاق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ یہ اس بات کی دلیل ہے کہ ہم ’خالق کی رضا‘ سے زیادہ ’مخلوق کی واہ واہ‘ کے اسیر ہو چکے ہیں۔ یہ رویہ ان لوگوں کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بنتا ہے جو خاموشی سے صرف اللہ کے لیے گوشہ نشین ہوئے ہوتے ہیں۔

*اعتکاف کی اصلاح وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہمیں چاہیے کہ:*
🟢مساجد میں معتکفین کے لیے ایک باقاعدہ علمی اور اخلاقی نصاب مقرر کیا جائے۔
🟢ائمہ کرام اپنے رویوں میں لچک پیدا کریں اور مسجد کو اللہ کے بندوں کے لیے جائے پناہ بنائیں۔
🟢عبادت کو نمود و نمائش اور سماجی دباؤ سے پاک کیا جائے۔
*اگر ہم نے ان اصلاحی پہلوؤں پر توجہ نہ دی، تو ڈر ہے کہ یہ عظیم عبادت محض ایک سالانہ رسم بن کر رہ جائے گی جس میں جسم تو مسجد میں ہوں گے مگر روحیں کہیں اور بھٹک رہی ہوں گی۔*
اعتکاف کی ساعتوں میں یہ دعا کثرت سے پڑھنی چاہیے جو حضورِ اکرم ﷺ نے حضرت عائشہ صدیقہؓ کو سکھائی:
اَللّٰھُمَّ اِنَّکَ عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنِّیْ(اے اللہ! بے شک تو معاف کرنے والا ہے، معاف کرنے کو پسند کرتا ہے، پس مجھے معاف فرما دے۔)

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّاۤ اِنَّکَ اَنْتَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ(اے ہمارے رب! ہم سے (یہ خدمت) قبول فرما، بے شک تو ہی خوب سننے والاجاننے والا ہے۔)
راشد علی
لاہور
9مارچ2026ء

Photos from M***i Rashid Ali's post 07/03/2026

یہ اشاعت میرے قلم کی محنت نہیں،
یہ اُن نگاہوں کا کمال ہے جنہوں نے خاک کو بھی قابلِ ذکر بنا دیا۔
ماہنامہ دلیل راہ
شمارہ مارچ2026ء
بعنوان:تہذیبِ نَو اور اسوہ صدیقہ رضی اللہ عنھہا

Photos from M***i Rashid Ali's post 16/02/2026

یہ اشاعت میرے قلم کی محنت نہیں،
یہ اُن نگاہوں کا کمال ہے جنہوں نے خاک کو بھی قابلِ ذکر بنا دیا۔
ماہنامہ دلیل راہ
شمارہ مئی 2025ء
بعنوان:الحاد

03/01/2026

الحمدللہ رب العالمین
13 رجب المرجب
حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کے یوم ولادت پر ختم قرآن کی توفیق نصیب ہورہی ہے

Photos from M***i Rashid Ali's post 05/12/2025

یہ اشاعت میرے قلم کی محنت نہیں،
یہ اُن نگاہوں کا کمال ہے جنہوں نے خاک کو بھی قابلِ ذکر بنا دیا۔
ماہنامہ دلیل راہ
شمارہ اپریل 2025ء
بعنوان:احادیث بیان کرنے میں احتیاط وقت کی ضرورت ہے

Photos from M***i Rashid Ali's post 23/09/2025

یہ اشاعت میرے قلم کی محنت نہیں،
یہ اُن نگاہوں کا کمال ہے جنہوں نے خاک کو بھی قابلِ ذکر بنا دیا۔
ماہنامہ دلیل راہ
شمارہ مارچ 2025ء
بعنوان:معاشرے کو منشیات سے کیسے بچائیں؟

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Website

Address


Lahore