The Knowledge Explorer

The Knowledge Explorer

Share

This page will provide you all information regarding education.

21/03/2026

تقبل الله منا ومنكم صالح الأعمال
Eid ul Fitr Mubarak to all ✨ ❤️
The Knowledge Explorer

19/03/2026

لکھنؤ: شہرِ ادب اور دو بچوں کا مشہور قصہ
آواز: عمر بن شفاقت علی
The Knowledge Explorer

17/03/2026

Whatever is meant for you, it will come. Don't overthink, don't stress, don't worry. Calm down, Let Allah handle it.
Allah never disappoints us🤍

12/03/2026

پڑھت: عمر بن شفاقت علی
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
تیری آنکھوں کے سوا دنیا میں رکھا کیا ہے
تو جو مل جائے تو تقدیر نگوں ہو جائے

14/01/2026

یہ حقیقت ہے کہ مدارس کے طلباء کو استعمال کیا جاتا ہے،حتیٰ کہ کالجز یونیورسٹیز میں پڑھنے والے طلبہ کو بھی (معذرت کے ساتھ) بعض سیاسی ؤ مذہبی جماعتوں کی طرف سے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا جاتا ہے، خواہ! یہ طلبہ کو جلسوں جلوسوں، دھرنوں، لانگ مارچوں، ریلیوں میں شرکت کروانے کی صورت میں ہو یا پھر کسی بھی سیاسی جماعت کے استقبالیہ میں نعرے بازی اور اپنی قوت میں اضافے کی صورت میں ہو۔ طلبہ کو ہر طریقے سے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کی بھرپور کوشش کی جاتی ہے۔ ایسے میں بہت سے غیر تربیت یافتہ طالب علم سیاسی جماعت کی بھرپور سپورٹ کی وجہ سے بدمعاشی، غنڈہ گردی میں قدم رکھتے ہیں اور معاشرے کیلئے نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ (ماضی کی بہت سی مثالیں ہمارے سامنے ہیں)
سیاسی شعور کی بیداری بہت ضروری ہے! مگر میرے خیال سے کالجوں، یونیورسٹیوں، اؤر مدرسوں کے طالب علموں کا دھرنوں، جلسوں، جلوسوں، لانگ مارچوں کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے یہ جن کا کام ہے انھی کو کرنے دیا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا، جماعتوں کو بھی چاہیے کم از کم طالب علموں کو اپنے سیاسی مقاصد کیلئے ہرگز استعمال نہ کرے۔ ایک طالب علم کو چاہیے وہ کسی بھی درست معاملے میں اپنی پسندیدہ مذہبی و سیاسی جماعت کی حمایت کرنا نہ چھوڑے، طالب علم ان پولیٹیکل ایکٹیویٹیز میں حصہ ضرور لیں جو اس کے مستقبل، تعلیم اور معاشرہ تینوں کیلئے موثر ثابت ہو سکتی ہیں۔۔۔۔۔
بلکہ طالب علموں کیلئے تمام مذہبی و سیاسی جماعتوں کی جانب سے باقاعدہ (سیاسی) پلیٹ فارم تشکیل دیا جانا چاہیے جس کے ذریعے طلبہ پولیٹیکلی ٹرین ہوسکیں، ساتھ ہی انھیں سیکھنے کا موقع بھی میسر آسکے، اور طلبہ پراپر پلیٹ فارم کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کرسکیں۔
"جلسوں جلوسوں، دھرنوں میں شرکت انھیں اپنے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کرنے کے مترادف ہے، اس سے طلبہ کو کوئی فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا" شکریہ۔

عمر بن شفاقت علی

14/01/2026

سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا ؟
سقراط نے زہر کا پیالہ کیوں پیا یہ جاننے سے پہلے سقراط کون تھا یہ جاننا بہت ضروری ہے۔

Who is Socrates?
"سقراط"دنیائے فلسفہ کا سب سے عظیم معلم ہے، جس نے پانچویں صدی قبل مسیح میں یونان میں مغربی فلسفہ کی بنیاد رکھی تھی۔ "سقراط"یونان کے معروف شہر ایتھنز میں 470 قبل مسیح کے قریب پیدا ہوا۔ وہ ایک مجسمہ ساز تھا جس نے حب الوطنی کے جذبے سے سرشار ہوکر کئی یونانی جنگوں میں حصہ لیا۔ "سقراط" نے اپنی حق پرستانہ فطرت اور مسلسل غور و فکر کے باعث آخری عمر میں دیوتاووں کے حقیقی وجود سے انکار کر دیا جس کی وجہ سے ایتھنز کی عدالت میں اسے موت کی سزا سنائی۔ اور سقراط نے حق کی خاطر زہر کا پیالہ پی لیا۔

Why did Socrates drink the cup of poison?
"سقراط" نے زہر اس لیے پیا کیونکہ ایتھنز کی عدالت نے اسے دیوتاؤں کے خلاف بے ادبی اور نوجوانوں کو گمراہ کرنے کے جرم میں موت کی سزا سنائی تھی، اور اس نے جلاوطنی کے بجائے موت کو قبول کیا، تاکہ وہ اپنے اصولوں پر قائم رہ سکے، سچائی کی خاطر جان دے سکے، اور یہ ثابت کر سکے کہ ظلم سہنا بد عملی سے بہتر ہے، اور وہ اس کے بعد 'دوسری دنیا میں عظیم مفکروں سے ملنے کے لیے بے تاب تھا۔ "سقراط" نے اپنے فلسفے اور سوالات کے ذریعے ایتھنز کے روایتی دیوتاؤں پر شک ظاہر کیا اور نوجوانوں کو تنقیدی سوچ سکھائی، جس پر عدالت نے اسے"نوجوانوں کو بدعنوان" کرنے کا مجرم ٹھہرایا تھا۔ سقراط کو اس موقع پر بھاگ جانے یا جلاوطنی کا موقع بھی دیا گیا، لیکن اس نے اپنے شہر کے قوانین اور انصاف کے اصولوں کا احترام کرتے ہوئے سزا قبول کی، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ایک سچا شہری اپنے ملک کے قوانین کی پاسداری کرتا ہے، یہاں تک کہ اگر وہ قانون غلط ہو۔ سقراط کا ماننا یہ تھا کہ سچائی اور نیکی کے لیے جان دینا ضروری ہے، اور جسم کی موت روح کا خاتمہ نہیں بلکہ آزادی ہے. اس نے زہر پی کر یہ پیغام دیا کہ سچائی کے راستے پر چلنے والے کو موت سے نہیں ڈرنا چاہیے۔ سقراط اس بات کا تجربہ کرنے کے لیے بے چین تھا کہ موت کے بعد کیا ہوتا ہے، اور عظیم مفکروں سے ملنے کی امید رکھتا تھا۔
سقراط دوسروں کو سوچنا سکھاتا تھا ، غور کرنے کی ترغیب دیتا تھا۔ اسے (زہر کا پیالہ پلا کر) مار دیا گیا لیکن وہ تاریخ کے اوراق میں امر ہو گیا۔کہا جاتا ہے، ﺟﺐ ﺳﻘﺮﺍﻁ ﮐﻮ ﺯﮨﺮ ﮐﺎ ﭘﯿﺎﻟﮧ ﺩﯾﺎ ﺟﺎﻧﮯ ﻟﮕﺎ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ
"ﺷﺎﮔﺮﺩ" ﺯﺍﺭﻭﻗﻄﺎﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﻟﮕﮯ
ﺳﻘﺮﺍﻁ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ تم ﮐﯿﻮﮞ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮ؟
ﺷﺎﮔﺮﺩﻭﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ "ﺍﺱ ﻟﺌﮯ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﻣﺎﺭﮮ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ"
ﺳﻘﺮﺍﻁ کہنے لگا؛
"ﺍﺭﮮ ﮐﻢ ﺑﺨﺘﻮ! ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﮔﻨﺎﮦ ﭘﺮ ﻣﺎﺭﺍ ﺟﺎﺗﺎ"
عمر بن شفاقت علی

Photos from The Knowledge Explorer 's post 14/01/2026

1857 کی جنگ آزادی اور جنرل بخت خان روہیلہ۔
از قلم: عمر بن شفاقت علی

1857ء کی جنگ آزادی میں جہاں انگریز سرکار کی طرف سے بندو مسلم اور سکھ کا فرق کیے بغیر لکھنؤ، پنجاب اور برصغیر کے دیگر علاقوں سے اٹھنے والی بغاوتوں کو کچلا اور ان کے لیڈروں کا قتلِ عام کیا جارہا تھا، 1857ء سے 1858ء کے آخر تک فوجیں باغیوں کو پکڑنے اور ان کے سرداروں کو قتل کرنے کے مشن میں کافی حد تک کامیاب ہوگئی تھی۔
انگریز سرکار نے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی قیدی بنا لیا تھا...رائے احمد خان کھڑل اور پنجاب میں موجود ان جیسے کئی باغی لیڈرز کو قتل جبکہ معتدد (باغی) لیڈروں کو پھانسی پر چڑھایا گیا... "ریاست جھانسی" کی خاتون حکمران رانی لکشمی بائی بھی شکست کھانے کے بعد قتل ہوگئی۔ باغیوں کو بڑی طری شکست ہونے کے بعد آہستہ آہستہ برصغیر میں "تحریک آزادی" دم توڑنے لگی برطانوی ہند کی فوج نے کئی باغیوں کو ماڑ ڈالا، کئی باغی قید تھے جبکہ ان کے لیڈروں کو قتل کردیا گیا یہاں تک کہ 1862 میں آخری باغی لیڈر راؤ صاحب بھی پکڑے گئے اور انھیں بھی قتل کردیا گیا مگر! ان سب باغیوں میں ایک اہم کردار کو کبھی فوج کے ہاتھ نہ لگ سکا اس کرادار کا نام"جنرل بخت خان روہیلہ" تھا۔ انگریز سرکار اس کے بہت خلاف تھی۔ "جنرل بخت خان روہیلہ" کا تعلق افغان قبیلے یوسفزئی سے تھا۔ "بخت خان" کے دادا کا نام صوابی، جو اس وقت افغانستان سے ہجرت کرکے ہندوستان آیا تھا۔ صوابی نواب نجیب الدولہ کا رشتہ دار تھا۔ "بخت خان روہیلہ" ایسٹ انڈیا کمپنی میں ملازمت کرتا رہا لیکن جلد ہی ملازمت چھوڑ کر "روہیلکھنڈ" میں اپنی ریاست قائم کی جہاں روہیلہ (پٹھانوں) کی اکثریت موجود تھی۔ "بخت خان" انگریزوں کو اپنا ازلی دشمن سمجھتا تھا وہ انگریز مخالف باغی فوج کے سپہ سالار تھا اور اس نے انگریزوں کے خلاف علم بغاوت بلند کیا۔ جنگ آزادی کے دوران"بخت خان" نے دہلی کے بااثر علماء کو اکھٹا کرکے ایک جہادی فتویٰ بھی مرتب کروایا۔ اس کا آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے ساتھ اچھا رابطہ تھا، ایک روز اس نے 30 ہزار مجاہدین کے لشکر کے ساتھ بادشاہ بہادر شاہ ظفر کے پاس دہلی آیا۔ اس نے لشکر کو دہلی شہر سے کچھ دور روکا اور خود دربار میں بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی "اگرچہ انگریزوں نے دہلی شہر پر قبضہ کر لیا ہے مگر پورا ہندوستان اب بھی ہمارے ساتھ کھڑا ہے۔ آپ اگر میرے ساتھ چلیں تو میں پہاڑ پر بیٹھ کر ایسی زبردست مورچہ بندی کروں گا کہ ان انگریزوں کا فرشتہ بھی نہ آسکے" داران کلام مغلیہ حکومت کے دو اہلکار مرزا الٰہی بخش اور منشی رجب علی (جو در پردہ انگریز سرکار کیلئے "مخبری" کا کام کررہے تھے) انھوں نے بادشاہ کو پہاڑی پر جانے سے منع کیا اور ہمایوں کے مقبرے پر پناہ لینے کو کہا۔ بہادر شاہ ظفر کو ان کی تجویز پسند آگئی اور اس نے جنرل بخت خان کے ترتیب دیے ہوئے منصوبے کو ٹھکرا دیا... بادشاہ بہادر شاہ ظفر جب ہمایوں کے مقبرے پر پہنچے تو طے شدہ منصوبے کے تحت انگریز فوج نے انھیں اہل خانہ سمیت گرفتار کرلیا" لہٰذا "بخت خاں" بادشاہ کو ان کے حال پہ چھوڑ کر اپنی فوج کے ساتھ مشرقی دروازے سے دریا کی جانب اتر گئے۔ جنرل بخت خان" نے اپنے طور پر انگریزوں کے خلاف لڑائی جاری رکھی لیکن! تحریک آزادی کی ناکامی کے بعد وہ دل برداشتہ ہوکر اپنے لشکر سمیت کہی نا معلوم مقام کی جانب چلا گیا جو 90 سال تک انگریزوں کیلئے معمہ بنا رہا اور آج تک "جنرل بخت خان" کے متعلق کچھ پتہ نہیں کہ وہ اپنے بڑے لشکر کے ساتھ کہا غائب ہوا (کچھ خبر نہیں) ایک انگریز مصنف لکھتا ہے: کہ بخت خان اودھ کے نواب گنج قصبے کی جنگ میں مارا گیا، کچھ لوگ کہتے ہیں بخت خان نے اپنی باقی کی زندگی سوات کے کسی گاؤں میں رہتے ہوئے گزار دی، بعض کا کہنا ہے کہ جنگ آزادی میں ناکامی کے بعد وہ بنگال کے پہاڑیوں میں روپوش ہوگئے اور روپوشی میں ہی انتقال کرگئے۔ ایک تصور یہ یہ بھی پایا جاتا ہے کہ (جو کسی حد تک درست بھی ہے) 1859 میں وہ مجاہدین کے ساتھ انگریزوں کے خلاف لڑتے ہوئے، ترائی کے جنگلات میں شہید ہو گئے، اور ان کی تدفین پاکستان کے علاقے بونیر کے قریب جسم سر کے قبرستان میں ہوئی. ان کی شہادت کے بعد مجاہدین بکھر گئے (اس سے اتفاق کیا جاسکتا ہے)۔
یہ "بخت خاں" کی جنگی حکمت عملی اور فہم و فراست کا ہی کمال تھا کہ وہ اور نہ ان کی فوج کبھی انگریزی نرغے میں پھنسی۔ 1857ء کی جنگ آزادی میں "بخت خان" کا کردار نمایاں رہا اور اس نے آخری دم تک فوج کی ناک میں دم کیے رکھا۔
بخت خان سمیت دیگر باغیوں نے بھرپور ہمت کا مظاہرہ کیا۔ ظاہری طور پر تو انگریز فتح یاب ہوئے مگر! حقیقی فتح ان باغی لیڈروں اور ان کے ساتھیوں کی تھی جنہوں نے آخری دم تک برطانوی ہند کی فوج کا مقابلہ کیا اور عرض ہندوستاں کی حفاظت کی خاطر اپنی جان کی پرواہ بھی نہ کی ان سب (باغیوں) کے نام تاریخ کی کتب میں زندہ ہیں اور ہمیشہ زندہ رہے گا۔

14/01/2026

خدا تجھے کسی طوفاں سے آشنا کر دے
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں

اضطراب: (بے قراری، طوفان، بحر، سمندر)
مطلب:
اقبال اس شعر کے ذریعے نوجوان طالب علموں کو جگانے، انھیں بیدار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اقبال درسگاہوں میں پڑھنے والے ان طالب علموں کو مخاطب کررہے ہیں جو (طالب علم) اہل مغرب کے افکار و خیالات اور ان کی تہذیب کا شکار ہو چکے ہیں۔
اقبال کہتے ہیں: تم ایک ایسے سمندر کی مانند ہو جس کی لہروں میں کوئی تڑپ اور بے قراری نظر نہیں آتی ۔ میری دعا ہے کہ خدا تمہاری زندگی کے سمندر کو کسی طوفان سے آشنا کر دے یعنی تمہارے اندر صحیح زندگی، انسانیت اور مسلمانیت کا جذبہ اس حد تک بیدار ہوجائے جیسا کہ سمندر میں طوفان ہوتا ہے۔

07/06/2025

ایک ایسا شخص کبھی ان (غزہ کے) بچوں کے دل میں بیٹھے خوف و حراس اور آئے دن میزائلوں، گولیوں کے چلتے ان کے تاثرات کا اندازہ نہیں لگا سکتا جو روزانہ شام اپنے بچوں کو کھلانے پلانے KFC, McDonald's لے جاتا ہے اور وہاں سے واپسی پر بچی فرمائش پر ایک عدد lay's کا پیکٹ ہاتھ میں تھما دیتا ہے اور بےجا اسرائیلی مصنوعات کا استعمال کرتے نظر آتا ہے۔
پھر جب موبائل فون پر خبر سماعت کرتا ہے کہ آج اتنے فلسطینی بچے شہید ہوئے تو دعا کے لئے ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے اے اللّٰہ غزہ کے معصوموں کی کی مدد فرما 💔

جس طرح ایک luxury زندگی بسر کرنے والا کسی غریب کے حال ؤ احوال کو نہیں سمجھ سکتا، بالکل اسی طرح دنیا بھر کے مسلمان غزہ کے ننھے بچوں اور بچیوں پر ٹوٹنے والے ظلم ؤ ستم کے پہاڑ کا اندازہ نہیں لگا سکتے💔
اللهم أنصر أهل غزة

تحریر ; عمر بن شفاقت علی

07/06/2025

Eid Mubarak ❤️

30/03/2025

EID-UL-FITR MUBARAK ❣️

Want your school to be the top-listed School/college in Lahore?
Click here to claim your Sponsored Listing.

Category

Website

Address


Lahore